تازہ ترین
انٹر نیٹ:2۔جی رفتار،مشروط بحالی،محدود رسائی ’درد ِسر اور مذاق کے سوا کچھ نہیں‘
فیصلہ اقوام عالم کو گمراہ کر نے کا اقدام،عوام اورعدالت ِعظمیٰ کو مطمئن کرنے کی کوشش:صارفین
شوکت ساحل
سرینگر:جموں وکشمیر کے سبھی22اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات کی 2۔جی رفتار کیساتھ مشروط بحالی اور محدود رسائی کے حکومتی فیصلے پرصارفین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اِس اقدام کو درد سر اور مذاق سے تعبیر کیا۔
طلبہ،تاجروں اور صحافیوں نے حکومتی فیصلے اور حکمنانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام عالم کو گمراہ کرنے کا اقدام اور عوام وسپریم کورٹ آف انڈیا کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سنیچر کی سہ پہر سے جموں وکشمیر کے سبھی22اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات 2۔جی رفتار اور مشروط بنیادوں پر بحال کی گئی،تاہم صارفین محدود طور ہی انٹر نیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سفید فہرست میں شامل کی گئیں 301ویب سائٹس تک صارفین کی رسائی ہوگی۔اس حوالے سے جموں وکشمیر کے محکمہ داخلہ نے جمعہ کی شب 10صفحات پر مشتمل ایک حکمنامہ بھی جاری کیا۔یہ فیصلہ قریب قریب چھ ماہ تک جاری رہنے والے’انٹر نیٹ کرفیو‘ کے بعدلیا گیا۔
اتوار کو 26جنوری کے پیش نظر سہ پہر تک پوری وادی میں دوبارہ مکمل طور پر مواصلاتی بریک ڈاؤن کیا گیا۔حکومتی فیصلے پر عوامی ردِ عمل:
حکومتی فیصلے،دعوے اور حکمنامے پر سماج کے مختلف طبقہ ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے تیز رفتار دور میں کشمیر، حکومتی اقدام کی وجہ سے پتھر کے زمانے میں واپس لوٹ چکا ہے۔ایک نجی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر محبوب جیلانی کہتے ہیں:’مجھے حکومتی فیصلے پر حیرانی ہے،حکومت ہند ڈیجٹل انڈیا کے منصوبہ کو عملانے کا بڑا دعویٰ کررہی ہے،لیکن دوسری طرف کشمیر گذشتہ چھ ماہ سے انٹر نیٹ کی سہولیت سے محروم ہے‘۔
بی ایس سی سیکنڈ ائر کی طالبہ،رابعیہ نور کہتی ہیں:’2۔جی رفتار کیساتھ آپ ای۔میل بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں،مطالعہ کر نا دور کی بات ہے،اُس پر ستم ظریفی یہ کہ وائٹ لسٹ ویب سائٹس تک ہی رسائی ہے،یہ اقدام درد سر اور مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے‘۔
ایک راہ گیر نور محمد کہتے ہیں:’انٹر نیٹ کی مشروط اور محدود بحالی کا فیصلہ اقوام عالم کو گمراہ کرنے کا اقدام ہے‘۔
ای۔کامرس اور آئی ٹی سیکٹر:ایک نوجوان انٹر پرینور نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’میں نے سال2018میں اپنا اسٹارٹپ،ای ڈی آئی کی وساطت سے شروع کیا،لیکن میرے خواب چکنا چور ہوئے،میں جموں وکشمیر سے باہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں 65ہزار ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کرتا تھا،لیکن سوچا تھا کشمیر واپس آکر خود روزگار منصو بے کے تحت اپنے لئے اور دوسروں کیلئے روزگار کے وسائل پیدا کروں گا،اب افسوس ہی ہورہا ہے،میں لوٹ کر کیوں واپس آیا،سب کچھ تباہ ہوگیا‘۔ایک محتاط اندازے کے مطابق کشمیر میں ای۔ کامرس اور آئی ٹی سیکٹر سے 50سے زیادہ افراد بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہیں،سب بے روزگار ہوگئے ہیں،کیونکہ یہ دونوں سیکٹر زمین بوس ہوگئے جبکہ کئی افراد نے ذریعہ آمدنی کیلئے متبادل ڈھونڈ نے کی تلاش بھی شروع کردی۔
سمارٹ فون تجارت بھی متاثر:برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تقریباً 6 مہینے سے انٹرنیٹ پر پابندی نے تقریباً 500 کروڑ روپے کی سمارٹ فون کی تجارتی صنعت کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایسا سمجھیں کہ جیسے کشمیر میں مہنگے سمارٹ فونز اب سمارٹ نہیں رہے۔رپورٹ میں سرینگر کے لال چوک میں سمارٹ فون سٹور کے مالک مْنیر احمد قریشی حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ’کشمیر میں ہر ماہ 40ہزار فونز فروخت ہوتے تھے، لیکن اب مشکل سے 2ہزار فون بکتے ہیں، اس تجارت سے جْڑے لوگوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔‘موبائل سٹور میں کام کرنے والے وسیم احمد کہتے ہیں ’میرے کئی ساتھیوں کو نوکری سے نکالا گیا، اور جس ڈسٹری بیوٹر کے پاس میں ہوں وہاں بھی ہماری نوکری ختم کرنے کی بات ہورہی ہے۔ کئی سال سے میں یہ کام کررہا تھا، اب سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔‘
تجارت پر منفی اثرات:انٹرنیٹ پر تاریخ کی طویل ترین پابندی کے اثرات کا یہ محض ایک پہلو ہے، چھ مہینے سے جاری غیر یقینی کی صورتحال کے باعث کشمیر کی مجموعی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔کشمیر چیمبر آف کامرس کے ایک تازہ سروے کے مطابق کشمیر کی زرعی اور غیرزرعی تجارت کو کل ملاکر 18ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔
میڈیا سہولیاتی مرکز کا وجود برقرار:گذشتہ چھ ماہ سے وادی کشمیر میں صحافت محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ عامہ کی سرکاری عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود ہے۔
کشمیر میں میڈیا ادارے بھی انٹر نیٹ سروس سے مسلسل محروم ہیں۔ میڈیا اداروں میں انٹر نیٹ کی بحالی کو’حلف نامہ‘سے مشروط کردیا گیا ہے۔ نوجوان صحافی الطاف وانی کہتے ہیں:’حکومتی فیصلہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،چھ ماہ کے بعد انٹر نیٹ کی مشروط اور محدود بحالی تذلیل ہے،5۔جی اور ڈیجٹل ایج میں 2۔جی کی رفتار بے معنیٰ ہے،اس فیصلے کا سپریم کورٹ آف انڈیا کو نوٹس لینا چاہئے، کیوں کہ اقدام سپریم کوٹ کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی ہے،میں سمجھتا ہوں کہ صحافی پرندے کی مانند ہوتا ہے،لیکن انٹر نیٹ سے محروم کرکے ہمارے’پَر‘ ہی کاٹ دیئے گئے‘۔
روزنامہ ایشین میل کے مدیر اور سینئر صحافی رشید راہل کہتے ہیں ’سرکار کا یہ فیصلہ بہت ہی غلط ہے،یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے میڈیاادارے تحریر طور ضمانت دیں کہ کوئی اُنکے انٹر نیٹ کنیکشن کو ہیک نہیں کرسکتا ہے،انٹر نیٹ کی مشروط بحالی نہیں ہونی چاہئے بلکہ میڈیا اداروں میں انٹر نیٹ خدمات بحال ہونے چاہئے،چھ ماہ ہو رہے ہیں،صحافی مشکلات اور مسائل سے دوچار ہیں،2۔جی رفتار کا آج کے دور میں کوئی خریدار ہی نہیں ہے‘۔
محکمہ داخلہ کا حکمنامہ:موبائیل انٹر نیٹ کی رفتار2۔جی تک محدود کردی گئی،سوشل میڈیا تک کوئی رسائی نہیں ہوگی،صرف سفید فہرست والی 301ویب سائٹس کا ہی صارفین استعمال کر سکتے ہیں۔
سکیورٹی ایجنسیوں کوخدشہ:سیکیورٹی ایجنسیوں نے انٹر نیٹ کی بحالی پر خد شات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مخالف عناصر وادی میں انٹر نیٹ کا استعمال غلط کاموں خاص طور ملی۔ٹینسی سے متعلق پروگنڈا مواد کو پھیلانے کیلئے کرسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ:۔ حالیہ سماعت کے دوران جسٹس این وی رامانا، آر سبھاش ریڈی اور بی آر گوائی پر مشتمل عدالتی بینچ نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو خطے میں انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کا حکم دیاتھا۔جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں 3ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی عارضی معطلی اور شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو کم کرنا صوابدیدی نہیں ہونا چاہیے اور یہ معاملہ عدالتی جائزے کے لیے کھلا ہے۔‘
عدالت نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ کی بندش کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی آرٹیکل 19 (1) (اے) کے تحت آزادانہ تقریر کا ایک بنیادی حق ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کو آرٹیکل 19 (1) (جی) کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی خاص مدت کے بغیر اور غیر معینہ مدت‘ تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عدالتی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ہماری محدود تشویش لوگوں کی آزادی اور سیکیورٹی سے متعلق توازن تلاش کرنا ہے، ہم شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے یہاں موجود ہیں، ہم ان احکامات کے پیچھے موجود سیاسی خواہشات تلاش نہیں کریں گے‘۔
مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کشمیر کی محدودخصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب خطے میں سخت کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات کو بند کردیا گیا تھا۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
