تازہ ترین
کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی پر ابہام برقرار
سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست ت
سوشل میڈیا تک رسائی کو روکنے کیلئے’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ کو بند کرنے کا فیصلہ
سرینگر 29،جنوری:کے این ایس / وادی کشمیر میں طویل ترین عرصے سے جاری’انٹر نیٹ کرفیو‘کے باعث انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔اگرچہ انٹر نیٹ سروس کو محدود اور مشروط بنیادوں پر بحال کیا گیا ہے،تاہم عوام اس اقدام کو مذاق سے تعبیر کررہے ہیں۔شدید تنقید کے بعد حکام نے کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ ترتیب دیا ہے،تاہم اس پر ابہام ابھی بھی برقرار ہے۔حکام نے انٹر نیٹ کی مکمل بحالی سے قبل (بلیک لسٹڈ) یعنی سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست تیار کرلی ہے،جو عنقر یب مشتہر کی جائیگی،جن ویب سائٹوں تک عام صارفین کی رسائی ہوگی،اُنہیں (وائٹ لسٹڈ) یعنی سفید فہرست والی ویب سائٹس قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا تک صارفین کی رسائی کو روکنے کیلئے ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘(وی پی این) کو مکمل طور (بلاک)بند کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک بحث بھی شروع ہوگئی ہے اور نوجوان پود سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی تگدو بھی کررہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق 5اگست 2019کو کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو نافذ ہوا،اگرچہ پابندیوں کو محدود حد تک ہٹایا گیا،تاہم مجموعی طور پر کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو تاحال جاری ہے۔حالیہ دنوں حکام نے ایک غیر معمولی فیصلے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت پر موبائیل انٹر نیٹ خدمات2۔جی رفتار کیساتھ بحال کردیں،تاہم صارفین کی جانب سے جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔صارفین نے حکومتی فیصلے کو مذاق اور درد سر سے تعبیر کیا۔شدید تنقید کے بعد حکام نے وادی کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سلسلے میں کئی سطحوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں:انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ: انٹرنیت کی جزوی اور مشروط بحالی سے قبل حکام نے ایک لسٹ جاری کی جس میں وہ ویب سائٹس شامل ہیں جن تک رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فہرست کو وائٹ لسٹ کہا گیا ہے جبکہ اس سے باہر رہنے والی سبھی ویب سائٹس بلیک لسٹ میں رکھی گئی ہیں۔ حکام کیلئے یہ صورت حال مضحکہ خیز بن گئی ہے کیونکہ دنیا میں کروڑوں ویب سائٹس ہیں اور محض چند درجن ویب سائٹس کو وائٹ لسٹ میں شامل کرکے انٹرنیٹ کی بحالی کا دعوی ہدف تنقید بن رہا ہے۔ حکام اب سوچ رہے ہیں کہ وائٹ لسٹ کے بجائے بلیک لسٹ جاری کی جائے تاکہ پیدا شدہ ہزیمت کا کسی حد تک ازالہ کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق، حکومت ویب سائٹوں کی ایک فہرست تیار کررہی ہے جس پر خطے میں فل اسپیڈ انٹرنیٹ کے دوبارہ آغاز کے باوجود پابندی عائد رہے گی۔ذرائع نے بتایا کہ کچھ ایسی سائٹیں ہیں، جن پر پابندی عائد رہنے کا امکان ہے جن میں سوشل میڈیا سائٹس جیسے،وٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ شامل ہیں۔اس کی تصدیق کرتے ہوئے، ایک ٹیلی کام کمپنی کے ایک ملازم اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعوی کیا کہ اب براڈ بینڈ اور لیز لائنوں سمیت باقی سروسز کو کسی بھی وقت بحال کردیا جائے گا لیکن مکمل بحالی کے باوجود، کچھ سائٹیں ایسی ہوں گی جو ناقابل رسائی رہیں گی۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس صحافیوں، تاجر، طلبا اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی جانب سے شکایتیں موصول ہو رہی ہیں کہ سست رفتار انٹرنیٹ اور وائٹ لسٹ میں ضروری ویب سائٹ شامل نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ویب سائٹس کی تعداد تقریبا لامحدود ہے اور اطلاعات پر سب کا برابر حق ہے۔ اس لیے انتظامیہ وائٹ لسٹ کی جگہ اب ویب سائٹس کو بلیک لسٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویب سایٹ کو بلیک لسٹ کرنے سے انتظامیہ کے لیے بھی کافی آسانی رہے گی۔
پہلے مرحلے میں 400سے500ویب سائٹس بلیک لسٹ کی جائیں گی،ان میں سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی شامل ہونگی۔ بعد میں اگر کسی ویب سایٹ کے خلاف غلط خبروں کی تشہیر کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی شکایت موصول ہوئی تو اس کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ موبائل صارفین کی دوبارہ سے جانچ پڑتال کی خبروں کے تعلق سے ان کا کہنا تھا کہ پری۔پیڈ موبائل صارفین کی فزیکل ویری فیکیشن یعنی جانچ نہیں ہوتی ہے، اس لیے موبائل کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پوسٹ۔ پیڈ صارفین کی طرز پر ہی پری۔ پیڈ موبائل صارفین کی جانچ پڑتال کریں، اس سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ حکومت نے تقریبا 6 ماہ مکمل بلیک آوٹ کے بعد25جنوری کو سبھی22اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز محدود اور مشروط طور پر بحال کیں۔
تاہم صارفین کی رسائی صرف 300کے قریب ویب سائٹوں تک ہی محدود تھی، جسے انتظامیہ نے’وائٹ لسٹڈ‘سائٹس سے تعبیر کیا۔ وائٹ لسٹ یو آر ایل میں سرکاری سائٹیں، ای میل اور دیگر یوٹیلیٹی سائٹ شامل ہیں۔حکومت کی اپنی سائٹوں سمیت متعدد سائٹیں لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ چونکہ سروسز2۔جی تک محدود ہیں جس کی وجہ سے سرفنگ اور بھی دشوار ہوجاتی ہے۔سوشل میڈیا پر پابندی اوروی پی این: صارفین کی سوشل میڈ یا تک رسائی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کشمیر میں انٹرنیٹ سے چند روز قبل جزوی طور پر پابندیاں تو اٹھائیں لیکن سوشل میڈیا بدستور بند ہے، اور صرف محدود سست رفتار2جی موبائل انٹرنیٹ چل رہا ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کیلئے نوجوان نسل نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی کا ’فار مولہ‘ بھی تلاش کیا۔کئی نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر نظر آئے اور ساتھ ہی وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کا ذکر بھی ہونے لگا۔وی پی این کے ذریعے صارفین سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر تے ہیں۔چنانچہ سوشل میڈ یا تک رسائی کو روکنے کیلئے حکام نے اس کا توڑ بھی تلاش کرنا شروع کردیا۔اب وی پی این کو بھی مکمل طور ’بلاک‘ یعنی بند کرنے کا فیصلہ لیا گیاہے۔
وی پی این ہوتا کیا ہے؟:وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹورک ایک ایسا ’سافٹ ویئر‘ہے جو کہ موبائیل ڈیوائس اور کسی دوسرے کمپیوٹر کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے ایک محفوظ کنکشن قائم رکھتا ہے۔عام طور پر جب ہم انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو ہماری ڈیوائس ہمارے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر یعنی آئی ایس پی کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ جب آپ وی پی این استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے آئی ایس پی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آپ کون سی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔وی پی این سروسز عموماً دفاتر کے باہر سے آفس کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں لیکن انہیں حکومتی’سینسرشپ‘کی وجہ سے بعض ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔بعض ویب سائٹس کو مارکیٹ میں دستیاب جن وی پی اینز کا علم ہوتا ہے وہ انھیں بلاک کر دیتی ہیں لیکن نئے وی پی این نیٹ ورک اکثر بنتے رہتے ہیں۔یاد رہے کہ5اگست کو کشمیر میں دوسری مواصلاتی سروسز کے ساتھ انٹرنیٹ سروسز منقطع کردی گئی تھیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
