تازہ ترین
وادی میں رحمت باراں، گرمی سے ملی راحت ،شہر کی اکثر سڑکیں زیر آب: مکمل رپورٹ
خبراردو: وادی کشمیر کے شمال و جنوب میں کئی گھنٹوں تک شدید بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں اہل وادی نے جھلسادینے والی گرمی سے راحت کی سانس لی۔
وادی کشمیر میں گزشتہ کئی روز کی سخت جھلسا دینی والی گرمی کے بعد محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق جمعرات کی صبح شہر سرینگر اور وادی کے شمال و جنوبی میں کئی گھنٹوں تک شدیدبارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں اہل وادی نے سخت گرمی سے کافی حد تک راحت کی سانس لی۔ اس دوران بارشوں کے نتیجے میں درجہ حرارت میں بھی بڑی حد تک تبدیلی واقع ہوئی۔ اس دوران موسلا دھاربارشوں کے نتیجے میں شہر سرینگر میں ہر طرف پانی جمع ہوا اور لوگوں کا عبور و مرور مشکل ہوگیا۔شہر کے قلب لالچوک کی گلی کوچوں میں بھی ناقص ڈرینج سسٹم کی وجہ سے بہت زیادہ پانی جمع ہوا جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمد ورفت بری طرح متاثر ہوئی۔شہر کے راجباغ،جواہر نگر،کرن نگر علاقوں سے بھی سڑکوں اور رہائشی علاقوں کے اندرپانی جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں یہاں اندرون و بیرون سڑکیں ندی نالوں کی شکل اختیار کرگئیں۔سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے نتیجے میں جہاں راہ گیروں کو بھی مشکلات اُٹھانی پڑی وہیں گاڑیوں کی آواجاہی میں بھی سخت رکاوٹیں پیش آئیں جس کے نتیجے میں دوپہر سے قبل کئی علاقوں میں سڑکوں پر مکمل سناٹا چھایا رہا۔
سٹی رپوٹر کے مطابق شہر سرینگر کے دل کہلانے والے لاچوک اورملحقہ علاقوں میں پانی کی سطح اس قدر زیادہ تھی کہ چھوٹی گاڑیوں کے اندر بھی بارشوں کا پانی داخل ہوا۔مختلف مقامات پر میڈیا کے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے عام لوگوں نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی سرینگر اس اہم مسئلے کو کئی برسوں سے حل کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معمولی بارشوں کے بعد شہر میں چلنا محال بن گیا ہے۔ ادھر وادی کے سیر پرآئے سیاحوں نے بھی بارش کا لطف اٹھایا تاہم جگہ جگہ بارشوں کے بعد ٹرانسپورٹ غائب رہنے کے نتیجے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سیاحوں نے اتنی کم بارش ریکارڑ ہونے کے باوجود منٹوں میں شہر کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔جہاں ایک طرف جھلسا دینے دینے والی گرمی کے بعد صبح سے ہونے والی بارشوں نے عوام کو راحت بخشی تاہم اْن کیلئے پانی جمع ہونے کی تازہ مصیبت نے سر نکالا ہے جو عوام کے لئے باعث پریشانی بن گیا ہے۔
ادھر کے این ایس نامہ نگار نے شمالی کشمیر کے کپوارہ سے اطلاع دی ہے کہ کپوارہ کے لولاب کے ہارڈن،سیور نامی گاؤں میں جمعرات کو موسلادھار بارشوں کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی جس دوران علاقے میں بارشوں کے تیز بہاؤ نے6سالہ بچے کو اپنے ساتھ بہالے کر بری طرح زخمی کردیا۔ اس دوران اگر چہ مقامی لوگوں نے بچے کو فوری طور پر پانی سے باہر نکال کر طبی مرکز لے جانے کی کوشش کی تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔اس دوران پولیس نے بچے کی شناخت برہان احمد ملا ولد اعجاز احمد ملا کے طور پر کی اور کہا کہ بچے کی جانب نالے میں پیر پھسلنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ادھر لولاب کے کئی علاقوں میں تیز بارش نے کئی رہائشی مکانوں اور کھڑی فصلوں کو نقصان سے دوچار کیا ہے۔نیز پلوامہ اور شوپیان سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ضلع کے متعدد علاقوں میں صبح آٹھ بجے کے قریب بارشیں شروع ہوئی جس کے نتیجے میں لوگوں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ادھر اننت ناگ کولگام اور سیاحتی مقام پہلگام سے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ مذکورہ علاقوں میں زوردار بارشیں ہوئیں جہاں یاتریوں کے ساتھ ساتھ سیاح اور عام لوگوں نے لطف اٹھایا ہے۔ ادھر سرینگر لہہ شاہراہ پر بارشوں کے نتیجے میں ایک تودا گر آنے کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کی آمد رفت کے لئے بند کیا گیا ہے۔
ادھر انتظامیہ نے بتایا شہرسرینگر میں جمع بارشوں کے پانی کو نکالنے کے لئے مشینری اور عملے کو متحرک کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ پانی کی نکاسی کیلئے مخصوص پمپوں کو متحرک کیا گیا ہے تاکہ اْس پانی کی نکاسی عمل میں لائی جاسکے جو صبح سے ہوئی زور دار بارشوں سے جمع ہوا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پانی کی نکاسی کیلئے مخصوص پمپ متحرک کئے گئے ہیں سرینگر میں 80نکاسی کے پمپوں اور115موبائیل مشینوں کو کام پر لگایا گیا ہے تاکہ جمع پانی کی نکاسی عمل میں لائی جاسکے۔ادھرمحکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آنے والے دو دنوں تک بارشوں کا امکان برقرار رہیگا۔
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
