تازہ ترین
صمد میر صاحب نمبل ہار: ایک اعلیٰ پایہ سخن ورایک برگزیدہ صوفی شاعر
مشتاق شمیم، بڈگام
28 جون 2019ء کو حسب سابقہ باغ صمد نمبل ہار میں وادی کے مایہ ناز اور ہر دلعزیز صوفی شاعر صمد میر صاحب کا عرس نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی طرف سے حسب روایت اس موقع پر مہمانوں اور عقیدت مندوں کی خاطر تواضع کیلئے تمام تر انتظامات کا بہتر طریقے سے اہتمام کیا گیا تھا۔آج کے کالم کیلئے راقم المضمون نے اسی برگزیدہ صوفی شاعر اور داستان نگار کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کے ادبی کارناموں اور سماجی زندگی کے بعض پہلوؤں کے بارے قارئین کرام خاص طور سے نئی پیڑی کو روشناس کیا جائے اورمرحوم شاعر کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔
صمد میر کی ولادت 1893ء میں سرینگر کے نرورہ علاقے میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارا ملک (کشمیر) ڈوگرہ مہاراجاؤں کی ظالم سلطنت کے خونی پنجوں میں بُری طرح سے جھکڑی ہوئی تھی۔اس دور میں یہاں پر دور دور تک تعلیم وتربیت کا کو ئی ادارہ یا مرکز کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ہر طرف بیماری بے کاری اور بے گاری کا عالم عروج پرتھا۔لوگ بھوک پیاس اور لاعلاج امراض کی وجہ سے بے موت مراکرتے تھے۔لوگوں کا معیار زندگی جنگلی جانوروں سے بھی بد تر تھا۔کوئی پوچھنے والا تھا نہ ہی کوئی سننے والا کہیں نظر آرہا تھا۔ کوئی داد رسی کرنے والا بھی کہیں پر موجود تھا۔ان حالات میں کسی ناخواندہ اور مزدور پیشہ شخص کی شعرو شاعری اور سخن وری کرنا کسی بڑے عجوبے سے کم تر نہ تھا۔صمد میر صاحب نے ظاہری صورت میں کسی ژاٹہ حال یا درسگاہ میں کوئی تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے شعرو شاعری اور سخن وری کی صورت میں علم و عرفان کی جو ندیاں ہماری وادی گلپوش میں بہا دیں وہ یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ میر صاحب کو قدرت نے باطنی صورت میں ایک ایسے گھیان دھیان سے منور کر رکھا ہواتھا جو اللہ تبارک و ُ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی عنایت فرمایا کرتا ہے۔ صمد صاحب کی طرف سے بہائی گئیں علم و عرفان کی ندیوں سے آج تک ہزاروں فرزندان کشمیراپنی علمی ادبی اور دینی پیاس بجھاتے آئے ہیں اور اس وقت بھی اُن کے میٹھے کلام سے محبان علم وادب اور عاشقانِ رسولﷺ بڑی تعداد میں محضوض و مسرور ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
صمد میر صاحب کے والدبزرگوار خالق میرکا تعلق ضلع بڈگام کے ایک چھوٹے موٹے گاؤں نمبل ہارخانصاحب سے تھا۔وہ ایک پست درجے کا کاشتکار تھا۔کاشتکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے حلال روزی کمانے کیلئے آری کشی کا پرُ مشقت پیشہ بھی اختیار کر رکھاہواتھا۔اُس زمانے میں آری کشی کام کی مانگ گاؤں دیہات سے زیادہ شہر و قصبہ جات میں پائی جارہی تھی اور وہاں پر محنتانہ بھی قدرے زیادہ ہی ملا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ خالق میر نے اپنے پیشے کو عروج بخشنے اور اپنی کمائی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے سرینگر کی راہ لی۔چناچہ اُن دنوں ٹرانسپورٹ کا کوئی معقول انتظام تھا ہی نہیں جسکی وجہ سے خالق میرکوسرینگر کے پائین شہر میں ہی عارضی بنیادوں پر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ کچھ عرصہ بعدانہوں نے وہیں پائین شہر کے نرورہ علاقے میں خود کو شادی کے پاک بندھن میں باندھنے کا فیصلہ کیا۔خالق میر شعر و شاعری کے ساتھ بھی دلچسپی رکھا کرتے تھے۔شعر گوئی کرنا اور موسیقی سماعت کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا۔
چناچہ صمد میرصاحب کی ولادت نرورہ سرینگر میں ہی ہوئی تھی۔وہیں پراُن کا بچپن اور لڑکپن بھی گزرا۔ لیکن والد صاحب کے انتقال کے بعد اُن کو شہر سرینگر کا ماحول اور آب و ہوا زیادہ دیر تک راس نہیں آپایا اسلئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے اپنے آبائی گاؤں نمبل ہار واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں میں آکرمیر صاحب نے ذریعہ معاش کے حصول کیلئے پہلے محنت مزدوری کا پیشہ اختیار کر رکھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے والد صاحب کا پیشہ یعنی آری کشی کا کام اختیار کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے نمبل ہار میں ہی ازدواجی رشتہ اپنے ہی قبیلے کی مسمات خورشہ بیگم نامی ایک باادب با اخلاق اور دیندار لڑکی سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میر صاحب کی ازدواجی زندگی نہایت ہی خوش اسلوب پُر سکون اور بہتر طریقے سے گزر چکی تھی ایسا آپ کے یار دوستوں اور قرابت داروں کا دعویٰ ہے۔
نمبل ہار بڈگام میں اپنی رہائش کے دوران میر صاحب کو بعض پیروں اور فقیروں کے ساتھ رابطہ رہا جن میں حبیب نجار واگرخالق نجار بٹہ مالو اوررمضان ڈار اسلام آباد شامل ہیں۔اپنے والد صاحب کی صحبت میں رہنے کی بدولت صمد میر کے قلب و ذہن میں شعر و شاعری کا شوق و ذوق بچپن ہی سے پلتا رہا لیکن انہوں نے اپنے مُرشد فقیر خالق نجار کی طرف سے با ضابطہ اجازت ملنے کے بعد ہی شعر و شاعری کرنے کا رسمی طور پر آغاز کیا۔اُن کی پہلی غزل کاپہلا شعر ”ویس/ کار مشکل بار گبُ گ.م ویتہ راونُ پیوم،گلالہ پانس کالہ رنگ گوم ویتہ راونُ پیوم“ ہے۔ میر صاحب کی یہ غزل اتنی مقبو ل عام ہوچکی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی یہ نغمہ آج ہر کشمیری مرد و زن کی زبان پر مچلتا رہتا ہے۔ چونکہ صمد میرصاحب ظاہری صورت میں ایک ناخواندہ شخص تھا اسلئے اُن کو لکھنے پڑھنے کا کوئی خاص تجربہ حاصل نہیں تھا۔یہی وجہ رہی کہ جب کبھی بھی اُن کے من میں کوئی شعریا کوئی سخن مچل اُٹھتا تھا تو آپ واگر نامی گاؤں کے ایک بزرگ شخص علی محمدصاحب جو اُس زمانے میں پڑھنے لکھنے کی تھوڑی بہت مہارت رکھتے تھے کی مدد سے اپنا کلام ضبط تحریر میں لایا کرتے تھے۔روایتی شاعری کے علاوہ صمد میر صاحب کوداستانیں تراشنے میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے کئی خوبصورت داستانیں لکھی ہیں جن کو سماعت کرنے کے دوران احساس حق ہوا کرتا ہے۔ اُن کی طرف سے تحریر کی گئی داستانوں میں داستانِ(اکہ نندُن)سب سے اعلیٰ شاہکار ہے۔ اکہ نندُن نامی داستان اتنی مقبول عام ہوگئی کہ اس کو بار بار سماعت کرنے کیلئے اہلیان کشمیرکا دل تڑپتا رہتا تھا۔صمد صاحب کی یہ داستان چودہ قسطوں پر مشتمل ہے اور اس کے تمام کردار وں کو میر صاحب نے ہندو ناموں سے منسوب کر کے رکھ دیاہے۔ یہاں تک کہ اس مقبول عام داستان کے حالات و واقعات بھی ہندو کلچراور تہذیب و تمدن کے ساتھ مشابہت کرکے پیش کئے جاچکے ہیں۔یاد رہے(اکہ نندُن)نام سے داستان بعض دوسرے نامی گرامی شعرا حضرات نے بھی اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا ہواہے۔
صمد میر صاحب کے ایک قرابت دارمحمد یوسف یعصوب سے معلوم ہوا ہے کہ صمد صاحب نے اپنی زندگی میں لگ بھگ چار سو غزلیں نظمیں نعت و مناجات منقبت اور داستانیں وغیرہ تحریر کی تھیں لیکن بد قسمتی کی وجہ سے اُن کا بیشترانمول شاعری خزانہ افراد خانہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کہیں مٹی کے امبار تلے دفن ہوکے رہ گیاجس کو کافی کھوجنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کیا جاسکا۔ اس وقت صرف دو سو کے آس پاس ہی غزلوں اور نظموں وغیرہ پر مشتمل اُن کا شاعری کلام کلیات صمد میر میں موجود ہے۔کلیات صمد میر نامور ادیب اور شاعرموتی لال ساقی نے ترتیب دی ہے جس کو ریاستی کلچرل اکادمی نے چار بار شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
صمدمیر صاحب جس وقت شعر و شاعری کے میدان میں بام عروج پر پہنچ گئے اُس وقت اُن کانام اور کلام پوری وادی میں زبان زد عام و خاص ہوگیا۔اُن کے کلام میں وزن اور روانی اس قدر پائی جارہی ہے جس طرح سے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شاعر کے کلام میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف روایتی لفظوں کا استعمال کیا بلکہ انہوں نے چند ایسے نئے اور خوبصورت استہارات بھی معرض وجود لانے میں کامیابی حاصل کی جن الفاظ اور استہارات سے کشمیری زبان اورشعر و ادب کو ایک نئی جہت اور عروج مل گیا۔ صمد صاحب کے شیرین کلام سے متاثر ہوکر ایک بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ اُن کے دیوانے ہوگئے اور مُرید بن بیٹھے جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو برادری کے لوگ بھی شامل ہیں۔احد بیگ صفا کدل میر صاحب کے خاص مرُیداورمہتمم تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صمد صاحب کے ساتھ ہی گزارا۔ ہر دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ نبھایا اسلئے میر صاحب نے اپنی زندگانی میں ہی احد بیگ صاحب کو اپنا ادبی جانشین نامزدکر رکھا تھا۔ احد بیگ کے مزار پر بھی صفا کدل میں ہر سال یوم صمد نہایت ہی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
9جنوری 1959ء میں جس وقت صمد میر صاحب کی عمر مبارک قریباََ 65برس کے آس پاس تھی وہ اس دارُالفناء سے دارُالبقاء کیلئے ہمیشہ کیلئے تشریف لے گئے۔اُن کواپنے آبائی گاؤں نمبل ہار میں جہاں پر انہوں نے وقت پیری میں اپنا بیشتر وقت گزارا اُن کی وراثتی قطعہ اراضی کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔اُن کے مبارک روضہ پر اُن کے اہل خانہ قرابت داروں اور مریدوں نے حال ہی میں ایک خوبصورت چبوترہ بھی تعمیر کروا دیا ہے۔ ان کی زیارت گاہ پر ہر سال اُنکے عرس پر ادبی و ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ محفل سماع آراستہ کیا جاتا ہے۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ جس کا قیام کوئی دس پندرہ برس قبل عمل میں لایا جاچکا ہے نے صمد میر صاحب کے شاعری ادبی وثقافتی وراثت کی دیکھ ریکھ کرنے کا بیڑہ اُٹھا کے رکھا ہواہے۔یوم صمد کے موقع پراُن کے مزار پر فاؤنڈیشن کی طرف سے زائرین کیلئے صبح سویرے سے لیکر شام گئے تک مفت بنڈار کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن عارضی بازار بھی سجایا جاتا ہے اور بچوں کی تفریح کا بھی انتظام کیا جاتاہے۔
امسال حسب روایت یوم صمد میرکے موقع پر ریاستی کلچرل اکادمی اور محکمہ انفارمیشن نے باہمی اشتراک سے محفل سماع کا اہتمام کیا تھا۔وادی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے گلوکار اور موسیقار مرحوم شاعر کے مزار کے سائے میں سینکڑوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں دن بھر اُن کا کلام اپنی مَدُرلئے اور سُریلی دھنوں میں پیش کر کے اُن کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔لیکن یہاں ستم ظریفی کا مقام یہ ہے کہ گلوکاروں اورموسیقاروں کی چند پارٹیاں صوفی شاعروں کے مزرات پر روانہ کرکے ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کے منتظمین سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھا نے میں کامیاب ہو رہے ہیں جوکہ اُن کی خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔کیاصرف محفل سماع آراستہ کرانے سے ہی ان برگزیدہ شاعروں اور سخن وروں کا حق ادا کیا جاسکتاہے۔صمد میر صاحب کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے شاعروں کے کلام سے ہم اکثر و بیشتر دور درشن کیندر اور ریڈیو کشمیر کی وساطت سے محضوض ہوتے رہتے ہیں۔ہم اپنے من پسند شاعروں کا کلام آڈیو اور ویڈیو پلیروں کی مدد سے جب چاہیں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کرسماعت بھی کر لیتے ہیں۔کیا ان مبارک تقریبات پر ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کو مشاعروں مکالوں اور تقریروں کا اہتمام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان عظیم شاعر و ں اور سخن وروں کے چاہنے والے اُن کی شخصیت اورکارناموں سے باخبر ہوجاتے۔کیا ان اداروں کو طلباء و طالبات کو ان موقعوں پر دعوت دیکر بلانا نہیں چاہئے تاکہ وہ بھی کشمیر کے جاندار ماضی کو جان لیتے اوران بزرگوں کے شاندار کارناموں سے سیخ حاصل کرلیتے۔کلچرل اکادمی کے سربراہوں اور ذمہداروں سے ہمارے ادب نواز دوستوں کو کافی امیدیں وابسطہ ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی و ثقافتی اداروں کے سربراہان صوفی شاعروں کے عرس پر محفل سماع کے ساتھ ساتھ مشاعروں،مکالوں اور تقریروں کا اہتمام کیا کرتے رہیں تاکہ ان برگزیدہ سخن وروں کی کسی حد تک حق ادائی ہوسکے۔
پڑھ پڑھ کے گیا پتھر لکھ لکھ کے گیا چور!!!!!!!!!
جس پڑھنے سے صاحب ملے وہ پڑھنا ہے اور
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
