تازہ ترین
قدیم وجدید ادبیات پر ایک تجزیہ – الطاف جمیل ندوی
قدیم و جدید ادبیات ( تحقیقی و تنقیدی مضامین ) از غلام نبی کمار صاحب نامی ایک خوبصورت گلدستہ موصول ہوا کتاب کے مصنف غلام نبی کمار صاحب ہیں جن کے بارے میں پروفیسر ارتضی کریم دہلی یونیورسٹی لکھتے ہیں
غلام نبی کمار وہ نوجوان ادیب ہیں جو اپنے نام کے ساتھ ہی چونکا دیتے ہیں یعنی غلام نبی کمار اسی طرح وہ اپنی تحریروں کے تعلق سے بھی پڑھنے والوں کو متوجہ کرتے ہیں
غلام نبی کمار کو غلام ادب بننا ہے اور غلام کو اپنے آقا یا مالک کی بڑی خدمت کرنی پڑتی تاکہ اسکا مالک یا آقا خوش ہوسکے اور واقعی غلام نبی کمار صاحب اپنے آقا یعنی اردو ادب کی خدمت کرنے میں تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں غلام نبی کمار صاحب وادی کشمیر کے معروف علاقہ چرار شریف کی پر سکون فضا کے مکین ہیں ایم فل کرکے اب پی ایچ ڈی کررہے ہیں یو جی سی نیٹ کرکے فارغ ہوئے ہیں تین کتابیں جن کی آمد متوقع ہے کے ساتھ ساتھ مختلف سہہ ماہی اور ماہ ناموں سے وابستہ ہیں مختلف اعزازات سے سرفراز کئے گئے ہیں اور میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ابھی تو جوان ہیں آگئے آگئے دیکھئے ہوتا ہے کیا آنے والے ایام میں یہ نوجوان ادیب و خادم اردو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے اور ہماری تہذیبی و ثقافتی زبان اردو کی مزید خدمت انجام دے سکتا ہے
یہ تو تھا مختصر تعارف صاحب مصنف کا اصل بات ہے کتاب ھذا کی جو میرے لئے تحفہ ہے اس پر کچھ لکھنا میرے بس کی بات ہی نہیں پر جب سے یہ کتاب ہاتھوں میں لے کر بیھٹا ہوں مسلسل دل کررہا ہے کہ اس پر اپنی کم علمی کے باوجود بھی کچھ باتیں تحریر کر ہی لوں
محترم نور شاہ کتاب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ کتاب کے مضامین نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے کیونکہ یہ مضامین تحقیق و تنقید کے میزان پر پوری طرح کھرے اترتے ہیں
ڈاکٹر مغیث احمد رقم طراز ہیں
غلام نبی کمار کے مضامین اور ان موضوعات کو دیکھ کر ذہن میں اردو ادب کے ایک سپاہی کا ہیولی متصور ہوتا ہے جو محنتی و مخلص ہونے کے ساتھ ہر طرح کی ادبی لابیوں سے دور مفاد پرستی سے ماورا اور تنازعات سے دور رہ کر سرگرم عمل ہے
کتاب کے بارے میں خود مصنف لکھتے ہیں
قدیم و جدید ادبیات میرے تحقیقی و تنقیدی مضامین کی پہلی کتاب ہے جس میں مختلف موضوعات کے تحت ۲۰ مضامین شامل ہیں جو نہ کسی کی ستائش میں لکھے گئے ہیں اور نہ کسی کی فرمائش پر بلکہ ان موضوعات کے ساتھ میری ذاتی انسیت رہی ہے
آگئے لکھتے ہیں
اردو ادب میں بہت سارے ادیب ایسے گزرے ہیں جنکی تحریریں بعض اسباب کی بناء پر رسائل و جرائد ہی تک محدود رہیں جنکی اشاعت کبھی کتابی صورت میں بھی ممکن نہ ہوسکی یہاں پر میری مراد صرف انہی افراد سے ہے جنکی علمی و ادبی صلاحیت تھی جن میں سماجی معاشرتی شعور تھا جن میں ادبی تحریروں کی پرکھ اور اس کی پہچان تھی جن میں علم و ادب کا مادہ تھا جو حقیقت شناس اور ادب پرست تھے جنکی تحریروں میں علمی ادبی فکری بصیرت تھی لیکن افسوس ان کی تحریریں رسائل و جرائد کے اوراق میں ہی دب کر رہ گئیں اور جنہیں کبھی منظر عام پر لانے کی جستجو تک نہیں کی گئی اس صورت حال سے بہت سارے ادیب آج بھی جوجھ رہے ہیں اگر اردو زبان و ادب میں کوئی تحریر اضافے کا باعث بنتی ہے ہو اور اس سے مستقبل میں نوجوان نسل کی رہنمائی ہوتی ہو تو اسکے منصہ شہود پر آنے کی اشد ضرورت ہے
ہلکا پھلکا یہ سمجھنا ہے کہ اردو زبان سے تعلق رکھنے والے جو بھی حضرات ہوں خواہ ان کی تحریریں اب ناپید ہی کیوں نہ ہوں گر ان کے منصئہ شہود پر آنے سے اردو زبان و ادب میں کسی بھی طرح سے فائدہ ہو تو ایسی ہر تحریر کو منظر عام پر لانے کی جستجو کرنا لازمی ہے کیوں کہ اردو زبان و ادب ہی ہمارے کلچر ہمارے سماج اور ہمارے نظریہ کا پاسبان ہے جس میں ہزاروں لاکھوں کتابیں ہیں جن کے بارے میں جاننا لازم ہے تاکہ ہم اپنے ماضی کے جھروکوں سے اپنے مستقبل کا تعین کرسکیں اور اپنی راہ میں آنے والے مشکلات کا تدارک کرنے میں آسانی ہو ورنہ جو بھی اقوام اپنی زبان و ادب کو تھام کر جینے سے جی چرا لیتے ہیں یقینا وہ تباہی و بربادی کا ہار گلے کی زینت بنا لیتے ہیںاردو زبان و ادب میں جن کی محنت اور کاوشیں قابل ذکر ہیں جن کی خدمات اردو زبان و ادب میں نہایت اہم ہیں صاحب کتاب انہیں اشخاص سے مختصر تعارف کرنے کی تگ و دو میں مصروف العمل نظر آتے ہیں کتاب میں جس میں قارئین کو غزل نظم افسانہ مثنوی تحقیق رباعی ادبی صحافت اور شخصیات کا مختصر خاکہ مضامین کی صورت میں پڑھنے کو ملے گا کتاب میں بلکل منفرد موضوعات ہیں جن سے قارئین مختلف قسم کے نظریات سے آشنا ہوں گئےکتاب میں اول جس کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے بارے میں ڈاکٹر انوار الحسن رقم طراز ہیں کہ وہ خود بھی آنسو بہاتے ہیں تو دوسروں کو بھی آنسو بہانے پر مجبور کر دیتے ہیں ہنستے ہیں تو دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں رومانی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں تو دوسروں کو بھی وہیں کھینچ لاتے ہیں ان کا رومان اور تغزل ماورائی نہیں بلکہ اسی آب و گل کا رومان ہے اردو تغزل بھی صحیح معنوں میں تغزل ہے مراد ہے امیر خسرو مصنف نے امیر خسرو کی غزلیہ شاعری کے موضوع سے اپنی کتاب کی ابتدا کی ہے اول موضوع ہی اس شخصیت کے بارے میں ہے جس کی غزل و نظم نے اردو شاعری میں کمال پیدا کیا جن کے شاعری بہت پاکیزہ اور اعلی ہے اس میں شک نہیں کہ وہ اول درجے کے صوفی شاعر ہیں جن کی شاعری میں محبت و اخوت عشق و شادمانی کا رنگ غالب ہے ان کے بارے میں مختصر سوانحی خاکہ اور ان کی شاعری کی مختصر جھلک نظر آتی ہے اسی مضمون کے آگئے دہلی کالج کے نامی گرامی استاد مولانا مملوک العلی کی مکتوب نگاری کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں جانکاری ملتی ہے جن خطوط کے بارے میں اسی کتاب کے اوراق میں راشد کاندھلوی تجزیہ پر مبنی یہ تحریر ملتی ہے کہ
ان خطوط سے جو ایک اور بڑی بات معلوم ہوتی ہے اور خاص رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے اکابر اور بڑے علماء علمی بلکہ دینی معلومات میں کبھی ذہنی تحفظات اور تعصب سے بہت دور تھے اس مضمون میں مولانا مملوک العلی کے خطوط کے ساتھ ساتھ مختلف باتیں معلومات میں اضافہ کرتی ہیںمولانا مملوک العلی کے خطوط کے بعد اردو میں مومن شناسی کی روایت اس سے آگئے مسلمانان ہند کے بارے میں متفکر سر سید احمد خان کے بارے میں ایک موضوع ہے سر سید کے سماجی افکار کی عصری معنویت جس میں سر سید احمد خان کے بارے میں مختصر تعارف کرایا گیا ہے
اس کے بعد داغ دہلوی کی فریاد داغ کی روشنی میں داغ دہلوی کی مثنوی نگاری اور ان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے اس کے بعد رباعیات حالی کا موضوع لیا گیا ہے جس میں حالی کا تعارف اور ان کے رباعیات کے بارے میں جانکاری ملتی ہے یہ وہی حالی ہیں کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ حالی انسان کے کام کرنے پر زور دیتے ہیں کیونکہ بغیر کام کے زندگی بے معنی ہوجاتی ہے اگر جینا ہے تو کام کیجئے زندوں کی طرح مردوں کی طرح جئے تو کیا خاک جئے کاہلی و سستی کی انہوں نے سخت مذمت کی ہے
اسکے بعد افسانوی ادب کا ایک گم شدہ فن کار نامی مضمون پڑھنے کو ملتا ہے جس میں بلونت سنگھ کے افسانے اور ان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے پھر مختلف شعراء اور افسانہ نگار حضرات کے بارے میں جانکاری ملتی ہے پھر صفحہ نمبر ۱۶۵ پر نور شاہ فکر و فکشن ایک تجزیاتی مطالعہ پر مصنف رقم طراز ہیں نور شاہ فکر و فکشن کے مضامین اگرچہ نور شاہ کی ناول نگاری پر مرقوم ہیں تاہم ان میں نور شاہ کی ناول نگاری کی تمام جہتیں روشن نہیں ہوتیں نور شاہ کی ناول نگاری ان کی اردو کے تئیں خدمات کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ہے
۱۹۶۰ کے بعد اردو نظم میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب ایک مضمون جس میں ایک تجزیاتی خاکہ تحریر کیا گیا ہے اس بارے میں مصنف رقم طراز ہیں اردو زبان اپنے تشکیلی دور سے لے کر عروج تک اور عروج سے لے کر موجودہ دور تک کسی بھی سطح پر ہندوستانی ماحول معاشرے اور مشترکہ مزاج اور سماج سے بے نیاز نہیں ہوئی ہٹ اردو ابتداء ہی سے سب کے ساتھ مل کر اور سب کو ساتھ لے کر چلتی رہی ہے اس کے مزاج اور خمیر ہی میں یہ بات شامل ہے اسکے تشکیلی عناصر ہندو مسلم ہندی اور ہندوستانی ہیں یہ اخوت و محبت کی زبان ہے اور اتحاد و اتفاق کی علامت بھی اس مضمون میں صاحب مضمون نے اردو زبان و ادب کا ہندوستان میں ایک خاکہ پیش کیا ہے جو آپسی محبت و اخوت کے بارے میں ایک قابل ذکر کاوش ہے
صفحہ نمبر ۲۵۱ پر جموں و کشمیر کے معاصر اردو شاعری اور چند اہم غزل گو شعراء کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ہے مصنف موصوف ابتداء میں لکھتے ہیں کہ
اگر جموں و کشمیر میں اردو شاعری کے موجودہ منظر نامے کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورت حال قدرے بہتر طور واضح ہوجاتی ہے یہاں تینوں خطوں جموں و کشمیر اور لداخ میںاردو کی مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے شعراء کی اچھی خاصی تعداد ہے اس میں مصنف نے مختلف شعراء جن کا تعلق ریاست جموں و کشمیر سے جڑا ہوا ہے کے بارے میں تحقیقی مضمون نظر قارئین کیا ہے جن میں حامد کشمیری فاروق نازکی رفیق راز پرتپال سنگھ بیتاب وغیرہ خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے اور اس صنف سے جڑے مختلف شخصیات کے بارے میں مضمون میں جان پیدا کرنے کے لئے ان شعراء کے کلام کی ہلکی پھلکی جھلک بھی ملتی ہے جس کے سبب ایک قاری کو مضمون میں لذت و چاشنی سے بھر پور علم و ادب کا سنگم دکھتا ہے آگئے چلتے ہوئے صفحہ نمبر ۲۸۵ پر بچوں کے چند اہم نمائندہ غزل گو شعراء ( اکیسویں صدی میں ) نامی مضمون اپنی شاندار وسعت کے ساتھ قارئین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں نمایاں ہے اور وہی میرے ساتھ بھی ہوا کہ مضمون کے موضوع پر نظر پڑھتے ہی دل خوشی سے جھومتا رہا کہ اطفال کے شعراء کرام اس میں مختلف شعراء کی کاوشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ہلکی پھلکی جھلک بھی ملتی ہے ان کی تخلیقات کی اس صنف کی شاعری یا نظم لکھنے کے لئے بزرگ شعراء کو بھی اور نوجوان شعراء کو بھی بچپن کے خیالوں میں رہنا پڑھتا ہے کیونکہ معصوم بچے سنجیدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں سنجیدگی سمجھ آسکتی ہے ان کی اپنی دنیا ہوتی ہے اپنے خیالات و خواہشیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں لکھنا انتہائی نازک اور حساس ہوتا ہے جیسے کہ اس مضمون میں ساحل مرتصی کے یہ دو شعر مجھے پسند آئے
بے ادب ہر جگہ بے عزت
با ادب باوقار ہوتا ہے
اس کو اچھا کوئی نہیں کہتا
جو بار بار فیل ہوتا ہے
مطلب بچوں کی نفسیات کے مطابق ان کی تربیت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں نصیحت آموذ باتیں بتلانا اس مضمون میں بھی صاحب مصنف نے اپنا وہی طریقہ برقرار رکھا ہے کہ شعراء کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس فن کی اونچ نیچ کے ساتھ ساتھ مضمون میں ہلکی پھلکی شاعری کو بھی شامل کیس ہے اس کتاب کے آخر پر مصنف محترم نے خواتین کی خود نوشتوں کے تجزیوں کا تجزیہ نامی مضمون شامل کرکے خواتیں کی خدمات کا اعتراف کیا ہے جس میں خواتین کی خود نوشت سوانح حیات کے بارے میں جانکاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف ادیب حضرات جنہوں نے اس بارے میں کام کیا ہے ان کی جانکاری بھی ملتی ہے اور خواتین خود نوشت سوانح حیات کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی اس بارے میں بھی راقم نے تحقیق کی ہے عربی اور مغربی خواتین کے بارے میں بتلایا گیا ہے
کتاب اتنی ضخیم بھی نہیں ہے اگر قاری کا من لگ جائے تو آرام سے ایک ڈیڑھ ہفتہ میں مکمل کرسکتا ہے کتاب کی جو خاص تخلیق مجھے لگئی وہ ہے بچوں کے بارے میں اردو شعراء کی خدمات اور مصنف کا خوبصورت انداز تحریر جس میں جگہ جگہ آپکو احساس ہوگا کہ مصنف موصوف نے اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے کے باوجود انتہائی ہمت و محبت سے کام لے کر یہ تخلیق منظر عام پر لائی اردو زبان و ادب کے افق پر یہ ایک بہترین تحقیق کہی جاسکتی ہے جس میں ہر صنف پر بات کی گئی ہے دوران مطالعہ گرچہ کچھ جگہوں پر قلمی غلطیاں بھی پائی گئی پر مجموعی طور پر ایک عمدہ اور پرمغز کتاب پے اردو زبان و ادب سے وابستہ اشخاص و طلبہ اس سے بہتر انداز میں استفادہ کرسکتے ہیں میری التماس ہے کہ غلام نبی کمار صاحب کی اس کاوش سے استفادہ حاصل کیا جائے اور مصنف محترم سے التماس ہے کہ ابتداء ہے ابھی امتحان اور بھی ہیں اپنے قلم کی نوک کو ہمیشہ کام میں لگائے رکھیں اور مزید سے بھی مزید وسعت علمی سے کام لے کر ایسی ہی شاندار اور عمدہ تخلیقات سے قوم و ملت اور اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہیں
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
