تازہ ترین
شاہراہ پر پابندی سرکاری آفیسر کو مہنگی پڑی، والد کی لاش لے کر 2گھنٹے انتظار کرنا پڑا
خبراردو: سرینگر جمو ں شاہراہ پرحکومت کی طرف سے عائد بندشوں اور رکاوٹوں سے متعلق ریاستی حکومت کے دعوؤں کی قلعی اُس وقت کھل گئی جب انتظامیہ کے ایک سینئر آفیسر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ پر فورسز اہلکاروں نے ہماری گاڑی کو نہ صرف چلنے کی اجازت دی بلکہ گاڑی میں موجود والد کی لاش کو گھنٹوں قطار میں رکھا گیا۔
سرینگر جموں شاہراہ پر بندشوں سے متعلق ریاستی حکومت کے دعوؤں کی قلعی اُس وقت کھل گئی جب انتظامیہ کے ایک سینئر آفیسر نے اس بات کا انکشاف کیا کہ شاہراہ پر نہ صرف انہیں چلنے کی اجازت دی گئی بلکہ ان کے والد کی لاش لے جارہی گاڑی کو بھی شاہرارہ پر گھنٹوں انتظار کرایا گیا۔محکمہ فائنانس کے ڈائریکٹر امتیاز وانی نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُن کو شاہراپر فورسز اہلکاروں نے اُس وقت سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جب وہ اپنے والد کی لاش گاڑی میں سرینگر کی جانب لارہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یاترا کو بلا خلل جاری رکھنے کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں نے مجھے شاہراہ پر گھنٹوں انتظار کرایا جس کے نتیجے میں ہمیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔افسر موصوف نے مذکورہ واقعے کی تفصیلات سماجی رابطہ سائٹ فیس بک پر شائع کرتے ہوئے عام لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔امتیاز وانی کا کہنا تھا کہ میں انتظامیہ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں، اس طرح کی طریق میرے ساتھ اپنا گیا تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟آفیسر کا کہنا تھا کہ شاہراہ پر موجود پولیس اہلکاروں نے مجھے سے ناشائستگی کیساتھ بات کی جو ہر حال میں قابل مذمت ہے۔انہوں نے ریاستی سرکار کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”عام لوگوں کے حقوق کو امرناتھ یاترا کے تابع رکھا گیا ہے، مجھے اپنے والد کی لاش تک کو بھی شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، عام کشمیری کی زندگی تو جہنم زار بن چکی ہے۔ انسپکٹر راکیس جو جموں وکشمیر پولیس کیساتھ منسلک ہے، نے قطعی طور پر مجھے آگے جانے کی اجازت نہیں دی“۔خیال رہے محکمہ فائنانس کے ڈائریکٹر امتیاز وانی کے والد کینسر کے مرض میں مبتلا تھے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر نئی دہلی منتقل کیا گیا تھا تاہم گزشتہ دنوں انہوں نے وہاں آخری ہچکی لی جس کے بعد اہل خانہ نے ان کی لاش کو سرینگر لانے کا بندوبست کیا۔
امتیاز وانی کے اہل خانہ جمعرات کو شاہراہ پر والد کی لاش کے ہمراہ سفر کررہے تھے تاہم یاترا کو بلا خلل جاری رکھنے کیلئے تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ ”جونہی ہم نے نگروٹہ کو پار کیا، فورسز اہلکاروں نے ہمیں روک دیا، میں نے ان کے سامنے کافی منت سماجت کی کہ میں انتظامیہ میں ہی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں تاہم انہوں نے میری ایک بھی نہ سنی۔ اس کے بعد ہمیں شاہراہ پر 2گھنٹوں تک روکے رکھا گیا جس کے بعد ہی ہمیں آگے جانے کی اجازت دی گئی“۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ شاہراہ پر موجود فورسز اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ صرف یاتریوں کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت دی جائے نہ کہ مردہ انسانوں کو“۔
انہوں نے کہا کہ ”ہم یاترا کیخلاف نہیں ہے تاہم اس کی آڑ میں عام لوگوں کے بنیادی حقوق کو ضبط کرنا صحیح نہیں ہے“۔ادھر ایس ایس پی ٹریفک جموں جوگندر سنگھ کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر کسی لاش کو کسی جگہ منتقل کرنے سے متعلق کوئی بھی پابندی عائد نہیں ہے، اس طرح کا کوئی بھی آرڈر نہیں ہے۔ خیال رہے یکم جولائی سے شروع ہوچکی یاترا کی نقل و حرکت کو بلاخلل جاری رکھنے کیلئے ریاستی سرکار نے شاہراہ پر عام ٹریفک سے متعلق ریگولیشن ترتیب دیا ہے تاہم شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے دوران اُن کا کافی سارا وقت ضائع ہوجاتا ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر تعینات فورسزاہلکار عام ٹریفک کی نقل و حرکت میں مسلسل رخنہ ڈال کر طلبا، تجار، مریضوں کیساتھ ساتھ عام لوگوں کو سخت مشکلات میں ڈال رہے ہے۔اس سلسلے میں ہی گزشتہ ہفتے صوبائی کمشنر بصیر احمد خان نے بھی میڈیا کے سامنے آکر شاہراہ پر رکاوٹوں کو ایک مفروضہ قرار دیا۔
(کےاین ایس)
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
