تازہ ترین
میری خاک وطن ماتم کناں نہ ہو
الطاف جمیل ندوی
آج صبح سویرے اٹھ کھڑا ہوا تو اخبار کی محبت میں اخبارات کی تلاش کرنے چل پڑا اخبارات کی کچھ کاپیاں لیں اور ورق گردانی کے لئے اپنے مخصوص کمرے میں جاکر بیٹھ گیا نگاہوں میں اب میں نیند کے ہلکے ہلکے سے اثرات تھے اخبارات میں اول اکثر کالم نگاروں کی نگارشات دیکھنے کو اولین ترجیح دینا اب مزاج کا حصہ سا بن گیا ہے اسی لئے مخمور سی کیفیت میں کالموں کے حصے کو دیکھنا شروع کیا پر خمار آلود نگاہوں نے سرکانا شروع کیا کمبل جو کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا تو اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جو کہ 11جولائی کو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی ایک خبر ہے .
منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ایک سروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں ۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ میںیہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت2+10ہے جبکہ 20فیصد گریجویٹ اور10فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں .
میں اچھل پڑا نیند غائب ہوگئی دل اداس ہوگیا کہ ہائے ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے کس نے اسے اس ذلت کی دلدل میں دھکیل دیا خیالون ہی خیالوں میں میرے اک معصوم سی صورت نگاہوں کے سامنے کھڑی ہوگئی یہ ایک اچھے خاندان کا جیالا اور لاڑلا معصوم سا نوجوان تھا جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی جس کے جسم پر ہلکی سی خراش سے بھی اس کے گھر میں چیخیں بلند ہوتی تھیں اپنے والدین کی وہ اکیلی اولاد تھی جو جی چاہتا وہ اسے ملتا یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھا اپنے والدین کے لئے شکل و صورت بھی حد سے زیادہ دینے والے نے دی تھی اسی لئے تو ہر نگاہ اس پر پڑھ کر نگاہ کے مالک کے دل میں ہوں سی اٹھا دیتی تھی نگاہ اس پر پڑھ تو جاتی تھی پر ظالم نگاہ ہٹائے سے بھی نہ ہٹتی تھی اسے بھی ناز تھا اپنے حسن و شباب کے نکھار پر آہستہ آہستہ اس کے قدم جوانی کی دہلیز پر پڑھنے لگئے تو اس کی شوخیاں اور بھی بڑھنے لگیں اب اس کا حلقہ یاراں بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا والدین نے کبھی کوئی روک نہ لگائی سوچا یہ محو پرواز ہے تو خوب اڑے ستاروں سے کھیلے اک روز انہی خوشیوں کے درمیان اس کے والد ایک ایکسیڈنت میں مالک کو پیارے ہوگئے اسے دکھ تو ہوا پر محفل میں شامل دوستوں نے اس کے غم کا مداوا بتا دیا کہ آئے ہمارے دوست ہم تیرے غم کو چل کافور کرتے ہیں تو جام چڑھا ہم بھر دیں گئے پھر کیا تھا اسے غم کے رفع کرنے کا ایک ایسا طریقہ ملا جو اس کی بربادیوں کی ایک دلخراش داستان الم سنانے والا تھا اب جام کے ساتھ انجیکشن مل گئے پھر پوڑر اور پھر اس کی کربناک ازیتوں کا سلسلہ چل پڑا نہ نیند نہ آرام نہ سکوں جسم کی ہیت بھی بدلنے لگئی اعضاء جسمانی مضحمل ہاتھ پاؤں میں مسلسل درد کی ٹھیس جوانی میں ہی چہرے کی رونق غائب بے نور سی آنکھیں ماتھے کی شکنین اس کی بدحالی کی چغلیاں کھانے کو کافی تھیں چڑ چڑا پن نفرت و کدورت بھرا جگر اپنے ہی خیالات میں مگن بال بکھرے ہوئے دنیا کی ہر خوشی سے ناواقف وہ کش لگاتا نوجوان والدہ اس کی حالت کو دیکھ دیکھ کر خون کے آنسو روتی رہتی پر اس پر اثر نہ ہورہا تھا کبھی کسی نالی سے ماں اٹھاتی تو کبھی کسی کیچڑ کے ڈھیر سے امی کے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے جو اسے کبھی جی بھر کر دیکھنے کے متمنی ہوا کرتے تھے وہ اب نگاہیں نیچی کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے .
اس کے رگ و پے میں سرایت ہوئی وہ نشے کے اجزاء اسے تباہ کرگئے تھے وہ دوست جن کا یہ کبھی اپنا تھا سب اسے بے یار و مددگار چھوڑ چکے تھے والدہ کے بازو بھی کمزور ہوکر اسے سہارا دینے کے لئے ناکافی سے تھے جب والدہ کے بازؤں میں اسے سہارا دینے کی سکت نہ رہی تو یہ اب گندی نالیوں اور کیچڑ کے ڈھیروں کی زینت بنتا گیا پھر وہ دن بھی آئے کہ اک روز شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں اس کی امی اس کے قدموں کو چوم چوم کر رو رہی تھی پر اس کا وہ نور نظر لخت جگر بے ہوش و حواس پڑا ہوا تھا اور پھر اپنی امی کے کمزور بازؤں کے سہارے اک روز مٹی کے ڈھیر تلے دب گیا،یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ کچھ سال پہلے ایک نحیف و نزار بھیک مانگتی اک خاتون بے سنا دی اپنی درد میں ڈوبی داستان جس کے ہاتھوں میں ہی نہیں انگ انگ میں لرزہ تھا پر اسے جینے کو مجبور اس کی سانسیں کر رہی تھیں ورنہ اس کے لخت جگر نے تو اسے کب کا مزار پہنچا دیا تھا تو ائے میری ملت کے پاک باز شاہین صفت نوجوانو میں تم سے مخاطب ہوں آئے میرے جگر کے ٹکڑو تم سے کہتا ہوں میری ملت کے خیر خواہو تم میرے مخاطب ہو …
پڑھ سکو تو پڑھو نا میرے دل کی صداؤں کو
مولائے کریم گواہ ہے میں اس سرمایہ کے غم میں اداس ہوں میری اجڑی بستی میں ماتم کناں ہوں میرے یہ جگر کے ٹکڑے میں شرمندہ ہوں میں نے ہی تو ان کا خیال نہ کیا جو یہ ظلمت کے شکار ہوگئے میں نے ہی تو انہیں برائی کی دلدل میں جانے دیا ہائے میری بربادی ہائے میری بے کسی
ائے قوم کے بچو میں شرمندہ ہوں
مجھے معاف کرکے اپنا کل سنوار دو نا
ہائے میری قوم کا سرمایہ کس طرح اپنی زندگیوں سے کھیل رہا ہے کس طرح اپنی خوشیوں کو آگ کی لپیٹ میں دے رہا ہے آئے میری ملت و قوم کے پاسبانو اٹھتے کیوں نہیں چلاتے کیوں نہیں
سامنے آتے ہو کیوں نہیں
دل تمہارے پرسکون ہیں کیونکر
ہائے تمہیں نیند کیسے آتی ہے
اف اداس ہوں کہ تم مسکراتے کیسے ہو
ہائے میں کیا کہوں کچھ تو سوچو
سامنے تو آؤ
میرے بچے بک رہے ہیں اپنی جاوانیاں برباد کر رہے ہیں
کوئی تو انہیں گلے لگائے کوئی تو ان کا مسیحا بن جائے
کیا یہ تمہارے بچے نہیں ہیں چلے آؤ ان بچوں کو بچانے کی فکر لے کر
میں اپنے ان لخت جگروں کو ہرگز نہ کوسوں گا ان پر الزام نہ دوں گا یہ میری بے بسی ہے یہ میری خطا ہے
یہ اجتماعی سطح پر غلطی ہے جو میرے بچے اس لعنت کا شکار ہوگئے یہ حالات و حوادث کا شاخسانہ ہے کہ میری ملت کی کوکھ اجڑنے کو چلی ہے
جو چہرے چومنے کے قابل تھے جو ہاتھ سہارے کے طالب تھے جو قدم ہماری مدد کے طالب تھے
آہ میری ملت کے خیر خواہو ہم نے انہیں بربادی کی اور دھکیل دیا ہے ہم نے ان ہاتھوں میں نشے کی اشیا دی ہیں ہم نے ان جگر کے ٹکڑوں کو بے سہارا کر دیا ہے
کیا ملت و قوم ایسے پنپتی ہے کیا قومیں ایسے عروج پاتی ہیں کہ اپنے جگر گوشوں کو فراموش کرکے چلتے رہیں نہیں.
رب کعبہ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی و بربادی کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کا سرمایہ یوں زیاں کا شکار ہوتا رہے اور قوم اجتماعی غفلت میں خراٹے بھرتی رہے
میری ملت کے بچو
آئے پروردگار کے پیارے بندو
آئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے شاہینو
آئے قوم کے جگر کے ٹکڑو ۔
تم میری ملت کا سرمایہ ہو تم ہی تو میری غیرت ہو
اٹھو نا میرے جگر کے ٹکڑو
اٹھو نا آئے میری ملت کے پاسبانو
تم ہی تو ہو جو میرا سرمایہ ہیں
تم یوں نہ زندگیاں داؤ پر لگاؤ
تمہاری خوشیاں منانے کے دن ہیں نشہ کرنے کے نہیں
تمہارے بازؤں کا فن دیکھانے کا وقت ہے بازو شل کرنے کا نہیں
تمہاری بہنیں تمہاری منتظر ہیں آئے ان کے محافظو یوں نہ لٹاؤ نا اپنی زندگیاں
تم ہی تو ہو جو میری ملت کا آنے والا کل ہے
تمہیں کیا ہوگیا کہ تم سرراہ گر رہے ہو ۔آئے میرے لخت
جگرو اٹھو نا تمہاری منزل تمہاری منتظر ہے
یہ سکون نہیں رب کبریاء کی قسم
یہ تمہارے لئے ناسور بن جائے گا
چلو آؤ اک نئی صبح کی نوید سنانے چلتے ہیں
میرا مولا میری ملت کے جگر کے ٹکڑوں کو سلامت رکھے
آپکا ایک گمنام بھائی آپ کے اس درد و کرب والی زندگی پر آپ کو پکارتا ہے آؤ میرے بچو میں تمہارے لب چوم لوں تم ہی تو ہو جو میری روح کی تسکین کا باعث ہیں میں تمہاری بے بسی میں تمہیں یاد کرتا ہوں .
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoویشالی میں کشتی الٹنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا
