تازہ ترین
کشتوار سڑک حادثے وزیر اعظم مودی اور دیگر لیڈران کی جانب سے اظہار رنج
کشتوار حادثہ ”دل کو چھلنی “ کردینے والا واقعہ: مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوموار کو کشتوار میں سڑک کے المناک حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر رنج و غم کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ”دل کو چھلنی“ کرنے والے واقعے سے تعبیر کیا ہے۔مودی کے بقول ”جموں وکشمیر کے کشتوار میں پیش آیا سڑک حادثہ دل کو چھلنی کرنے والا واقعہ ہے۔ ہم حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین کےساتھ تعزیت کا اظہار کرنے کےساتھ ساتھ لواحقین کےساتھ دلی یکجہتی کا اظہارکرتے ہیں۔ نیز حادثے میں زخمی ہوئے افراد کی جلد صحت یابی کےلئے بھی دعا گو ہیں“۔
سانحات سے متعلق زیرو ٹالرنس پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت
عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ اور سینئر نائب صدر ایڈوکیٹ مظفر شاہ نے کشتوار میں پیش آئے سڑک کے المناک حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں لیڈران نے حادثے میں انسانی جانیں تلف ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کےساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرنے کے علاوہ زخمی افراد کی فوری اور جلد صحت یابی کےلئے دعا کی۔بیگم خالدہ شاہ نے گورنر ستیہ پال ملک پر زور دیا کہ وہ سڑک حادثات کے مسلسل رونما ہونے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔انہوں نے گورنرسے مطالبہ کیا کہ ایسے سانحات سے متعلق ریاستی سرکار کو زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کے مسلسل اتلاف پرقابو پایا جاسکے۔ادھر پارٹی کے سینئر نائب صدر ایڈوکیٹ مظفر احمد شاہ نے بتایا کہ ایسے واقعات پر روک تھام لگانے کےلئے ذرائع سے کام لینے کی ضروت ہے۔ ایڈوکیٹ مظفر شاہ نے بتایا کہ اگر ذرائع سے صحیح کام لیا جائے تو ان سڑک حادثات سے بچا جانا ممکن ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنے کےلئے جواب دہی کا نظام درست کرنے کی ضروت ہے ۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کا اظہارِ رنج
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے کشتواڑ میں المناک سڑک حادثے میں 35افراد کے لقمہ اجل بن جانے پر زبردست رنج و الم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لقمہ اجل بنے کے لواحقین کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کیلئے اللہ سے دعا مانگی۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ زخمی ہوئے افراد کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ یقینی بنائے اور لقمہ اجل بنے افراد کے پسمادگان کے حق میں ایکش گریشیا ریلیف فراہم کی جائے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایم ایل سی سجاد کچلو نے بھی اس دلدوز سڑک حادثے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور لقمہ اجل بنے افراد کے پسماندگان کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹریفک حکام سے اپیل کی کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ 25سیٹوں والی منی بس میں 52سے زائد سواریاں اُٹھانے کی اجازت کیسے دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اووروں لوڈنگ کو اَن دیکھا کرنے سے ایسے حادثات مسلسل پیش آرہے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر قیمتی جانوں کی تلافی ہورہی ہے۔
امیت شاہ کا سڑک حادثے پر صدے کا اظہار
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموں وکشمیر کے کشتوار ضلع میں پیش آئے سڑک حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حادثے میں انسانی جانیں تلف ہونے پر سخت افسوس جتاتے ہوئے لواحقین کےساتھ دلی تعزیت کااظہار کرنے کے علاوہ زخمی افراد کی فوجی اور جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر مرکزی وزیر داخلہ نے حادثے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”کشتوار سڑک حادثے کی خبر موصول ہونے سے میں انتہائی صدمے میں ہوں۔ میں اُن خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے حادثے میں اپنے رشتہ داروں کو کھویا۔ میں دعاگو ہوں کہ حادثے میں زخمی افراد جلد از جلد صحت یاب ہوں“۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
