تازہ ترین
میری خاک وطن ماتم کناں نہ ہو
الطاف جمیل ندوی
آج صبح سویرے اٹھ کھڑا ہوا تو اخبار کی محبت میں اخبارات کی تلاش کرنے چل پڑا اخبارات کی کچھ کاپیاں لیں اور ورق گردانی کے لئے اپنے مخصوص کمرے میں جاکر بیٹھ گیا نگاہوں میں اب میں نیند کے ہلکے ہلکے سے اثرات تھے اخبارات میں اول اکثر کالم نگاروں کی نگارشات دیکھنے کو اولین ترجیح دینا اب مزاج کا حصہ سا بن گیا ہے اسی لئے مخمور سی کیفیت میں کالموں کے حصے کو دیکھنا شروع کیا پر خمار آلود نگاہوں نے سرکانا شروع کیا کمبل جو کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا تو اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جو کہ 11جولائی کو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی ایک خبر ہے .
منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ایک سروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں ۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ میںیہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت2+10ہے جبکہ 20فیصد گریجویٹ اور10فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں .
میں اچھل پڑا نیند غائب ہوگئی دل اداس ہوگیا کہ ہائے ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے کس نے اسے اس ذلت کی دلدل میں دھکیل دیا خیالون ہی خیالوں میں میرے اک معصوم سی صورت نگاہوں کے سامنے کھڑی ہوگئی یہ ایک اچھے خاندان کا جیالا اور لاڑلا معصوم سا نوجوان تھا جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی جس کے جسم پر ہلکی سی خراش سے بھی اس کے گھر میں چیخیں بلند ہوتی تھیں اپنے والدین کی وہ اکیلی اولاد تھی جو جی چاہتا وہ اسے ملتا یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھا اپنے والدین کے لئے شکل و صورت بھی حد سے زیادہ دینے والے نے دی تھی اسی لئے تو ہر نگاہ اس پر پڑھ کر نگاہ کے مالک کے دل میں ہوں سی اٹھا دیتی تھی نگاہ اس پر پڑھ تو جاتی تھی پر ظالم نگاہ ہٹائے سے بھی نہ ہٹتی تھی اسے بھی ناز تھا اپنے حسن و شباب کے نکھار پر آہستہ آہستہ اس کے قدم جوانی کی دہلیز پر پڑھنے لگئے تو اس کی شوخیاں اور بھی بڑھنے لگیں اب اس کا حلقہ یاراں بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا والدین نے کبھی کوئی روک نہ لگائی سوچا یہ محو پرواز ہے تو خوب اڑے ستاروں سے کھیلے اک روز انہی خوشیوں کے درمیان اس کے والد ایک ایکسیڈنت میں مالک کو پیارے ہوگئے اسے دکھ تو ہوا پر محفل میں شامل دوستوں نے اس کے غم کا مداوا بتا دیا کہ آئے ہمارے دوست ہم تیرے غم کو چل کافور کرتے ہیں تو جام چڑھا ہم بھر دیں گئے پھر کیا تھا اسے غم کے رفع کرنے کا ایک ایسا طریقہ ملا جو اس کی بربادیوں کی ایک دلخراش داستان الم سنانے والا تھا اب جام کے ساتھ انجیکشن مل گئے پھر پوڑر اور پھر اس کی کربناک ازیتوں کا سلسلہ چل پڑا نہ نیند نہ آرام نہ سکوں جسم کی ہیت بھی بدلنے لگئی اعضاء جسمانی مضحمل ہاتھ پاؤں میں مسلسل درد کی ٹھیس جوانی میں ہی چہرے کی رونق غائب بے نور سی آنکھیں ماتھے کی شکنین اس کی بدحالی کی چغلیاں کھانے کو کافی تھیں چڑ چڑا پن نفرت و کدورت بھرا جگر اپنے ہی خیالات میں مگن بال بکھرے ہوئے دنیا کی ہر خوشی سے ناواقف وہ کش لگاتا نوجوان والدہ اس کی حالت کو دیکھ دیکھ کر خون کے آنسو روتی رہتی پر اس پر اثر نہ ہورہا تھا کبھی کسی نالی سے ماں اٹھاتی تو کبھی کسی کیچڑ کے ڈھیر سے امی کے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے جو اسے کبھی جی بھر کر دیکھنے کے متمنی ہوا کرتے تھے وہ اب نگاہیں نیچی کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے .
اس کے رگ و پے میں سرایت ہوئی وہ نشے کے اجزاء اسے تباہ کرگئے تھے وہ دوست جن کا یہ کبھی اپنا تھا سب اسے بے یار و مددگار چھوڑ چکے تھے والدہ کے بازو بھی کمزور ہوکر اسے سہارا دینے کے لئے ناکافی سے تھے جب والدہ کے بازؤں میں اسے سہارا دینے کی سکت نہ رہی تو یہ اب گندی نالیوں اور کیچڑ کے ڈھیروں کی زینت بنتا گیا پھر وہ دن بھی آئے کہ اک روز شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں اس کی امی اس کے قدموں کو چوم چوم کر رو رہی تھی پر اس کا وہ نور نظر لخت جگر بے ہوش و حواس پڑا ہوا تھا اور پھر اپنی امی کے کمزور بازؤں کے سہارے اک روز مٹی کے ڈھیر تلے دب گیا،یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ کچھ سال پہلے ایک نحیف و نزار بھیک مانگتی اک خاتون بے سنا دی اپنی درد میں ڈوبی داستان جس کے ہاتھوں میں ہی نہیں انگ انگ میں لرزہ تھا پر اسے جینے کو مجبور اس کی سانسیں کر رہی تھیں ورنہ اس کے لخت جگر نے تو اسے کب کا مزار پہنچا دیا تھا تو ائے میری ملت کے پاک باز شاہین صفت نوجوانو میں تم سے مخاطب ہوں آئے میرے جگر کے ٹکڑو تم سے کہتا ہوں میری ملت کے خیر خواہو تم میرے مخاطب ہو …
پڑھ سکو تو پڑھو نا میرے دل کی صداؤں کو
مولائے کریم گواہ ہے میں اس سرمایہ کے غم میں اداس ہوں میری اجڑی بستی میں ماتم کناں ہوں میرے یہ جگر کے ٹکڑے میں شرمندہ ہوں میں نے ہی تو ان کا خیال نہ کیا جو یہ ظلمت کے شکار ہوگئے میں نے ہی تو انہیں برائی کی دلدل میں جانے دیا ہائے میری بربادی ہائے میری بے کسی
ائے قوم کے بچو میں شرمندہ ہوں
مجھے معاف کرکے اپنا کل سنوار دو نا
ہائے میری قوم کا سرمایہ کس طرح اپنی زندگیوں سے کھیل رہا ہے کس طرح اپنی خوشیوں کو آگ کی لپیٹ میں دے رہا ہے آئے میری ملت و قوم کے پاسبانو اٹھتے کیوں نہیں چلاتے کیوں نہیں
سامنے آتے ہو کیوں نہیں
دل تمہارے پرسکون ہیں کیونکر
ہائے تمہیں نیند کیسے آتی ہے
اف اداس ہوں کہ تم مسکراتے کیسے ہو
ہائے میں کیا کہوں کچھ تو سوچو
سامنے تو آؤ
میرے بچے بک رہے ہیں اپنی جاوانیاں برباد کر رہے ہیں
کوئی تو انہیں گلے لگائے کوئی تو ان کا مسیحا بن جائے
کیا یہ تمہارے بچے نہیں ہیں چلے آؤ ان بچوں کو بچانے کی فکر لے کر
میں اپنے ان لخت جگروں کو ہرگز نہ کوسوں گا ان پر الزام نہ دوں گا یہ میری بے بسی ہے یہ میری خطا ہے
یہ اجتماعی سطح پر غلطی ہے جو میرے بچے اس لعنت کا شکار ہوگئے یہ حالات و حوادث کا شاخسانہ ہے کہ میری ملت کی کوکھ اجڑنے کو چلی ہے
جو چہرے چومنے کے قابل تھے جو ہاتھ سہارے کے طالب تھے جو قدم ہماری مدد کے طالب تھے
آہ میری ملت کے خیر خواہو ہم نے انہیں بربادی کی اور دھکیل دیا ہے ہم نے ان ہاتھوں میں نشے کی اشیا دی ہیں ہم نے ان جگر کے ٹکڑوں کو بے سہارا کر دیا ہے
کیا ملت و قوم ایسے پنپتی ہے کیا قومیں ایسے عروج پاتی ہیں کہ اپنے جگر گوشوں کو فراموش کرکے چلتے رہیں نہیں.
رب کعبہ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی و بربادی کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کا سرمایہ یوں زیاں کا شکار ہوتا رہے اور قوم اجتماعی غفلت میں خراٹے بھرتی رہے
میری ملت کے بچو
آئے پروردگار کے پیارے بندو
آئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے شاہینو
آئے قوم کے جگر کے ٹکڑو ۔
تم میری ملت کا سرمایہ ہو تم ہی تو میری غیرت ہو
اٹھو نا میرے جگر کے ٹکڑو
اٹھو نا آئے میری ملت کے پاسبانو
تم ہی تو ہو جو میرا سرمایہ ہیں
تم یوں نہ زندگیاں داؤ پر لگاؤ
تمہاری خوشیاں منانے کے دن ہیں نشہ کرنے کے نہیں
تمہارے بازؤں کا فن دیکھانے کا وقت ہے بازو شل کرنے کا نہیں
تمہاری بہنیں تمہاری منتظر ہیں آئے ان کے محافظو یوں نہ لٹاؤ نا اپنی زندگیاں
تم ہی تو ہو جو میری ملت کا آنے والا کل ہے
تمہیں کیا ہوگیا کہ تم سرراہ گر رہے ہو ۔آئے میرے لخت
جگرو اٹھو نا تمہاری منزل تمہاری منتظر ہے
یہ سکون نہیں رب کبریاء کی قسم
یہ تمہارے لئے ناسور بن جائے گا
چلو آؤ اک نئی صبح کی نوید سنانے چلتے ہیں
میرا مولا میری ملت کے جگر کے ٹکڑوں کو سلامت رکھے
آپکا ایک گمنام بھائی آپ کے اس درد و کرب والی زندگی پر آپ کو پکارتا ہے آؤ میرے بچو میں تمہارے لب چوم لوں تم ہی تو ہو جو میری روح کی تسکین کا باعث ہیں میں تمہاری بے بسی میں تمہیں یاد کرتا ہوں .
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
