تازہ ترین
جسمانی وذہنی ہراسانی اور پولیس سمن: کشمیری صحافیوں نے توڑی خاموشی
مابعد5 اگست میڈیا کے تئیں اپنا یا گیا رویہ افسوسناک وقابل تشویش: ایوان صحافت کشمیر
سرینگر: ایوان صحافت کشمیر (کشمیرپریس کلب) کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر ی صحافیوں کو جسمانی وذہنی طور ہراساں کرنے کے علاوہ پولیس کی جانب سے سمن جاری کئے جاتے ہیں،جس پر صحافیوں نے اپنی خاموشی توڑ دی۔
بیان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ جمہوریت کے چوتھے ستون کی حیثیت سے کشمیر میں آزادی صحافت و آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جائے اور صحافیوں کو تنگ طلب کرنے کے عمل پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کو موصولہ ایک تحریری بیان کے مطابق ایوان صحافت کشمیر(کشمیرپریس کلب) میں سوموار کو ایک غیر معمولی میٹنگ طلب کی جس میں سبھی صحافی انجمنوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ترجمان کے مطابق میٹنگ کا انعقاد کشمیر پریس کلب نے ہی کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میٹنگ میں جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے کشمیر میں صحافیوں پر جسمانی حملے کرنے،ہراساں کرنے،خوف زدہ کرنے اور سمن جاری کرنے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس میٹنگ میں صحافیوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیر میں 5 اگست2019سے حکومت صحافیوں اور میڈیا کو آزادانہ طور پر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ گذشتہ6ماہ سے کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو جاری ہے،جب یہ کافی نہیں ہوا،صحافیوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے سیکیورٹی ایجنسیوں کی فزیکل حملے (جسمانی حملے)،ہراسانی اور سمن جاری کئے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ در حقیقت ’شورش مخالف مرکز‘ (کارگو) سرینگر کی جانب سے صحافیوں کے نام سمن اور ہراساں کرنے کا عمل معمول بن چکا ہے۔ایوان صحافت کشمیر(کشمیر پریس کلب) کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر معمولی بنیاد پرجموں وکشمیر پولیس کی جانب سے صحافیوں کو طلب کرنا اور پوچھ تاچھ کرنے کا عمل در اصل صحافیوں کو جسمانی وذہنی طور ہراساں کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹر نیٹ بندش،میڈیا اداروں کو حلف نامے جمع کرانے،جسمانی حملے کرنے اور سمن جاری کرنے کا عمل صرف حکومتی نقطہ نظر کو ہی یقینی بنا نا ہے۔تاہم میٹنگ میں یہ واضح کیا گیا کہ کشمیر میں کام کرنے والے صحافی اپنے بنیادی حق کے تحت کشمیر میں جو بھی کچھ ہورہا ہے،اُسکی غیر جانبداری اور سچائی سے رپورٹ کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ما بعد5اگست2019متعدد صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر پولیس کی جانب سے سمن جاری کئے گئے اور ان سے پوچھ تاچھ کی گئی جبکہ صحافیوں کو ہرا ساں کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔
کشمیر پریس کلب نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کو سمن جاری کرنے کے عمل کو فوری طور پر بند کرے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور چوتھے ستون کی حیثیت سے آزادی اظہار رائے کو حکومت یقینی بنائے،جسکی ضمانت آئین نے دی ہے بجائے صحافت کو خاموش کیا جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کو کشمیر میں ہر معاملے کیلئے ذمہ دار ٹھہرا نا اور صحافیوں کو غلط ٹھہرانا صحیح نہیں ہے۔بیان میں کئی واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ14اگست2019کو صحافی عرفان امین ملک ساکنہ ترال کو اپنی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا اور بغیر کسی وجہ کے دوسرے دن چھوڑا گیا۔یکم ستمبر2019کو ’دی ہندو‘ سے وابستہ سینئر صحافی پیر زادہ عاشق کو کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن کی جانب سے طلب کیا گیا،جہاں اُن سے ’اسٹوری‘ سے متعلق ذرائع ظاہر کرنے کیلئے کہا گیا۔پیر زادہ عاشق نے کہا ’مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنے ذرائع کو ظاہر کریں،جس نے آپ کو گرفتاریوں سے متعلق سرکاری اعداد وشمار فراہم کئے‘۔ ماہ نومبر 2019کو زبیر ڈار،جوکہ وائس آف امریکا سے وابستہ ہیں اور فری لانسرمزمل متو کو شہر خاص میں ’خوجہ دگر‘ کی کوریج کرنے کے دوران تشدد کو نشانہ بنایا گیا۔17دسمبر2019کو مزید صحافیوں ازان جاوید (دی پرنٹ) اور انیس زرگر (نیوز کلک) کو سرینگر میں پولیس نے مظاہرہ کور کرنے کے دوران تشدد کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس حکام کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے با وجود ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔بیان کے مطابق30نومبرکو صحافی بشارت مسعود(انڈین ایکسپر یس) اور حکیم عرفان (اکنامک ٹائمز) کے نام کار گو کی جانب سے سمن جاری کیا گیا،جہاں پولیس افسران نے اُن سے اپنے اپنے اداروں کیلئے کی گئی رپوتاژ کے بارے میں پوچھا گیا۔ صحافیوں نے بتایا کہ اُن سے کہا گیا کہ ذرائع کا نام بتائیں اور آپ نے کہاں سے دستا ویز ات حاصل کئے۔ 23دسمبر کوبشارت مسعود (انڈین ایکسپریس) اور شفاعت زرگر (سکرال)کو ہندوارہ میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دہی کے دوران روکا گیا۔دونوں صحافیوں کو ایس پی ہندوارہ کے دفتر پہنچایا،جہاں سے اُن سے سوال جواب کئے گئے۔’
اؤٹ لُک میگزین‘ سے وابستہ سینئر صحافی نصیر گنائی اور صحافی ہارون نبی کو کار گو کی جانب سے8فروری2020کو سمن کرکے بلایا جاتا ہے،جہاں اُن سے حکومت کی جانب سے کا لعدم قرار دی گئی تنظیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بیان پر خبر بنانے سے متعلق سوال جواب کئے گئے۔نصیر گنائی نے کہا ’مجھ سے کہا گیا کہ آپ وہ ای۔میل ایڈریس‘ دکھائیں،جہاں سے یہ بیان آپ نے لیا‘۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
