تازہ ترین
کیا نیشنل کانفرنس واقعی اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی ؟
خبراردو ڈیسک:
نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور جنرل سیکٹری مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ”این سی تب تک کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیںلے گی جب تک جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن (دفعہ ۳۷۰) کو بحال نہیںکیا جاتا“ ۔ان باتوں اظہار کمال نے ایک نیوز ایجنسی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے ۔
این سی سینئر لیڈر مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ”این سی وفد نے ۵ اگست سے قبل وزیر اعظم مودی اور سابقہ ریاست کے آخری گورنر ستیہ پال ملک سے اس حوالے سے بات بھی کی تھی اور دونوں نے وفد کو یقین دہائی کرائی تھی خصوصی پوزیشن کو ختم نہیں کیا جائے گا ، لیکن اب اس کو ختم کر کے ہمیں دھوکہ دیا گیا“ ۔
آپ کو بتادیں ۵ اگست سے قبل نائب صدر عمر عبداللہ اور جسٹس حسنین مسعودی کے علاوہ این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی والے وفدنے وزیر اعظم مودی سے دلی میں ملاقات کی تھی ، لیکن اس میٹنگ میں مودی سے کیا بات چیت ہوئی این سی لیڈران نے میڈیا سے اس حوالے سے خاموشی ہی برتی ۔
دوسری جانب سے مصطفی کمال پہلے ایسے این سی لیڈر نہیں ہیں جنہوں نے انتخابات سے دور رہنے کی بات کی ہو ۔۴۱ ستمبر کو دو نوں نظربند باپ بیٹے سے ملاقات کے بعد این سی رکن پارلیمان محمد اکبر لون نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کو بتایا تھا کہ” این سی تب تک کسی چناﺅ کا حصہ نہیں بنے گی جب تک جموں کشمیر کا ریاستی درجہ واپس نہیں دیا جاتا“۔
یہ بیان انہوں نے این صدر فاروق عبداللہ جو کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اپنے گھر میں ہی نظر بند ہیں اور عمر عبداللہ جو ہری نواس میں قید ہیں سے ملاقات کے بعد دیا تھا ۔
ایک طرف جہاں این صدر اور ممبر پارلیمان فاروق عبداللہ پر پی ایس اے لگایا گیا لیکن دوسری جانب سے این سی کے کسی بھی ممبر پارلیمان نے بطور احتجاج لوک سبھا کرسی سے استعفی نہیں دیا ۔
ادھر اسکے بعد بھی ایک مشترکہ بیان میں ایم پی جسٹس حسنین مسعودی اور اکبر لون نے ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے وہی بیان دیا تھا جو آج مصطفی کمال دے رہے ہیں ۔ ان بیانات سے اگرچہ ابھی تک واضح نہیں ہو پایا ہے کہ آیا یہ ان لیڈران کے نجی بیانات ہیں یا پارٹی کے لیکن ان سینئر لیڈران کے یہ اگر نجی بیانات بھی مان کر دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ لیڈرا ن اب انتخابی سرگرمی میں حصہ نہیں لینا چاہتے ہیں ۔
مذکورہ مشترکہ بیان کے بعد این سی جموں یونٹ کے صدر دویندر سنگھ رانا نے ان لیڈران کے یہ بیانات نجی قرار دئے تھے ۔یہ بھی واضح ہے کہ این سی انتخابات میں حصہ لینے کے علاوہ باقی تمام فیصلے پارٹی لیڈرشپ کی رہائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے ۔ اکتوبر میں ہوئے بلاک ترقیاتی انتخابات کو منعقد کرانے سے قبل مقامی انتظامیہ کی جانب سے جموں کے کہیں لیڈران جہاں رہا کئے گئے تھے وہیں کشمیر میں بھی ان لیڈران کو اپنی لیڈراشپ سے ان انتخابات کے حوالے سے ملاقات کا موقع دیا گیا تھا ۔ تب این سی پی ڈی پی اور دیگر جماعتوں نے ان انتخابات کو بے سود قرار دے کر بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا ۔
لیکن اب جموں کشمیر کی جہاں خصوصی پوزیشن ختم کر دی گئی ہے وہیں اسکا درجہ کم کر کے اسے اب وفاقی علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔ اور اب خبریں یہ بھی آ رہی ہیں کہ جموں اور کشمیر کے تین ، تین صوبوں کا ایک اور الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے ۔اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا این سی واقع چنا و میں حصہ نہیں لینا چاہے گی؟ ۔
۵ اگست سے قبل تمام سیاسی جماعتیں خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنے کی باتیں کر رہی تھیں جن میں ایک این سی بھی تھی ۔لیکن اب خصوصی پوزیشن ختم کی گئی ہے اور اب لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے کےلئے ان کے پاس کچھ بھی شائد بچا نہیں ہے ۔وہیں اگر یہ سیاسی جماعتیں بائیکاٹ کریں گی تو مرکز ان کے پیچھے پڑ کر ان کے تمام کرپشن سکیمز کو سامنے لا کر جیل بھیج سکتی ہے۔
ان سیاسی جماعتوں کے پاس دو یا اس بھی زیادہ راستے ضرور موجو د ہیں لیکن ان راستوں پر چل کر ان کا اپنا وجود باقی رہنا ناممکن لگ رہا ہے ۔
ادھر اب افواہیں یہ بھی گرم ہیں مرکز کی جانب سے وادی میں مین سٹریم کو بحال کرنے کےلئے تھرڈ فرنٹ کی تشکیل دی جا رہی ہے ۔محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ جو جیل سے چھوٹنا چاہتا ہے اسے صرف تھرڈ فرنٹ میں شمولیت کےلئے حامی بھرنی ہو گی ۔
ا ان افواہوں کو تب تقویت ملی جب ۹ ستمبر کو صحافیوں کےلئے اطلاعاتی مرکز میں قائم کئے گئے میڈٰیا سنٹر میں شاہد خان نامی شخص کی سربراہی میں کچھ افراد داخل ہوئے جنہوں نے جموں کشمیر پولیٹیکل پارٹی نامی نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی جانکاری دی ۔ لیکن ان کے ایجنڈے کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ۔
دوسری جانب سے خبریں یہ بھی گرم ہیں کہ اسی سال اپنی نئی پارٹی تشکیل دینے والے ۲۰۰۹ بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل سیاست کو خیر باد کہنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔جبکہ ان کی ساتھی لیڈر شہلا رشید نے پہلے ہی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا تھا ۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
