تازہ ترین
کھادی ولیج انڈسٹری بورڈ میں 2016کی بھرتیاں کالعدم
خبراردو:
2016میں کھادی اینڈ ولیج انڈسڑی بورڑ میں101 امیدواروں کی تقریوں میں بے ضابطگیوںکی جانچ کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد گورنر انتظامیہ نے کالعدم قرار دیا ہے ۔ پرنسپل سیکریٹری صنعت و حرفت نوین چودھری نے7 صفحات پر مشتمل حکم نامہ میں اگست 2016 میں مشتہر اور2017 میں منتخب امیدواروں کی تقرریوں کو کالعدم قرار دیا۔حکم نامہ میں کہا گیا’’ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری بورڈ میں KVIB/01 of 2016 محرر 8اگست2016 اشتہار کی رو سے منتخب ہوئی تقرریوں کو کالعد م یا منسوخ کیا جاتا ہے ۔
‘آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ جن اُمیدواروں کی تقرری غیر قانونی طور پر محکمہ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ میں عمل میں لائی گئی ہیں انہیں قانونی ضابطے کے تحت اپنی بات آگے رکھنے کا بھر پور موقعہ فراہم کیا جائیگا۔ مذکورہ بھرتی عمل سابق مخلوط حکومت پی ڈی پی بی جے پی کے دور اقتدار میں عمل میں لائی گئی اور مذکورہ بھرتی عمل تب اعلیٰ حکام کی نوٹس میں آئی جب بھرتی عمل میں پی ڈی پی سے وابستہ ایک لیڈرکا فرزند منتخب اُمیدواروں کی لسٹ دیکھا گیا جسے ایگزیکٹو آفیسر کی پوسٹ سے نوازا گیا تھا۔ ذرائع سے بتایا کہ نوکریوں سے متعلق بے ضابطگیوں کی تحقیقات عمل میں لانے کیلئے اُس وقت کے سیکرٹری داخلہ آر کے گوئیل کی قیادت میں انکوائری کمیٹی قائم کی گئی جنہوں نے اپنی مفصل رپورٹ ریاستی سرکار کو پیش کردی۔انکوائری کمیٹی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پورے بھرتی عمل میں انتہا درجے کی بے ضابطگیاں عمل میں لائی گئی ہیں جس کے بعد کمیٹی نے پوری بھرتی نوٹس کو ہی کالعدم کرنے کی سفارش کی تھی۔ذرائع سے بتایا کہ بھرتی عمل سے متعلق نوٹس میں اُمیدواروں بالخصوص جونیئر سپروائزر، اکائوٹنٹ اسسٹنٹ، جونیئر آدیٹر، ایگزکیٹیو آفیسر، اسسٹنٹ ایگزکیوٹیو آفیسر اور پبلک آفیسر برائے صوبہ جموں کے عہدوں کیلئے اُمیدواروں کو کم وقت دیا گیا تھا۔کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ صوبہ جموں کے اُمیدواروں کو کم وقت فراہم کرنے کے نتیجے میں صوبے سے قلیل تعداد میں اُمیدواروں نے انٹرویو میں حصہ لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر بھرتی ایجنسیوں پبلک سروس کمیشن اور ایس ایس آر بی کی طرف سے امیدواروں کو منتخب کرنے کیلئے جو طریقہ کار استعمال میں لایا جاتا ہے،اس کے تحت اگر10سے کم امیدوار ہو ںتو 1;5کا تناسب جبکہ 10سے زیادہ کی صورت میں1;3کا تناسب استعمال میں لایا جاتا ہے،تاہم اس کا تعاقب نہیں کیا گیا۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ مشتہر نوٹس کے مطابق اُمیدواروں کو متعلقہ عہدوں کیلئے مطلوبہ تجربے کیلئے 10پوائنٹس مختص رکھے گئے تھے جبکہ 30پوائنٹس زبانی امتحان کیلئے مختص کئے گئے تھے، جسے بھرتی عمل سے متعلق کمیٹی نے بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر قانونی طور پر من چاہے اُمیدواروں کی تقرری عمل میں لائی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ بھرتی عمل سے متعلق چند مخصوص عہدوں کے نتائج کو 14فروری 2015کو ظاہر کیا گیا جبکہ دیگر منصب بشمول جونیئر اسسٹنٹ، ریکارڈ کیپر شامل ہیں کے انٹرویو 19فروری 2018کو اختتام پذیر ہوئے جس کے نتیجے میں پوری بھرتی عمل مشکوک قرار پائی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عہدوں کیلئے جو معیار مقرر کیا گیا تھا اسے ماہرین کی رائے شامل نہیں تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماہرین کی رائے کو بالائے طاق رکھ کر صرف محکمہ کے وائس چیرمین نے ہی تجویز کیا تھا جس کے بعد کھادی اینڈ ولیج بورڈ کے چیئرمین نے ہری جھنڈی دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ بھرتی عمل سے متعلق جو معیار سال 2012میں قائم کی گئی کمیٹی نے مقرر کیا تھا ، اُس کو سرے سے ہی نظر انداز کیا گیا جبکہ دیگر محکمہ جات میں بھرتی عمل سے متعلق جومعیار سے متعلق ضابطہ اخلاق موجود ہیں اُس کو بھی بالائے طاق رکھا گیا ۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
