تازہ ترین
3 سابق وزرائے اعلیٰ کی نظر بندی میں توسیع متوقع
کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں 6ماہ سے تعطل کا شکار
علی محمد ساگر اور سرتاج مدنی کو ایم5گپکار روڑ منتقل کیا گیا،کئی ایک پر پی ایس اے عائد ہونے کا بھی امکان
سرینگر: وادی کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے سیاسی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں جبکہ رہا شدہ لیڈران تذبز ب میں مبتلاء ہیں،کیونکہ 3سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ہنوز نظر بند ہیں جبکہ اِن تینوں کی نظر بندی میں توسیع بھی متوقع ہے۔
ادھر نیشنل کانفرنس(این سی) کے سینئر لیڈر اور جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کے نائب صدرو سابق منسٹر سرتاج مدنی کوایم ایل ہوسٹل سے ”ایم۔5گیسٹ ہاؤس‘واقع گپکار روڈ منتقل کیا گیا۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق 5اگست2019کو مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی تقسیم و تنظیم نو سے متعلق غیر معمولی فیصلہ جات لئے،تاہم اِن فیصلہ جات کے چھ ماہ مکمل ہونے کے باوجود وادی کشمیر میں سیاسی سر گرمیاں تعطل کی شکار ہیں۔
اگرچہ رہا کئے گئے چند ایک مین اسٹریم لیڈران کی جانب سے بعض سر گرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہے اور سینئر سیاسی رہنما الطاف بخاری کی قیادت میں ایک وفد لیفٹیننٹ گور نر جی این مرمو سے ملاقی بھی ہوا تھا اور اُنکی جانب سے کئی مطالبات پر مبنی بیانات بھی سامنے آئے،تاہم مجمو عی طور پر کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
دو بڑی علاقائی پارٹیوں نیشنل کانفرنس (این سی) ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی ”اسکینڈ لائین یا تھرڈ لائن“ لیڈر شپ اگر چہ رہا ہے،تاہم قیادت نظر بند رہنے سے اُنکی سرگرمیاں بھی گھروں کے صحنوں اور پارٹی ہیڈ کواٹروں تک ہی محدود ہیں۔کشمیر میں تین سابق وزرائے اعلیٰ کی مسلسل نظر بندی کی وجہ سے جہاں سیاسی سر گرمیاں تعطل کا شکار ہیں،وہیں رہا شدہ لیڈران بھی تذبزب میں مبتلاء ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم لیڈران کی رہائی اور آپسی مشاورت تک جموں وکشمیر میں سیاسی عمل کو آگے نہیں بڑیا جاسکتا ہے۔ادھر سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مودی حکومت کے فیصلہ جات سے کشمیر میں ایک بڑا سیاسی خلا پیدا ہوگیا ہے،جو بھاجپا،یک نفری سیاسی پارٹی یا کوئی نیا سیاسی محاذ پُر نہیں کر سکتا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ان کا کہنا ہے کہ تین سابق وزرائے اعلیٰ میں ایک قد آور لیڈر بھی ہیں،جنکی ایک ایک بات وزن رکھتی ہے،بلے ہی آپ اُن سے اتفاق نہ کریں۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ این سی اور پی ڈی پی کو الگ تھلگ کرنا بھی نئی دہلی کیلئے آسان نہیں ہو گا،کیونکہ موجودہ حالات میں کشمیر میں کوئی بھی سیاسی عمل تب تک کامیاب نہیں ہوسکتا ہے،جب تک دو بڑی علاقائی پارٹیاں اُس عمل میں شامل نہیں ہوتیں۔
اس بیچ سابق دو وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت دیگر مین اسٹریم لیڈراں کی حراست کی معیاد بھی مکمل ہوگئی ہے۔اِن مین اسٹریم لیڈران کو4اور5اگست 2019کی درمیانی رات کو ہی دفعہ170 کے تحت احتیاطی حراست میں لیا گیاتھا، جس کے تحت کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ6 ماہ تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔کشمیر میں احتیاطی حراست میں لئے گئے3 سابق وزرائے اعلی سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے متعدد لیڈران کی نظر بندی کے6ماہ مکمل ہوگئے۔سابق وزرائے اعلی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی شامل ہیں، جنہیں پانچ اگست سے دفعہ170 کے تحت احتیاطاََ حراست میں لیا گیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور سرینگر سے رکنِ پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت پہلے 3 ماہ کے لئے گرفتار کیا گیا تھا،تاہم بعد ازاں اُنکی معیاد ِ حراست میں مزید3 ماہ کے لئے بڑھا دی گئی۔ نظر بند دیگر مین اسٹریم لیڈران میں کئی سابق وزیر، پارٹی سربراہ اور سابق اراکین اسمبلی شامل ہیں
گذشتہ روز پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اور پی ڈی پی کے لیڈر وحید پرہ کو ایم ایل اے ہوسٹل،جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے،سے اپنی رہائش گاہوں پر منتقل کیا گیا،تاہم اُنکی آزاد نقل وحرکت پر پابندی برقرار ہے۔ادھرانتظامیہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدرو سابق وزیرسرتاج مدنی اور نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر کو ایم ایل اے ہوسٹل سرینگرسے ”ایم۔5گیسٹ ہاؤس واقع گپکار روڑ منتقل کیا گیا،جو 5اگست کے دوران گرفتاری کے فوراً بعد پہلے سنتور ہوٹل اور اسکے بعد ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کئے گئے تھے۔
ادھرجموں کشمیر کے3سابق وزرائے اعلیٰ جن میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ،محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ تاحال مسلسل نظر بند ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تینوں سابق وزرائے اعلیٰ کی نظر بندی میں ممکنہ طور توسیع ہوسکتی ہے،تاہم آزاد ذرائع یا انتظامیہ نے اسکی تصدیق نہیں کی۔ادھر میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا بھی اطلاق ہوسکتا ہے۔ تاہم سرکاری طورمیڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے جبکہ غیر مصدقہ اطلاع میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علی محمد ساگراور سرتاج مدنی پرپبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طورا س خبر کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
خیال رہے،جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعدتقریباًتمام سیاسی لیڈران حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے بعض پر پی ایس اے بھی عائد گیا ہے۔ ادھر انتظامیہ نے گزشتہ ماہ سے ہی ایک پہل کے تحت متعدد لیڈران کو مرحلہ وار بنیادوں پر رہاکرنے کا عمل بھی شروع کیا ہے جس دوران تاحال مختلف سیاسی پارٹیوں کے20کے قریب لیڈران کو رہا کیا گیا ہے۔تاہم ان لیڈران کی سیاسی سرگرمیاں بھی محدود ہیں۔(کے این ایس)
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
