تازہ ترین
سال2019: جس نے جمو ں کشمیر کے نقشے سے لے کر بہت کچھ بدل دیا
خبراردو ڈیسک:
سال ۲۰۱۹ جس کو الوداع ہونے میں اب کچھ ہی گھنٹے بچےں ہیں ۔ یہ سال جموں کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ کےلئے یاد رکھا جائے گا ۔ جموں کشمیر کے حوالے سے مستقبل میں جب بھی بات ہو گی ، اس سال کے متعلق بھی لازماََ بات ہو گی ۔
۲۰۱۹ میں جموں کشمیر میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو شائد یہاں کی عوام کے دل و دماغ ابھی تک ماننے کےلئے راضی نہ ہوں ۔
۲۰۱۹ کا سال میں جنوری سے ہی عسکریت پسندوں کے خلاف کارڈن اینڈ سرچ آپریشن دیکھے گئے جن میں رواں سال کئی نامور ملی ٹنٹ کمانڈر مارے گئے ۔ جن میں 8 سے زائد سرکردہ کمانڈر شامل ہیں ۔
عسکریت پسند کے خلاف آپریشن جاری ہی تھے کہ ۱۴ فروری کا دن آیا ۔ اور اس دن صبح ساڑھے نو بجے کے آس پاس خبر آئی کہ ہائی وے پر پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقے میں جموں سے سرینگر کی جانب آ رہے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے قافلے پر حملہ ہوا ہے ۔ اور اسکے کچھ منٹوں بعد ہی جائے واردات پر میڈیا کے پہنچنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کانوائے پر خود کش کیا گیا ہے جس میں چالیس سے زائد فورس اہلکار ہلا ک ہوئے وہیں درجنوں زخمی ہوئے ہیں ۔ اسکے بعد بڑی خبر یہ آئی کہ خود کش بمبار مقامی نوجوان عادل احمد تھا ۔
اس حملے نے دو پڑوسی ممالک بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پرلے کھڑا کر دیا تھا ۔
اس حملے کے کچھ روز بعد ۲۶ فرور ی کو انڈین ائر فورس کے جیٹ طیاروں نے پاک صوبہ خیبر پختونخواہ کے بالاکوٹ علاقے میں گھس کر وہاں جنگجووں کے ٹھکانوں پر بم گر ا کر انہیں تباہ کرنے کا دعوی کیا ۔
اس خبر کو وائرل کرنے والے پاکستان فوج کے ترجمان آصف غفور تھے ،انہوں نے بھارت کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایف کے طیاروں نے اپنے بم درختوں پر گرا دئے ہیں ۔ایسا۱۹۷۱ کے بعد پہلی بار ہواتھاکہ بھارتی ائر فورس کے طیارے پاکستان کی حدود کے اندر داخل ہوئے تھے ۔
اسکے اگلے روز ہی پاکستانکی جانب سے جوابی وار میں پاکستانی جنگی طیارے جموں کے ایک علاقے میں گھس آئے، جس کا بھارتی فصائیہ کی جانب سے فوراََ جواب دیا گیا اور دونوں ممالک کے جنگی طیاروں کے درمیاں ڈاگ فائٹ شروع ہو گئی اور اس دوران بھارتی طیارے کو چلانے والے پائلٹ کو کشمیر زیر نتظام علاقے میں گرایا گیا ۔
اس دورا ن انہوں نے پیرا شوٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جان پچانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔اور اسے پاک فوج نے گرفتار کر لیا ۔
امریکہ ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے خراب حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک بات چیت کی گئی اور پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے بعد عمر ان خان نے نیشنل اسمبلی میں پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ۔
۱۹۹۹ کے بعد پہلی بار پھر سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے ۔
اسکے اگلے ماہ میں ملی ٹنسی مخالف آپریشنوں ، سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسمبلی انتخاب کی مانگ اور سیاسی لیڈرا ن او ر آخری گورنر ستیہ پال ملک کے بین لفظی جنگ کے بیچ ۲ اگست ۲۰۱۹ کا وہ دن آیا جس دن اچانک سے سابقہ ریاست کی حکومت کی جانب سے امرناتھ یاترا کےلئے درشن پر آئے یاتریوں کو کچھ گھنٹوں میں کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ۔ اور وجہ یہ بتائی گئی کہ خفیہ یجنسیوں کی جانب سے یاترا پر حملے کی اطلاع ملی ہے ۔ اسکے بعد کیا تھا وادی میں موجود یاتری ، سیاح ، این آئی ٹی کے طلاب ، غیر مقامی کاریگر و مزدور ۴ اگست سے پہلے ہی کشمیر کو چھوڑ گئے تھے ۔
۴ اگست کی رات کو ہی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کی افواہوں کے بیچ تمام مین سٹریم لیڈران کو گرفتار و گھر وں میں نظر بند رکھنا شروع ہو گیا ۔ جن میں تین سابق وزرائے اعلی بھی شامل ہیں ۔
اور اسکے بعد رات کے ایک بجے تک موبائل فون کالنگ ، انٹرنیٹ ، براڈبینڈ ، لیز لائن اور لینڈ لائن سروس کو بند کیا گیا ۔
۵ اگست کی صبح ہوتے ہی پورے کشمیر میں ہو کا عالم تھا ۔ اور ۱۱ بجے کے قریب کابینہ میٹنگ میں جموں کشمیر کے حوالے سے خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرنے کےلئے لوک سبھا میں جموں کشمیر تنظیم نو قانون کی بل کو پیش کیا گیا ۔
ٓتنظیم نو قانون بننے کے بعد جمون کشمیر کا نقشہ بھی بدل دیا گیا ۔ وہیں جموں کشمیر کا درجہ ریاست سے کم کر کے یو ٹی میں تبدیل کیا گیا ۔مزید اس کا رقبہ بھی کم کر کے لداخ کو الگ یو ٹی کا درجہ دیا گیا ۔
کشمیر میں اس روز تمام کیبل اور ڈش ٹی وی سروس بھی بند کی گئی اور عوام نے یہ خبر صرف اپنے ریڈیوز کے زریعے سنی۔
اس دوران گرفتاریوں کا عمل شروع کیاگیا اور اخبارا ت میں شائع خبروں کے مطابق ۶ ہزار سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ۔ جن میں سے ۳ سو سے زائد پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوسری ریاستوں کی جیلوں میں بھیجے گئے۔ اور اب وادی میں ۱۰۰ سے زائد سرکردہ مین سٹریم لیڈران ہی نظر بند یا ایم ایل ہوسٹل میں مقید ہیں ۔
اسی دوران ایک اور غیر معمولی فیصلے کے تحت سابق مرکزی وزیر کئی بار کے اور موجود ہ ممبر پارلیما ن ، تین بار کے ریاستی وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔دسمبر کے دوسرے ہفتے میں ہی ان کی گرفتاری میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ۔ گپکار سڑک پر واقع ان کے گھر کو ہی جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
یہ جموں کشمیر کی تاریخ میں دوسری بار ہوا جب ریاست کے سابق وزراءکو گرفتار یا نظر بند رکھا گیا ۔
اس سے پہلے ۱۹۵۳ میں ڈاکٹر فاروق کے والد شیخ عبداللہ کو جموں کشمیر میں بھارت کے خلاف مبینہ سازش رچانے کے الزام میں ۱۱ سال جیل میں کاٹے پڑے تھے ۔
۱۹۷۸ میں شیخ عبداللہ کی سرکار میں ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف لاگوکیا گیا تھا۔
وہیں کشمیر مسئلہ پہلی بار بین الاقوامی سطح پر بھی بڑی حد تک گونجا ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۱۵ اگست کو چین کی مانگ کے بعد بند کمرے میں کشمیر کی صورتحال پر بات کی گئی ۔دسمبر میں بھی چین کی جانب سے ایسی ہی مانگ کی گئی تھی لیکن فرانس نے اسکو ویٹو کر لیا ۔
اسی طرح سے وادی میں تما م طرح کے تعلیمی ادارے ۴ ماہ تک بند رہے اور اسکے بعد امتحانات اور پھر سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا ۔مواصلاتی نظام کی بات کی جائے تو ۵ اگست کے کچھ ہفتوں بعد ہی وادی میں لینڈ لائن سروس بحال کی گئی ۔ اور اسکے بعد ۱۴ اکتوبر کو پوسٹ پیڈ سروس بھی شروع کی گئی تھی ۔
لیکن وہیں ایس ایم ایس سروس ، پری پیڈ ، براڈبینڈ، انٹرنیٹ سروس ہنوز بند ہے ۔ جبکہ جموں میں اگرچہ براڈبینڈ چل رہا ہے تاہم وہاں بھی ابھی تک انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی۔
۱۳ اکتوبر کو جمون کشمیر کے نئے اور پہلے لیفٹننٹ گورنر گریش چندر مرمو اور لداخ کے پہلے ایل جی آر کے ماتھر نے حلف لیا ۔اسکے ساتھ جموں کشمیرکا اپنا ترنگا اور آئین ختم کیا گیا اور اب جموں کشمیر پر بھی ۱۵۰ بھارتی آئین کے قوانین لاگو کئے گئے ۔
کشمیر میں اس بار ایک چیز جو مرکزی سرکار کی توقع کے بر عکس رہی وہ رہا خاموش احتجاج ۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۶ میں جہاں ۳۰۰ زائد افراد احتجاجی مظاہروں کے دوران مارے گئے ۔وہیں اس مرتبہ ایک نہ ہی حریت کانفرنس کی جانب سے کوئی کال دی گئی اور لوگوں نے بھی چار ماہ غیر اعلانیہ ہڑتال کی ۔تاہم اس دوران کشمیر کی تجارت کو ۱۸۰۰۰کروڑ کا نقصان ہوا ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
