اہم خبریں
متنازعہ شہریت ترمیمی بل کیا ہے اور اس پر اتنا ہنگامہ کیوں ؟
خبراردو ڈیسک :
شہریت ترمیمی بل ۲۰۱۹ بھارت کے ایوان زریں (لوک سبھا ) ، ایوان بالا (راجیہ سبھا ) میں اکثریت کے ساتھ پاس کیا ہوئی ، بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں شدید احتجاجی مظاہروں کے زریعے اس بل کے خلاف غصہ نکالا جا رہا ہے ۔اس بل کو صدر رام ناتھ کو وند کی منظوری مل گئی ہے ۔صدر کی منظور ی کے بعداب بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان سے بھارت میں پچھلے سالوں سے رہ رہی چھ اقلیتی برادریوں جن میں ، پارسی، عیسائی ، بودھ ، جین ، سکھ ، اور ہندو شامل ہیں کو بھارتی شہریت دی جائے گی، جو بغیر کسی دستاویز کے یہاں رہ رہی ہیں ۔
وزیر اعظم مودی کی یقین دہانی کے باوجود شمال مشرقی ریاستوں ، تریپوہ میگھالیہ اور خاص طور پر آسام میں اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔
آ سام کے گوہاٹی میں انتظامیہ کو جہاں کرفیو بھی لگانا پڑا وہیں پولیس فائرنگ سے جہاں کئی زخمی ہوئے ہیں وہیں 5 کی موت واقع بھی ہوئی ہے ۔
آسام میں اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی وجہ یہ ہے کہ آسام کی عوام اس سے پہلے بھی اس کے خلاف مذمت کرتی آرہی ہے ۔
دراصل ۱۹۷۱ کے بعد بنگلہ دیش سے آئے بنگالی ہندو اور مسلم تارکین وطن سب سے زیادہ آسام میں ہی رہ رہے ہیں اور ان تارکین وطن ہندو اور مسلمانوں کو شہریت دینے سے انہیں اپنی شناخت ، نوکریاں اور کلچر کھونے کا خدشہ ہے ۔ اسی سال وہاں ہوئے قومی شہریت رجسٹر کے تحت ۱۹ لاکھ افراد کو غیر مقامی قرار دیا گیا جن میں زیادہ تعداد ہندووں کی ہے ،، لیکن اب یہ لوگ آسانی سے اس ایکٹ کے پاس ہونے سے انہیں شہریت مل جائے گی ۔
دوسری جانب سے اپوزیشن نے اس بل کو مسلم مخالف قرار دیا ہے اور کانگریس کی جانب سے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کئے جا رہے ہیں ۔ اسلامی تنظیموں ، اپوزیشن جماعتوں ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے میں شامل ہے جس کے تحت ۲۰ کروڑ بھارتی مسلمانوں کو دیوار سے لگانا چاہتا ہے ۔
ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے نئے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یونیورسٹی بند کو ہفتہ کو ختم کردیا ۔ اس سے ایک دن پہلے کمپلیکس میں پرتشدد احتجاج ہوا تھا ۔ وہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے کشیدگی کے پیش نظر امتحانات کو رد کرکے پانچ جنوری تک چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ جن لوگوں نے جمعہ کو تشدد کیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپ کی وہ باہری تھے ، طلبہ نہیں تھے ۔
گوہاٹی میں کشیدہ صورتحال کے باعث جاپانی وزیر اعظم شنزو ابے نے ۱۵ دسمبر سے شیڈول بھارتی دورہ منسوخ کر دیا ہے ، جبکہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ پہلے ہی بھارتی دورہ منسوخ کر چکے ہیں ۔
ادھر اقوام متحدہ کی جانب سے اس بل پر اظہار تشویش کیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق جیری لارنس نے کہا ہے کہ بل میں مسلم مہاجرین تحفظ نہیں دیا گیاہے، ترمیم سے بھارتی آئین میں موجود قانونی مساوات کو نقصان پہنچے گا.
مغربی بنگال میں احتجاجی مظاہروں کا دوسرا دن ہے اور وہاں پر اب تک کئی ریل پٹریاں اور 15 بسیں آگ کے حوالے کی گئی ہیں .
شہریت ترمیمی بل کیا ہے ؟
شہریت ایکٹ ۱۹۵۵ میں غیر قانونی طور پر بھارت آنے والے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ اس ایکٹ میں دو زمرے ہیں ۔ ایک وہ لوگ ہیں جو پاسپورٹ یا ویزے یعنی ضروری دستاویزات کے بغیرآئے ہیں دوسرے وہ لوگ جو صحیح دستاویزات لے کر تو آ ئے ہیں لیکن مقررہ وقت پورا ہونے کے باوجود یہاں رکے ہیں ۔
اب اس ایکٹ کی شق دو میں ایک ترمیم کی گئی ہے ۔جس میں بنگلہ دیش ، افغانستان اور پاکستان سے چھ مذکورہ برادریوں کو غیر قانونی تارکین وطن کے زمرے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ جبکہ ان میں مسلمانوں کا نام شامل نہیں ہے ۔ یعنی اب اگر ان تین ممالک میں سے کوئی بغیر دستاویزات کے غیر قانونی طور بھارت میں داخل ہوا ہے اور وہ مسلمان ہے تو وہ غیر قانونی تارکین وطن کہلایا جائے گا اور اسے بھارت کی شہریت نہ ہی حاصل ہو گی اور نہ ہی درخواست دینے کا حق ہے ۔
وہیں اب تک کوئی بھی شہریت کی درخواست دینے کا اہل نہیں تھا لیکن اب مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی چھ مذہبی طبقے شہریت کے اہل ہو گئے ہیں ۔
آئین کا آرٹیکل ۱۱ بھارتی پارلیمنٹ کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ شہریت کے قوانین میں ترامیم کرے اور اس کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ کس کو شہریت ملے گی ، کب ملے گی اور کن حالات میں غیر ملکی بھارت کا شہری بن سکتا ہے ۔
اب اہل کو ن ہے ؟
ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ ”بھارت کی شہریت وہ چھ مذکورہ برادریاں حاصل کر سکتی ہیں جو مذکورہ تین ممالک کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم کا نشانہ بنائے گئے اور بھارت میں پناہ لینے کےلئے مجبور ہوئے “۔
اس بل کے تحت ۲۰۱۵ سے قبل یعنی ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ سے قبل بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم جو غیر قانونی طور پر چھ سال سے زائد عرصے سے بھارت میں رہ رہے ہیں کو شہریت دی جا سکتی ہے ۔ جبکہ ان ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا ۔
بل کا پارلیمنٹ میں سفر؟
شہریت ترمیمی بل سب سے پہلے ۸ جنوری ۲۰۱۹ کو لوک سبھا میں پاس ہوئی تھی ۔ یہ بل تب کے وزیر داخلہ (موجودہ وزیر دفاع) راجناتھ سنگھ نے ایوان میں پیش کی تھی ۔
اس کے بعد اس بل کو راجیہ سبھا میں پاس ہونا تھا لیکن بھاجپا ایوان بالا میں اکثریت حاصل نہیں کر پائی۔ اب ۲۳ مئی کو پھر سے اپنی سرکار برقرار رکھنے والی بھاجپا نے ۴ دسمبر کو ایوان زریں میں اس بل کو پیش کرنے کے بعد اکثریت کے ساتھ پاس کر وایا ۔
اس کے بعد راجیہ سبھا میں بھی ۱۲۵ نے اس بل کے حق میں جبکہ ۱۰۵ ممبران نے س بل کے خلاف ووٹ ڈالے ۔ جبکہ صدر رام ناتھ کووند نے اس بل کو ۱۱ دسمبر کو منظوری دی جس کے بعد یہ قانون بن گیا ۔
اس بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس بل میں تین ممالک ہی کیوں شامل کئے گئے ہیں کیوں کہ سری لنکا اور ادھر چین میں بھی ہندو اور بودھ ظلم کا شکار ہیں وہیں ۔ مسلمانوں پر بھی میانمار یا چین میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ۔ جبکہ ادھر اس بل میں لا مذہب لوگوں کا کوئی بھی زکر نہیں کیا گیا ہے ۔
جبکہ تجزیہ نگار اب یہ بھی پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اس سے بھارت میں موجود مسلمان اپنے آپ کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے لگے گے وہیں وہ شدت پسندی کی جانب بھی مائل ہو سکتے ہیں ۔
دوسری جانب مغربی بنگال میں ایک کروڑ بنگلہ دیشی ہندو مہاجر موجود ہیں ، جنہیں بھاجپا شہریت دے کر 2021 اسمبلی انتخابات جیتنا چاہیں گی.
بھارتی آئین کا آرٹیکل ۱۴ جس میں مساوات کا زکر ہے یعنی بھارت کی سرزمین میں کسی بھی فرد کو قانون کی نظر میں مساوات یا مساوی حقوق کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جائے گا ۔ وہیں آرٹیکل ۱۵ کے مطابق ریاست کسی شہری کے ساتھ مذہب ،نسل ، زات ، جنس ، جائے پیدائش یا ان میں کسی بھی بنیاد پر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کرے گی ۔
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ان دفعات کی خلاف ورزی پر اسے عدالت میں چلینج کیا جا سکتا ہے ۔اور ابھی تک کئی بااثر شخصیات اور مختلف تنظیموں نے اس قانون کو چلیج کرنے کی بات کی ہے ۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
