تازہ ترین
دفعہ370بی جے پی کا تاریخی فیصلے سے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی ختم
سابق وزرائے اعلیٰ کو جیل بیجنے پر کشمیری لوگوں نے خوشیاں منائی
پی ڈی پی، این سی لیڈران جیل باہر آنے کے موڈ میں ہیں:سنیل کمار شرما
کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار
سرینگر: بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت” دفعہ 370″ کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازعہ صورت دینے کی کوشش کی گئی تھی اور کشمیر کے لوگوں کو اسی لفظ کے ذریعے کئی دہاؤں سے دھوکہ دیاگیا، جبکہ کشمیری سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استعمال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے ہیں،جوآج سلاخو ں کے پیچھے ہیں جبکہ کورہ لیڈان کو بند رکھنے پر کشمیر کے لوگ بہت خوش ہیں۔
محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی دہشت گردی اور افرا تفری کو فروغ دینے تک محدود ہیں،جبکہ کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے جبکہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ان باتوں کا اظہار بی جے پی کے سابق وزیر اور کشمیر امور کے انچارج سنیل کمار شرما نے کے این ایس میڈیا گروپ کے سربراہ کے ساتھ ایک انٹریو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بیروکریسی کی ناہلی تینوں خطوں کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ بنی ہے، اور بیروکریٹوں کی غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور میں ہے جس کے لئے اب پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے۔سنیل شرما نے کہا علحیدگی پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ سے ہی کشمیر میں لمبے عرصے سے حالات انتہائی ناساز گاررہے ہیں، جس دوران بے گناہ لوگوں کا خون بہا اور کشمیری پنڈتوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترک سکونت اختیار کرنی پڑی اور یہ سب کچھ پاکستان کے اشارے پر ہوا،جبکہ بدقسمتی سے اس پورے منصوبے میں کشمیر میں کچھ لوگوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے امن کے دشمنوں کا ساتھ دیا۔
انہوں نے مین سڑریم جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی انجمنوں اور دوسرے کئی لوگوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس خطے میں صورت حال کو بگڑانے کیلئے آگ اور تیل کا کام کرکے کشمیر کو تباہی کے دہنانے پر آ کھڑا کرکے لوگوں کو مشکلات میں دھکیل دیا۔جس دوران مزکورہ لوگوں نے صورت حال کو امن بنانے اور پٹری پر لانے کیلئے کھبی کوئی کوشش نہیں کی، تاہم انہوں نے دعوا کیا کہ ہندستانی عوام,بی جے پی جماعت اور وزیر عظم نریندر مودی جموں کشمیر کے لوگوں کے پیچھے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہوئے ہیں۔
سابق بی جے پی کشمیر امور کے انچارج نے بتایا جس کے بعد اب کشمیر کے لوگوں کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مودی جی جموں کشمیر کے لوگوں کو علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کے نظام سے آزاد کریں گے اور اس پورے معاملے پر انکی جماعت کمر بستہ ہے۔ایک سوال میں کہ کہ بی جے پی اور وزیر عظم نریندر مودی کشمیر کے لوگوں کو کسی قسم کی راحت دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ سال 2014 میں نریندر مودی نے کشمیر کی ایک سیاسی پارٹی”پی ڈی پی ” کے ساتھ ہاتھ ملایا جس کے بعد ایک مخلوط سرکار بھی وجود میں آگئی تاہم بدقسمتی سے پی ڈی پی نے انکا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی پنچائتی انتخابات منعقد کرانے کے راستے میں سب سے بڑی روکارٹ بنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کے معاملے پرسابق حکومتوں کی نقش قدم پر چل پڑی،جس دوران مزکورہ پارٹی نے کشمیر اور جموں کے درمیان ایک خلا پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔انہوں نے بتایاتاہم بعد میں نریندر مودی جی اور بی جے پی نے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لی اور اس عمل کے بعد آپ دیکھ رہے ہیں کہ تینوں خطوں میں کس طرح تعمیر ترقی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت دفعہ 370 کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازع صورت دینے کی کوشش کی گئی اور کشمیر کے نوجوانوں کو اسی لفظ کے زریعہ سے کئی دہاؤں سے گمراہ کیا گیا۔
بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا وہ سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استمعال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے، آج وہ سلاخوں کے پیچھے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔جس پر کشم،یری عوام بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔.ایک سوال کے جواب میں بی جے پی کے سینئر لیڈر نے بتایا کہ مفتی محمد سید قدآدر سیاسی شخصیات میں شامل ہوتے تھے اور انکی سیاسی بصیرت اور قد کو دیکھ کر ہی بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا تاہم بدقسمتی سے مفتی صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے اور اسکے بعد انکی بیٹی نے کمانڈ سنبھالی جبکہ ریاست کے معاملات کو سمجھنے میں ہمیں مکمل طور 3 برس لگے۔
جب سنیل شرما سے یہ پوچھا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کرنے کا معاملہ بی جے پی کے منشور میں نہیں تھا،تو پھر ایسا فیصلہ کیوں لیا گیا تو انہوں نے کہا اتنے بڑے سوال کا جواب دینا ان کیحد اختیار سے باہر ہے۔اس دوران سنیل شرما نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اگرچہ یونین ٹرٹریز کا قیام عمل میں لانا ہمارے منشور میں نہیں تھا،لیکن جموں کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ لیا اور اس پوری عمل میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ایلیٹ کلاس کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھاجس کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا گیا۔
جبکہ اس پوری عمل کو انجام دینے سے پہلے زمینی سطح پر ہوم ورک کی گئی تھی۔ کشمیر میں حالات کو مکمل طور پر پٹری پر لانے کیلئے بی جے پی کے رول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ مجموعی طور کشمیر کے لوگ امن اور تعمیر و ترقی کے خواں ہیں اور صرف 5سے10 فیصدی غرض مند لوگ جن کو پاکستان کے ساتھ روابط ہیں کشمیر کی 90 فیصدی آبادی کو یرغمال بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم سنیل شرما نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو مودی جی پر یہ بھروسہ ہے، کہ وہ اس خطے میں امن کی فضا قائم کریں گے اور مستقبل قریب میں آپ دیکھو گے کہ کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.نا اہل بروکریسی کو ریاست کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور پھنسے ہوئے ہیں جس کے لئے پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے مسٹر سنیل شرما نے کہا ایک طرف سابقہ حکومتوں نے تعمیر و ترقی کے نام پر کشمیر کے وسائل کو لوٹا وہی دوسری جانب بدقسمتی سے بیروکریسی کشمیر میں خود کو ایک متبادل سیاسی شراکت دار سمجھنے لگی ہیں اور اگر بیروکریٹوں نے میرٹ پر اوردیانت داری سے کام کیا ہوتا تو آج لوگ شدید مشکلات سے دوچار نہیں ہوتے،کشمیر کاڈر کی بیروکریسی کی کارکردگی اور اعتباریت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ نومبر 2005 میں مودی جی نے جموں اور کشمیر کیلئے 80 ہزار کروڑ روپئے کے پیکیج کا اعلان کیا لیکن بیروکریٹوں کی نااہلی کی وجہ سے اس رقم کو مقررہ وقت میں خرچ نہیں کیاگیاجس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کا گراف نیچے آ گیا۔
ریاستی اسمبلی میں سابق وزیر اعلی کے اس بیان کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس ایشو کو اکنامک پیکیج سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے کے رد عمل میں سنیل شرما نے کہا کہ یہی وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے کشمیر میں آگ لگا دی اور کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے،تاہم بی جے پی لیڈر نے کہا مودی جی اور بی جے پی نے سابق وزرائے اعلی کو جیل بیج کر لوگوں کی خواہش پوری کی ہے کیونکہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انکے جیل جانے سے کشمیری لوگوں میں خوشی لہر دوڑ پڑی ہے۔اور انکیحق میں ایک بھی شخص احتجاج پر نہیں نکلا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ اگر کسی نے دفعہ 370 کے ہاتھ لگایا تو اسکا پورا جسم جل جائے گا لیکن پھر کیا ہوا اور اب وہ لوگوں کو کیا بولے گے.
انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی.دہشت گردی اور افراتفری کو فروغ دینا ہے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلمنٹ میں بتایا کہ جب جموں کشمیر میں حالات ٹھیک ہوجائے گے تو ریاست کا درجہ واپس مل جائے گا(ای ٹی وی)
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
