تازہ ترین
اترپردیش مظاہروں کے دوران 15 ہلاکتوں کی تصدیق، ہر سو دہشت کا ماحول
خبراردو:
شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے خلاف اتر پردیش بھر میں ہونے والے تشدد کے حوالہ سے یو پی پولیس کے آئی جی لاء اینڈ آرڈر پروین کمار نے ہفتہ کے روز مختلف اضلاع میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
لکھنؤ: شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے خلاف جمعہ کے روز اتر پردیش بھر میں ہونے والے تشدد میں بڑے پیمانے پر جان و مال کے ضیاع کی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔ یوپی پولیس کے آئی جی لا اینڈ آرڈر پروین کمار نے ہفتہ کے روز مختلف اضلاع میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، حالانکہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اموات پولیس کی گولی لگنے سے واقع ہوئی ہیں۔ پروین کمار نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد اس پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔
پروین کمار نے کہا کہ مظاہروں کے دوران 253 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔نیز، تشدد برپا کرنے والے افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فسادیوں کی املاک بھی ضبط کر لی جائے گی۔ دریں اثنا پولیس نے تاحال 705 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مظفر نگر میں کچھ دکانوں کو سیل کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ضلع رامپور میں ہفتہ روز ایک مرتبہ پھر سے احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا اور عوام و پولیس آمنے سامنے آگئے۔ رامپور میں فائرنگ کے دوران ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ رامپور کے علاوہ کانپور سے بھی تشدد کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ کانپور میں یتیم خانہ پولیس چوکی میں آگزنی کی بھی اطلاع ہے۔ ریاست کے دیگر اضلاع میں اکا دکا واقعات پیش آئے لیکن مجموعی طور پر حالات پرامن مگر کشیدہ رہے۔ حساس مقامات پر سیکورٹی اہلکار کا پہرہ رہا۔
وہیں گورنر آنندی بین پٹیل اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے شہریوں سے امن و امان کو قائم رکھنے اور کسی بھی بہکاوے یا اکساوئے میں نہ آنے کی اپیل کی۔ ادھر، وارانسی اور فیروزآباد سے موصول اطلاع کے مطابق شہر میں حالات کشیدہ لیکن پرامن ہیں۔ ان اضلاع میں جمعہ کے احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے امتحانات ملتوی کر دئے گئے ہیں تو وہیں سیکورٹی اہلکار کو شرپسند عناصر سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق تشدد پھوٹ پڑنے والے اضلاع میں حالات پرامن ہیں۔
راجدھانی لکھنؤ میں جمعرات کو ہوئے تشدد میں املاک کو ہوئے نقصان کا پی ڈبلیو ڈی محکمے نے تخمینہ لگانا شروع کردیا ہے اور مصدقہ ذرائع سے نشان زد افراد جو اس تشدد میں ملوث تھے ان کے نام کی نوٹس جاری کی جا رہی ہے۔ تشدد میں ہوئے نقصان کی تلافی اس میں ملوث شرپسند عناصر سے کی جائے گی۔
ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نے کہا کہ 19 دسمبر کو لکھنؤ میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں 218 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جس میں چھ مغربی بنگال کے مالدہ کے رہنے والے ہیں۔ ڈی جی پی کے مطابق ان افراد کو بنگال سے خصوصی طور سے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کے خلاف راسوکا کے تحت کاروائی کی جائےگی۔ پولیس کسی بھی بے قصور کو گرفتار نہیں کرے گی۔ ڈی جی پی کے مطابق ابھی تک اس معاملے میں پوری ریاست میں آٹھ ہزار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔اور تقریبا ایک ہزار افرا کو گرفتار کیا گیا ہے۔
گذشتہ روز اتر پردیش کے 20 اضلاع میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور پولیس نے 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ سنیچر کو پولیس نے 15 افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تشدد میرٹھ میں برپا ہوا۔ یہاں پولیس فائرنگ میں 4 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ 12 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 5 کی حالت تشویش ناک ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ 6 پولیس اہلکار بھی زخمی ہیں۔
گذشتہ رات میرٹھ کے تاراپوری، لیساڑی گیٹ پر تشدد ہوا۔ اسلام آباد کے علاقے میں پولیس چوکی نذر آتش کر دی گئی۔ کئی بائیکوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ہاپوڑ روڈ پر بھی مظاہرے کے دوران تشدد ہوا۔ بجنور میں بھی گزشتہ روز تشدد ہوا تھا جس میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔ بجنور ضلع کے نہٹور قصبہ میں دو افراد کی موت ہو بھی واقع ہوئی۔
سی پی آئی کے ترجمان اتل انجان کا کہنا ہے کہ ریاست اتر پردیش میں صورت حال انتہائی خوفناک ہو چکی ہے۔ ہر طرف خوف کا ماحول ہے۔ پولیس بربریت کا مظاہرہ کیا گیا۔
گذشتہ روز ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی لاشوں کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی ، اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔دو دن قبل ، یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ نقصان کی تلافی کے لئے دیہاتیوں کی جائداد ضبط کرکے۔ مظفر نگر میں اس قسط میں آدھا درجن دکانیں سیل کردی گئیں۔
ان مظاہروں کے دوران مقامی رہنماؤں نے مکمل خاموشی اختیار کی ہو ہے اور تمام شہروں کے احتجاج قیادت سے پاک ہیں۔ مظاہروں کے بعد سڑکیں پر خاموش طاری ہے۔ بازاروں میں بھیڑ نہیں ہے اور لوگ صرف ضرورت کا سامان لینے کے لئے ہی باہر نکل رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پریشانی مسافروں کو ہو رہی ہے کیوں کہ انہیں بس اڈوں پر بسیں نہیں مل رہی ہیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
