تازہ ترین
13 جولائی یوم شہداء کشمیر: کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
تحریرمشتاق شمیم، بڈگام
13۔جولائی 1931ء کو جو خونین واقع سرینگر سینٹرل جیل کے باہر پیش آیا اس بارے میں قارئین کرام کو جانکاری فراہم کرنا وقت کی خاص ضرورت ہے تاکہ ریاست کی نوجوان پیڑی اپنے اسلافوں کی طرف سے پیش کی گئیں بیش قیمتی قربانیوں پر فخر محسوس کرتے رہیں۔جی ہاں دوستوعبدالقدیر خان نامی ایک غیر ملکی ٹورسٹ گائیڈکسی سیاح کے ساتھ کئی برسوں سے متواتر طور پر وادی کی سیر و تفریح کے سلسلے میں یہاں آیا کرتے تھے۔آپ ایک دیندار مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک قابل اور بہادر نوجوان بھی تھے۔ ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و تشدد کو دیکھتے ہوئے اُن کو بڑی تکلیف ہوا کرتی تھی۔وادی کی سیر و تفریح کے دوران خان صاحب نے یہاں کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی سے وابسطہ رہنماؤں سے ملنا اوراُن کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا اپنا معمول بناکے رکھا ہوا تھا۔ ایک اجنبی ہونے کے باوصف قدیر خان صاحب تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لیڈران قوم کے ساتھ گفت و شنید کرنے میں بڑی دلچسپی ظاہر کیاکرتے تھے۔آپ آزادی کے متوالوں کی طرف سے بلائے گئے جلسے جلوسوں میں شرکت کرنا اپنے لئے باعث رحمت سمجھا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ اپنی بات رکھنے میں بھی کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک روز خانصاحب کو تحریک آزادی کے حوالے سے ایک بہت بڑے عوامی جلسے میں تقریر کرنے کا نادرموقع ملا۔ اپنے شعلہ بیان تقریر میں انہوں نے ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے بے قصور ریاستی عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و قہر کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔آپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف کھری کھری سُنانے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔اُن کے پُر اثر اور پُر مغز تقریر نے مظلوم اور کمزور کشمیری قوم میں ڈوگرہ متعلق العنان حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ہمت اور حوصلہ بڑھا دیا۔ اس ولولہ انگیز تقریر کی وجہ سے قدیر صاحب اہلیان وادی میں ایک ہر دل عزیز شخصیت کی حثیت سے ابھر کر سامنے آگئے۔حکومت وقت کو خان صاحب کے تیور اور عوامی مقبولیت دیکھ کر خوف محسوس ہونے لگااسلئے مہاراجہ نے قدیر صاحب کو بغاوت کو ہوا دینے کے الزام میں گرفتار کروادیا اور ان کے خلاف ایک خصوصی عدالت میں باضابطہ مقدمہ چلانے کا فرمان بھی جاری کردیا۔
13 جولائی 1931ء کی تاریخ کو سینڑل جیل سرینگرکے اندر قائم خصوصی عدالت میں اس تاریخی مقدمہ کو لیکرحتمی فیصلہ سُناناطے تھا۔اس روزلوگ اطراف و اکناف سے جوق در جوق آتے گئے اور جیل خانے کے باہر جمع ہوتے گئے۔ لوگوں کو خدشہ لاحق تھا کہ مہاراجہ کی نام نہاد عدالت قدیر خان کیلئے پھانسی کے سوا کوئی دوسری سزا تجویز نہیں کرلیگی اسلئے وہ جیل کے باہرقدیر خان کی رہائی کو لیکر پُر زوراحتجاج کرتے رہے۔جیل کے اندر عدالتی کا روائی جاری تھی اورجیل کے باہر ہزاروں لوگوں پر مشتمل مجموعہ قدیر خان کی رہائی کے حق میں نعرہ بازی کرنے میں مشغول تھے۔مظاہرین زور دار طریقے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ قدیر خان کو باعزت بری کیا جانا چاہئے۔ جج صاحبان بھی عوام کا جم غفیر اور ان کاغصہ دیکھ کر گھبراہٹ میں مبتلا ہوچکے تھے۔حالانکہ عدالت نے قدیر خان کو حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا طے کر رکھی ہوئی تھی لیکن اپنا فیصلہ سنانے سے جج صاحبان گھبراہٹ محسوس کررہے تھے۔
کیا کیا جائے کیسے کیا جائے عدالت کافی دیر تک اسی مخمصے میں مبتلارہی۔ اس دوران نماز ظہر ادا کرنے کا وقت آن پہنچا۔لوگ با جماعت نماز ادا کرنے کی تیاری کرنے لگے اور جزبہ آزادی سے سرشار ایک جوشیلا نوجوان جیل کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینے لگا۔اس نوجوان نے جب اذان کا پہلا کلمہ ”اللہ اکبر“ اپنی خوبصورت اور ولولہ انگیز آوازمیں بلند کیا تو اس با برکت کلمے کی گونج نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا۔مردمجاہد کی اس اذان نے حکومت کے اعلیٰ فوجی و سیول افسروں اور سپاہیوں کے رونگٹھے کھڑا کردئے۔اُن کے دلوں میں ایسا خوف طاری ہوگیا کہ وہ مارے خوف کے ادھر اُدھر بھاگم بھاگ کرنے لگے۔مہاراجہ کے سالے ٹھاکر نچنت سنگھ نے جب سیٹرل جیل میں تعینات اعلیٰ سرکاری ادیکاریوں اور سپاہیوں کے اندر خوف و ہراس اور افرا تفری کا ماحول دیکھ لیا تو انہوں نے موذن کو گولی کا نشانہ بنانے کا حکم جاری کردیا تاکہ سپاہیوں کے اندر خود اعتمادی کی کیفیت بحال ہوسکے۔چوتھا تکبیر ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ موذن کے سینے پر کسی فوجی اہلکار نے گولی ماردی اور وہ خون میں لت پت ہوکر دیوار سے گر پڑا اور جام شہادت نوش کرگیا۔تنگ آمد بہ جنگ آمد۔جذبہ اسلام اور جزبہ آزادی کا حال دیکھئے۔ایسی کون سی حرارت تھی ہمارے اسلافوں کے خون میں کہ جہاں لوگوں کو اس الم ناک اور غیر متوقعہ حادثے کی وجہ سے خوف زدہ ہونا اور منتشر ہوجاناچاہئے تھا وہاں سب کچھ توقع کے عین برعکس مشاہدے میں آگیا۔پہلا نوجوان ابھی سینے میں گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر ہی رہا تھا کہ دوسرا سرفروش جلدی سے دیوار پر چڑھ گیا اور اذان کو جاری رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔اس دوسرے سرفروش کو بھی کسی سفاک سپاہی نے اپنی گولی کا نشانہ بنادیا۔وہ بھی ابھی نیچے گر ہی رہا تھا کہ تیسرا مرد مومن اذان کو آگے بڑھانے کیلئے دیوار پر کھڑا ہوگیا۔ اس کو بھی ظام فوجیوں نے شہید کردیا۔مہاراجہ کے نامرد سپاہی یکے بعد دیگرے ایک ایک بہادر حریت پسند موذن کو شہید کرتے گئے اور ایک ایک مرد آہن اذان کو مکمل کرنے کیلئے دیوار پر سینہ تان کر چڑھتا گیا۔ اس طرح سے13 جولائی 1931ء کی تاریخی اذان (ظہر) 23۔سرفرشوں نے جام شہادت نوش کرتے کرتے مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔تاریخ اسلام میں یہ واحد اذان ہے جس کو23۔ شہیدوں نے اپنے لال لال خون سے رنگ کر خو ب سے خوبصورت بنادیا۔ افرا تفری کے عالم میں سینکڑوں نوجوان اس دوران گولیاں لگنے اور بھاگم بھاگ کرنے سے مضروب بھی ہوگئے۔حریت رہنماؤں کی ایماء پر ان سبھی شہدا ء کو خانقاہ مولیٰ خواجہ نقشبندصاحب ؒ کے صحن واقع خانیار میں دفن کیا گیا۔ اس مزار کو مزار شہدا ء کے نام سے منسوب کر رکھا گیا ہے۔
بہر حال13 جولائی 1931ء کا خونین واقع رونما ہونے سے عوام کے دلوں میں مہاراجہ کے خلاف غم و غصہ کا لاوہ اس قدر ابھلنے لگا کہ یہی لاوہ آتش فشان پہاڑ کی صورت میں اُس وقت پھوٹ پڑا جب یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے وابسطہ افراد ڈوگرہ شاہی نظام سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے عملی میدان میں بے خطر کود پڑے۔ریڈنگ روم جماعت سے وابستہ یہ تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی کو منطقی انجام تک لے جانے کیلئے میدان کار زار میں جنون کے ساتھ اُتر گئے۔ اس خونین واقع کے سولہ برس بعد ہی بلآخر مہاراجہ کو اپنا بوریا بسترہ باندھ کر یہاں سے رفو چکر ہونا پرا۔1931ء سے لیکر آج تک 13 جولائی کی تاریخ کو کشمیر میں یوم شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری تعطیل بھی ہواکرتی ہے۔ ریاست کی جملہ سیاسی پارٹیوں سماجی جاعتوں کے نمائندے 13 ء کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مزار شہدا ء جاتے ہیں وہاں پر قوم کے سپوتوں کی قبروں پرگلباری کرتے ہیں اوران شہیداء وطن کے ایصالِ ثواب کیلئے دعائیہ مجلسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 31ء کے شہیدوں کو ریاست کی مین اسٹریم پارٹیوں کے ساتھ ساتھ علیحد گی پسند جماعتیں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ قوم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آیا ان شہیدوں کے اصلی وارث کون ہیں۔
یہاں میں اُن 23۔شہدا ء کے اسمائے گرامی تحریر میں لانے کی سعادت حاصل کرتا چلوں جو اس خونین دلدوزواقع میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔1۔ اسر جو جندہ گرو گوجوارہ۔2۔اکبر ڈار اوُنتہ بھون۔3۔محمد تیلی اُونتہ بھون۔4۔ محمد سبحان راتھر اوُنتہ بھون۔5۔ عبداللہ راتھرمختمہ پکھری۔6۔عبداللہ لون نالہ بل نوشہرہ۔7۔ محمد عثمان مسگر نالہ بل نوشہرہ۔8۔خالق شودہ ہنزیمر خانیار۔9۔محمد رمضان چولہ آرم مسجد خانیار۔10۔ احد بٹ فتح کدل۔11۔ محمد سلطان خان بسنت باغ۔12۔ نصیر الدین چینکرال محلہ۔13۔عبدالسلام حجام گُذربل۔14۔محمد اکبر زالڈگر۔15. غلام نبی کلوال پاندان۔16۔عبداللہ نجار اومپورہ۔ 17۔غلام محمد صو فی ذری بل۔18۔ محمدسبحان خان نواب بازار۔19۔غلام محمد نقاش کاریکدل۔20۔ عبدالغنی مکائی نوا کدل۔21۔غلام محمد حلوائی جامع مسجد۔22۔ غلام رسول دورہ قطب الدین پورہ۔23۔ غلام قادر بٹ بہاؤ الدین صاحب۔شہیدوں کی یہ فہرست شہیدمزار پر لگائی گئی اُس تختی سے من و عن نقل کی گئی ہے جو تختی 13۔جولائی1949ء کو جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی طرف سے مزار شہداء پر لگائی جاچکی ہے۔
یاد رہے 1949 میں نیشنل کانفرنس کے صدر مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کے نامزدوزیر اعظم تھے۔یہاں میں بلا خوف و تردید یہ بتاتا چلوں کہ شیخ صاحب کو وزارت عظمیٰ کا اعلیٰ منصب ان ہی شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کرنے کے عوض مل چکا تھا۔ہمارے ان صٖفہ اول کے شہیدوں نے اپنی بیش قیمتی جانوں کا نظرانہ اسلئے پیش نہیں کیا تھا کہ قوم کے رہنماء اس مظلوم قوم کو جہنم کی ایک وادی سے نکال کر جہنم کی دوسری وادی میں دھکیل دیں نہ ہی انہوں نے اپنا پاک لہو اسلئے بہادیا تھا کہ قوم کے لیڈران کرام ایک آزاد ملک کو معمولی کرسی کی خاطر کسی دوسرے ملک کی غلامی میں دے بیٹھیں۔یہاں یہ بات دکھ سے کہنی پڑتی ہے کہ۳۲۔شہیدوں کی طرف سے بہائے گئے پاک لہوکے سیلاب میں ڈوگرہ راجے مہاراجے ہمیشہ کیلئے ڈوب تو گئے لیکن ایک لاکھ 23ہزار شہیدوں کا لہو غاصب حکمرانوں کو ابھی تک بہا کر لیجانے میں کامیاب نہیں ہوپایا۔شاید یہ ہمارے خلوص نیت میں فقدان کی وجہ ہے کہ ہمارا خون رنگ نہیں لارہا ہے۔
نوٹ: مضمون نگار کی رائےسے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں :
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
