تازہ ترین
انسانیت موت کی دہلیز پر- الطاف جمیل ندوی
(گھر میں رہے باہر شیطان کی آنت گوم رہی ہے احتیاط کرنا بھی سنت نبوی علیہ السلام ہے)
آج ہر طرف شور غل مچا ہے نامی گرامی ملکوں جیسے اٹلی چین وغیرہ کے برسر اقتدار افراد کی چیخیں بلند ہورہی ہیں انسانوں میں اس وبا نے وہ دہشت پیدا کی ہے کہ ہر کوئی دہشت زدہ سا ہے مرنے والوں کو اپنے عزیز و اقارب چھو نہیں سکتے ان کی آخری رسومات کچھ اس انداز سے کی جاتی ہیں کہ رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جن میں اس کے جراثیم پائے جاتے ہیں وہ نہ اپنوں سے مل سکتے ہیں نہ ہی ان سے ملنے کی اپنے عزیز و اقارب ہمت رکھتے ہیں یہ مصیبت چین سے شروع ہوئی اور پوری دنیا میں دہشت مچا دی اس کے علاج کے لئے کوشاں ہیں ارباب اقتدار و سائنس داں ہر روز لاشیں اٹھ رہی ہیں کچھ ممالک میں اس وبا نے انتہائی دہشت مچائی ہوئی ہے تو کہیں کہیں پر اب تک اس کے اثرات کم ہیں ائے مل کر اس وبا کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں مگر اپنی من مانی سے ہر گز بھی نہیں کیونکہ اس سے بجائے فائدہ کے انتہائی زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے خیال رہے کہ کروناوائرس ایسے وائرس کو کہا جاتا ہے جو انسانوں اور جانورون میں ایک دوسرے سے منتقل ہوتا ہے
اس کی تاریخ بہت پرانی ہے
سب سے پہلے اس وائرس کی دریافت 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ہیومن (انسانی) کرونا وائرس E229 اور OC43 کا نام دیا گیا تھا، اس کے بعد اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔
نیا کرونا وائرس جو چین سے پھیلا ہے اسے COVID 19 نام دیا گیا ہے
اس لیے پرانی کسی کتاب یا کسی پروڈکت میں کروناوائرس کا لفظ دیکھ کر پریشان نہ ہون کہ ان کو پہلے ہی سے کیسے معلوم ہوگیا تھا
آئے میرے پیارو دنیا کے مکینو
رب الکریم اپنے بندوں سے کہتا ہے
“اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تا کہ وہ ہماری طرف لوٹ آئیں” (السجدہ21- )
کرؤنا وائرس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوسکتی ہے جس میں رجوع الی اللہ اہم ہے آو پلٹ کر رب تمہیں مغفرت رحمت فلاح کی اور پکارتا ہے چلے آؤ اہل
ایمان جان لیں کہ یہ کوئی جاہل گنوار علم سے عاری کوئی طبقہ نہیں ہے بلکہ یہ علم و صاحب علموں کی وہ وارث قوم ہے جو ہر زمانہ میں اپنے نظریہ و ضابطہ حیات کے سبب دنیا میں ممتاز و فائق ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ دور حاضر میں اس ملت نے اپنے ماضی سے منہ پھیر کر نئی راہوں کی تلاش میں مصائب و مشکلات کے سوا کچھ بھی نہ حاصل کیا
حفظان صحت
حفظان صحت کے اصولوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات موجود ہیں کہ جو بیماریاں اس زمانے میں ہوئیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا علاج کیسے کیا اور کرنے کی تعلیم کیا کیا دیں
اس وقت جو وبا پھیل رہی ہے اس بارے میں ہمارے ہاں تذبذب ہے دو حلقوں میں
بہتر ہے سنت نبوی علیہ السلام سے اس بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کے وضع کئے گئے اصول و ضوابط پر بھی عمل کیا جائے یہ کوئی انہونی نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسی وبائیں آئیں ہیں اس لئے گھبراہٹ یا خوف کو خود پر ہرگز بھی مسلط نہ ہونے دیں بلکہ خود کو مضبوط اعصاب کے ساتھ رکھ کر حفظان صحت کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں یاد رکھیں کرؤنا وائرس آپ میں تب تک منتقل نہیں ہوسکتا جب تک آپ احتیاط برتیں گئے
ایک طرف کور دماغ جدید طبقہ دوسری طرف نیم ملا دونوں آپس میں دست و گریباں ایک کی ضد کہ اللہ تعالی جو چاہئے وہ کرے ہم کچھ نہیں کرسکتے یہ میڈیکل سائنس و ٹیکنالوجی بکواس کے سوا کچھ نہیں ہے ہم اس کو نہیں مانتے یہ شریعت کا حکم نہیں ہے ہر بات کا حل شریعت مطہرہ میں ہی ہے
دوسرے صاحب کی ضد کہ مولوی نے دین و ایمان کے نام پر ہمیں برباد کردیا یہ ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسے سائنس و ٹیکنالوجی کی خبر نہیں ایک کی لاٹھی مولا کی تو دوسرے کی لاٹھی سائنس و ٹیکنالوجی کی
پر اگر صحیح سے دیکھا جائے تو دونوں صاحبان کسی وائرس سے کم نہیں دونوں طرف جہالت لاعلمی حقائق سے فرار اور انانیت
تو آئے ہم نہ اس کی نہ اس کی سنتے ہیں بیچ کی راہ کو اختیار کرکے اپنے آج کو اپنے کل کے لئے سنہرا بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں
ضد نہ کریں حقائق مانیں
مولانا کا لاحقہ نام کے ساتھ جوڑ کر بچکانہ حرکات کرنے یاد رکھیں کہ علم کی بدولت اللہ اچھائی چاہتا ہے نہ کہ فتنہ و فساد یہ رب کی مرضی نہیں ہے فساد فی آلارض سب سے قبیح فعل ہے اس لئے کچھ گزارشات ہیں ان حضرات کی خدمت میں
مولانا سوچے اللہ تعالی نے جو قرآن کریم میں لفظ حکمت کا استعمال کیا ہے وہ صرف عبادات کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے جڑا ہے کھانا کوئی سا بھی کھایا جاسکتا ہے پر حکمت یہ ہے کہ وہ صاف ہو پاکیزہ ہو صحت کے لئے فائدہ مند ہو بیل تو کھایا جاسکتا ہے پر وہ ہرگز نہیں جو گر کر یا کسی بیماری کے سبب مر گیا ہو بیماری میں شفاء رب دیتا ہے پر کچھ بیماریوں کے لئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے شہد کو تجویز کیا ہے سیف اللہ خالد بن ولید کو خبر ہے کہ میں میدان جنگ میں کمزور نہیں ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی ہے پر احتیاط انہوں نے بھی کی بارش یا سردی میں کوئی مرے گا نہیں پر احتیاط یہی ہے کہ نماز گھروں میں ہی پڑھئی جائے نماز کے لئے وضو بہتر ہے پر جب جان کا خطرہ ہو تو افضل تیمم ہے اب کوئی ضد کرے تو کیاکیا جائےجائے
توکل و تدبر
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
باری تعالیٰ کی ذات پر توکل و اعتماد اہلِ ایمان کا بیش بہا سرمایہ ہے،تقدیر و قسمت کا یقین عین ایمان ہے، کرنے والی ذات ربِ کائنات کی ہے جس کے حکم سے گردشِ لیل و نہار، آمدِ خزاں و بہار بلکہ دنیائے دنی کی ہر حرکت و قرار اسی کا نتیجہ ہے.
اللہ تعالیٰ ایسے ہی بندوں کو پیار کرتا ہے، (إن الله يحب المتوكلين)
لیکن تقدیر کی تکمیل تدبیر سے ہوتی ہے،
اپنے امور و معاملہ کو توکل و مقدر کی سپردگی سے قبل ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نبوی طرز و تعلیم ہے،ایک اعرابی شخص اپنی سواری بے لگام چھوڑ کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے باندھوں اور پھر اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرو
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے وقت اپنے “معتمد” صحابی حضرت ابو بکر کو ساتھ لیا اور مناسب موقع پر مکہ سے کوچ کر گئے،درمیانِ سفر تین راتیں غارِ ثور میں اپنے مال و جان کے تحفظ میں کاٹیں،چونکہ مشرکین کے گماشتے وہاں پہنچ گئے تھے،
آپ کا چھپنا تدبیر اور بچ جانے کا اعتماد و یقین توکل و تقدیر کی بیِن دلیل تھی، جیسا کہ قرآن نے واضح کیا غزوہ خندق کے موقع پر ساڑھے تین میل لمبی اور گھوڑے کی عبوری صلاحیت سے زیادہ وسیع و عریض خندق و کھائی کھودنا تدبیر اور پھر دس ہزار کے مقابل سینہ سپر ہو جانا ذاتِ قدیر و حکیم پر بھروسہ کا ثبوت تھا،بدر و احد اور حنین و یرموک کا پیغام بھی غیر نہیں تھا
لیکن کچھ افراد شدید مغالطہ میں مبتلا ہیں اور احتیاطی تدابیر و وسائل کے اختیار کو تقدیر و توکل کے منافی سمجھتے ہیں،
یہ صرف کج فہمی اور ذہنی تعطل کا اثر ہے،
یہ ایک وہم اور مذہبی اپاہجوں کا ایسا دل خوش فلسفہ ہے، جس کا دینِ اسلام سے دور کا واسطہ نہیں.
مزید ہر مصیبت و آفت کو کفار و یہود کی گہری شازس اور حکومت کی غلط پالیسی قرار دینا ہمارے دماغ کے دیوالیہ ہونے کے مترادف ہے.
وقوعِ نقصان سے قبل اس کے تدارک کے لئے کھانسی و چھینک کے وقت رومال یا ٹیشو کا استعمال کرنا،بخار زدہ یا بیمار شخص سے ہاتھ ملانے سے احتراز کرنا،بار بار ہاتھ دھلنے کا بہتر طریقہ ہے ہمہ وقت باوضو رہنا،نصف ایمان (صفائی ستھرائی) کا مکمل دیکھ بھال کرنا مثبت نتائج برآمد کر سکتا ہے.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جذامی شخص سے ہاتھ سے بیعت نہیں کی بلکہ اسے دور سے واپس جانے کو کہا.
شرید بن سوید ثقفی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللّٰہ کی بیعت کے لیے آیا تو اس میں ایک شخص کو کوڑھ کا مرض لاحق تھا۔ نبی کریم نے اسے پیغام بھجوایا کہ ہم نے تمھاری بیعت لے لی ہے، تم لوٹ جاؤ۔ (مسلم)
یہ خوش گمانی پال لینا کہ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ہوگا ورنہ ووہان میں جاکر بھی نہیں ہوگا
تو یہ اس نبوی تعلیمات کی صریح مخالفت ہے، جس میں آپ نے اپنے نواسہ حسین رضی اللہ عنہ سے کوڑھی (جذام) کو گہری نظر سے دیکھنے اور قریب سے بات کرنے تک سے منع فرمایا اور ایک نیزہ کا فاصلہ بتایا (مجمع الزوائد)
طاعون کے متاثرہ علاقہ سے نکلنے اور خارجیوں کو وہاں جانے سے منع فرمایا،یہ حسنِ تدبیر ہے جسے دنیا آج کورونا کے چلتے اپنا رہی ہے
حضرت سعد رضیاللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی علاقے میںطاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اورتم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو
طاعون میں احتیاط یہ ہے کہ نزدیک پہنچ کر بھی فاروق اعظم رضی اللہ واپس چلے آتے ہیں امین امت رضی اللہ عنہ ابھی ٹھیک ہیں پر علاقہ طاعون زدہ ہے ہے چھوڑ کر جاسکتے تھے پر نہیں گئے احتیاط یہی ہے حکمت و دانائی یہی ہے اللہ تعالی ہدایت دیتا ہے پر ان اللہ لا یغیرو ما بقوم حتی یغیرو والی آیت بھی موجود ہے محترم علماء اللہ تعالی نہیں چاہتا کہ کسی کو مصائب میں مبتلا کرے یہ تو انسان ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں غور و فکر لازمی ہے کسی آیت یا کسی حدیث کے متن کو بنا سوچے سمجھے فتوی بازی کرنا سب سے بڑی خبیث حرکت ہے انسانیت کا بچاؤ سب سے بڑی نیکی ہے اسے ضائع نہ کریں لاعلمی کے سبب میدان جہاد میں جو کفار ہتھیار نہیں اٹھاتے تھے چاہئے وہ جوان ہی کیوں نہ ہوتے ان سے لڑائی نہ کرنے کا حکم ہے ایسا نہیں ہے کہ کفار کو ختم کرو اسلام یہ ہرگز نہیں چاہتا یہود کی ابلیسی حرکات کے سبب انہیں مدینہ سے نکالا جاتا ہے ورنہ انہیں قتل بھی کیا جاسکتا تھا نہیں کیا گیا یہی حکمت عملی ہے اسی کو رب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بتایا ہے تو ہم ضد کیوں کریں نہیں جی سائنس و ٹیکنالوجی اللہ کو پسند نہیں وہ تلوار اٹھانا ذرہ پہننا ہوشیاری سے وار کرنا کیا انہیں رب کا بھروسہ نہیں تھا مصائب اور مشکل کی اس گھڑی میں سب سے اہم یہی ہے کہ ہم اپنی ذم داری کا احساس کرین نتائیج بہتر آئیں گئے اس کی امید رکھیں
نیم حکیم جو سائنس و ٹیکنالوجی کا رونا رو رہے ہیں انتہائی ادب سے ان کی خدمت میں گذارش ہے کہ جتنی بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا جارہا ہے کرؤنا کے لئے تقریبا ہر بات پہلے سے سنن نبوی علیہ السلام میں موجود ہے مطلب اللہ تعالی یا رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی تعلیمات دی ہیں جو ہماری صحت کے لئے اہم ہیں آپ ملا یا اسلام پر نہ برسیں یہ ہماری لاعلمی ہوسکتی ہے آپ گر چاہیں تو ان ملاؤں کی تربیت کر سکتے ہیں پیار محبت سے ضد کسی بات کی دوا نہیں ضد سے تباہی ہی آسکتی ہے
اس تباہی کا شکار ملا بھی ہوگا اور نیم حکیم بھی خدا را انسانیت کو بچائے یہ سب سے نمایاں کام ہے اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے اپنی علمی صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹنے بجائے انسانیت کے کرب کو محسوس کیجئے یہی سب سے پیاری عبادت ہے اللہ تعالی کے لئے رب چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ کاٹنے کے ہاتھ تھامنے والے بن جائیں ہم بحیثیت مسلم اس کے زیادہ ذمہ دار ہیں اپنی فکر کے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکر کرنا بھی سنت نبوی علیہ السلام ہی ہے اس سے منہ نہ پھیر لیں یہ سب سے بڑا احسان ہوگا انسانیت پر ہم سب کا
لاک ڈاؤن اور مسلمان
کووڈ 19 کی بنا پر بڑی بڑی حکمرانیاں تہ و بالا ہورہی تعلیمی اور دیگر اداروں میں تعطیل، کاروباری مارکیٹ کا تعطل اور پوری دنیا میں کرفیو جیسی صورتحال مار متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دینے والی ہے
تو غریب روزانہ مزدوری پہ کام کرنے والے مزدوروں کا کیا حال ہوگا؟ تصور کرنا محال ہے
ایک دن تو ٹھیک لوگ برداشت کرپائیں گے
لیکن اگر لاک ڈاؤن کی مدت بڑھ جائے تو پھر بےچارے غریب کی زندگی کا کیا بنےگا؟
اس سلسلے میں کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ دارد
ایسے میں ملت اسلامیہ کو منجانب اللہ ایک غیر معمولی عظیم الشان موقع ہاتھ آئےگا کہ اسلام کی انسانی ہمدردی کا عملی مظاہرہ کربتائیں
ہمارے اپنے آس پاس کروڑوں ایسے افراد بستے ہیں جو نان شبینہ کےلئے بھی ترستے ہیں
روزانہ مزدوری پہ کام کرنے والے غریب غرباء اور ایسے معاشی پریشان حال لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے چہرے سے ان کی غربت ظاہر نہیں ہوتی اور وہ کتاب اللہ کی روشنی میں
تعرفھم بسیماھم لایسئلون الناس الحافا
کا عملی مظہر ہوتے ہیں
ایسے لوگوں کو ڈھونڈڈھونڈ کر اس مشکل میں سہارا دینے کی ضرورت ہے
عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ
ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔
حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم شوربہ بنائو تواس میں پانی زیادہ کردو ،پھر اپنے پڑوسیوں کے اہلخانہ کو دیکھو اوران کو اس میں سے کچھ پہنچادو۔(مسلم)
مساجد میں نماز
مساجد واجتماعات کے تعلق سے مفتیان کرام اور بڑے دارالافتاوں کو فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ مصیبت کے وقت تو مسجد میں جانا چاہیے اور لوگ مساجد سے روک رہے ہیں، کچھ لوگ تو فمن أظلم ممن منع مساجد الله والی آیت اس تناظر میں پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں مساجد میں داخلے کو محدود کردینا حرام ہے۔ احتیاط اور اسباب کا اختیار توکل کے خلاف نہیں ہے واضح رہے کہ مساجد میں جانا تقرب الی اللہ کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اگر اجتماعات ہی ہلاکت یا مرض کا سبب ہوں، تو اجتماعات کے بغیر ہی اللہ کا تقرب حاصل کرنا شریعت کا مقصد سمجھا جائے گا۔ ملیشیا میں تبلیغی اجتماع میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور وہیں پر کووڈ 19 پھیل گیا۔ آج وہ ملک بھی لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔ ممبئی کی کسی مسجد میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔
تو یاد رہے
اس وقت سوشل میڈیا پر جو فتوی بازی کا دور چل رہا ہے اس میں اعتدال اختیار کرنا بہتر ہے
جہاں حتمی یقین ہوجائے کہ یہاں وبا پھیل چکی ہے اب شدید خطرہ ہے کہ وبا کے اثرات منتقل ہوسکتے ہیں
ایسی صورت میں وہ لوگ احتیاط کریں جن میں اس وبا کے اثرات پائے گئے ہوں کہ لوگوں سے دوری بنائے رکھیں اب جبکہ ایسی غیرت و حمیت ناپید ہوتی جارہی ہے تو حتمی وہی اعلان مانا جائے جو کہ محکمہ صحت کی جانب سے کیا جائے جن کے بارے میں یا جن علاقوں کے بارے میں جانکاری دیں کہ وہاں اس وبا کے مریض ہیں تو ان لوگوں اور علاقوں سے دوری بنائے رکھی جائے جو کہ تعلیمات اسلامیہ کے عین مطابق ہے
نماز جمعہ کے بارے میں جو تضاد و تصادم کی صورت بنی ہوئی ہے اس میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ نماز کو مختصر سنت کے ساتھ ادا کرکے اپنے گھروں کی راہ لی جائے نوافل ازکار گھروں میں ادا کی جائیں اب اگر کہیں پر شدید اثرات پائے جاتے ہوں تو وہاں بہتر ہے کہ نماز گھروں میں ہی ادا کی جائے صرف افواہ پر یقین کرکے خدا را مساجد کو بند نہ کیا جائے
توبہ و استغفار کیا جائے اللہ کے حضور میں اور رحمت ربی کی طلب کی جائے رب الکریم کی زات مبارکہ سے امید رکھی جائے کہ اس مصیبت میں وہ دستگیری فرمائیں گئے
توہمات سے بچا جائے اصول و ضوابط جو محکمہ صحت کی جانب سے بتائے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل کیا جائے ( جن میں سے زیادہ تر امت مسلمہ کے ہاں سنت نبوی علیہ السلام سے ثابت ہیں ) ان پر توجہ دی جائے اللہ نہ کرے گر ان احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود بھی کوئی بات ہو جائے تو یقین کریں کہ اللہ تعالی نے کسی بہتری کے سبب ہی یہ بلا مسلط کی ہو گئی جس کا تذکرہ اللہ تعالی نے کیا ہے کہ تم خوف بھوک مال کے نقصان سے آزمائے جاؤ گئے کسی بھی صورت میں خوف زدہ نہ ہوں اللہ تعالی کا فضل و کرم دائمی ہے اس کے سایہ میں رہنا اختیار کیا جائے
تعصب و طنزیہ انداز سے حتی المقدور بچا جائے کہ اس سے ہماری پہچان اور بنیادی اسلامی تعلیمات کا مذاق بن جاتا ہے خوف الہی کے ساتھ کہ مبادا رب ناراض ہوجائے انتہائی ندامت و شرمندہ گئی کا اظہار اپنی سیاہ کاریوں پر اختیار کیا جائے اور رب سے معافی چاہتا ہوں والی صورت بہتر ہے اختیار کی جائے
آخری بات
اس مصیبت میں مذاق طعن بازی یا افواہ بازی سے بہتر ہے کہ ہم خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں غریبوں کی مدد کریں اپنے ساتھ رہنے والے پڑوسیوں کا خیال رکھیں اسلام ایمان کے نام پر ضد نہ کریں کیونکہ یہ کسی خاص مذہب یا ملت کے لئے نہیں ہے بلکہ اس وبا کے ہتھے ہر انسان چڑھ رہا ہے انسانیت کی حالت ایسی ہوئی ہے کہ موت اور اس کے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے آپ احتیاط برتیں گئے تو رب مدد فرمائے گا آپ انسانیت کے کام آئیں یہی سب سے بڑی عبادت ہے اس وقت.
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
