تازہ ترین
دفعہ370بی جے پی کا تاریخی فیصلے سے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی ختم
سابق وزرائے اعلیٰ کو جیل بیجنے پر کشمیری لوگوں نے خوشیاں منائی
پی ڈی پی، این سی لیڈران جیل باہر آنے کے موڈ میں ہیں:سنیل کمار شرما
کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار
سرینگر: بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت” دفعہ 370″ کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازعہ صورت دینے کی کوشش کی گئی تھی اور کشمیر کے لوگوں کو اسی لفظ کے ذریعے کئی دہاؤں سے دھوکہ دیاگیا، جبکہ کشمیری سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استعمال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے ہیں،جوآج سلاخو ں کے پیچھے ہیں جبکہ کورہ لیڈان کو بند رکھنے پر کشمیر کے لوگ بہت خوش ہیں۔
محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی دہشت گردی اور افرا تفری کو فروغ دینے تک محدود ہیں،جبکہ کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے جبکہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ان باتوں کا اظہار بی جے پی کے سابق وزیر اور کشمیر امور کے انچارج سنیل کمار شرما نے کے این ایس میڈیا گروپ کے سربراہ کے ساتھ ایک انٹریو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بیروکریسی کی ناہلی تینوں خطوں کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ بنی ہے، اور بیروکریٹوں کی غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور میں ہے جس کے لئے اب پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے۔سنیل شرما نے کہا علحیدگی پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ سے ہی کشمیر میں لمبے عرصے سے حالات انتہائی ناساز گاررہے ہیں، جس دوران بے گناہ لوگوں کا خون بہا اور کشمیری پنڈتوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترک سکونت اختیار کرنی پڑی اور یہ سب کچھ پاکستان کے اشارے پر ہوا،جبکہ بدقسمتی سے اس پورے منصوبے میں کشمیر میں کچھ لوگوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے امن کے دشمنوں کا ساتھ دیا۔
انہوں نے مین سڑریم جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی انجمنوں اور دوسرے کئی لوگوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس خطے میں صورت حال کو بگڑانے کیلئے آگ اور تیل کا کام کرکے کشمیر کو تباہی کے دہنانے پر آ کھڑا کرکے لوگوں کو مشکلات میں دھکیل دیا۔جس دوران مزکورہ لوگوں نے صورت حال کو امن بنانے اور پٹری پر لانے کیلئے کھبی کوئی کوشش نہیں کی، تاہم انہوں نے دعوا کیا کہ ہندستانی عوام,بی جے پی جماعت اور وزیر عظم نریندر مودی جموں کشمیر کے لوگوں کے پیچھے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہوئے ہیں۔
سابق بی جے پی کشمیر امور کے انچارج نے بتایا جس کے بعد اب کشمیر کے لوگوں کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مودی جی جموں کشمیر کے لوگوں کو علحیدگی پسندی اور دہشت گردی کے نظام سے آزاد کریں گے اور اس پورے معاملے پر انکی جماعت کمر بستہ ہے۔ایک سوال میں کہ کہ بی جے پی اور وزیر عظم نریندر مودی کشمیر کے لوگوں کو کسی قسم کی راحت دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ سال 2014 میں نریندر مودی نے کشمیر کی ایک سیاسی پارٹی”پی ڈی پی ” کے ساتھ ہاتھ ملایا جس کے بعد ایک مخلوط سرکار بھی وجود میں آگئی تاہم بدقسمتی سے پی ڈی پی نے انکا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی پنچائتی انتخابات منعقد کرانے کے راستے میں سب سے بڑی روکارٹ بنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کے معاملے پرسابق حکومتوں کی نقش قدم پر چل پڑی،جس دوران مزکورہ پارٹی نے کشمیر اور جموں کے درمیان ایک خلا پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔انہوں نے بتایاتاہم بعد میں نریندر مودی جی اور بی جے پی نے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لی اور اس عمل کے بعد آپ دیکھ رہے ہیں کہ تینوں خطوں میں کس طرح تعمیر ترقی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلہ کے تحت دفعہ 370 کو منسوخ کرکے کشمیر میں علحیدگی پسندی کا خاطمہ کیا کیونکہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر معاملہ کو ایک متنازع صورت دینے کی کوشش کی گئی اور کشمیر کے نوجوانوں کو اسی لفظ کے زریعہ سے کئی دہاؤں سے گمراہ کیا گیا۔
بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا وہ سیاسی لیڈران جو دفعہ 370 کو ایک بڑے ہتھیار کے بطور استمعال کرکے کشمیریوں کو گمراہ کرتے آئے، آج وہ سلاخوں کے پیچھے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔جس پر کشم،یری عوام بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔.ایک سوال کے جواب میں بی جے پی کے سینئر لیڈر نے بتایا کہ مفتی محمد سید قدآدر سیاسی شخصیات میں شامل ہوتے تھے اور انکی سیاسی بصیرت اور قد کو دیکھ کر ہی بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا تاہم بدقسمتی سے مفتی صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے اور اسکے بعد انکی بیٹی نے کمانڈ سنبھالی جبکہ ریاست کے معاملات کو سمجھنے میں ہمیں مکمل طور 3 برس لگے۔
جب سنیل شرما سے یہ پوچھا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کرنے کا معاملہ بی جے پی کے منشور میں نہیں تھا،تو پھر ایسا فیصلہ کیوں لیا گیا تو انہوں نے کہا اتنے بڑے سوال کا جواب دینا ان کیحد اختیار سے باہر ہے۔اس دوران سنیل شرما نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اگرچہ یونین ٹرٹریز کا قیام عمل میں لانا ہمارے منشور میں نہیں تھا،لیکن جموں کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ لیا اور اس پوری عمل میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ایلیٹ کلاس کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھاجس کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا گیا۔
جبکہ اس پوری عمل کو انجام دینے سے پہلے زمینی سطح پر ہوم ورک کی گئی تھی۔ کشمیر میں حالات کو مکمل طور پر پٹری پر لانے کیلئے بی جے پی کے رول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ مجموعی طور کشمیر کے لوگ امن اور تعمیر و ترقی کے خواں ہیں اور صرف 5سے10 فیصدی غرض مند لوگ جن کو پاکستان کے ساتھ روابط ہیں کشمیر کی 90 فیصدی آبادی کو یرغمال بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم سنیل شرما نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو مودی جی پر یہ بھروسہ ہے، کہ وہ اس خطے میں امن کی فضا قائم کریں گے اور مستقبل قریب میں آپ دیکھو گے کہ کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.نا اہل بروکریسی کو ریاست کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ غیر تسلی اور غیر اطمنان بخش کارکردگی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور پھنسے ہوئے ہیں جس کے لئے پورے سسٹم کی اورہالنگ ناگزیر بن گئی ہے مسٹر سنیل شرما نے کہا ایک طرف سابقہ حکومتوں نے تعمیر و ترقی کے نام پر کشمیر کے وسائل کو لوٹا وہی دوسری جانب بدقسمتی سے بیروکریسی کشمیر میں خود کو ایک متبادل سیاسی شراکت دار سمجھنے لگی ہیں اور اگر بیروکریٹوں نے میرٹ پر اوردیانت داری سے کام کیا ہوتا تو آج لوگ شدید مشکلات سے دوچار نہیں ہوتے،کشمیر کاڈر کی بیروکریسی کی کارکردگی اور اعتباریت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ نومبر 2005 میں مودی جی نے جموں اور کشمیر کیلئے 80 ہزار کروڑ روپئے کے پیکیج کا اعلان کیا لیکن بیروکریٹوں کی نااہلی کی وجہ سے اس رقم کو مقررہ وقت میں خرچ نہیں کیاگیاجس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کا گراف نیچے آ گیا۔
ریاستی اسمبلی میں سابق وزیر اعلی کے اس بیان کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس ایشو کو اکنامک پیکیج سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے کے رد عمل میں سنیل شرما نے کہا کہ یہی وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے کشمیر میں آگ لگا دی اور کشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ سے لیکر عمر عبد اللہ تک شیخ خاندان کی تیسری نسل ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبد اللہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیکر پاکسان کی وکالت کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہئے،تاہم بی جے پی لیڈر نے کہا مودی جی اور بی جے پی نے سابق وزرائے اعلی کو جیل بیج کر لوگوں کی خواہش پوری کی ہے کیونکہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انکے جیل جانے سے کشمیری لوگوں میں خوشی لہر دوڑ پڑی ہے۔اور انکیحق میں ایک بھی شخص احتجاج پر نہیں نکلا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ اگر کسی نے دفعہ 370 کے ہاتھ لگایا تو اسکا پورا جسم جل جائے گا لیکن پھر کیا ہوا اور اب وہ لوگوں کو کیا بولے گے.
انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے اعلی لیڈران جیل میں بلکل آرام سے ہیں اور وہ باہر آنے کے موڈ میں نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں صرف پتھر بازی.دہشت گردی اور افراتفری کو فروغ دینا ہے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلمنٹ میں بتایا کہ جب جموں کشمیر میں حالات ٹھیک ہوجائے گے تو ریاست کا درجہ واپس مل جائے گا(ای ٹی وی)
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
