تازہ ترین
ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک،دیشا کے اہل خانہ نے خوشی کا کیا اظہار
تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے قریب شاد نگر میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی کے بعد قتل کرنے لاش کو جلانے کے معاملے میں چاروں ملزمین کو پولیس نے انکاؤنٹرمیں مارکرایا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ تمام ملزمین فرارہونے کی کوشش کررہے تھے ، جب پولیس نے ان پرفائرنگ کردی۔ یہ واقعہ قومی شاہراہ نمبر 44 پر پیش آیا ہے۔
تایا جارہا ہے کہ ویٹرنری ڈاکٹرکی اجتماعی عصمت دری کے چاروں ملزمین مارے گئے ہیں۔ تلنگانہ پولیس نے چاروں ملزمین کا انکاؤنٹر کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ پولیس ان چاروں ملزمین کو موقع واردات پرلیکرگئی ، جہاں سے ان چاروں ملزمین نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس نے ان چاروں ملزمین کا انکاؤنٹرکرتے ہوئے انہیں ہلاک کردیا۔
اہم بات یہ ہے کہ 29 نومبر کو حیدرآباد کے مضافات میں شاد نگر ٹول پلازہ کے قریب ایک خاتون کی آدھی جلی لاش ملی تھی۔ خاتون کی شناخت ویٹرنری ڈاکٹر کے طور پر ہوئی۔ پولیس کے مطابق ، اس خاتون کو اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کیاگیاتھا، پھرلاش کوپیٹرول سے جلاکرفلائی اوور کے نیچے پھینک دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں ملوث چارملزمین کی شناخت محمد پاشا، نوین،چنتنکونٹا کیشوولواورشیوکے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمین نے جرم کو انجام دینے کی سازش کے تحت خاتون ڈاکٹرکواسکوٹ کیا تھا تاکہ وہ اپنے جال میں خاتون ڈاکٹرکوالجھاکراس جرم کوانجام دے سکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں ملزمین نے ٹول پلازہ پرخاتون ڈاکٹرکواسکوٹی کھڑی کرتے دیکھا تھا۔ تب ہی، ایک ملزم شیوا نے اپنی اسکوٹی خراب کردیاتھا۔ جب لیڈی ڈاکٹر اپنی بہن کو فون پرپریشانی بتارہی تھی، تب ملزمین چنتنکونٹا کیشوالو اور شیو مدد کے لئے وہاں پہنچ گئے۔ شیو اسکوٹی کو ٹھیک کرنے کے بہانے لیڈی ڈاکٹر کو کچھ فاصلے پرلے گیا ، جہاں باقی ملزمین پہلے سے ہی موجود تھےجیسے ہی خاتون ڈاکٹر وہاں پہنچی ، ملزم نے اسے یرغمال بنا لیا اور اسے شراب پلاکرعصمت ریزی کا شکار بنادیا بعد میں ملزمین نے دیشا کو آگ لگادی اورلاش کوانڈر پاس کے قریب پھینک دیاتھا۔
دیشا کے اہل خانہ نے خوشی کا کیا اظہار، پولیس کی کارروائی کی ستائش کی
حیدرآباد کے مضافاتی علاقے شاد نگرمیں خاتون ویٹرنری ڈاکٹرسے اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کیس کے ملزمین کو پولیس نے انکاؤنٹرمیں ہلاک کردیاہے۔ریمانڈ کے دوران ، پولیس جمعرات کی رات تمام ملزمین کو موقع پر لے گئی تاکہ جرائم کا منظردوبارہ جائزہ لیا جاسکیں۔ پولیس ملزمین کی نظر سے پورے واقعے کو سمجھنا چاہتی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ اس دوران ان چاروں نے پولیس کی گرفت سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ تب پولیس نے ان پر فائرنگ کردی.
پولیس کے مطابق، یہ انکاؤنٹربنگلورو۔ حیدرآباد نیشنل ہائی وے 44 پرصبح 3:30 بجے ہوا۔اس شاہراہ پرانڈرپاس کے قریب خاتون ڈاکٹر کی بھی جلی ہوئی لاش ملی ہے۔ 27-28 نومبر کی درمیانی شب میں ، ان چاروں ملزمین کوخاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت ریزی کی اوراسے جلاکرقتل کردیا۔ متاثرہ کے اہل خانہ کا بیان تمام ملزمین کی ہلاکت کی خبر سے متاثرہ کے اہل خانہ بھی خوش ہیں۔ متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ آج اس کی بیٹی کی روح کو سکون ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عصمت ریزی کے تمام معاملوں میں ملزمین کوسزا ملنی چاہیے۔
کیا یہ سارا معاملہ ہے؟
شاد نگرمیں 27-28 نومبر کی درمیانی شب میں حیدرآباد کے قریب شاد نگر ٹول پلازہ کے قریب ایک عورت کی آدھی لاش ملی۔ خاتون کی شناخت ویٹرنری ڈاکٹرکے طور پرہوئی۔ پولیس کے مطابق، اس خاتون کواجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کیا گیاتھا، پھرلاش کو پٹرول سے جلا کر فلائی اوور کے نیچے پھینک دیا گیا تھا۔ اس جرم میں ملوث چاروں ملزمین کی شناخت محمد پاشا ، نوین ، چنتنکونٹا کیشولو اور شیو کے نام سے ہوئی ہے۔
پورے ملک میں احتجاج
خاتون ویٹرنری ڈاکٹرسے اجتماعی ریزی اورقتل کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ خواتین تنظیموں کے علاوہ دیگر ادارے بھی ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاجارہاتھا۔پولیس نے ملزمین کوپولیس تحویل میں لیا تھا۔تاہم آج انہیں انکاؤنٹرمیں ہلاک کردیاگیاہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
