تازہ ترین
جنتا کرفیو:جموں،کشمیر اور لداخ کے طول وارض میں بند اور بندشیں
عالمگیر وباکورونا وائرس(کووڈ۔19)کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک اور تذبذب سے بھر پور صورتحال سے نمٹنے کیلئے وزیر اعظم ہند نریندرا مودی کی جانب سے کی گئی ’جنتا کر فیو‘ یعنی (سیول کرفیو)کی اپیل کے پیش نظر اتوار کوجموں،کشمیر اور لداخ کے طول وارض میں مکمل طور پر بند رہا جبکہ لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کیلئے مسلسل چوتھے روز بھی سخت ترین بندشیں عائد رہیں۔بند اور بندشوں کے نتیجے میں جموں وکشمیر اور لداخ میں زندگی کی رفتار تھم گئی جبکہ روزمرہ کے معمولات مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کو رونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر13ہزارسے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ امریکہ اور یورپ بھر میں اکثر شہر بند ہیں۔ ہفتے کے روز تک دنیا بھر کے ایک ارب افراد اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس وبائی مرض کے نتیجے میں کرہ ارض کے روزمرہ کے معمولات ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں، میل جول بند ہے، اسکول بند پڑے ہیں اور کروڑوں لوگ گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان میں بھی یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے وزیر اعظم نے اتوار کو ’جنتا کرفیو‘ کی اپیل کی تھی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اتوار 22 مارچ کو صبح 7بجے سے رات کے 9 بجے تک’جنتا کرفیو‘ لگائیں اور بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں۔ انہوں نے ہفتے کی شام کو بھی ایک ٹوئٹ کرکے لوگوں کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا تھا۔ملککے تمام چھوٹے بڑے شہر اتوار کو بند رہے جبکہ بڑی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ دیگر سڑکیں بھی ویران ہیں، مارکیٹس، بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔اسی اپیل کے پیش نظر جموں،کشمیر اور لداخ میں بھی بند کا خاصا اثر رہا جبکہ لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے بندشیں بھی عائد رہیں،تاہم اتوار کو گذشتہ تین روز کے مقابلے میں بندشیں اور زیادہ سخت تھیں۔سرینگر،جموں شاہراہ کو کئی مقامات پر خار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ اندرونی رابطہ سڑکوں کو بھی فورسز نے مکمل طور سیل کیا تھا۔وادی میں بند اور بند شوں کے نتیجے میں ہر ایک سڑک سنسان منظر پیش کررہی تھیں۔
وادی میں لوگوں کی اکثریت جمعرات سے جاری ’لاک ڈاؤن‘پر راضی نظر آرہی ہے تاہم اتوار کو بعض لوگوں نے الزام لگایا کہ وادی میں وزیر اعظم مودی کی اپیل پر’مکمل لاک ڈاؤن‘ کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز نے لوگوں کی نقل وحرکت پر مکمل بریک لگادی۔اتوار کو وادی کے سبھی10اضلاع میں مکمل طور دکانات،تجارتی مراکز،کاروباری ادارے،پیٹرول پمپ،بنک اور دیگر مراکز بند رہے۔سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک سمیت پوری وادی سبھی چوٹھے بڑے بازار بند رہے جبکہ سڑک سے ہر طرح کا ٹرانسپورٹ غائب رہا،تاہم ہنگامی صورت میں گھروں سے باہر آنے افراد کی اکادکا نجی گاڑیاں سڑکوں پر نظر آرہی تھی۔کشمیر وادی میں جنتا کرفیو اور بندشوں کے باعث ہو کا عالم رہا،سنسان سڑکیں اور ویران بازار خوفناک اور بھوت گاہ کے مناظر پیش کررہے تھے۔اس دوران جوش و خروش کے ساتھ منایا جانے والے روایتی نو روزکی تقریبات انتہائی سادگی کے ساتھ منائی گئیں۔
گزشتہ تین روز سے بنگلہ دیش، لداخ، بنکاک، دبئی، کمبوڈیا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے1196افراد کشمیر لوٹے اور انہیں 24قرنطینہ مراکز میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ جموں کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے کہاہے کہ وادی کے علمائے کرام نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ کورو ناوائرس کے خوف کی وجہ سے جمعہ اور نماز پنجگانہ کیلئے مساجد کو بند نہیں کیا جائے گا۔ سرینگر کے علاقے صورہ میں اپنی رہائش گاہ پرمختلف مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کی غیر معمولی میٹنگ کی صدارت کے بعد مفتی ناصر الاسلام نے کہا متفقہ طور پر علمائے کرام اس نتیجے پر پہنچے کہ وادی کشمیر میں مساجد اور زیارت گاہوں کو بند نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا نماز جمعہ کی ادائیگی مساجد اور خانقاہوں میں ہوگی،تاہم ائمہ و خطیب حضرات جمعہ کے خطبات کو5منٹوں تک محدود کریں۔میٹنگ میں جن مذہبی جماعتوں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ان میں جمعیت اہلحدیث کے مفتی اعظم مفتی محمد یعقوب بابا المدنی اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالطیف الکندی، دارالعلوم رحیمیہ کے مہتم اعلی مفتی نذیر احمد قاسمی،جمعیت حمائت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو،پروفیسر محمد طیب کاملی،امام حی سید احمد سعید نقشبندی کے ساتھ ساتھ دیگر اور درجنوں علمائے کرام شامل ہیں۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ نے احتیاطی تدابیر کے تحت ان سے منسلک تمام مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ہے۔معراج النبی کی محافل بھی منسوخ کردی گئیں۔
جموں و کشمیر کے اہم شیعہ آبادی والے علاقے جن میں سرینگر، بڈگام، ماگام قابل ذکر ہیں،نوروز سادگی کے ساتھ منایا گیا۔ادھر اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں کے مرکزی جموں شہر اور دیگر اضلاع اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی لاک ڈاؤن میں رہے۔ تاہم ہفتہ کی نسبت اتوار کو لاک ڈاؤن کا زیادہ اثر دیکھا گیا۔ جموں شہر اور دیگر اضلاع کے قصبہ جات میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل دیکھی گئی اور دکانیں و تجارتی مراکز بند دیکھے گئے۔اطلاعات کے مطابق لداخ میں وزیر اعظم مودی کی ’جنتا کرفیو‘ کی اپیل پر دونوں اضلاع لیہہ اور کرگل میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی اور دکانیں و تجارتی مراکز بند رہے۔ دونوں اضلاع میں لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود رہے۔
جموں وکشمیر میں اب تک کورونا وائرس کے4 مثبت کیس سامنے آئے ہیں جبکہ لداخ زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک کورونا وائرس کے13 مثبت کیس سامنے آئے ہیں۔ تینوں خطوں میں انتظامیہ نے اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اب تک درجنوں احتیاطی اقدامات اٹھائے ہیں۔صوبائی انتظامیہ نے 31 مارچ تک دفعہ 144 کے تحت بندشیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وادی میں لاک ڈاؤن فی الحال جاری رہے گا۔ تاہم لوگوں کا الزام ہے کہ انہیں دفعہ 144کے تحت پابندیوں کا نہیں بلکہ غیر اعلانیہ کرفیو کا سامنا ہے۔کشمیر زون پولیس نے اتوار کو اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ وادی میں کرفیو نافذ نہیں ہے بلکہ جو بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ لوگوں کی سیفٹی کے لئے ہیں۔اس میں ہیش ٹیگ جنتا کرفیو لگاکر کہا گیا’یہ کرفیو نہیں ہے۔ یہ اقدامات آپ اور آپ کی فیملی کے لئے اٹھائے گئے ہیں، لوگوں کا ردعمل مثبت ہے، اپنے گھروں تک ہی محدود رہیں، کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اپنا کردار نبھائیں۔ حکومت کی طرف سے جاری احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ ایمرجنسی میں 100 یا112 ڈائل کریں‘۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
