تازہ ترین
پارلیمنٹ کے ایوان بالا(راجیہ سبھا) میں کشمیر کی صورتحال پر بحث:مکمل رپورٹ
خبراردو:
پارلیمنٹ کے ایوان بالا (راجیہ سبھا ) میں بدھ کو 5اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر بحث ہوئی ۔بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے کئی سوالات اٹھائے اور سرکار سے وضاحت طلب کی ۔راجیہ سبھا میں بدھ کے روز کی کارروائی راجیہ سبھا ٹی وی اور دیگر نجی نیوز چینلز پر براہ راست نشر ہورہی تھی ۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد کشمیر میں غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے 3ماہ کے دوران سرکاری اور نجی اسکولوں میں بچوں کی حاضری 0.5فیصد رہی جبکہ کالج اور یونیورسٹیوں میں کوئی درس وتدریس نہیں ہورہا ہے ۔غلام نبی آزاد نے 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت درجنوںمین اسٹریم لیڈران کی نظر بندی کیساتھ ساتھ انٹر نیٹ کی بندش پر سوالات اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں مسلسل ساڑھے تین ماہ تک انٹر نیٹ کی بندش رہی ہو؟۔ایک اور اپوزیشن ممبر نے کہا ’سرکار کو کشمیر میں حالات مکمل طور بحال کرنے میں مزید کتنا وقت درکار ہے ؟۔ایک اورممبر نے کہا کہ5اگست کے پارلیمانی فیصلہ جات سے کشمیر میں دو اہم شعبے تعلیم اورصحت بری طرح سے متاثر ہوئے ،انکی بحالی کےلئے سرکار نے کون سے اقدامات اٹھائے ؟۔اس بحث کے دوران جب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دے رہے تھے ،تو ایوان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں بار بار گرم گفتاری بھی ہورہی تھی جبکہ راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیائیڈا نائیڈو بار بار اپوزیشن کے ارکان کو یہ کہہ کر خاموش رہنے کی ہدایت دے رہے تھے کہ معاملہ قومی سلامتی اور جموں وکشمیر کے عوام کی جان ومال کا ہے ،لہٰذا اس پر کسی طرح کی کنٹر ورسی (تضاد) پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔
اپوزیشن ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے جوابات میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاکہ 5اگست کے پارلیمانی فیصلہ جات کے دوران کشمیر میں بعض احتیاطی بندشیں عائد کی گئی تھیں ،جنہیں مکمل طور ہٹا یا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سبھی195پولیس تھانوں سے دفعہ144کے تحت عائد بندشیں ہٹائی گئیں جبکہ لینڈ لائن فون سروس مکمل طور بحال کردی گئی ہے اور59لاکھ موبائیل فون خدمات کو بحال کردیا گیا ۔جب راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے یہ سوال اٹھایا کہ ساڑھے تین ماہ ہوچکے ہیں اور وادی کشمیر میں انٹر نیٹ بندش برقرار ہے اور حکومت یہ کہہ رہی ہے پاکستانی عزائم کو ناکام بنانے کےلئے انٹر نیٹ بندش کی گئی ہے جبکہ پاکستان1947سے ہندوستان کا پڑوسی ہے اور اس پڑوسی ملک کیساتھ کئی جنگیں بھی ہوئیں ،ایسے میں انٹرنیٹ بندش کےلئے حکومت کی جانب یہ جوا زدینا باعث اطمینان نہیں ۔اس سوال کے جواب میں امیت شاہ نے کہا ’ بھارت میں1995میں موبائیل سروس کا آغاز کیا گہا جبکہ بھاجپا کی مرکزی سرکار میں ہی سال2003میں کشمیر میں یہ سروس بحال کردی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بعض سیکیورٹی وجوہات کے بناءپر انٹر نیٹ خدمات سال2002میں بحال کردی گئیں ۔وزیر داخلہ کا کہناتھا کہ کشمیر میں بعض اقدامات قومی سلامتی اور لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے اٹھائے گئے اور ایسے اقدامات ماضی کی حکومتوں نے بھی اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لڑائی میں بعض احتیاطی اقدامات اٹھانا لازمی ہے ۔امیت شاہ نے کہا’کشمیر کی انتظامیہ کیساتھ انٹرنیٹ کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا جائیگا اور انٹر نیٹ کی بحالی کےلئے عنقریب حتمی فیصلہ بھی لیا جائیگا ‘۔امیت شاہ نے مزیدکہا’میں غلام نبی آزاد کے اس خیال سے اتفاق کرتا ہوں کی عصر حاضر میں ایجوکیشن کےلئے انٹر نیٹ بنیادی ضرورت ہے ،کشمیر میں اسکی بحالی کےلئے از سر نو جائز ہ لیا جائیگا‘۔امیت شاہ نے دیگر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات میں کہا ’کشمیر میں ادویات کی کوئی قلت نہیں ،موبائیل ادویات دکان قائم کئے گئے ہیں ،سرکاری اسپتالوں کے دکان میں ادویات کا وافر اسٹاک موجود ہے ،مقامی انتظامات نے اس حوالے سے مﺅثر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں ‘۔ایک سوال کے جواب میں امیت شاہ نے کہا’کشمیر میں 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد حالات مکمل طور پر بحال ہوچکے ہیں ‘۔انہوں نے امن وقانون کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا’کشمیر میں 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد پولیس کی فائرنگ سے ایک بھی جان نہیں گئی ‘۔
ان کا کہناتھا کہ گذشتہ برس اس عرصے کے دوران کشمیر میں802پتھراﺅ کے واقعات رونما ہوئے جبکہ رواں برس اس عرصے کے دوران544پتھراﺅ کے واقعات رونما ہوئے ،لیکن کوئی جان نہیں گئی ۔امیت شاہ نے کہا کہ کشمیر میں سبھی20ہزار تعلیمی ادارے کھول دیئے گئے ،جہاں طلبہ کی حاضری اطمینان بخش رہی ،جس پر غلام نبی آزاد نے کہا ’جناب کشمیر میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں 0.5فیصد حاضری رہی ،آپ کا یہ دعویٰ کیا کہ99فیصد طلبہ کی حاضری رہی بالکل غلط ہے ‘۔غلام نبی آزاد نے کہا ’ایک بھی نجی اسکول نے اپنی گاڑی بچوں کو لانے اور لیجانے کےلئے سڑکوں پر نہیں اتار ی ،سرکاری اسکولوں میں دفعہ144کی وجہ سے حاضری نہیں رہی ‘۔سوال وجواب کے اس سلسلے کے بیچ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ’11ویں جماعت کے سا لانہ امتحانات میں99.48فیصد طلبہ نے شرکت کی ،10ویں اور12ویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات میں طلبہ کی شرکت99.7فیصد رہی ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں پیٹرول ،ڈیزل ،تیل خاکی کیساتھ ساتھ غذائی اجناس کی سپلائی متواتر بنیادوں پر کی گئی جبکہ یہاں اشیائے ضروریہ کا وافر اسٹاک موجود ہے ۔امیت شاہ نے کہا کہ کشمیر میں22.50 میٹرک ٹن سیبوں کی پیدا وار ہوئی اور وافر مقدار میں سیبوں کو بیرون منڈیوں تک پہنچایا گیا جبکہ سرکاری اسکیم کے تحت باغ مالکان سے6ہزار میٹر ک ٹن سیب خریدے گئے ۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ماہ بعد5اگست بلاک ڈیولپمنٹ (بی ڈی سی ) انتخابات منعقد ہوئے ۔امیت شاہ نے کشمیر میں دوپہر کو دکان بند رہنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’پوری وادی میں صبح وشام دکان کھلے رہتے ہیں ،دوپہر کو بند رہتے ہیں ،نجی وپبلک ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری ہے ،مقامی اردو وانگریزی روزنامے برابر چھپ رہے ہیں ،ہر طرح کی میڈیا نشرعات جاری ہے ،ایک دن کےلئے نشرعات بند رہی ‘۔امیت شاہ نے کہا کہ سبھی10اضلاع میں سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں کام کام معمول کے مطابق ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا’کشمیر میں حالات بہتر نہیں ہورہے ہیں بلکہ مکمل طور نارمل ہیں ‘۔ان کا کہناتھا کہ ہائی کورٹ میں 5اگست کے فیصلہ جات کے بعد36152کیس آئے جن میں سے ہزاروں کیسوں کو نپٹا را ہوچکا ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
