تازہ ترین
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات میں روز بروز اضافہ
اسپین اور اٹلی میں مجموعی طور پر مزید ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 14ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
چین سے پھیلنے والے اس وائرس سے دنیا بھر میں خصوصاً یورپ میں تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اٹلی اور اسپین میں سمیت دنیا بھر میں اموات میں اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 14ہزار 366 ہو گئی ہے۔
اٹلی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں اور اتوار کو مزید 651 افراد کی ہلاکت کے بعد یورپ کے مشہور سیاحتی ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار 476 ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اٹلی میں ہفتے کو بھی 793 افراد کورونا وائرس کے سبب لقمہ اجل بن گئے تھے۔
اٹلی میں مزید ساڑھے پانچ ہزار افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جس سے ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 59 ہزار 138 ہو چکی ہے جبکہ وائرس سے 7 ہزار افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔
امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے 14ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3 لاکھ 4 ہزار 500 افراد وائرس سے اب تک متاثر ہوئے۔
یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ اب تک دنیا بھر میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 92 ہزار سے زائد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت چین کے عوام کی ہے۔
اسپین میں ایک دن میں 400 اموات
اسپین میں بھی اموات کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اتوار کو ایک دن میں 400 سے زائد افراد کی موت کے نتیجے میں اسپین میں بھی اب تک 1700 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
جرمنی نے بھی سخت ترین اقدامات اٹھاتے ہوئے ملک میں ایک جگہ دو افراد سے زائد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔
کورونا کے سبب کولمبیا کی جیل میں جھگڑا
کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا میں کورونا وائرس کے باعث جیل میں جھگڑے کے نتیجے میں کم از کم 23 قیدی ہلاک اور 83 زخمی ہو گئے۔
قیدی کورونا وائرس کے تیزی کے پھیلاؤ کے پیش نظر جیل میں صفائی کی ناقص صورتحال پر احتجاج کر رہے تھے۔
جھگڑے میں 7 محافظ بھی زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔
کولمبیا میں اب تک 231 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور ملک میں منگل کی رات سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے۔
بھارت میں 14گھنٹے کیلئے لاک ڈاؤن
بھارت میں وزیر اعظم کی اپیل پر 22 مارچ کو ملک بھر میں کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر جنتا کرفیو کے باعث عوام گھروں تک ہی محدود رہے جب کہ تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رکھی گئی۔
بھارتی حکومت نے قانونی طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا تھا تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں عوام سے محض 14 گھنٹے کے لیے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تھی۔
ان 14 گھنٹوں کے دوران ملک کے تقریباً ایک ارب افراد گھروں تک محدود رہے اور ملک بھر کی سڑکیں اور گلیاں مکمل طور پر سنسان رہیں۔
بھارت میں اب تک 334 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 4 افراد موت کے منہ میں بھی جا چکے ہیں۔
کینیڈا میں 450فیصد زائد اموات
دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی اب صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور اتوار کو کینیڈا میں ہلاکتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔
کینیڈین حکومت کے مطابق ہفتے تک 13 افراد وائرس کے سبب ہلاک ہوئے تھے۔
کینیڈا میں متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک ایک ہزار 302 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔
اپریل، مارچ سے اور مئی، اپریل سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، رپورٹ
امریکا میں اب تک 25 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 340 افراد وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے ایک تہائی نیویارک میں رپورٹ ہوئے اور نیویارک کے میئر دی بلاسیو نے وائرس سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔
انہوں نے وائرس کو سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپریل کا مہینہ مارچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گا اور مجھے خطرہ ہے کہ مئی کا مہینہ اپریل سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔
معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا وائرس سے امریکا میں ایک کروڑ افراد وائرس کے سبب اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
افغانستان میں کورونا وائرس سے پہلی موت
ادھر افغانستان میں وائس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
صوبہ بلخ کی وزارت صحت کے ترجمان ونیداللہ مایر نے کہا کہ 40 سالہ شخص کی وائرس کے سبب موت ہو گئی۔
افغانستان میں اب تک 34 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ جنگ زدہ ملک میں ناقص نظام صحت کے سبب کیسز بڑھنے کی صورت میں صورتحال ابتر شکل اختیار کر سکتی ہے۔
25 مارچ تک امارات کی پروازیں مسافروں کیلئے بند
ادھر دنیا کی بڑی ایئرلائنز نے وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر 25 مارچ تک اپنی تمام فلائٹس عبوری طور پر منسوخ کردی ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ جب تک ممالک اپنی سرحدیں نہیں کھولتے اور سفر کے حوالے سے اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس وقت تک موجودہ صورتحال میں ہمارے لیے مسافروں کے لیے آپریشنز بحال رکھنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب سنگاپور میں مزید 23 کیسز رپورٹ ہونے سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 455 ہو گئی ہے۔
ادھر کینیا میں پولیس اور تاجروں کے درمیان سنگین جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے جہاں حکومت کی جانب سے اعلانات کے باوجود تاجروں نے دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھنے سے انکار کردیا تھا۔
کسومو کاونٹی میں گورنر انیانگ نیونگ نے تاجروں کو اپنے تمام کاروباری مراکز بند رکھنے کا حکم دیا تھا جس پر تاجروں نے حکومتی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے گورنر کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
عراق میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان
ایران میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے بعد عراق نے بھی ملک میں 28مارچ تک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔
عراق کے 18 صوبوں نے اپنے تئیں کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن اب ملک بھر میں 28 مارچ تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کہا گیا کہ اسکول، یونیورسٹیز اور عوامی مقامات پر پابندی کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل فلائٹس بھی بند رہیں گی۔
فلسطینی عوام کو 14دن قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت
فلسطینی حکومت نے بھی اپنے عوام کو 14دن کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
فلسطینی وزیراعظم محمد شطائے نے ٹی وی پر خطاب میں عوام سے گھروں میں رہنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خورونوش، ادویات سمیت اہم چیزوں کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
فرانس کی برطانیہ کو دھمکی
ادھر فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون نے دھمکی دی ہے کہ اگر برطانوی وزیر اعظم نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو وہ جمعہ سے فرانس۔برطانیہ سرحد کو بند کردیں گے۔
فرانس کے صدر نے ایک انٹرویو میں موجودہ بحرانی صورتحال پر برطانوی حکومت اور وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
فرانس میں برطانیہ سے قبل کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک 14ہزار سے زائد افراد متاثر اور 562 ہلاک ہو چکے ہیں۔
لیکن برطانیہ میں وائرس تیزی سے پھیلنے کے باوجود حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن سمیت اس طرح کے کسی بھی قسم کے اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا حالانکہ اب تک 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کے ساتھ ساتھ 233 اموات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔
آسٹریلیا کا بھی لاک ڈاؤن کا اعلان
ادھر آسٹریلیا نے ملک میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر پورے ملک میں شٹ ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔
وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اعلان کیا کہ پیر سے عوام کے عوامی مقامات، جم سمیت کسی بھی غیر ضروری کام پر جانے پر پابندی ہو گی۔
آسٹریلیا میں ابتدا میں وائرس تیزی سے نہیں پھیلا تھا لیکن اب یہ تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا ہے جس کے سبب ملک میں اب تک تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 7 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
ایران میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 685 ہو گئی
ایران میں اتوار کو مزید 129 ہلاکتوں کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 685 ہو چکی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے کہا کہ 24 گھنٹے کے دوران مزید ایک ہزار 28 افراد کے وائرس کی زد میں آنے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اب تک 7 ہزار 913 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ملائیشیا میں مزید 123 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 306 ہو چکی ہے جبکہ اب تک ملک میں 10 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
انڈونیشیا میں بھی مزید 10 افراد وائرس کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں جس سے اب تک 48 افراد مر چکے ہیں جبکہ 64 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 514 ہوگئی ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
