تازہ ترین
قتل کا بازار گرم ہے؛ آواز دو “انصاف” کہاں ہے؟
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
*قتل کا بازار گرم ہے- آواز دو “انصاف” کہاں؟؟؟…ہے
اللہ رب ا لعز ت نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی(یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے) علم اور دماغ سے انسان نے ترقی کی سیڑ ھی یاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر،چاند پر کمند اور ان گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے جس میں فائدے اور نقصانات کی ایجاد بھی شامل ہے۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix)میراج29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار ے بھی بنا کر انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا کر ساری حدیں پار کر دی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار(Quantity) مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے،اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔(القرآن، سورہ نحل16،آیت8) تر جمہ: اسی نے گھوڑے اور خچر پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمھاری رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں (تمھارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمھیں علم تک نہیں ہے۔ رب تبارک و تعا لیٰ نے انسانوں کو بتد ریج، رفتہ رفتہ، زینہ بزینہ، در جہ بدر جہ، ترقی دینے کا وعدہ فر مایا اللہ ہی کی دی ہو ئی نعمت علم وعقل سے انسان نے ایسی ایجادات کی ہیں جن سے فائدے ہیں لیکن یقینا اس میں بے شمار نقصا نات بھی ہیں۔
*موب لنچیینگ کے بڑھتے واقعات ذمہ دار حکومت اور سوشل میڈیا*: دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد مو بائل ہے جو کہ موجودہ زمانہ کی ناگزیر چیز بن گئی ہے امیر، غریب،بچہ، جوان، بوڑھا، کسان سے لے کر پائلٹ تک اس کا گر ویدہ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس کا غلام بن گیا ہے، نو جوان نسل کی بر بادی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے جدید مواصلاتی نظام نے جہاں انقلاب بر پا کیا ہے وہیں سیکڑوں مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں جن کا حل ڈھونڈنا انتہائی ضرو ری ہے اگر ان مسائل کا حل ڈھونڈھانہ گیا تو آگے اور زیادہ تباہی آئے گی اور اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔آج واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب، ٹیلیگرام وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ جہاں اپنی بات دوسروں تک جلد پہچانا بہت آسان اور فائدے مند ہے،وہیں یہ ذرائع انسانی موتوں کے بھی ذمہ دار ہیں اسی سے حضرت انسان جو اشرف المخلوق ہے وہ قدم قدم پر لمحہ بہ لمحہ جھوٹی خبریں گندی چیزیں پھیلا رہا ہے، اسی میں موب لنچنگ جیسا خطر ناک معا ملہ ہے اس میں حکو مت کی بھی شہ ہے جب سے سنٹرل اور صوبوں میں بی جی پی کی حکو متیں بنی ہیں پورے ملک میں اقلیتوں پر طرح طرح کے بہانوں سے حملہ کرکے جا ن سے مار دینا ایک فیشن بن گیا ہے ڈھٹا ئی،بے شر می، بے خوفی،ہٹ دھر می کا یہ حال ہے کہ مار نے کے بعد خود مجرمین ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں تاکہ پورے بھارت کو ڈرا یا جاسکے۔ ان کو یہ زعم پیدا ہو گیا ہے ”سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کا ہے کا“قا نون کے رکھ والے ان کے چہیتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے گائے کے نام پر، بچہ چوری کے نام پر،ٹرینوں میں سیٹ کے جھگڑے میں طرح سے مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے ابتک موب لنچنگ (بھیڑ کے ذریعہ جان مارنا)میں 149 سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں جس میں 80 فیصد مسلمان ہیں۔
*جھاڑکھنڈ اور ہریانہ موب لنچیینگ کا گڑھ*
یوں تو پورے ہندوستان میں ہجومی قتل Mob-lynching کا گراف بڑھتا جا رہا ہے والیکن جھاڑکھنڈ اسکا گڑھ بنا ہوا ہے 2016, سے لیکر اب تک 19 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 3 دلت ہندو ہیں اور 16 مسلمان شہید ہوئے ہیں،ابھی حالیہ واقعہ 17 جون کو سراہے کیلا کھر ساواں ضلع، سینی تھانہ،کے تحت دھتکیڈیہ گائوں میں تبریز انصاری نامی شخص کو جو کدم ڈیہ گا ئوں سینی تھا نہ،ضلع سرائے کیلا کھر ساواں کا رہنے والا تھا پکڑ کر گائوں والوں نے اور بی جے پی کے “مشہور نیتا پپو منڈل” نے17, گھنٹے مار مار برا حال کر دیا-
اس بیچ اس سے مذہبی نعرے جے شری رام،جے بجرنگ بلی کے نعرے بھی لگوائے اس بیچارے نے مجبوری میں نعرے بھی لگائے لیکن ظالموں نے اس کے بعد اسے پیٹنے کا سلسلہ جاری رکھا،ظلم کی ساری حدیں پار کردیںن ۔۔۔۔ گائوں والوں کی اطلاع پر صبح سینی opپولیس دھتکیڈیہ پہنچی ،دہشت گردوں،ظالموں کی پیٹائی سے بری طرح گھا ئل *تبریز انصاری* کو حراست میں لیکر بغیر علاج کروائے ڈائریکٹ جیل بھیج دیا،22 جون کو جیل میں اس کی حالت تشویشناک ناک حد تک خراب بہت ہو گئی اس کے بعد جیل پرشاسن نے علاج کے لیے صدر اسپتال بھیجا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ (مرا ہوا) ہونے کا اعلان کر دیا-
لیکن رشتے داروں نے اس کے کراہ نے اور منھ سے جھاگ نکلتے دیکھ کر اس کے زندہ ہونے کی بات کہی اور اسپتال میں ہنگامہ شروع کیا ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر اور رشتے داروں کے ڈیمانڈ پر ڈاکٹروں نے اسے ٹا ٹا مین ہوسپٹل TMH ریفر کر دیا،راستے میں ٹی ایم ایچ لے جانے میں آدیش بدل دیا گیا کہ گور منٹ ہاسپٹل مہاتما گاندھی ہاسپٹل MGM جمشیدپور لے جا یا جائے جمشیدپور کا راستہ ڈھیڑ گھنٹے کا ہے جس میں 6 گھنٹے لگا دیئے گئے،اور اس بیچ بری طرح سے زخمی تبریز انصاری کی موت ہو گئی- *انا للہ وانا الیہ راجعون* – بیوی کی شکایت پر درج FRI پر تبریز انصاری کی باڈی کو ہوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچا دیا گیا بیوی اور رشتے داروں کے احتجاج پر سینی او پی پو لیس آفیسرں و ڈاکٹر کے فٹ لکھنے پر بہت احتجاج کرنے پر بہت مشکل سے بیوی کے بیان پر بی جے پی کے لیڈر “پپو منڈل” اور 100 لوگوں پر مقدمہ درج ہوا،یہ سب حکومت کے ذمے داروں کے ڈھیلے رویے کی وجہ سے ہو رہا ہے اسی وجہ کر ان لو گوں کی ہمت بڑھی ہوئی ہے جو انتہائی افسوس ناک اور فکر مندی کی بات ہے-
*فر قہ پرستوں کی آئی ٹی سیل* جھوٹے مسییج سیکنڈوں میں بناکر وائر ل کر کے بھیڑ جمع کر لیتی ہے اور اب تو با قائدہ اس نے ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے اور ساری حدیں پار کردیںن ہیں،
سوشل میڈیانے تو ساری حدیں پار کر دی ہیں کوئی خبر آئی یا پھر غلط خبر ہی کیوں نہ ہو فوراً بھیجنا(Share) کر نا دل و ماغ سے بغیر سوچے سمجھے ایک سکنڈ بھی ضائع کئے بغیر ڈاکیہ کا کام کر نے لگتے ہیں۔واضع رہے ڈاکیئے کا کام ہے جو چیز اسے پہچا نے کے لیے دی جائے وہ اس چیز کو اسی کو دے جسے دینا ہے نہ کہ وہ ساری دنیا کو بانٹتا پھرے کو ئی خبر کوئی اطلاع کسی بھی انسان کے پاس آئی تو سب سے پہلے اطلاع پانے والے انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ پتہ لگا ئے کی یہ اطلا ع (information) صحیح ہے یا جھوٹ ہے اس کی تحقیق کرے اگر غلط ہے تو سب سے پہلے اطلاع بھیجنے والے سے بات کرے اور سختی سے منع کرے کہ آئندہ قطعی ہم تک جھوٹی باتیں نہ بھیجیں۔حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کے پاس جب ان کا پرندہ ھُدْھُدْ جو انکی خد مت پر معمور تھا اطلاع لا یا جس کا ذکر قرآن مجید میں اسطرح ہے۔ ھُدْ ھُدْ پرندہ بھی خبروں کو بیان کر نے میں اصول وضوابط کا پابند تھا چنانچہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا: (القر آن، سورہ نمل27،آیت22) ترجمہ: میں سبا کے متعلق ایک یقینی خبر لایاہوں۔ یہا ں ھُدْ ھُدْ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے یہ سنا ہے یا ایسا پڑھا ہے یا مجھے ایسی خبر پہنچی ہے۔ اسی طرح ھُدْ ھُدْ کی خبر کے تئیں حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کا موقف بھی آج کے لوگوں یا ہماری طرح نہیں تھا کہ کوئی خبر ملنے کے بعد فورً اسے آگے (Forward) کردیں یا اسے (copy paste) کر نے لگیں بلکہ ھُدْھد کی خبر سننے کے بعد حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے فر مایا:(القرآن،سورہ نمل27،آیت27)سلیمان (علیہ ا لسلام) نے کہا”ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔
قر آن کریم سے یہ معلوم ہوا کہ خبر کی تحقیق کرنا اور اس کی سچائی یا جھوٹ کا پتہ لگانا یہ انبیائے کرام کا طریقہ رہا ہے۔ اس لیے ہم کو آپ کو بھی چا ہیے کوئی بھی ایسی خبر ادھر ادھر نہ پھیلائیں جس کی سچائی کا علم اور یقین آپ کو نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ خبر سچ بھی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خبر اس پیغام کو دیکھے سمجھے کہ اس پیغام(Massage) کو دوسروں کو پہنچا نا فائدہ مند ہے یا نہیں، کہیں اس خبر سے فتنہ فساد نہ پھیل جائے خوب اچھی طرح سوچے۔سوشل میڈیا میں جو پیغام آتے ہیں اس کے یوزر زیا دہ تر جلد باز ہو تے ہیں ادھر میسیج آیا اور لگے ادھر فاروڈ کرنے سب سے پہلے بھیج کراپنے کو بڑا تیس مار سمجھتے ہیں اور اس کا کر یڈٹ اپنے نام کر نا چاہتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیغام آن کے آن سکنڈوں میں تمام دنیا میں پہنچ جا تا ہے اور پھر یہی نہیں جن تک یہ پیغام پہنچتا ہے وہ بھی دوسروں تک پہنچانے میں ذر ادیر نہیں لگا تے دوسروں تک آگے(forward) کر نے میں اور آپ کا بھیجا ہوا پیغام سیکڑوں، ہزا روں لو گوں تک پہنچ جاتا ہے پھر اس جھوٹی خبر سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں کیا کبھی آپ نے سو چا ہے، کتنا گناہ ہو تا ہے معلوم ہے آپ کو ذرا سوچئے،قرآن کریم میں رب ذو الجلال کا فر مان ہے۔ (القر آن، سورہ نمل27،آیت105) تر جمہ: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی وہی جھو ٹے ہیں،(کنز الایمان) ایک جگہ ہے لعنۃ اللہ علی الکذ بین۔ جھو ٹوں پر اللہ کی لعنت ہے، جس پر اللہ کی لعنت ہو گی وہ کیسے فلاح پائے گا۔ حدیث پاک ہے۔یحیٰ بن یحیٰ، سلیمان تیمی، ابو عثمان ہدی، کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا: آ دمی کے لیے جھو ٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے(جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیاجاسکتا ہے) کہ ہر سنی ہوئی بات بیان کردے۔(صحیح مسلم،باب ہر سنی ہوئی بات بیان کر نے کی مما نعت،حدیث 9)دوسری حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آپ نے فر مایا:آدمی کے جھو ٹے ہونے میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔ (صحیح مسلم، حدیث 11،) جھوٹ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ربِ ذوالجلال کی اس پر لعنت ہے۔ جھوٹ ایک ایسا متعدی مرض ہے و ائرس(virus) زہریلا مادہ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے جھوٹ بھی سائبر کرائم کی طرح ایک جرم ہے،واٹس ایپ کے جھوٹے میسیجوں نے کتنے معصوموں کی جان لے لی ہے سوشل(social media) کے ذریعہ جھوٹ کو بری طرح سے بڑھا وا مل رہاہے آپ دیکھیں جھوٹے میسیج بھیج کر بھیڑ اکٹھا کرنا ماب لنچنگ، جنو نی بھیڑ کے ذریعہ کہیں بچہ چوری کے نام پر، کہیں گؤ ہتھیا کے بہانے، کہیں گائے کے گوشت کے زیا دہ تر مسلمانوں کو مارا جارہا ہے حکو متیں ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق اندھی بہری بنی ہوئی ہیں یہ ظلم و نا انصافی اب ساری حدیں پار کر گئی ہے یہ ہمارے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذ یب کو بر باد کر رہی ہے جو سب کے لیے نقصان ہو گا۔حالیہ واقعہ ہا پوڑ ضلع کے پلکھوا علاقے کے بچھیڑا گاؤں میں ایک مسلمان اپنے کھیت میں گھسی گائے کو کھیت سے با ہر کر رہا تھا اور کسی نے فوٹو لیکر واٹس ایپ کر دیا کہ گائے کی تسکری کر رہا ہے آن واحد میں بھیڑ جمع ہو گئی اور قا سم اور اس کے ساتھی کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا قاسم کی موت کھیت میں ہی ہوگئی اور دوسرا ساتھی سیریس ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ہندو دہشت گردی کا، ملک کے حالات بہت خراب ہیں۔ *جرائم کا بڑھتا گراف ارباب حکو مت کے لیے چیلنج ہے۔
مو بائل چلانے والوں کو بہت احتیاط اور سوچ سمجھ کر پیغام فار وڈ کر نا چاہیئے کہ اس غلط خبر سے سماج پر کیا اثر ہو گا؟ افسوس کوئی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کے ہاتھ میں دیکھوموبائل چیٹنگ میں لگا ہے بغیر سوچے سمجھے میسیج بھیجنے میں لگا ہے ضرورت ہے کہ لوگ ایسے فالتو کا سے باز آئیں اور دوسروں کو بھی سنجید گی سے، پیار سے سمجھائیں گناہ بے لذت کی فہرست بہت لمبی ہے جھوٹ پھیلا نا، جھوٹی گواہی دینا، فحش گو ئی، فحش گندی تصویریں دیکھنا یہ سب گناہِ کبیرہ ہیں۔
*حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فر مایا*:
جھوٹ گنا ہوں کی جڑ ہے اور جھوٹ گناہوں کی کھیتی کو ہرا بھرا کر دیتا ہے، اتنے بڑے گناہ کر نے والے کو کیا ملتا ہے؟ کچھ نہیں ایسے ہی گناہ کو بے لذت گناہ کہا جاتا ہے۔۔ *خون کا قطرہ نہ آستین پہ ہے، نہ دھبہ زیر دامن میں*— *آپ کی حر کت سے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھری*– موب لنچیینگ پر حکو متوں کے رویے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے کئی بار پھٹکا ر پڑ چکی ہے والیکن حکو متوں کے کان پر جوئیں نہیں رینگ رہی ہے کورٹ نےقا نون بنانے کی ہدایت بھی کی ہے ضروری ہے کہ حکومت ہر شہری کی حفاظت کرے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو اللہ ظالموں کی پکڑ فرمائے آ مین ثم آمین۔
رابطہ: (Mob.:09386379632)
نوٹ: مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
