تازہ ترین
بجٹ اجلاس:صدر ہند کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث ختم
’19جنوری1990کو کشمیر کی شناخت دفن ہوئی‘
اُن کیساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے جو کہے کشمیر بھارت کا حصہ نہیں:نریند را مودی
سرینگر: وزیر اعظم ہند نریندرا مودی نے جمعرات کو کہا ہے کہ 19جنوری1990میں کشمیر کی شناخت دفن کی گئی تھی۔انہوں نے 3سابق وزرائے اعلیٰ کی مسلسل نظر بندی کا جواز بخشتے ہوئے کہا کہ اُن کیساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے جو کہے کشمیر،بھارت کو اٹوٹ انگ نہیں۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق صدر ہند کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کو سمیٹے ہوئے وزیر اعظم ہند نے جمعرات کو ایوان زیریں (لوک سبھا) میں اپنے خطاب کے دوران اپوزیشن کو ہدف تنقید بنایا۔ 5اگست 2019کو جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو سے متعلق لئے گئے فیصلہ جات پر اپوزیشن کی تنقید پر پلٹ وار کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند نریندرا مودی نے کہا کہ 19جنوری1990میں جموں وکشمیر کی شناخت دفن کی گئی تھی۔
نریندر مودی نے کہا ’بیشتر لوگوں نے کہا تھا اگر دفعہ370کو منسوخ کیا گیا،تو کشمیر میں آگ لگ جائے گی، بعض لیڈران کو نظر بند رکھنے پر ہم سے سوال کئے جارہے ہیں،لیکن 5اگست سے قبل محبوبہ مفتی نے کہا تھا ہندوستان نے ہمیں دھوکہ دیا تو ہم147کے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے‘۔ان کا کہناتھا ’عمر عبداللہ نے کہا تھا دفعہ370کی تنسیخ سے کشمیر،ہندوستان سے الگ ہوجائیگا،ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا تھا دفعہ370کے خاتمے کے بعد کشمیر میں کوئی قومی پرچم نہیں اٹھائے گا،ہم ان کی طرف کیسے کھڑے رہ سکتے ہیں؟‘۔
نریندرا مودی نے ان خیالات کا اظہار لوک سبھا (ا یوان زیریں) میں اُ س وقت کررہے تھے،جب ایوان میں اپوزیشن کئی معاملات پر احتجاج کر رہے تھے۔نریندر ا مودی نے اپنے خطاب شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے بیچ جاری رکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا ’کس نے کشمیر کو محض زمین پر قبضہ کرنے کیلئے بنایا؟کس نے کشمیر کی شناخت صرف دھماکوں اور بندوقوں کی بنائی؟کیا کوئی جنوری کی وہ سیاہ رات بھول سکتا ہے؟،در اصل کشمیر کی شناخت ہم آہنگی سے جڑی ہوئی ہے‘۔
اپوزیشن نے دفعہ370کی تنسیخ کے فیصلے پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہوا تھا۔انکا کہناتھا کہ مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے حوالے سے غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلہ لیا جبکہ مین اسٹریم لیڈران کو خفیہ مقامات پر نظر بند رکھا گیا۔ان کا کہناتھا کہ یہ غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام ہے جبکہ یہ اقدام اسلئے بھی احمقانہ ہے کیو نکہ حکومت ہند نے ایک ایسا خلا پیدا کیا،جسے ملی ٹنٹ پُر کر سکتے ہیں۔مین اسٹریم نظر بند لیڈران کو رہا کیا جانا چاہئے۔
ان خیالات کا اظہارراہل گاندھی نے 6اگست2019کو سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا تھا۔پانچ اگست 2019سے متعدد لیڈران جن میں تین سا بق وزرائے اعلیٰ بھی ہیں ہنوز نظر بند۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پی ایس اے عائد ہے۔نریندرا مودی نے اپنے طویل خطاب میں دفعہ370کی تنسیخ کے علاوہ سہ طلاق اور ملکی معیشت پر بھی بولا۔ان کا کہناتھا کہ کوئی کہتا ہے کہ سی سی اے لانے میں کیا جلدی تھی؟،کوئی کہتا ہے کہ ہم ملک کو تقسیم کررہے ہیں؟،یہ وہ لوگ کہہ رہے جو اُن کیساتھ کھڑے ہیں،کو ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ دہائیوں سے پاکستان یہ بولی بولتا آرہا ہے،تاکہ مسلمانوں کو اُکسایا جاسکے اور اب اپوزیشن بھی یہی بو لی بول رہی ہے۔ان کا کہناتھا ’جو لوگ آئین کا احترام کرنے کی بات کررہے ہیں،انہوں نے کبھی بھی جموں وکشمیر میں آئین کو لا گو نہیں کیا‘۔انہوں نے کانگریس لیڈر ششی تھرور سے مخاطب ہوکر کہا ’ششی تھرور جی آپ تو جموں وکشمیر کے داماد ہیں،آپ کو متفکر ہو نا چاہئے‘۔
نریندر مودی نے مزید کہا ’آئین کو بچانے کی باتیں کی جارہی ہیں،میں اتفاق کرتا ہوں،کانگریس کو دن میں 100مرتبہ ایسا کہنا چاہئے،ہوسکتا ہے اُنہیں ماضی کی غلطیوں کا احساس ہو‘۔نریندرا مودی نے سوالیہ انداز میں پھر کہا ’کیا ٓپ کو ایمر جنسی کے وقت لگایا نعرہ یاد ہے،جب ریاستی حکومتوں کو بر خواست کیا گیا،جب کابینہ قراردادوں کو رد کیا گیا؟‘۔نریندرا مودی نے کہا کہ آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو بھی پاکستانی اقلیتوں کے تحفظ کے حق میں تھے،میں کانگریس سے پوچھنا چاہتا ہوں،کیا پنڈت نہرو فرقہ پرست تھے؟کیا وہ ہندو راشٹر ا چاہتے تھے؟۔نریندر مودی نے کہا ’آپ نے اُن ملوثین کو جیل نہیں بھیجا جو سکھ قتل عام میں ملوث تھے‘۔ یاد رہے کہ مودی حکومت نے پانچ اگست 2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرکے اسے دو مرکزی حصوں میں تقسیم کیا تھا۔اس فیصلے کو مودی حکومت نے جموں وکشمیر تشکیل نو ایکٹ قرار دیا تھا۔(کے این ایس)
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
