تازہ ترین
اردو ادب کے امین مدارس دینیہ – الطاف جمیل ندوی
کچھ ماہ قبل ہی ایک فون کال وصول ہوئی سلام دعا کے بعد صاحب نے تعارف دیا ساتھ میں فرمایا کہ میں مدارس اور اردو کے نام سے ایک کتاب لکھ رہا ہوں آپ تعاون دیں میری بدقسمتی کی اپنی تحریر نہ دے سکا عزیز محترم نے اصرار بھی کیا پر شومئے قسمت میںری مشغولیت آڑے آتی رہی اور میرا مضمون پڑا ہی رہ گیا جس کے لئے کچھ سطور لکھ بھی دی تھیں اب بھی پڑا ہی ہے مطلب میری کام کے تئیں بےحسی اب کچھ روز قبل پھر سے کال آئی کہ میں آپ کو کتاب دینا چاہتا ہوں تو شرمندگی ہوئی عزیز محترم نے آج کتاب بھیج دی تشکر کے لئے دل نے کہا تو کچھ الفاظ لکھ رہا ہوں
موصوف کا مختصر تعارف
اسم گرامی”””” ڈاکٹر فیض قاضی آبادی
تعلیمی :::: قابلیت ایم اے اردو بی ایڈ پی ایچ ڈی نیٹ
پیشہ :::: اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ہائرایجوکیشن جموں و کشمیر
جو کتابیں شائع ہوچکی ہیں
صحبت صالحین فکر اقبال کی روشنی میں
تفھیم اقبال
لفظ لفظ خوشبو
آہ سحرگاہی
پروفیسر بشیر احمد نحوی نظر نظر میں
جو زیر اشاعت ہیں
آدمی مسافر ہے
رنگ رقص کریں
اقبال اور انسانیت
موصوف ساتھ ساتھ وادی کشمیر اور ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد سے منسلک ہیں اور ان میں ان کی تحریریں معیاری اور معلومات سے بھر پور شائع ہوتی رہتی ہیں ان کی زیادہ مضبوط پکڑ افسانہ نگاری پر ہے جس میں یہ اکثر رنگ بھرتے رہتے ہیں انتہائی ملنسار شفیق و مہربان ساتھی اسلامی وضع قطع رکھنے والے موصوف ہندواڑہ کے کالج میں اس وقت اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں سوپر ناگہامہ کی بستی کا یہ شاہین صفت نوجوان علم و ادب کے افق پر اپنی محنت و لگن سے رنگ بکھیر رہا ہے
ان کی اردو زبان و ادب کے تئیں محبت و عقیدت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت یہ بھی ہے کہ موصوف مسلسل اسی زبان میں لکھ رہے ہیں اور اس زبان کے فروغ کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اردو زبان و ادب اپنے اندر جس محبت و اخوت کا جذبہ لئے ہے وہ شاید ہی کسی زبان میں موجود ہو یہ ایسی زبان ہے جس نے فارسی عربی کو اپنے دامن میں شامل کیا ہے اس زبان میں برصغیر پاک و ہند کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہے ہندو مسلم سکھ عیسائی بودھ جو اس زبان سے تعلق رکھنے والے ہیں والہانہ اس زبان سے تعلق بنائے ہوئے ہیں اس زبان کو استعمال کرنا ہر کسی بولنے والے کے لئے آسانیاں پیدا کردیتا ہے چاہئے کہ اس کی کوئی سی بھی زبان ہو پچھلے کچھ عرصہ سے اس زبان کے تئیں برصغیر میں سوتیلا سا برتاؤ ہونے لگا اور اس کا گلہ گھونٹ دینے کی کوشش ہونے لگئی اور اب حالت یہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں ڈگریاں حاصل کرنے والے بھی اس زبان کو روز مرہ استعمال کرنے سے شرماتے ہیں اتنا ہی نہیں اردو زبان و ادب کے فروغ کے اشتہار بھی اب انگریزی زبان میں دئے جاتے ہیں اس طرح سے اردو کی خدمات انجام دی جارہی ہے کہ اس کے نام پر روزی کمانے والے بھی اس سے استعمال کرنے کی سد بد نہیں رکھتے ہاں یہ اور بات ہے کہ انگریزی اور اردو کے مکسچر الفاظ کے ساتھ تھوڑی بہت بول بھی سکیں تو بولنے میں شرماتے نہیں بلکہ اپنی اس الٹ پھیر پر خوب مسکراتے ہیں زبان و ادب کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا پر یہ اہم ہے کہ کس کا کتنا علمی و ادبی سرمایہ ہے اور کس زبان میں ہے اس پر ہر مذہب و مسلک کو متفکر رہنا لازم ہے یہی معاملہ اب اردو زبان کا ہے کہ امت مسلمہ برصغیر خصوصا اس سلسلے میں منہ نہیں پھیر سکتی کہ اس کا ایک بہت بڑا علمی و ادبی لسانی تہذیبی معاشرتی سیاسی تمدنی حصہ موجود ہے اور وہ اسی زبان میں موجود ہے اس لئے اس کے فروغ و اشاعت کا فریضہ اب بھی اسی قوم کے لئے موجود ہے جس سے فرار کا مطلب ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت کو درگور کرکے نئی نسل کو تباہی اور بربادی کے حوالے کردینا
جو لوگ اس زبان کی اونچ نیچ سے واقف ہیں وہ اس وقت بھی اس زبان کے تئیں انتہائی فکرمند ہیں اور اس کی حفاظت اس کی نشر و اشاعت کے لئے کوشاں ہیں کشمیر کے تہذیبی ثقافتی افق پر جو لوگ موجود ہیں انہوں نے بھی اس زبان کی ترویج کے لئے بے بہا خدمت انجام دی ہیں اور مسلسل دے رہے ہیں انہیں کہنہ مشق صاحبان قلم میں عزیزم فیض قاضی آبادی صاحب کا اسمگرامی بھی اب شامل ہونے جارہا ہے جن کا قلم اس زبان کی بقاء کے لئے اپنی نوک سے جواہر بکھیر رہا ہے اسی سلسلے میں انہوں نے ایک کوشش کے بطور یہ کتاب مدارس دینیہ اور اردو نامی ایک کتاب جو مختلف صاحبان قلم کے تجربات و معلومات کا خزانہ ہے منظر عام پر لا کر مدارس دینیہ کے تئیں اپنی محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ مدارس دینیہ میں اردو کے تئیں کی گئی خدمات کا اعتراف اور اظہار کیا ہے اس سلسلے میں مناسب ہے کہ اس کتاب کو زیر مطالعہ لا کر اس کتاب کو اپنے اپنے حلقہ احباب میں متعارف کرایا جائےاس کتاب میں
مدارس دینیہ اور اردو کے تئیں خدمات کے بارے میں انتہائی اہم اور ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں کتاب ھذا میں جہاں تک کتاب کے مطالعہ کا تعلق ہے تو ایک بات عیاں ہوجاتی ہے کہ علماء امت ہی اس زبان کے اصل امین و محافظ ہیں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اردو کسی خاص مذہب یا نظریہ کی امین نہ تھی مگر اب جب کہ اس زبان کی سانسیں بند ہونے جارہی ہیں تو امت مسلمہ کے لئے لازم ہے کہ اس زبان کی ترویج و اشاعت اس کی بقاء کے لئے کوشاں رہیں کیوں کہ اردو ہی اب ہمارے کل کی امین ہے اس زبان کے لئے شیخ تھانوی رحمہ اللہ کا فتوی ہے کہ
اردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے اس بناء پر اس زبان کی حفاظت حسب استطاعت واجب ہوگئی اور باوجود قدرت کے اس میں غفلت اور سستی کرنا مصیبت بھی ہوگئی اور موجب مواخذہ آخرت بھی ہوگا ( امداد الفتوی)
اردو واحد ایک ایسی زبان ہے جو برصغیر پاک و ہند میں اپنی آن بان شان سے رواں دواں ہے پر اس کی ترویج س اشاعت میں جو کردار مدارس دینیہ کے فضلاء نے ڈالا اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے برصغیر پاک و ہند ہی نہیں بنگلہ دیش افغانستان بخارا تاشقند افریقہ جیسے ممالک میں بھی علماء نے اس زبان کو فروغ دیا اور اس کا استعمال کیا ہے جس کے لئے آپ کو تفصیلات اسی کتاب میں میسر ہوں گئیں اسی لئے شاید مرحوم وہاب اشرفئ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ
ملک میں بکھرے ہوئے مدارس دراصل اردو کے فروغ کی بے بہا خدمت انجام دے رہے ہیں کالجوں سے اردو غائب ہوتی جارہی ہے مدارس میں عربی فارسی کے علاوہ اردو کی کتابیں مسلسل پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں جس کا نتیجہ یہی ہوا کہ اردو زبان و ادب کے جو بڑے نقاد اور قلم کار ہیں وہ انہیں مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل طلبہ ہیں جن کی اس زبان پر پکڑ مضبوط ہے جیسے کہ دارلعلوم دیوبند نے اپنی ادبی صحافتی سفر میں جہاں لاتعداد افراد پیدا کئے وہیں اسی گلشن ادب و صحافت میں ایک شجر علم و ادب صحافت و نقد مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ ہیں جنکی ذات محتاج تعارف نہیں وہ اپنے وقت کے امام صحافت بے باک مبصر لاجواب شاعر اور ناقد تھے اسی طرح ان مدارس ہی نے مولانا مملوک العلی جو اپنے زمانے میں اردو زبان و ادب کے امام کہلائے شیخ احمد رضا خان سید مودودی ڈپٹی نذیر احمد علامہ ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سید سلمان ندوی مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ سلطان القلم مولانا مناظر احسن گیلانی مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی علامہ انظر شاہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی مفتی شفیع صاحب جیسے ادیب و دانشور علماء جنہیں بجا طور پر علم و ادب کے بے لاگ مبصر و محافظ کہہ سکتے ہیں اس زبان کے تئیں جب تک علماء کرام کم توجہ دیتے تھے تب مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قلم کی نوک کو استعمال کرکے علم کا ایک بڑا ذخیرہ برصغیر کے لوگوں کے لئے مرتب کیا جس کے منصئہ شہود پر آتے ہی علامہ کشمیری بھی اس زبان کے شیدائیوں میں شامل ہوئے جو کبھی اردو زبان کے فروغ کے لئے سوچ بھی نہیں سکتے تھے اپنے تئیں انہیں اس کی فکر تک نہ تھی پر جوں کہ شیخ تھانوی رحمہ اللہ کی کتب دیکھیں تو اس زبان کی اور مائل ہوئے اور اس کی بقاء کے لئے کوشاں
ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء کے سوا اس زبان کی خدمت کسی نے نہیں کی ایسا نہیں ہے بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ علماء نے اپنی طرف سے ایک بہت بڑا حصہ ڈالا ہے اس زبان کی ترویج و اشاعت میں زبان و ادب کی بات کریں تو ماننا پڑے گا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جیسے کہ اردو زبان و ادب ہے کہ یہ اپنی وسعت و محبت کے سبب اپنے ساتھ سو سوا سو زبانیں بولنے والوں کو اپنے ساتھ لئے چل رہی ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ اس کی ضرورت امت مسلمہ برصغیر کو ہی ہے کیونکہ علم و ادب کا ایک بہت بڑا حصہ اسی زبان میں موجود ہے جس کے جاننے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں اگر ہم اس زبان سے تعلق بنائے نہ رکھ سکے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ بچے گا اور ہماری داستان علم و ادب دفن ہوکر رہ جائے گئی جیسا کہ ہماری تہزیب و تمدن اندلس و غرناطہ و قرطبہ میں منظر سے غائب ہوگئی
اس سب سے واقف ہونے کے لئے آپ مدارس دینیہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں جہاں آپ کو علم و ادب کے افق پر برجماں شہسوار نظر آئیں گئے یہ کتاب جہاں اسلامی مدارس کے لئے مفید و کار آمد ہوسکتی ہے اسی قدر اردو زبان و ادب کے شوقین حضرات کے لئے بھی اس کا مطالعہ کافی اہم ہے پہلی بار جب میں نے اردو کے حوالے سے یہ کتاب جب ہاتھ میں لی تو ورق گردانی کرتے کرتے کچھ ایسی باتیں بھی دیکھیں جن کے بارے میں بلکل بھی خبر نہ تھی مجھے یہ کہنے میں بلکل بھی کوئی عار نہیں کہ اس کتاب کے مطالعہ نے مجھے بہت کچھ دیا جس کے بارے میں مجھے علم نہ تھا جیسے کہ ورق گردانی کرتے ہوئے میںنے یہ جانا کہ
میرے ایک استاد محترم ہیں جن کے بارے میں پہلی بار علم ہوا کہ وہ شاعری بھی کرتے ہیں اور وہ بھی بہترین اور خوبصورت انداز میں جیسے کہ ان کی ایک نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اسی کتاب میں پڑھنے کو ملی جسے پڑھ کر بے ساختہ دل خوشی و مسرت سے شادماں ہوا ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کا ایک جذباتی کلام بھی نظر میں آیا جس میں ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں محبت و عقیدت کا تعلق نظر آیا اللہ کرے کہ موصوف اس میں مزید ترقی کی منازل طے کر کے ہمارے لئے ذخیرہ علم و ادب بناتے رہیں اور وہ ہماری اور پوری ملت اسلامیہ کے کام آجائے
اس کتاب کے صفحات پر آپ کو
مدارس دینیہ کے حوالے سے دارلعلوم دیوبند مظاہر العلوم سہارنپور ندوہ العلماء کشمیر میں اردو کے حوالے سے ہورہا کام اور مصنف حضرات جو یہ خدمات انجام دے رہے ہیں جموں میں مدارس دینیہ کے حوالے سے ایک بہترین خاکہ علوم اسلامیہ اور اردو زبان کے حوالے سے کچھ معلومات دارلعلوم بانڈی پورہ المصطفوی بارہمولہ یا کشمیر میں ہفتہ روزہ اخبارات یک ماہی رسائل و جرائد سہہ ماہی جرائد کے حوالے سے کافی معلومات کتاب ھذا میں موجود ہیں
قابل ذکر ہے کہ موصوف نے کہنہ مشق اساتذہ کے مضامین اس کتاب میں شائع کئے ہیں جن کی اردو ادب میں قابل رشک خدمات موجود ہیں اور ان صاحبان کے قلمی کاوشوں نے کتاب میں چار چاند لگا دئے ہیں
اللہ تعالی موصوف کی یہ خدمت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے لئے اس کتاب کو باعث خیر بنائے میں دلی طور پر موصوف کا انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے نا چیز کو اس کتاب کا ایک نسخہ عنایت کیا جو میرے لئے باعث فخر و مسرت ہے
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
