تازہ ترین
صمد میر صاحب نمبل ہار: ایک اعلیٰ پایہ سخن ورایک برگزیدہ صوفی شاعر
مشتاق شمیم، بڈگام
28 جون 2019ء کو حسب سابقہ باغ صمد نمبل ہار میں وادی کے مایہ ناز اور ہر دلعزیز صوفی شاعر صمد میر صاحب کا عرس نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی طرف سے حسب روایت اس موقع پر مہمانوں اور عقیدت مندوں کی خاطر تواضع کیلئے تمام تر انتظامات کا بہتر طریقے سے اہتمام کیا گیا تھا۔آج کے کالم کیلئے راقم المضمون نے اسی برگزیدہ صوفی شاعر اور داستان نگار کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کے ادبی کارناموں اور سماجی زندگی کے بعض پہلوؤں کے بارے قارئین کرام خاص طور سے نئی پیڑی کو روشناس کیا جائے اورمرحوم شاعر کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔
صمد میر کی ولادت 1893ء میں سرینگر کے نرورہ علاقے میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارا ملک (کشمیر) ڈوگرہ مہاراجاؤں کی ظالم سلطنت کے خونی پنجوں میں بُری طرح سے جھکڑی ہوئی تھی۔اس دور میں یہاں پر دور دور تک تعلیم وتربیت کا کو ئی ادارہ یا مرکز کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ہر طرف بیماری بے کاری اور بے گاری کا عالم عروج پرتھا۔لوگ بھوک پیاس اور لاعلاج امراض کی وجہ سے بے موت مراکرتے تھے۔لوگوں کا معیار زندگی جنگلی جانوروں سے بھی بد تر تھا۔کوئی پوچھنے والا تھا نہ ہی کوئی سننے والا کہیں نظر آرہا تھا۔ کوئی داد رسی کرنے والا بھی کہیں پر موجود تھا۔ان حالات میں کسی ناخواندہ اور مزدور پیشہ شخص کی شعرو شاعری اور سخن وری کرنا کسی بڑے عجوبے سے کم تر نہ تھا۔صمد میر صاحب نے ظاہری صورت میں کسی ژاٹہ حال یا درسگاہ میں کوئی تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے شعرو شاعری اور سخن وری کی صورت میں علم و عرفان کی جو ندیاں ہماری وادی گلپوش میں بہا دیں وہ یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ میر صاحب کو قدرت نے باطنی صورت میں ایک ایسے گھیان دھیان سے منور کر رکھا ہواتھا جو اللہ تبارک و ُ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی عنایت فرمایا کرتا ہے۔ صمد صاحب کی طرف سے بہائی گئیں علم و عرفان کی ندیوں سے آج تک ہزاروں فرزندان کشمیراپنی علمی ادبی اور دینی پیاس بجھاتے آئے ہیں اور اس وقت بھی اُن کے میٹھے کلام سے محبان علم وادب اور عاشقانِ رسولﷺ بڑی تعداد میں محضوض و مسرور ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
صمد میر صاحب کے والدبزرگوار خالق میرکا تعلق ضلع بڈگام کے ایک چھوٹے موٹے گاؤں نمبل ہارخانصاحب سے تھا۔وہ ایک پست درجے کا کاشتکار تھا۔کاشتکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے حلال روزی کمانے کیلئے آری کشی کا پرُ مشقت پیشہ بھی اختیار کر رکھاہواتھا۔اُس زمانے میں آری کشی کام کی مانگ گاؤں دیہات سے زیادہ شہر و قصبہ جات میں پائی جارہی تھی اور وہاں پر محنتانہ بھی قدرے زیادہ ہی ملا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ خالق میر نے اپنے پیشے کو عروج بخشنے اور اپنی کمائی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے سرینگر کی راہ لی۔چناچہ اُن دنوں ٹرانسپورٹ کا کوئی معقول انتظام تھا ہی نہیں جسکی وجہ سے خالق میرکوسرینگر کے پائین شہر میں ہی عارضی بنیادوں پر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ کچھ عرصہ بعدانہوں نے وہیں پائین شہر کے نرورہ علاقے میں خود کو شادی کے پاک بندھن میں باندھنے کا فیصلہ کیا۔خالق میر شعر و شاعری کے ساتھ بھی دلچسپی رکھا کرتے تھے۔شعر گوئی کرنا اور موسیقی سماعت کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا۔
چناچہ صمد میرصاحب کی ولادت نرورہ سرینگر میں ہی ہوئی تھی۔وہیں پراُن کا بچپن اور لڑکپن بھی گزرا۔ لیکن والد صاحب کے انتقال کے بعد اُن کو شہر سرینگر کا ماحول اور آب و ہوا زیادہ دیر تک راس نہیں آپایا اسلئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے اپنے آبائی گاؤں نمبل ہار واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں میں آکرمیر صاحب نے ذریعہ معاش کے حصول کیلئے پہلے محنت مزدوری کا پیشہ اختیار کر رکھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے والد صاحب کا پیشہ یعنی آری کشی کا کام اختیار کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے نمبل ہار میں ہی ازدواجی رشتہ اپنے ہی قبیلے کی مسمات خورشہ بیگم نامی ایک باادب با اخلاق اور دیندار لڑکی سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میر صاحب کی ازدواجی زندگی نہایت ہی خوش اسلوب پُر سکون اور بہتر طریقے سے گزر چکی تھی ایسا آپ کے یار دوستوں اور قرابت داروں کا دعویٰ ہے۔
نمبل ہار بڈگام میں اپنی رہائش کے دوران میر صاحب کو بعض پیروں اور فقیروں کے ساتھ رابطہ رہا جن میں حبیب نجار واگرخالق نجار بٹہ مالو اوررمضان ڈار اسلام آباد شامل ہیں۔اپنے والد صاحب کی صحبت میں رہنے کی بدولت صمد میر کے قلب و ذہن میں شعر و شاعری کا شوق و ذوق بچپن ہی سے پلتا رہا لیکن انہوں نے اپنے مُرشد فقیر خالق نجار کی طرف سے با ضابطہ اجازت ملنے کے بعد ہی شعر و شاعری کرنے کا رسمی طور پر آغاز کیا۔اُن کی پہلی غزل کاپہلا شعر ”ویس/ کار مشکل بار گبُ گ.م ویتہ راونُ پیوم،گلالہ پانس کالہ رنگ گوم ویتہ راونُ پیوم“ ہے۔ میر صاحب کی یہ غزل اتنی مقبو ل عام ہوچکی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی یہ نغمہ آج ہر کشمیری مرد و زن کی زبان پر مچلتا رہتا ہے۔ چونکہ صمد میرصاحب ظاہری صورت میں ایک ناخواندہ شخص تھا اسلئے اُن کو لکھنے پڑھنے کا کوئی خاص تجربہ حاصل نہیں تھا۔یہی وجہ رہی کہ جب کبھی بھی اُن کے من میں کوئی شعریا کوئی سخن مچل اُٹھتا تھا تو آپ واگر نامی گاؤں کے ایک بزرگ شخص علی محمدصاحب جو اُس زمانے میں پڑھنے لکھنے کی تھوڑی بہت مہارت رکھتے تھے کی مدد سے اپنا کلام ضبط تحریر میں لایا کرتے تھے۔روایتی شاعری کے علاوہ صمد میر صاحب کوداستانیں تراشنے میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے کئی خوبصورت داستانیں لکھی ہیں جن کو سماعت کرنے کے دوران احساس حق ہوا کرتا ہے۔ اُن کی طرف سے تحریر کی گئی داستانوں میں داستانِ(اکہ نندُن)سب سے اعلیٰ شاہکار ہے۔ اکہ نندُن نامی داستان اتنی مقبول عام ہوگئی کہ اس کو بار بار سماعت کرنے کیلئے اہلیان کشمیرکا دل تڑپتا رہتا تھا۔صمد صاحب کی یہ داستان چودہ قسطوں پر مشتمل ہے اور اس کے تمام کردار وں کو میر صاحب نے ہندو ناموں سے منسوب کر کے رکھ دیاہے۔ یہاں تک کہ اس مقبول عام داستان کے حالات و واقعات بھی ہندو کلچراور تہذیب و تمدن کے ساتھ مشابہت کرکے پیش کئے جاچکے ہیں۔یاد رہے(اکہ نندُن)نام سے داستان بعض دوسرے نامی گرامی شعرا حضرات نے بھی اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا ہواہے۔
صمد میر صاحب کے ایک قرابت دارمحمد یوسف یعصوب سے معلوم ہوا ہے کہ صمد صاحب نے اپنی زندگی میں لگ بھگ چار سو غزلیں نظمیں نعت و مناجات منقبت اور داستانیں وغیرہ تحریر کی تھیں لیکن بد قسمتی کی وجہ سے اُن کا بیشترانمول شاعری خزانہ افراد خانہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کہیں مٹی کے امبار تلے دفن ہوکے رہ گیاجس کو کافی کھوجنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کیا جاسکا۔ اس وقت صرف دو سو کے آس پاس ہی غزلوں اور نظموں وغیرہ پر مشتمل اُن کا شاعری کلام کلیات صمد میر میں موجود ہے۔کلیات صمد میر نامور ادیب اور شاعرموتی لال ساقی نے ترتیب دی ہے جس کو ریاستی کلچرل اکادمی نے چار بار شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
صمدمیر صاحب جس وقت شعر و شاعری کے میدان میں بام عروج پر پہنچ گئے اُس وقت اُن کانام اور کلام پوری وادی میں زبان زد عام و خاص ہوگیا۔اُن کے کلام میں وزن اور روانی اس قدر پائی جارہی ہے جس طرح سے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شاعر کے کلام میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف روایتی لفظوں کا استعمال کیا بلکہ انہوں نے چند ایسے نئے اور خوبصورت استہارات بھی معرض وجود لانے میں کامیابی حاصل کی جن الفاظ اور استہارات سے کشمیری زبان اورشعر و ادب کو ایک نئی جہت اور عروج مل گیا۔ صمد صاحب کے شیرین کلام سے متاثر ہوکر ایک بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ اُن کے دیوانے ہوگئے اور مُرید بن بیٹھے جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو برادری کے لوگ بھی شامل ہیں۔احد بیگ صفا کدل میر صاحب کے خاص مرُیداورمہتمم تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صمد صاحب کے ساتھ ہی گزارا۔ ہر دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ نبھایا اسلئے میر صاحب نے اپنی زندگانی میں ہی احد بیگ صاحب کو اپنا ادبی جانشین نامزدکر رکھا تھا۔ احد بیگ کے مزار پر بھی صفا کدل میں ہر سال یوم صمد نہایت ہی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
9جنوری 1959ء میں جس وقت صمد میر صاحب کی عمر مبارک قریباََ 65برس کے آس پاس تھی وہ اس دارُالفناء سے دارُالبقاء کیلئے ہمیشہ کیلئے تشریف لے گئے۔اُن کواپنے آبائی گاؤں نمبل ہار میں جہاں پر انہوں نے وقت پیری میں اپنا بیشتر وقت گزارا اُن کی وراثتی قطعہ اراضی کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔اُن کے مبارک روضہ پر اُن کے اہل خانہ قرابت داروں اور مریدوں نے حال ہی میں ایک خوبصورت چبوترہ بھی تعمیر کروا دیا ہے۔ ان کی زیارت گاہ پر ہر سال اُنکے عرس پر ادبی و ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ محفل سماع آراستہ کیا جاتا ہے۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ جس کا قیام کوئی دس پندرہ برس قبل عمل میں لایا جاچکا ہے نے صمد میر صاحب کے شاعری ادبی وثقافتی وراثت کی دیکھ ریکھ کرنے کا بیڑہ اُٹھا کے رکھا ہواہے۔یوم صمد کے موقع پراُن کے مزار پر فاؤنڈیشن کی طرف سے زائرین کیلئے صبح سویرے سے لیکر شام گئے تک مفت بنڈار کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن عارضی بازار بھی سجایا جاتا ہے اور بچوں کی تفریح کا بھی انتظام کیا جاتاہے۔
امسال حسب روایت یوم صمد میرکے موقع پر ریاستی کلچرل اکادمی اور محکمہ انفارمیشن نے باہمی اشتراک سے محفل سماع کا اہتمام کیا تھا۔وادی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے گلوکار اور موسیقار مرحوم شاعر کے مزار کے سائے میں سینکڑوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں دن بھر اُن کا کلام اپنی مَدُرلئے اور سُریلی دھنوں میں پیش کر کے اُن کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔لیکن یہاں ستم ظریفی کا مقام یہ ہے کہ گلوکاروں اورموسیقاروں کی چند پارٹیاں صوفی شاعروں کے مزرات پر روانہ کرکے ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کے منتظمین سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھا نے میں کامیاب ہو رہے ہیں جوکہ اُن کی خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔کیاصرف محفل سماع آراستہ کرانے سے ہی ان برگزیدہ شاعروں اور سخن وروں کا حق ادا کیا جاسکتاہے۔صمد میر صاحب کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے شاعروں کے کلام سے ہم اکثر و بیشتر دور درشن کیندر اور ریڈیو کشمیر کی وساطت سے محضوض ہوتے رہتے ہیں۔ہم اپنے من پسند شاعروں کا کلام آڈیو اور ویڈیو پلیروں کی مدد سے جب چاہیں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کرسماعت بھی کر لیتے ہیں۔کیا ان مبارک تقریبات پر ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کو مشاعروں مکالوں اور تقریروں کا اہتمام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان عظیم شاعر و ں اور سخن وروں کے چاہنے والے اُن کی شخصیت اورکارناموں سے باخبر ہوجاتے۔کیا ان اداروں کو طلباء و طالبات کو ان موقعوں پر دعوت دیکر بلانا نہیں چاہئے تاکہ وہ بھی کشمیر کے جاندار ماضی کو جان لیتے اوران بزرگوں کے شاندار کارناموں سے سیخ حاصل کرلیتے۔کلچرل اکادمی کے سربراہوں اور ذمہداروں سے ہمارے ادب نواز دوستوں کو کافی امیدیں وابسطہ ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی و ثقافتی اداروں کے سربراہان صوفی شاعروں کے عرس پر محفل سماع کے ساتھ ساتھ مشاعروں،مکالوں اور تقریروں کا اہتمام کیا کرتے رہیں تاکہ ان برگزیدہ سخن وروں کی کسی حد تک حق ادائی ہوسکے۔
پڑھ پڑھ کے گیا پتھر لکھ لکھ کے گیا چور!!!!!!!!!
جس پڑھنے سے صاحب ملے وہ پڑھنا ہے اور
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
