تازہ ترین
قدیم وجدید ادبیات پر ایک تجزیہ – الطاف جمیل ندوی
قدیم و جدید ادبیات ( تحقیقی و تنقیدی مضامین ) از غلام نبی کمار صاحب نامی ایک خوبصورت گلدستہ موصول ہوا کتاب کے مصنف غلام نبی کمار صاحب ہیں جن کے بارے میں پروفیسر ارتضی کریم دہلی یونیورسٹی لکھتے ہیں
غلام نبی کمار وہ نوجوان ادیب ہیں جو اپنے نام کے ساتھ ہی چونکا دیتے ہیں یعنی غلام نبی کمار اسی طرح وہ اپنی تحریروں کے تعلق سے بھی پڑھنے والوں کو متوجہ کرتے ہیں
غلام نبی کمار کو غلام ادب بننا ہے اور غلام کو اپنے آقا یا مالک کی بڑی خدمت کرنی پڑتی تاکہ اسکا مالک یا آقا خوش ہوسکے اور واقعی غلام نبی کمار صاحب اپنے آقا یعنی اردو ادب کی خدمت کرنے میں تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں غلام نبی کمار صاحب وادی کشمیر کے معروف علاقہ چرار شریف کی پر سکون فضا کے مکین ہیں ایم فل کرکے اب پی ایچ ڈی کررہے ہیں یو جی سی نیٹ کرکے فارغ ہوئے ہیں تین کتابیں جن کی آمد متوقع ہے کے ساتھ ساتھ مختلف سہہ ماہی اور ماہ ناموں سے وابستہ ہیں مختلف اعزازات سے سرفراز کئے گئے ہیں اور میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ابھی تو جوان ہیں آگئے آگئے دیکھئے ہوتا ہے کیا آنے والے ایام میں یہ نوجوان ادیب و خادم اردو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے اور ہماری تہذیبی و ثقافتی زبان اردو کی مزید خدمت انجام دے سکتا ہے
یہ تو تھا مختصر تعارف صاحب مصنف کا اصل بات ہے کتاب ھذا کی جو میرے لئے تحفہ ہے اس پر کچھ لکھنا میرے بس کی بات ہی نہیں پر جب سے یہ کتاب ہاتھوں میں لے کر بیھٹا ہوں مسلسل دل کررہا ہے کہ اس پر اپنی کم علمی کے باوجود بھی کچھ باتیں تحریر کر ہی لوں
محترم نور شاہ کتاب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ کتاب کے مضامین نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے کیونکہ یہ مضامین تحقیق و تنقید کے میزان پر پوری طرح کھرے اترتے ہیں
ڈاکٹر مغیث احمد رقم طراز ہیں
غلام نبی کمار کے مضامین اور ان موضوعات کو دیکھ کر ذہن میں اردو ادب کے ایک سپاہی کا ہیولی متصور ہوتا ہے جو محنتی و مخلص ہونے کے ساتھ ہر طرح کی ادبی لابیوں سے دور مفاد پرستی سے ماورا اور تنازعات سے دور رہ کر سرگرم عمل ہے
کتاب کے بارے میں خود مصنف لکھتے ہیں
قدیم و جدید ادبیات میرے تحقیقی و تنقیدی مضامین کی پہلی کتاب ہے جس میں مختلف موضوعات کے تحت ۲۰ مضامین شامل ہیں جو نہ کسی کی ستائش میں لکھے گئے ہیں اور نہ کسی کی فرمائش پر بلکہ ان موضوعات کے ساتھ میری ذاتی انسیت رہی ہے
آگئے لکھتے ہیں
اردو ادب میں بہت سارے ادیب ایسے گزرے ہیں جنکی تحریریں بعض اسباب کی بناء پر رسائل و جرائد ہی تک محدود رہیں جنکی اشاعت کبھی کتابی صورت میں بھی ممکن نہ ہوسکی یہاں پر میری مراد صرف انہی افراد سے ہے جنکی علمی و ادبی صلاحیت تھی جن میں سماجی معاشرتی شعور تھا جن میں ادبی تحریروں کی پرکھ اور اس کی پہچان تھی جن میں علم و ادب کا مادہ تھا جو حقیقت شناس اور ادب پرست تھے جنکی تحریروں میں علمی ادبی فکری بصیرت تھی لیکن افسوس ان کی تحریریں رسائل و جرائد کے اوراق میں ہی دب کر رہ گئیں اور جنہیں کبھی منظر عام پر لانے کی جستجو تک نہیں کی گئی اس صورت حال سے بہت سارے ادیب آج بھی جوجھ رہے ہیں اگر اردو زبان و ادب میں کوئی تحریر اضافے کا باعث بنتی ہے ہو اور اس سے مستقبل میں نوجوان نسل کی رہنمائی ہوتی ہو تو اسکے منصہ شہود پر آنے کی اشد ضرورت ہے
ہلکا پھلکا یہ سمجھنا ہے کہ اردو زبان سے تعلق رکھنے والے جو بھی حضرات ہوں خواہ ان کی تحریریں اب ناپید ہی کیوں نہ ہوں گر ان کے منصئہ شہود پر آنے سے اردو زبان و ادب میں کسی بھی طرح سے فائدہ ہو تو ایسی ہر تحریر کو منظر عام پر لانے کی جستجو کرنا لازمی ہے کیوں کہ اردو زبان و ادب ہی ہمارے کلچر ہمارے سماج اور ہمارے نظریہ کا پاسبان ہے جس میں ہزاروں لاکھوں کتابیں ہیں جن کے بارے میں جاننا لازم ہے تاکہ ہم اپنے ماضی کے جھروکوں سے اپنے مستقبل کا تعین کرسکیں اور اپنی راہ میں آنے والے مشکلات کا تدارک کرنے میں آسانی ہو ورنہ جو بھی اقوام اپنی زبان و ادب کو تھام کر جینے سے جی چرا لیتے ہیں یقینا وہ تباہی و بربادی کا ہار گلے کی زینت بنا لیتے ہیںاردو زبان و ادب میں جن کی محنت اور کاوشیں قابل ذکر ہیں جن کی خدمات اردو زبان و ادب میں نہایت اہم ہیں صاحب کتاب انہیں اشخاص سے مختصر تعارف کرنے کی تگ و دو میں مصروف العمل نظر آتے ہیں کتاب میں جس میں قارئین کو غزل نظم افسانہ مثنوی تحقیق رباعی ادبی صحافت اور شخصیات کا مختصر خاکہ مضامین کی صورت میں پڑھنے کو ملے گا کتاب میں بلکل منفرد موضوعات ہیں جن سے قارئین مختلف قسم کے نظریات سے آشنا ہوں گئےکتاب میں اول جس کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے بارے میں ڈاکٹر انوار الحسن رقم طراز ہیں کہ وہ خود بھی آنسو بہاتے ہیں تو دوسروں کو بھی آنسو بہانے پر مجبور کر دیتے ہیں ہنستے ہیں تو دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں رومانی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں تو دوسروں کو بھی وہیں کھینچ لاتے ہیں ان کا رومان اور تغزل ماورائی نہیں بلکہ اسی آب و گل کا رومان ہے اردو تغزل بھی صحیح معنوں میں تغزل ہے مراد ہے امیر خسرو مصنف نے امیر خسرو کی غزلیہ شاعری کے موضوع سے اپنی کتاب کی ابتدا کی ہے اول موضوع ہی اس شخصیت کے بارے میں ہے جس کی غزل و نظم نے اردو شاعری میں کمال پیدا کیا جن کے شاعری بہت پاکیزہ اور اعلی ہے اس میں شک نہیں کہ وہ اول درجے کے صوفی شاعر ہیں جن کی شاعری میں محبت و اخوت عشق و شادمانی کا رنگ غالب ہے ان کے بارے میں مختصر سوانحی خاکہ اور ان کی شاعری کی مختصر جھلک نظر آتی ہے اسی مضمون کے آگئے دہلی کالج کے نامی گرامی استاد مولانا مملوک العلی کی مکتوب نگاری کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں جانکاری ملتی ہے جن خطوط کے بارے میں اسی کتاب کے اوراق میں راشد کاندھلوی تجزیہ پر مبنی یہ تحریر ملتی ہے کہ
ان خطوط سے جو ایک اور بڑی بات معلوم ہوتی ہے اور خاص رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے اکابر اور بڑے علماء علمی بلکہ دینی معلومات میں کبھی ذہنی تحفظات اور تعصب سے بہت دور تھے اس مضمون میں مولانا مملوک العلی کے خطوط کے ساتھ ساتھ مختلف باتیں معلومات میں اضافہ کرتی ہیںمولانا مملوک العلی کے خطوط کے بعد اردو میں مومن شناسی کی روایت اس سے آگئے مسلمانان ہند کے بارے میں متفکر سر سید احمد خان کے بارے میں ایک موضوع ہے سر سید کے سماجی افکار کی عصری معنویت جس میں سر سید احمد خان کے بارے میں مختصر تعارف کرایا گیا ہے
اس کے بعد داغ دہلوی کی فریاد داغ کی روشنی میں داغ دہلوی کی مثنوی نگاری اور ان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے اس کے بعد رباعیات حالی کا موضوع لیا گیا ہے جس میں حالی کا تعارف اور ان کے رباعیات کے بارے میں جانکاری ملتی ہے یہ وہی حالی ہیں کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ حالی انسان کے کام کرنے پر زور دیتے ہیں کیونکہ بغیر کام کے زندگی بے معنی ہوجاتی ہے اگر جینا ہے تو کام کیجئے زندوں کی طرح مردوں کی طرح جئے تو کیا خاک جئے کاہلی و سستی کی انہوں نے سخت مذمت کی ہے
اسکے بعد افسانوی ادب کا ایک گم شدہ فن کار نامی مضمون پڑھنے کو ملتا ہے جس میں بلونت سنگھ کے افسانے اور ان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے پھر مختلف شعراء اور افسانہ نگار حضرات کے بارے میں جانکاری ملتی ہے پھر صفحہ نمبر ۱۶۵ پر نور شاہ فکر و فکشن ایک تجزیاتی مطالعہ پر مصنف رقم طراز ہیں نور شاہ فکر و فکشن کے مضامین اگرچہ نور شاہ کی ناول نگاری پر مرقوم ہیں تاہم ان میں نور شاہ کی ناول نگاری کی تمام جہتیں روشن نہیں ہوتیں نور شاہ کی ناول نگاری ان کی اردو کے تئیں خدمات کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ہے
۱۹۶۰ کے بعد اردو نظم میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب ایک مضمون جس میں ایک تجزیاتی خاکہ تحریر کیا گیا ہے اس بارے میں مصنف رقم طراز ہیں اردو زبان اپنے تشکیلی دور سے لے کر عروج تک اور عروج سے لے کر موجودہ دور تک کسی بھی سطح پر ہندوستانی ماحول معاشرے اور مشترکہ مزاج اور سماج سے بے نیاز نہیں ہوئی ہٹ اردو ابتداء ہی سے سب کے ساتھ مل کر اور سب کو ساتھ لے کر چلتی رہی ہے اس کے مزاج اور خمیر ہی میں یہ بات شامل ہے اسکے تشکیلی عناصر ہندو مسلم ہندی اور ہندوستانی ہیں یہ اخوت و محبت کی زبان ہے اور اتحاد و اتفاق کی علامت بھی اس مضمون میں صاحب مضمون نے اردو زبان و ادب کا ہندوستان میں ایک خاکہ پیش کیا ہے جو آپسی محبت و اخوت کے بارے میں ایک قابل ذکر کاوش ہے
صفحہ نمبر ۲۵۱ پر جموں و کشمیر کے معاصر اردو شاعری اور چند اہم غزل گو شعراء کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ہے مصنف موصوف ابتداء میں لکھتے ہیں کہ
اگر جموں و کشمیر میں اردو شاعری کے موجودہ منظر نامے کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورت حال قدرے بہتر طور واضح ہوجاتی ہے یہاں تینوں خطوں جموں و کشمیر اور لداخ میںاردو کی مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے شعراء کی اچھی خاصی تعداد ہے اس میں مصنف نے مختلف شعراء جن کا تعلق ریاست جموں و کشمیر سے جڑا ہوا ہے کے بارے میں تحقیقی مضمون نظر قارئین کیا ہے جن میں حامد کشمیری فاروق نازکی رفیق راز پرتپال سنگھ بیتاب وغیرہ خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے اور اس صنف سے جڑے مختلف شخصیات کے بارے میں مضمون میں جان پیدا کرنے کے لئے ان شعراء کے کلام کی ہلکی پھلکی جھلک بھی ملتی ہے جس کے سبب ایک قاری کو مضمون میں لذت و چاشنی سے بھر پور علم و ادب کا سنگم دکھتا ہے آگئے چلتے ہوئے صفحہ نمبر ۲۸۵ پر بچوں کے چند اہم نمائندہ غزل گو شعراء ( اکیسویں صدی میں ) نامی مضمون اپنی شاندار وسعت کے ساتھ قارئین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں نمایاں ہے اور وہی میرے ساتھ بھی ہوا کہ مضمون کے موضوع پر نظر پڑھتے ہی دل خوشی سے جھومتا رہا کہ اطفال کے شعراء کرام اس میں مختلف شعراء کی کاوشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ہلکی پھلکی جھلک بھی ملتی ہے ان کی تخلیقات کی اس صنف کی شاعری یا نظم لکھنے کے لئے بزرگ شعراء کو بھی اور نوجوان شعراء کو بھی بچپن کے خیالوں میں رہنا پڑھتا ہے کیونکہ معصوم بچے سنجیدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں سنجیدگی سمجھ آسکتی ہے ان کی اپنی دنیا ہوتی ہے اپنے خیالات و خواہشیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں لکھنا انتہائی نازک اور حساس ہوتا ہے جیسے کہ اس مضمون میں ساحل مرتصی کے یہ دو شعر مجھے پسند آئے
بے ادب ہر جگہ بے عزت
با ادب باوقار ہوتا ہے
اس کو اچھا کوئی نہیں کہتا
جو بار بار فیل ہوتا ہے
مطلب بچوں کی نفسیات کے مطابق ان کی تربیت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں نصیحت آموذ باتیں بتلانا اس مضمون میں بھی صاحب مصنف نے اپنا وہی طریقہ برقرار رکھا ہے کہ شعراء کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس فن کی اونچ نیچ کے ساتھ ساتھ مضمون میں ہلکی پھلکی شاعری کو بھی شامل کیس ہے اس کتاب کے آخر پر مصنف محترم نے خواتین کی خود نوشتوں کے تجزیوں کا تجزیہ نامی مضمون شامل کرکے خواتیں کی خدمات کا اعتراف کیا ہے جس میں خواتین کی خود نوشت سوانح حیات کے بارے میں جانکاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف ادیب حضرات جنہوں نے اس بارے میں کام کیا ہے ان کی جانکاری بھی ملتی ہے اور خواتین خود نوشت سوانح حیات کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی اس بارے میں بھی راقم نے تحقیق کی ہے عربی اور مغربی خواتین کے بارے میں بتلایا گیا ہے
کتاب اتنی ضخیم بھی نہیں ہے اگر قاری کا من لگ جائے تو آرام سے ایک ڈیڑھ ہفتہ میں مکمل کرسکتا ہے کتاب کی جو خاص تخلیق مجھے لگئی وہ ہے بچوں کے بارے میں اردو شعراء کی خدمات اور مصنف کا خوبصورت انداز تحریر جس میں جگہ جگہ آپکو احساس ہوگا کہ مصنف موصوف نے اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے کے باوجود انتہائی ہمت و محبت سے کام لے کر یہ تخلیق منظر عام پر لائی اردو زبان و ادب کے افق پر یہ ایک بہترین تحقیق کہی جاسکتی ہے جس میں ہر صنف پر بات کی گئی ہے دوران مطالعہ گرچہ کچھ جگہوں پر قلمی غلطیاں بھی پائی گئی پر مجموعی طور پر ایک عمدہ اور پرمغز کتاب پے اردو زبان و ادب سے وابستہ اشخاص و طلبہ اس سے بہتر انداز میں استفادہ کرسکتے ہیں میری التماس ہے کہ غلام نبی کمار صاحب کی اس کاوش سے استفادہ حاصل کیا جائے اور مصنف محترم سے التماس ہے کہ ابتداء ہے ابھی امتحان اور بھی ہیں اپنے قلم کی نوک کو ہمیشہ کام میں لگائے رکھیں اور مزید سے بھی مزید وسعت علمی سے کام لے کر ایسی ہی شاندار اور عمدہ تخلیقات سے قوم و ملت اور اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہیں
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
