تازہ ترین
چیختا انصاف اور دم توڑتی انسانیت!کرو فکر اپنے بقا کی…
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی
ہمارے ملک ہندوستان کا ترانہ ہے ؎ سارے جہاں سے اچھا ہے ہندوستاں ہمارا٭ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا۔ہندوستان جنت نشاں بھی کہلاتا تھا جس میں ہندو، مسلمان، سکھ،عیسائی مختلف قومیں مختلف مذاہب کے ماننے والے امن و شانتی سے بستے تھے (لیکن اب یہ جنت نشاں نہیں رہا) جب سے دوسری بار واضح اکثریت سے بی جی پی نے اقتدار پرقبضہ کیا ہے(قبضہ اس لیے کہ الیکشن کس طرح سے ہوا دنیا جانتی ہے) بھگوا دھاریوں نے حکومت کی پشت پناہی میں ہجومی بھیڑ(Mob Lynchng) کے ذریعے مسلما نوں، دلتوں کو گائے کے نام پر قتل کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں مسلما نوں کا جینا حرام کردیا ہے، چوری کے بہانے قتل طرح طرح کے بہانوں سے نہتے مسلمانوں پربھیڑ کے ذریعے حملہ آور ہوکر بے دردی سے قتل کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔ جو زہر الیکشن کے وقت پھیلا یا گیا تھا وہ زہریلا پودا الیکشن کے وقت لگایا گیا تھا وہ اب تناور درخت بن گیا ہے اور مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہوگیاہے،ٹرینوں،سڑکوں جگہ جگہ پر پورے ملک میں اس طرح کے واقعات باقاعدہ منظم سازش کے تحت کئے جارہے ہیں تاکہ مسلمان پست ہمت ہو جائیں اور آخری در جہ کے شہری کے طور پر رہیں مسلمانوں کی پس ماند گی پہلے سے ہی کیا کم تھی کہ اب اس طرح ظلم وجبر کے ماحول میں اور زیادہ ہوتے جارہی ہے ڈر اور خوف سے لوگ جی رہے ہیں،حالیہ واقعہ علی گڈھ سے بریلی جاتے ہوئے ایک طالب علم کو بری طرح مار پیٹ کر ٹرین سے پھینک دیا ظلم کی انتہا کردی ڈراور خوف سے لوگ سفر نہیں کررہے ہیں کہ کب کیا حادثہ پیش آجائے۔–
حالیہ واقعہ دھتکی ڈیہ،ضلع سرائے کیلا کھر ساواں، جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کا ہے، جو انتہائی ظالمانہ اور سفا کانہ قتل ہے کسی اکیلے شخص کو باندھ کر17 گھنٹہ بھیڑ کے ذریعہ مار دینا انتہائی شرمناک اور افسوک ناک ہے جس کی گونج سارے ملک سے لیکر پار لیمنٹ تک اور پوری دنیا تک پھیل گئی امریکی حکومت تک نے رپورٹ شائع کی اور کہا ہندستان میں اقلیتوں، مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔ افسوس صد افسوس! بے شر می کی انتہا ہو گئی ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جی کو اس کا احساس نہیں فکر نہیں مجرموں کو پکڑ نے سزا دینے کے اعلان کے بجائے انھیں اس بات کا غم ہے کہ جھاڑ کھنڈ کو بد نام کیا جا رہاہے۔،یہ انکی سفا کی کا منھ بولتا ثبوت ہے جو ان کو گھٹی میں پلایا گیا ہے۔ آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی کے وہ پر وردہ ہیں اسی راہ پر گامزن ہیں۔یہ ملک کے لیے انتہائی شر مناک اورخطر ناک ہے۔
اتنا یاد رہے کہ ظلم کا انجام ظالم کے لیے بھی خطر ناک ہوتا ہے دنیا کی تاریخ کا مطالعہ فر مائیں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی، قادرمطلق احکم الحاکمین کا یہی فیصلہ ہے کی ہر ظالم کی وہ پکڑ فر ماتاہے، اور بہت سے طریقوں میں یہ بھی طریقہ ہے کہ ظالم پر اللہ اس سے بڑا ظالم مسلط فر مادیتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے، تر جمہ: اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کر تے ہیں بدلہ ان کے کئے کا۔ (القرآن،: سورہ،انعام:6 ،آیت 129 )(کنز الایمان) اس آیت کریمہ میں رب ذولجلال والاکرام نے ظلم کر نے والوں کو تنبیہ فر مائی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تو اللہ ان پر ان سے بڑا ظالم مسلط(زور آور) کر دے گا، جو انھیں ذلیل وخوار اور تباہ وبر باد کر دے گا۔ (قرطبی شریف:ج:4,ص:62)
مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ کسی پر ظلم نہ کریں،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا:”اے لوگو! اللہ عز وجل سے ڈرو، خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزو جل اس ظالم سے انتقام(ظلم کا بدلہ) لے گا۔ (کنز العمال: کتاب الاخلاق،قسم لا قوال الظلم و الغضب،ج:2,ص 202 ،الحدیث :7621 ) قرآن مجید میں ظالموں کی پکڑ،ظالموں کے انجام پر164 آیات کریمہ موجود ہیں۔ القرآن ،:سورہ بقر،آیت : 214 اور -کنز العمال میں ظالموں کی پکڑ میں کئی احادیث موجود ہیں،7594,5823,-
*مسلمان موجودہ حلات سے مایوس نہ ہوں*:
حالات تو یقینا ناگفتہ بہ ہیں پر مومن کو مایوس نہیں ہونا چاہیے اپنے اندر ایمانی قوت اور جذبہ کو بیدار رکھیں اور اپنے اہل وعیال کو بھی بیدار رکھیں حالات پر کڑی نظر رکھیں،آپس میں میل محبت قائم رکھیں،اسلامی تاریخ کا مطالعہ ضرور فر مائیں کہ ہمارے آقا ﷺ اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین وتمام بزر گان دین علیہ الر حمہ پر کتنے مظالم ہوئے لیکن وہ ثابت قدم رہے تو اللہ کی مدد آئی قرآن مجید میں جابجا ذکر آیا ہے، آپ مسلمان ہیں آز مائشوں سے آپ کو گزار اجائے گا۔ قرآن مجید اعلان فر مارہا ہے۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْ خُلُواالْجَنَّۃَ……..الخ۔ تر جمہ: کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم(یو ں ہی بلا آز مائش) جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر تو ابھی ان لوگوں جیسی حالت(ہی) نہیں بیتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، انہیں تو طرح طرح کی سختیاں پہنچیں اور انہیں (اسطرح) ہلا ڈالا گیا کہ(خود) پیغمبر اور ان کے ایمان والے ساتھی (بھی) پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔( القرآن،سورہ بقر:2,آیت 214,)
دین اسلام کاراستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا کہ *اٰمَنَّا* کہا اورچین سے لیٹ گئے۔اس *”اٰ مَنّّا“* کے قدر کا تقاضا ہر زمانے میں یہ رہاہے کہ آدمی جس دین اسلام پر ایمان لایاہے،اسے قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرے اور جو طاغوت(سرکش شیطان جو خداسے منحرف ہو اور گمراہ کرے) اوراس راستے میں مزاحم (روکنے والا،مزاحمت کر نے والا) ہو اس کا زور توڑ نے میں اپنے جسم وجان کی ساری قوت لگادے چاہیے اس میں اسکی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
*جوش کے ساتھ ہوش کو قائم رکھیں*:
سوئی ہوئی ملت کے لوگ جاگ رہے ہیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن ذمہ داران اپنے ماتحت لوگوں کو حکمت کے ساتھ دھر نا،پر درشن اوربیانات دینے کی بات کو سمجھائیں ہر شخص میڈیا میں نہ دے،حکومت اور مسلمان دشمن طاقتیں ر اہ دیکھ رہی ہیں کہ کس طرح لوگوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑیں۔ قانونی لڑائی میں مضبوطی دیکھائیں فوٹو بازی اور میڈیا سے دور رہیں مسلمانوں میں جوش میں بیان بازی بہت ہوتی ہے والیکن بعد میں مظلومین کی طرف سے قانونی لڑائی میں ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا،رشتے دار پڑوس اور اس شہر کے لوگ قانونی لڑائی میں مظلوم کے ساتھ ثابت قد می سے جمے رہیں ضرورت پڑ نے پر بڑی جماعتوں جمیعۃ العلما ہند،رضا اکیڈمی،مسلم پر سنل لا بورڈ، جماعت رضائے مصطفٰے وغیرہ وغیرہ سے مالی،قانونی مدد لیں بیچ میں راستے میں ادھوری قانونی لڑائی کو چھوڑ کر نہ بھا گیں یہ بہت ضروری ہے اس پر خاص توجہ کی ضرو رت ہے، انصاف! تو ایسے ہی مہنگا اور داؤ پیچ میں پھنس کر ختم ہوتے جارہا ہے پھر بھی جو باقی ہے اسے حاصل کر نے کی جدو جہد میں ثابت قد می ضروری ہے، گجرات میں بلقیس بانو کا کیس،یوپی میں ڈاکٹر کفیل کا کیس وغیرہ وغیرہ اس کی مثال ہے، ہمت صبر،اور اعتماد(cnfidence) کی سخت ضرورت ہے۔اپنے بچوں کو جسمانی ورزش، جوڈو،کراٹے جیم وغیرہ ضرورسکھائیں،آج کا نوجوان صرف موبائل کا دیوانہ حواس باختہ ہو گیاہے جسمانی دماغی طور پر مجنوں کی طرح بدحواس اپنے اطراف کی سازشوں سے بے خبرہے۔ یاد رکھیئے دنیا ودشمن کبھی بزدل،نامرد کو جینے کا حق نہیں دیتی جو مردانہ طاقت وذہن کا مضبوط ہو تا ہے وہی حالات زمانہ کے اعتبار سے زندہ رہ سکتا ہے۔
*عقلمند را اشارہ کافی است*
“ مسلمانوں کو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ بز دلی کی موت مرنا مسلمانوں کے لیے باعث شرم اور عار ہے بھیڑ میں جان کی بھیک مانگنا کوئی دینے والا نہیں
*؎جلتی لاشوں کا یہ جنگل ہے درندے ہیں یہاں* ٭ *آدمی کا دور تک نام و نشاں نہیں*…
اسلام میں جہاں ظالم کو معاف کر نے پر اجروثواب ہے وہیں ظالم سے بدلہ لینے پر بھی ثواب ہے۔ مآب لینچنگ Mob Lynching کے واقعات کے پیش نظر قرآن کریم کی سورہ شوریٰ کی آیت 39سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے اس پر غور فر مائیں اور اس پر عمل فر مائیں!۔وَا لَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ۔ تر جمہ:اورجب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کر تے ہیں۔ظالموں سے لڑ نا اہل ایمان کی ایک بہترین صفت قرآن مجیدنے بتائی ہے، اہل ایمان ظالموں اورجابروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہوتے، انکی نرم خوئی اور عفو درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی، ایمان والوں کو بھکشوں اور راہبوں کی طرح مسکین بن کر رہنا نہیں سکھایاگیا ہے،انکی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور کو معاف کر دیں جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے درگزر کریں اور جب کسی زبردست یا کم زور آدمی سے کوئی خطاسرزد ہوجائے تو چشم پوشی کر جائیں، لیکن جب کوئی طاقت ور اپنی طاقت کے ز عم میں ان پر زور زبردستی ظلم کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور مقابلہ کریں اور اس کے دانت کھٹے کردیں۔”مومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس متکبرکے آگے جھکتاہے اس قسم کے لوگوں کے لیے وہ لوہے کا چنا ہوتاہے جسے چبانے کی کوشش کر نے والا اپنا ہی جبڑا توڑلیتا ہے“۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم تمام مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔(آمین)-
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
