تازہ ترین
سال2019: جس نے جمو ں کشمیر کے نقشے سے لے کر بہت کچھ بدل دیا
خبراردو ڈیسک:
سال ۲۰۱۹ جس کو الوداع ہونے میں اب کچھ ہی گھنٹے بچےں ہیں ۔ یہ سال جموں کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ کےلئے یاد رکھا جائے گا ۔ جموں کشمیر کے حوالے سے مستقبل میں جب بھی بات ہو گی ، اس سال کے متعلق بھی لازماََ بات ہو گی ۔
۲۰۱۹ میں جموں کشمیر میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو شائد یہاں کی عوام کے دل و دماغ ابھی تک ماننے کےلئے راضی نہ ہوں ۔
۲۰۱۹ کا سال میں جنوری سے ہی عسکریت پسندوں کے خلاف کارڈن اینڈ سرچ آپریشن دیکھے گئے جن میں رواں سال کئی نامور ملی ٹنٹ کمانڈر مارے گئے ۔ جن میں 8 سے زائد سرکردہ کمانڈر شامل ہیں ۔
عسکریت پسند کے خلاف آپریشن جاری ہی تھے کہ ۱۴ فروری کا دن آیا ۔ اور اس دن صبح ساڑھے نو بجے کے آس پاس خبر آئی کہ ہائی وے پر پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقے میں جموں سے سرینگر کی جانب آ رہے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے قافلے پر حملہ ہوا ہے ۔ اور اسکے کچھ منٹوں بعد ہی جائے واردات پر میڈیا کے پہنچنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کانوائے پر خود کش کیا گیا ہے جس میں چالیس سے زائد فورس اہلکار ہلا ک ہوئے وہیں درجنوں زخمی ہوئے ہیں ۔ اسکے بعد بڑی خبر یہ آئی کہ خود کش بمبار مقامی نوجوان عادل احمد تھا ۔
اس حملے نے دو پڑوسی ممالک بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پرلے کھڑا کر دیا تھا ۔
اس حملے کے کچھ روز بعد ۲۶ فرور ی کو انڈین ائر فورس کے جیٹ طیاروں نے پاک صوبہ خیبر پختونخواہ کے بالاکوٹ علاقے میں گھس کر وہاں جنگجووں کے ٹھکانوں پر بم گر ا کر انہیں تباہ کرنے کا دعوی کیا ۔
اس خبر کو وائرل کرنے والے پاکستان فوج کے ترجمان آصف غفور تھے ،انہوں نے بھارت کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایف کے طیاروں نے اپنے بم درختوں پر گرا دئے ہیں ۔ایسا۱۹۷۱ کے بعد پہلی بار ہواتھاکہ بھارتی ائر فورس کے طیارے پاکستان کی حدود کے اندر داخل ہوئے تھے ۔
اسکے اگلے روز ہی پاکستانکی جانب سے جوابی وار میں پاکستانی جنگی طیارے جموں کے ایک علاقے میں گھس آئے، جس کا بھارتی فصائیہ کی جانب سے فوراََ جواب دیا گیا اور دونوں ممالک کے جنگی طیاروں کے درمیاں ڈاگ فائٹ شروع ہو گئی اور اس دوران بھارتی طیارے کو چلانے والے پائلٹ کو کشمیر زیر نتظام علاقے میں گرایا گیا ۔
اس دورا ن انہوں نے پیرا شوٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جان پچانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔اور اسے پاک فوج نے گرفتار کر لیا ۔
امریکہ ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے خراب حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک بات چیت کی گئی اور پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے بعد عمر ان خان نے نیشنل اسمبلی میں پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ۔
۱۹۹۹ کے بعد پہلی بار پھر سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے ۔
اسکے اگلے ماہ میں ملی ٹنسی مخالف آپریشنوں ، سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسمبلی انتخاب کی مانگ اور سیاسی لیڈرا ن او ر آخری گورنر ستیہ پال ملک کے بین لفظی جنگ کے بیچ ۲ اگست ۲۰۱۹ کا وہ دن آیا جس دن اچانک سے سابقہ ریاست کی حکومت کی جانب سے امرناتھ یاترا کےلئے درشن پر آئے یاتریوں کو کچھ گھنٹوں میں کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ۔ اور وجہ یہ بتائی گئی کہ خفیہ یجنسیوں کی جانب سے یاترا پر حملے کی اطلاع ملی ہے ۔ اسکے بعد کیا تھا وادی میں موجود یاتری ، سیاح ، این آئی ٹی کے طلاب ، غیر مقامی کاریگر و مزدور ۴ اگست سے پہلے ہی کشمیر کو چھوڑ گئے تھے ۔
۴ اگست کی رات کو ہی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کی افواہوں کے بیچ تمام مین سٹریم لیڈران کو گرفتار و گھر وں میں نظر بند رکھنا شروع ہو گیا ۔ جن میں تین سابق وزرائے اعلی بھی شامل ہیں ۔
اور اسکے بعد رات کے ایک بجے تک موبائل فون کالنگ ، انٹرنیٹ ، براڈبینڈ ، لیز لائن اور لینڈ لائن سروس کو بند کیا گیا ۔
۵ اگست کی صبح ہوتے ہی پورے کشمیر میں ہو کا عالم تھا ۔ اور ۱۱ بجے کے قریب کابینہ میٹنگ میں جموں کشمیر کے حوالے سے خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرنے کےلئے لوک سبھا میں جموں کشمیر تنظیم نو قانون کی بل کو پیش کیا گیا ۔
ٓتنظیم نو قانون بننے کے بعد جمون کشمیر کا نقشہ بھی بدل دیا گیا ۔ وہیں جموں کشمیر کا درجہ ریاست سے کم کر کے یو ٹی میں تبدیل کیا گیا ۔مزید اس کا رقبہ بھی کم کر کے لداخ کو الگ یو ٹی کا درجہ دیا گیا ۔
کشمیر میں اس روز تمام کیبل اور ڈش ٹی وی سروس بھی بند کی گئی اور عوام نے یہ خبر صرف اپنے ریڈیوز کے زریعے سنی۔
اس دوران گرفتاریوں کا عمل شروع کیاگیا اور اخبارا ت میں شائع خبروں کے مطابق ۶ ہزار سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ۔ جن میں سے ۳ سو سے زائد پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوسری ریاستوں کی جیلوں میں بھیجے گئے۔ اور اب وادی میں ۱۰۰ سے زائد سرکردہ مین سٹریم لیڈران ہی نظر بند یا ایم ایل ہوسٹل میں مقید ہیں ۔
اسی دوران ایک اور غیر معمولی فیصلے کے تحت سابق مرکزی وزیر کئی بار کے اور موجود ہ ممبر پارلیما ن ، تین بار کے ریاستی وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔دسمبر کے دوسرے ہفتے میں ہی ان کی گرفتاری میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ۔ گپکار سڑک پر واقع ان کے گھر کو ہی جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
یہ جموں کشمیر کی تاریخ میں دوسری بار ہوا جب ریاست کے سابق وزراءکو گرفتار یا نظر بند رکھا گیا ۔
اس سے پہلے ۱۹۵۳ میں ڈاکٹر فاروق کے والد شیخ عبداللہ کو جموں کشمیر میں بھارت کے خلاف مبینہ سازش رچانے کے الزام میں ۱۱ سال جیل میں کاٹے پڑے تھے ۔
۱۹۷۸ میں شیخ عبداللہ کی سرکار میں ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف لاگوکیا گیا تھا۔
وہیں کشمیر مسئلہ پہلی بار بین الاقوامی سطح پر بھی بڑی حد تک گونجا ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۱۵ اگست کو چین کی مانگ کے بعد بند کمرے میں کشمیر کی صورتحال پر بات کی گئی ۔دسمبر میں بھی چین کی جانب سے ایسی ہی مانگ کی گئی تھی لیکن فرانس نے اسکو ویٹو کر لیا ۔
اسی طرح سے وادی میں تما م طرح کے تعلیمی ادارے ۴ ماہ تک بند رہے اور اسکے بعد امتحانات اور پھر سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا ۔مواصلاتی نظام کی بات کی جائے تو ۵ اگست کے کچھ ہفتوں بعد ہی وادی میں لینڈ لائن سروس بحال کی گئی ۔ اور اسکے بعد ۱۴ اکتوبر کو پوسٹ پیڈ سروس بھی شروع کی گئی تھی ۔
لیکن وہیں ایس ایم ایس سروس ، پری پیڈ ، براڈبینڈ، انٹرنیٹ سروس ہنوز بند ہے ۔ جبکہ جموں میں اگرچہ براڈبینڈ چل رہا ہے تاہم وہاں بھی ابھی تک انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی۔
۱۳ اکتوبر کو جمون کشمیر کے نئے اور پہلے لیفٹننٹ گورنر گریش چندر مرمو اور لداخ کے پہلے ایل جی آر کے ماتھر نے حلف لیا ۔اسکے ساتھ جموں کشمیرکا اپنا ترنگا اور آئین ختم کیا گیا اور اب جموں کشمیر پر بھی ۱۵۰ بھارتی آئین کے قوانین لاگو کئے گئے ۔
کشمیر میں اس بار ایک چیز جو مرکزی سرکار کی توقع کے بر عکس رہی وہ رہا خاموش احتجاج ۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۶ میں جہاں ۳۰۰ زائد افراد احتجاجی مظاہروں کے دوران مارے گئے ۔وہیں اس مرتبہ ایک نہ ہی حریت کانفرنس کی جانب سے کوئی کال دی گئی اور لوگوں نے بھی چار ماہ غیر اعلانیہ ہڑتال کی ۔تاہم اس دوران کشمیر کی تجارت کو ۱۸۰۰۰کروڑ کا نقصان ہوا ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
