تازہ ترین
کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی پر ابہام برقرار
سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست ت
سوشل میڈیا تک رسائی کو روکنے کیلئے’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ کو بند کرنے کا فیصلہ
سرینگر 29،جنوری:کے این ایس / وادی کشمیر میں طویل ترین عرصے سے جاری’انٹر نیٹ کرفیو‘کے باعث انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔اگرچہ انٹر نیٹ سروس کو محدود اور مشروط بنیادوں پر بحال کیا گیا ہے،تاہم عوام اس اقدام کو مذاق سے تعبیر کررہے ہیں۔شدید تنقید کے بعد حکام نے کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ ترتیب دیا ہے،تاہم اس پر ابہام ابھی بھی برقرار ہے۔حکام نے انٹر نیٹ کی مکمل بحالی سے قبل (بلیک لسٹڈ) یعنی سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست تیار کرلی ہے،جو عنقر یب مشتہر کی جائیگی،جن ویب سائٹوں تک عام صارفین کی رسائی ہوگی،اُنہیں (وائٹ لسٹڈ) یعنی سفید فہرست والی ویب سائٹس قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا تک صارفین کی رسائی کو روکنے کیلئے ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘(وی پی این) کو مکمل طور (بلاک)بند کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک بحث بھی شروع ہوگئی ہے اور نوجوان پود سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی تگدو بھی کررہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق 5اگست 2019کو کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو نافذ ہوا،اگرچہ پابندیوں کو محدود حد تک ہٹایا گیا،تاہم مجموعی طور پر کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو تاحال جاری ہے۔حالیہ دنوں حکام نے ایک غیر معمولی فیصلے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت پر موبائیل انٹر نیٹ خدمات2۔جی رفتار کیساتھ بحال کردیں،تاہم صارفین کی جانب سے جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔صارفین نے حکومتی فیصلے کو مذاق اور درد سر سے تعبیر کیا۔شدید تنقید کے بعد حکام نے وادی کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سلسلے میں کئی سطحوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں:انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ: انٹرنیت کی جزوی اور مشروط بحالی سے قبل حکام نے ایک لسٹ جاری کی جس میں وہ ویب سائٹس شامل ہیں جن تک رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فہرست کو وائٹ لسٹ کہا گیا ہے جبکہ اس سے باہر رہنے والی سبھی ویب سائٹس بلیک لسٹ میں رکھی گئی ہیں۔ حکام کیلئے یہ صورت حال مضحکہ خیز بن گئی ہے کیونکہ دنیا میں کروڑوں ویب سائٹس ہیں اور محض چند درجن ویب سائٹس کو وائٹ لسٹ میں شامل کرکے انٹرنیٹ کی بحالی کا دعوی ہدف تنقید بن رہا ہے۔ حکام اب سوچ رہے ہیں کہ وائٹ لسٹ کے بجائے بلیک لسٹ جاری کی جائے تاکہ پیدا شدہ ہزیمت کا کسی حد تک ازالہ کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق، حکومت ویب سائٹوں کی ایک فہرست تیار کررہی ہے جس پر خطے میں فل اسپیڈ انٹرنیٹ کے دوبارہ آغاز کے باوجود پابندی عائد رہے گی۔ذرائع نے بتایا کہ کچھ ایسی سائٹیں ہیں، جن پر پابندی عائد رہنے کا امکان ہے جن میں سوشل میڈیا سائٹس جیسے،وٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ شامل ہیں۔اس کی تصدیق کرتے ہوئے، ایک ٹیلی کام کمپنی کے ایک ملازم اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعوی کیا کہ اب براڈ بینڈ اور لیز لائنوں سمیت باقی سروسز کو کسی بھی وقت بحال کردیا جائے گا لیکن مکمل بحالی کے باوجود، کچھ سائٹیں ایسی ہوں گی جو ناقابل رسائی رہیں گی۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس صحافیوں، تاجر، طلبا اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی جانب سے شکایتیں موصول ہو رہی ہیں کہ سست رفتار انٹرنیٹ اور وائٹ لسٹ میں ضروری ویب سائٹ شامل نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ویب سائٹس کی تعداد تقریبا لامحدود ہے اور اطلاعات پر سب کا برابر حق ہے۔ اس لیے انتظامیہ وائٹ لسٹ کی جگہ اب ویب سائٹس کو بلیک لسٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویب سایٹ کو بلیک لسٹ کرنے سے انتظامیہ کے لیے بھی کافی آسانی رہے گی۔
پہلے مرحلے میں 400سے500ویب سائٹس بلیک لسٹ کی جائیں گی،ان میں سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی شامل ہونگی۔ بعد میں اگر کسی ویب سایٹ کے خلاف غلط خبروں کی تشہیر کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی شکایت موصول ہوئی تو اس کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ موبائل صارفین کی دوبارہ سے جانچ پڑتال کی خبروں کے تعلق سے ان کا کہنا تھا کہ پری۔پیڈ موبائل صارفین کی فزیکل ویری فیکیشن یعنی جانچ نہیں ہوتی ہے، اس لیے موبائل کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پوسٹ۔ پیڈ صارفین کی طرز پر ہی پری۔ پیڈ موبائل صارفین کی جانچ پڑتال کریں، اس سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ حکومت نے تقریبا 6 ماہ مکمل بلیک آوٹ کے بعد25جنوری کو سبھی22اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز محدود اور مشروط طور پر بحال کیں۔
تاہم صارفین کی رسائی صرف 300کے قریب ویب سائٹوں تک ہی محدود تھی، جسے انتظامیہ نے’وائٹ لسٹڈ‘سائٹس سے تعبیر کیا۔ وائٹ لسٹ یو آر ایل میں سرکاری سائٹیں، ای میل اور دیگر یوٹیلیٹی سائٹ شامل ہیں۔حکومت کی اپنی سائٹوں سمیت متعدد سائٹیں لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ چونکہ سروسز2۔جی تک محدود ہیں جس کی وجہ سے سرفنگ اور بھی دشوار ہوجاتی ہے۔سوشل میڈیا پر پابندی اوروی پی این: صارفین کی سوشل میڈ یا تک رسائی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کشمیر میں انٹرنیٹ سے چند روز قبل جزوی طور پر پابندیاں تو اٹھائیں لیکن سوشل میڈیا بدستور بند ہے، اور صرف محدود سست رفتار2جی موبائل انٹرنیٹ چل رہا ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کیلئے نوجوان نسل نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی کا ’فار مولہ‘ بھی تلاش کیا۔کئی نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر نظر آئے اور ساتھ ہی وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کا ذکر بھی ہونے لگا۔وی پی این کے ذریعے صارفین سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر تے ہیں۔چنانچہ سوشل میڈ یا تک رسائی کو روکنے کیلئے حکام نے اس کا توڑ بھی تلاش کرنا شروع کردیا۔اب وی پی این کو بھی مکمل طور ’بلاک‘ یعنی بند کرنے کا فیصلہ لیا گیاہے۔
وی پی این ہوتا کیا ہے؟:وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹورک ایک ایسا ’سافٹ ویئر‘ہے جو کہ موبائیل ڈیوائس اور کسی دوسرے کمپیوٹر کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے ایک محفوظ کنکشن قائم رکھتا ہے۔عام طور پر جب ہم انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو ہماری ڈیوائس ہمارے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر یعنی آئی ایس پی کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ جب آپ وی پی این استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے آئی ایس پی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آپ کون سی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔وی پی این سروسز عموماً دفاتر کے باہر سے آفس کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں لیکن انہیں حکومتی’سینسرشپ‘کی وجہ سے بعض ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔بعض ویب سائٹس کو مارکیٹ میں دستیاب جن وی پی اینز کا علم ہوتا ہے وہ انھیں بلاک کر دیتی ہیں لیکن نئے وی پی این نیٹ ورک اکثر بنتے رہتے ہیں۔یاد رہے کہ5اگست کو کشمیر میں دوسری مواصلاتی سروسز کے ساتھ انٹرنیٹ سروسز منقطع کردی گئی تھیں۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
