تازہ ترین
محمد افضل گورو کی7ویں برسی،وادی میں ہڑتال
معمولات زندگی درہم برہم،2۔جی موبائیل انٹر نیٹ سروس منقطع
سنڈے مارکیٹ غائب، بارہمولہ۔بانہال ریل سروس معطل،لبریشن فرنٹ کے خلاف مقدمہ درج
سرینگر: پارلیمنٹ حملے میں ملوث قرار دیئے گئے محمد افضل گورو کی7ویں برسی پر وادی میں ہڑتال رہی،جسکے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم رہے جبکہ ہر اتوار کو شہر سرینگر میں سجنے والا مشہور ومعروف ’سنڈے مارکیٹ‘ بھی غائب رہا۔
امن قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے 2۔جی موبائیل انٹر نیٹ سروس کو منقطع کردیا گیا جبکہ بارہمولہ۔بانہال ریل سروس بھی معطل رہی۔ادھر پولیس نے ہڑتال کی کال دینے پر علیحدگی پسند تنظیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق محمد افضل گورو کی7ویں برسی کے موقع پر کشمیر میں ہڑتال رہی۔
دارالحکومت سرینگر سمیت سبھی 10اضلاع میں اتوار کو محمد افضل گورو کی برسی کے موقع پر ہر طرح کے بازار،دکانات،پیٹرول پمپ،کاروباری ادارے،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور غائب رہا۔ہڑتال کا اثر سرینگر کے علاوہ شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ،بانڈی پورہ،بارہمولہ اور وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندر بل کیساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع پلوامہ،اننت ناگ،شوپیان اور کولگام میں رہا۔ہڑتال کے باعث ہر سو ہو کا عا لم دیکھنے کو مل رہاتھا۔
ہڑتال کے نتیجے میں بازار ویران اور سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں۔اس دوران وادی بھر میں محمد افضل گورو کی برسی کے پیش نظر امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے سیکیورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے۔کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو روکنے کیلئے حساس علاقوں میں پولیس وفورسز کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔ادھر ہر اتوار کو شہر سرینگر کے قلب لالچوک میں سجنے والا’سنڈے مار کیٹ‘ بھی غائب رہا۔سنڈے مار کیٹ میں لوگوں کا کافی رش دیکھنے کو ملتا ہے،تاہم اس اتوار کو نہ تو سنڈے مار کیٹ سجا اور نہ ہی ٹی آر سی چوک سے لیکر جہانگیر چوک کسی بھی طرح کی گہما گہمی نظر نہیں آئی۔
اس دوران کشمیر میں ہڑتال کے دوران انتظامیہ نے2۔جی انٹرنیٹ اور ریل سروس کو احتیاطی طور معطل رکھا ہے،جس دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ عوام کو ریل سروس نہ ہونے کے نتیجے میں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ دونوں اہم سروس کوامن و قانون کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر احتیاطی طور معطل کرنا پڑا۔ انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کے نتیجے میں کار باری افراد کے علاوہ صحافیوں کو آٹے میں نمک کے برابر ملی سہولیات کی عدم موجودگی سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام نے بارہمولہ۔بانہال ریل خدمات کو بھی ایک دن کیلئے معطل رکھا گیا ہے،جس کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں ٹرین کے ذریعے سے سفر کر نے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریل محکمہ کے ایک افسر نے بتایا سروس کو لوگوں کی حفاظت اور ریل املاک کے تحفظ کے لئے احتیاطی طور بند رکھا گیا ہے۔
ادھر انتظامیہ میں شامل ایک اعلیٰ افسر نے بتایا دونوں سروس کو وادی میں امن قانون کی صورت حال کو بنائے رکھنے لئے اٹھا گیا ہے تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور افواہ بازی پر روک لگ جائے۔بعد ازاں سہ پہر 4بجے ہی وادی میں 2۔جی موبائیل انٹر نیٹ خدمات بحال کرد ی گئیں۔ادھر پولیس نے ہڑتال کی کال دینے پر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
پولیس ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کالعدم تنظیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے وادی میں امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے اور تشدد بھڑکانے کی کوشش کا سنجیدہ نوٹس لیا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ کالعدم تنظیم نے وادی کشمیر میں آنے والے دنوں میں تشدد بھڑکانے اور امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے کے منصوبے کے تحت پروپگنڈا پر مبنی بیانات جاری کئے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایسے بیانات سے کشمیر وادی میں امن وقانون کی صورتحال بگڑنے اور تشدد ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور اسی ضمن میں پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ میں ایف آئی آر زیر نمبر11/2020کے تحت ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا جبکہ مزید تحقیقات جاری ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میڈیا میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے ایک بیان آیا تھا،جس میں لوگوں سے 9اور11فروری کو محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کی برسیوں کے موقع پر عام ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
لبریشن فرنٹ کی سرگرمیوں پر مرکزی وزارت داخلہ نے پابندی عائد کرکے اس کو کالعدم قرار دیا تھا۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو بھی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اپریل2019سے نظر بند ہیں۔محمد افضل گورو کو پارلیمنٹ حملے میں ملوث قرار دیکر سنہ2013میں دلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پھانسی دی گئی تھی اور اُنہیں بعد ازاں یہی دفن بھی کیا گیا تھا۔جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو سنہ1984میں 11فروری کو دلی کی ہی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔
محمد مقبول بٹ کی میت بھی تہاڑ جیل میں ہی سپرد لحد کی گئی۔دونوں مہلوکین کی باقیات واپس کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔تاہم حکومت ہند اس سے صاف انکار کررہی ہے۔ہر برس وادی میں دونوں مہلوکین کی یاد میں ہڑتال کی جاتی ہے اور علیحدگی پسند تنظیمیں اس حوالے سے باضابط طور بیانات جاری کرتے تھے،تاہم دفعہ370کی تنسیخ کے بعد صرف مختلف پیدا ہوگئی ہے،جسکی وجہ سے اخبارات میں اس طرح کے بیانات شائع نہیں ہوئے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
