تازہ ترین
13 جولائی یوم شہداء کشمیر: کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
تحریرمشتاق شمیم، بڈگام
13۔جولائی 1931ء کو جو خونین واقع سرینگر سینٹرل جیل کے باہر پیش آیا اس بارے میں قارئین کرام کو جانکاری فراہم کرنا وقت کی خاص ضرورت ہے تاکہ ریاست کی نوجوان پیڑی اپنے اسلافوں کی طرف سے پیش کی گئیں بیش قیمتی قربانیوں پر فخر محسوس کرتے رہیں۔جی ہاں دوستوعبدالقدیر خان نامی ایک غیر ملکی ٹورسٹ گائیڈکسی سیاح کے ساتھ کئی برسوں سے متواتر طور پر وادی کی سیر و تفریح کے سلسلے میں یہاں آیا کرتے تھے۔آپ ایک دیندار مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک قابل اور بہادر نوجوان بھی تھے۔ ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و تشدد کو دیکھتے ہوئے اُن کو بڑی تکلیف ہوا کرتی تھی۔وادی کی سیر و تفریح کے دوران خان صاحب نے یہاں کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی سے وابسطہ رہنماؤں سے ملنا اوراُن کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا اپنا معمول بناکے رکھا ہوا تھا۔ ایک اجنبی ہونے کے باوصف قدیر خان صاحب تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لیڈران قوم کے ساتھ گفت و شنید کرنے میں بڑی دلچسپی ظاہر کیاکرتے تھے۔آپ آزادی کے متوالوں کی طرف سے بلائے گئے جلسے جلوسوں میں شرکت کرنا اپنے لئے باعث رحمت سمجھا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ اپنی بات رکھنے میں بھی کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک روز خانصاحب کو تحریک آزادی کے حوالے سے ایک بہت بڑے عوامی جلسے میں تقریر کرنے کا نادرموقع ملا۔ اپنے شعلہ بیان تقریر میں انہوں نے ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے بے قصور ریاستی عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و قہر کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔آپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف کھری کھری سُنانے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔اُن کے پُر اثر اور پُر مغز تقریر نے مظلوم اور کمزور کشمیری قوم میں ڈوگرہ متعلق العنان حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ہمت اور حوصلہ بڑھا دیا۔ اس ولولہ انگیز تقریر کی وجہ سے قدیر صاحب اہلیان وادی میں ایک ہر دل عزیز شخصیت کی حثیت سے ابھر کر سامنے آگئے۔حکومت وقت کو خان صاحب کے تیور اور عوامی مقبولیت دیکھ کر خوف محسوس ہونے لگااسلئے مہاراجہ نے قدیر صاحب کو بغاوت کو ہوا دینے کے الزام میں گرفتار کروادیا اور ان کے خلاف ایک خصوصی عدالت میں باضابطہ مقدمہ چلانے کا فرمان بھی جاری کردیا۔
13 جولائی 1931ء کی تاریخ کو سینڑل جیل سرینگرکے اندر قائم خصوصی عدالت میں اس تاریخی مقدمہ کو لیکرحتمی فیصلہ سُناناطے تھا۔اس روزلوگ اطراف و اکناف سے جوق در جوق آتے گئے اور جیل خانے کے باہر جمع ہوتے گئے۔ لوگوں کو خدشہ لاحق تھا کہ مہاراجہ کی نام نہاد عدالت قدیر خان کیلئے پھانسی کے سوا کوئی دوسری سزا تجویز نہیں کرلیگی اسلئے وہ جیل کے باہرقدیر خان کی رہائی کو لیکر پُر زوراحتجاج کرتے رہے۔جیل کے اندر عدالتی کا روائی جاری تھی اورجیل کے باہر ہزاروں لوگوں پر مشتمل مجموعہ قدیر خان کی رہائی کے حق میں نعرہ بازی کرنے میں مشغول تھے۔مظاہرین زور دار طریقے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ قدیر خان کو باعزت بری کیا جانا چاہئے۔ جج صاحبان بھی عوام کا جم غفیر اور ان کاغصہ دیکھ کر گھبراہٹ میں مبتلا ہوچکے تھے۔حالانکہ عدالت نے قدیر خان کو حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا طے کر رکھی ہوئی تھی لیکن اپنا فیصلہ سنانے سے جج صاحبان گھبراہٹ محسوس کررہے تھے۔
کیا کیا جائے کیسے کیا جائے عدالت کافی دیر تک اسی مخمصے میں مبتلارہی۔ اس دوران نماز ظہر ادا کرنے کا وقت آن پہنچا۔لوگ با جماعت نماز ادا کرنے کی تیاری کرنے لگے اور جزبہ آزادی سے سرشار ایک جوشیلا نوجوان جیل کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینے لگا۔اس نوجوان نے جب اذان کا پہلا کلمہ ”اللہ اکبر“ اپنی خوبصورت اور ولولہ انگیز آوازمیں بلند کیا تو اس با برکت کلمے کی گونج نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا۔مردمجاہد کی اس اذان نے حکومت کے اعلیٰ فوجی و سیول افسروں اور سپاہیوں کے رونگٹھے کھڑا کردئے۔اُن کے دلوں میں ایسا خوف طاری ہوگیا کہ وہ مارے خوف کے ادھر اُدھر بھاگم بھاگ کرنے لگے۔مہاراجہ کے سالے ٹھاکر نچنت سنگھ نے جب سیٹرل جیل میں تعینات اعلیٰ سرکاری ادیکاریوں اور سپاہیوں کے اندر خوف و ہراس اور افرا تفری کا ماحول دیکھ لیا تو انہوں نے موذن کو گولی کا نشانہ بنانے کا حکم جاری کردیا تاکہ سپاہیوں کے اندر خود اعتمادی کی کیفیت بحال ہوسکے۔چوتھا تکبیر ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ موذن کے سینے پر کسی فوجی اہلکار نے گولی ماردی اور وہ خون میں لت پت ہوکر دیوار سے گر پڑا اور جام شہادت نوش کرگیا۔تنگ آمد بہ جنگ آمد۔جذبہ اسلام اور جزبہ آزادی کا حال دیکھئے۔ایسی کون سی حرارت تھی ہمارے اسلافوں کے خون میں کہ جہاں لوگوں کو اس الم ناک اور غیر متوقعہ حادثے کی وجہ سے خوف زدہ ہونا اور منتشر ہوجاناچاہئے تھا وہاں سب کچھ توقع کے عین برعکس مشاہدے میں آگیا۔پہلا نوجوان ابھی سینے میں گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر ہی رہا تھا کہ دوسرا سرفروش جلدی سے دیوار پر چڑھ گیا اور اذان کو جاری رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔اس دوسرے سرفروش کو بھی کسی سفاک سپاہی نے اپنی گولی کا نشانہ بنادیا۔وہ بھی ابھی نیچے گر ہی رہا تھا کہ تیسرا مرد مومن اذان کو آگے بڑھانے کیلئے دیوار پر کھڑا ہوگیا۔ اس کو بھی ظام فوجیوں نے شہید کردیا۔مہاراجہ کے نامرد سپاہی یکے بعد دیگرے ایک ایک بہادر حریت پسند موذن کو شہید کرتے گئے اور ایک ایک مرد آہن اذان کو مکمل کرنے کیلئے دیوار پر سینہ تان کر چڑھتا گیا۔ اس طرح سے13 جولائی 1931ء کی تاریخی اذان (ظہر) 23۔سرفرشوں نے جام شہادت نوش کرتے کرتے مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔تاریخ اسلام میں یہ واحد اذان ہے جس کو23۔ شہیدوں نے اپنے لال لال خون سے رنگ کر خو ب سے خوبصورت بنادیا۔ افرا تفری کے عالم میں سینکڑوں نوجوان اس دوران گولیاں لگنے اور بھاگم بھاگ کرنے سے مضروب بھی ہوگئے۔حریت رہنماؤں کی ایماء پر ان سبھی شہدا ء کو خانقاہ مولیٰ خواجہ نقشبندصاحب ؒ کے صحن واقع خانیار میں دفن کیا گیا۔ اس مزار کو مزار شہدا ء کے نام سے منسوب کر رکھا گیا ہے۔
بہر حال13 جولائی 1931ء کا خونین واقع رونما ہونے سے عوام کے دلوں میں مہاراجہ کے خلاف غم و غصہ کا لاوہ اس قدر ابھلنے لگا کہ یہی لاوہ آتش فشان پہاڑ کی صورت میں اُس وقت پھوٹ پڑا جب یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے وابسطہ افراد ڈوگرہ شاہی نظام سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے عملی میدان میں بے خطر کود پڑے۔ریڈنگ روم جماعت سے وابستہ یہ تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی کو منطقی انجام تک لے جانے کیلئے میدان کار زار میں جنون کے ساتھ اُتر گئے۔ اس خونین واقع کے سولہ برس بعد ہی بلآخر مہاراجہ کو اپنا بوریا بسترہ باندھ کر یہاں سے رفو چکر ہونا پرا۔1931ء سے لیکر آج تک 13 جولائی کی تاریخ کو کشمیر میں یوم شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری تعطیل بھی ہواکرتی ہے۔ ریاست کی جملہ سیاسی پارٹیوں سماجی جاعتوں کے نمائندے 13 ء کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مزار شہدا ء جاتے ہیں وہاں پر قوم کے سپوتوں کی قبروں پرگلباری کرتے ہیں اوران شہیداء وطن کے ایصالِ ثواب کیلئے دعائیہ مجلسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 31ء کے شہیدوں کو ریاست کی مین اسٹریم پارٹیوں کے ساتھ ساتھ علیحد گی پسند جماعتیں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ قوم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آیا ان شہیدوں کے اصلی وارث کون ہیں۔
یہاں میں اُن 23۔شہدا ء کے اسمائے گرامی تحریر میں لانے کی سعادت حاصل کرتا چلوں جو اس خونین دلدوزواقع میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔1۔ اسر جو جندہ گرو گوجوارہ۔2۔اکبر ڈار اوُنتہ بھون۔3۔محمد تیلی اُونتہ بھون۔4۔ محمد سبحان راتھر اوُنتہ بھون۔5۔ عبداللہ راتھرمختمہ پکھری۔6۔عبداللہ لون نالہ بل نوشہرہ۔7۔ محمد عثمان مسگر نالہ بل نوشہرہ۔8۔خالق شودہ ہنزیمر خانیار۔9۔محمد رمضان چولہ آرم مسجد خانیار۔10۔ احد بٹ فتح کدل۔11۔ محمد سلطان خان بسنت باغ۔12۔ نصیر الدین چینکرال محلہ۔13۔عبدالسلام حجام گُذربل۔14۔محمد اکبر زالڈگر۔15. غلام نبی کلوال پاندان۔16۔عبداللہ نجار اومپورہ۔ 17۔غلام محمد صو فی ذری بل۔18۔ محمدسبحان خان نواب بازار۔19۔غلام محمد نقاش کاریکدل۔20۔ عبدالغنی مکائی نوا کدل۔21۔غلام محمد حلوائی جامع مسجد۔22۔ غلام رسول دورہ قطب الدین پورہ۔23۔ غلام قادر بٹ بہاؤ الدین صاحب۔شہیدوں کی یہ فہرست شہیدمزار پر لگائی گئی اُس تختی سے من و عن نقل کی گئی ہے جو تختی 13۔جولائی1949ء کو جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی طرف سے مزار شہداء پر لگائی جاچکی ہے۔
یاد رہے 1949 میں نیشنل کانفرنس کے صدر مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کے نامزدوزیر اعظم تھے۔یہاں میں بلا خوف و تردید یہ بتاتا چلوں کہ شیخ صاحب کو وزارت عظمیٰ کا اعلیٰ منصب ان ہی شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کرنے کے عوض مل چکا تھا۔ہمارے ان صٖفہ اول کے شہیدوں نے اپنی بیش قیمتی جانوں کا نظرانہ اسلئے پیش نہیں کیا تھا کہ قوم کے رہنماء اس مظلوم قوم کو جہنم کی ایک وادی سے نکال کر جہنم کی دوسری وادی میں دھکیل دیں نہ ہی انہوں نے اپنا پاک لہو اسلئے بہادیا تھا کہ قوم کے لیڈران کرام ایک آزاد ملک کو معمولی کرسی کی خاطر کسی دوسرے ملک کی غلامی میں دے بیٹھیں۔یہاں یہ بات دکھ سے کہنی پڑتی ہے کہ۳۲۔شہیدوں کی طرف سے بہائے گئے پاک لہوکے سیلاب میں ڈوگرہ راجے مہاراجے ہمیشہ کیلئے ڈوب تو گئے لیکن ایک لاکھ 23ہزار شہیدوں کا لہو غاصب حکمرانوں کو ابھی تک بہا کر لیجانے میں کامیاب نہیں ہوپایا۔شاید یہ ہمارے خلوص نیت میں فقدان کی وجہ ہے کہ ہمارا خون رنگ نہیں لارہا ہے۔
نوٹ: مضمون نگار کی رائےسے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں :
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
