تازہ ترین
کشمیر میں سب کچھ نارمل نہیں‘، یشونت سنہا کی قیادت میں سول سوسائٹی وفد سری نگر وارد
خبراردو:
یشونت سنہا نے کہا کہ کشمیر کے بیشتر سیاستدان بشمول تین سابق وزرائے اعلیٰ جیلوں میں بند ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں سب کچھ نارمل نہیں ہے.
سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کہا کہ وادی کشمیر میں سب کچھ نارمل نہیں ہے اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے نارملسی کی جو تصویر ملک کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے وہ سری نگر میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بیشتر سیاستدان بشمول تین سابق وزرائے اعلیٰ جیلوں میں بند ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں سب کچھ نارمل نہیں ہے۔
یشونت سنہا کی قیادت میں سول سوسائٹی اراکین کا ایک وفد جمعے کے روز سری نگر پہنچا جہاں وہ 25 نومبر تک خیمہ زن رہ کر زمینی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ وفد میں سابق بیوروکریٹ وجاہت حبیب اللہ، صحافی بھارت بھوشن اور سول سوسائٹی رکن کپل کاک شامل ہیں۔ اگرچہ یشونت سنہا نے ستمبر کے مہینے میں وادی کے دورے پر آنے کی کوشش کی تھی تاہم انہیں سری نگر کے ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیجا گیا تھا۔
یشونت سنہا نے سری نگر کے ایک ہوٹل میں نامہ نگاروں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں وفد یہاں 25 نومبر تک خیمہ زن رہے گا اور اس دوران وادی کی زمینی صورتحال بالخصوص 5 اگست کے بعد کشمیری کی معیشت کو ہوئے نقصان کا جائزہ لیا جائے گا۔ سابق مرکزی وزیر نے جموں وکشمیر میں ہونے والی انوسٹمنٹ سمٹ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں حالات خراب ہوتے ہیں وہاں لوگ انوسٹ نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا: ‘یہاں انوسٹمنٹ سمٹ ایک بار ملتوی ہوچکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ یہ سمٹ اب کب کرتے ہیں اور کون لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان حالات میں یہاں انوسٹ کرنا مشکل ہوگا۔ جب تک سب کچھ ٹھیک نہیں ہوتا لوگ تب تک پیسہ نہیں لگاتے’۔ یشونت سنہا نے کہا کہ کشمیر میں سب کچھ نارمل نہیں ہے اور انہوں نے سری نگر میں دکانیں بند دیکھیں۔
انہوں نے کہا: ‘سیاسی لیڈران بشمول تین سابق وزرائے اعلیٰ ابھی جیلوں میں بند ہیں۔ یہاں سب کچھ نارمل نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں جو بیان دیا وہ پوری طرح سے صحیح نہیں تھا۔ ایک تو اس میں بہت چیزوں کا ذکر نہیں تھا جن کا ذکر ضروری تھا۔ انہوں نے نارملسی کی جو تصویر ملک کے سامنے رکھنے کی کوشش کی وہ صحیح نہیں ہے’۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم ابھی صرف ہوائی اڈے سے ہوٹل آئے ہیں۔ ہم نے یہ نوٹس کیا کہ دکانیں بند تھیں۔ پھل اور سبزیوں کی دکانوں کو چھوڑ کر باقی دکانیں بند تھیں’۔ یشونت سنہا نے کہا کہ وہ اور وفد میں شامل دوسرے اراکین 25 نومبر تک سری نگر میں مقیم رہ کر صورتحال کا آزادانہ طور پر جائزہ لیں گے۔
انہوں نے کہا: ‘ہم یہاں کی زمینی صورتحال کا آزادانہ طور پر جائزہ لیں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ پانچ اگست کے کلیمپ ڈائون کے بعد یہاں کی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ کتنا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ مختلف شعبوں بشمول باغبانی، سیاحت، ٹریڈ اور انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ پانچ اگست کے فیصلے سے کتنے لوگ روزی روٹی سے محروم ہوئے’۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘پارلیمنٹ میں کشمیر پر جتنے بھی بیانات دیئے گئے ان میں یہ نہیں کہا گیا کہ کشمیر کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ ہمارے یہاں آنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ کشمیر کی معیشت کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ ہم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے لوگوں سے بات کریں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ حالات کی صحیح تصویر کو لوگوں کے سامنے رکھا جائے’۔ یشونت سنہا نے کہا کہ انہوں نے اس سے قبل بھی کشمیر آنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں تب سری نگر کے ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیجا گیا تھا۔
انہوں نے کہا: ‘آپ سب اس بات سے واقف ہیں کہ میں نے ستمبر کے مہینے میں ایک بار اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے سری نگر کے ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیجا گیا تھا۔ اس بار میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں آنے دیا۔ ہم 25 نومبر تک رہیں گے۔ ارادہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں اور جماعتوں سے ملا جائے’۔ بتادیں کہ 5 اگست، جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کئے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں منقسم کیا، سے وادی کشمیر میں ہڑتال ہے۔ وادی میں ہر طرح کی انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں، تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل ہے۔ تاہم لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر عائد پابندیاں ہٹائی جاچکی ہیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
