تازہ ترین
انسانیت موت کی دہلیز پر- الطاف جمیل ندوی
(گھر میں رہے باہر شیطان کی آنت گوم رہی ہے احتیاط کرنا بھی سنت نبوی علیہ السلام ہے)
آج ہر طرف شور غل مچا ہے نامی گرامی ملکوں جیسے اٹلی چین وغیرہ کے برسر اقتدار افراد کی چیخیں بلند ہورہی ہیں انسانوں میں اس وبا نے وہ دہشت پیدا کی ہے کہ ہر کوئی دہشت زدہ سا ہے مرنے والوں کو اپنے عزیز و اقارب چھو نہیں سکتے ان کی آخری رسومات کچھ اس انداز سے کی جاتی ہیں کہ رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جن میں اس کے جراثیم پائے جاتے ہیں وہ نہ اپنوں سے مل سکتے ہیں نہ ہی ان سے ملنے کی اپنے عزیز و اقارب ہمت رکھتے ہیں یہ مصیبت چین سے شروع ہوئی اور پوری دنیا میں دہشت مچا دی اس کے علاج کے لئے کوشاں ہیں ارباب اقتدار و سائنس داں ہر روز لاشیں اٹھ رہی ہیں کچھ ممالک میں اس وبا نے انتہائی دہشت مچائی ہوئی ہے تو کہیں کہیں پر اب تک اس کے اثرات کم ہیں ائے مل کر اس وبا کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں مگر اپنی من مانی سے ہر گز بھی نہیں کیونکہ اس سے بجائے فائدہ کے انتہائی زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے خیال رہے کہ کروناوائرس ایسے وائرس کو کہا جاتا ہے جو انسانوں اور جانورون میں ایک دوسرے سے منتقل ہوتا ہے
اس کی تاریخ بہت پرانی ہے
سب سے پہلے اس وائرس کی دریافت 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ہیومن (انسانی) کرونا وائرس E229 اور OC43 کا نام دیا گیا تھا، اس کے بعد اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔
نیا کرونا وائرس جو چین سے پھیلا ہے اسے COVID 19 نام دیا گیا ہے
اس لیے پرانی کسی کتاب یا کسی پروڈکت میں کروناوائرس کا لفظ دیکھ کر پریشان نہ ہون کہ ان کو پہلے ہی سے کیسے معلوم ہوگیا تھا
آئے میرے پیارو دنیا کے مکینو
رب الکریم اپنے بندوں سے کہتا ہے
“اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تا کہ وہ ہماری طرف لوٹ آئیں” (السجدہ21- )
کرؤنا وائرس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوسکتی ہے جس میں رجوع الی اللہ اہم ہے آو پلٹ کر رب تمہیں مغفرت رحمت فلاح کی اور پکارتا ہے چلے آؤ اہل
ایمان جان لیں کہ یہ کوئی جاہل گنوار علم سے عاری کوئی طبقہ نہیں ہے بلکہ یہ علم و صاحب علموں کی وہ وارث قوم ہے جو ہر زمانہ میں اپنے نظریہ و ضابطہ حیات کے سبب دنیا میں ممتاز و فائق ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ دور حاضر میں اس ملت نے اپنے ماضی سے منہ پھیر کر نئی راہوں کی تلاش میں مصائب و مشکلات کے سوا کچھ بھی نہ حاصل کیا
حفظان صحت
حفظان صحت کے اصولوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات موجود ہیں کہ جو بیماریاں اس زمانے میں ہوئیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا علاج کیسے کیا اور کرنے کی تعلیم کیا کیا دیں
اس وقت جو وبا پھیل رہی ہے اس بارے میں ہمارے ہاں تذبذب ہے دو حلقوں میں
بہتر ہے سنت نبوی علیہ السلام سے اس بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کے وضع کئے گئے اصول و ضوابط پر بھی عمل کیا جائے یہ کوئی انہونی نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسی وبائیں آئیں ہیں اس لئے گھبراہٹ یا خوف کو خود پر ہرگز بھی مسلط نہ ہونے دیں بلکہ خود کو مضبوط اعصاب کے ساتھ رکھ کر حفظان صحت کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں یاد رکھیں کرؤنا وائرس آپ میں تب تک منتقل نہیں ہوسکتا جب تک آپ احتیاط برتیں گئے
ایک طرف کور دماغ جدید طبقہ دوسری طرف نیم ملا دونوں آپس میں دست و گریباں ایک کی ضد کہ اللہ تعالی جو چاہئے وہ کرے ہم کچھ نہیں کرسکتے یہ میڈیکل سائنس و ٹیکنالوجی بکواس کے سوا کچھ نہیں ہے ہم اس کو نہیں مانتے یہ شریعت کا حکم نہیں ہے ہر بات کا حل شریعت مطہرہ میں ہی ہے
دوسرے صاحب کی ضد کہ مولوی نے دین و ایمان کے نام پر ہمیں برباد کردیا یہ ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسے سائنس و ٹیکنالوجی کی خبر نہیں ایک کی لاٹھی مولا کی تو دوسرے کی لاٹھی سائنس و ٹیکنالوجی کی
پر اگر صحیح سے دیکھا جائے تو دونوں صاحبان کسی وائرس سے کم نہیں دونوں طرف جہالت لاعلمی حقائق سے فرار اور انانیت
تو آئے ہم نہ اس کی نہ اس کی سنتے ہیں بیچ کی راہ کو اختیار کرکے اپنے آج کو اپنے کل کے لئے سنہرا بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں
ضد نہ کریں حقائق مانیں
مولانا کا لاحقہ نام کے ساتھ جوڑ کر بچکانہ حرکات کرنے یاد رکھیں کہ علم کی بدولت اللہ اچھائی چاہتا ہے نہ کہ فتنہ و فساد یہ رب کی مرضی نہیں ہے فساد فی آلارض سب سے قبیح فعل ہے اس لئے کچھ گزارشات ہیں ان حضرات کی خدمت میں
مولانا سوچے اللہ تعالی نے جو قرآن کریم میں لفظ حکمت کا استعمال کیا ہے وہ صرف عبادات کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے جڑا ہے کھانا کوئی سا بھی کھایا جاسکتا ہے پر حکمت یہ ہے کہ وہ صاف ہو پاکیزہ ہو صحت کے لئے فائدہ مند ہو بیل تو کھایا جاسکتا ہے پر وہ ہرگز نہیں جو گر کر یا کسی بیماری کے سبب مر گیا ہو بیماری میں شفاء رب دیتا ہے پر کچھ بیماریوں کے لئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے شہد کو تجویز کیا ہے سیف اللہ خالد بن ولید کو خبر ہے کہ میں میدان جنگ میں کمزور نہیں ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی ہے پر احتیاط انہوں نے بھی کی بارش یا سردی میں کوئی مرے گا نہیں پر احتیاط یہی ہے کہ نماز گھروں میں ہی پڑھئی جائے نماز کے لئے وضو بہتر ہے پر جب جان کا خطرہ ہو تو افضل تیمم ہے اب کوئی ضد کرے تو کیاکیا جائےجائے
توکل و تدبر
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
باری تعالیٰ کی ذات پر توکل و اعتماد اہلِ ایمان کا بیش بہا سرمایہ ہے،تقدیر و قسمت کا یقین عین ایمان ہے، کرنے والی ذات ربِ کائنات کی ہے جس کے حکم سے گردشِ لیل و نہار، آمدِ خزاں و بہار بلکہ دنیائے دنی کی ہر حرکت و قرار اسی کا نتیجہ ہے.
اللہ تعالیٰ ایسے ہی بندوں کو پیار کرتا ہے، (إن الله يحب المتوكلين)
لیکن تقدیر کی تکمیل تدبیر سے ہوتی ہے،
اپنے امور و معاملہ کو توکل و مقدر کی سپردگی سے قبل ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نبوی طرز و تعلیم ہے،ایک اعرابی شخص اپنی سواری بے لگام چھوڑ کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے باندھوں اور پھر اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرو
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے وقت اپنے “معتمد” صحابی حضرت ابو بکر کو ساتھ لیا اور مناسب موقع پر مکہ سے کوچ کر گئے،درمیانِ سفر تین راتیں غارِ ثور میں اپنے مال و جان کے تحفظ میں کاٹیں،چونکہ مشرکین کے گماشتے وہاں پہنچ گئے تھے،
آپ کا چھپنا تدبیر اور بچ جانے کا اعتماد و یقین توکل و تقدیر کی بیِن دلیل تھی، جیسا کہ قرآن نے واضح کیا غزوہ خندق کے موقع پر ساڑھے تین میل لمبی اور گھوڑے کی عبوری صلاحیت سے زیادہ وسیع و عریض خندق و کھائی کھودنا تدبیر اور پھر دس ہزار کے مقابل سینہ سپر ہو جانا ذاتِ قدیر و حکیم پر بھروسہ کا ثبوت تھا،بدر و احد اور حنین و یرموک کا پیغام بھی غیر نہیں تھا
لیکن کچھ افراد شدید مغالطہ میں مبتلا ہیں اور احتیاطی تدابیر و وسائل کے اختیار کو تقدیر و توکل کے منافی سمجھتے ہیں،
یہ صرف کج فہمی اور ذہنی تعطل کا اثر ہے،
یہ ایک وہم اور مذہبی اپاہجوں کا ایسا دل خوش فلسفہ ہے، جس کا دینِ اسلام سے دور کا واسطہ نہیں.
مزید ہر مصیبت و آفت کو کفار و یہود کی گہری شازس اور حکومت کی غلط پالیسی قرار دینا ہمارے دماغ کے دیوالیہ ہونے کے مترادف ہے.
وقوعِ نقصان سے قبل اس کے تدارک کے لئے کھانسی و چھینک کے وقت رومال یا ٹیشو کا استعمال کرنا،بخار زدہ یا بیمار شخص سے ہاتھ ملانے سے احتراز کرنا،بار بار ہاتھ دھلنے کا بہتر طریقہ ہے ہمہ وقت باوضو رہنا،نصف ایمان (صفائی ستھرائی) کا مکمل دیکھ بھال کرنا مثبت نتائج برآمد کر سکتا ہے.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جذامی شخص سے ہاتھ سے بیعت نہیں کی بلکہ اسے دور سے واپس جانے کو کہا.
شرید بن سوید ثقفی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللّٰہ کی بیعت کے لیے آیا تو اس میں ایک شخص کو کوڑھ کا مرض لاحق تھا۔ نبی کریم نے اسے پیغام بھجوایا کہ ہم نے تمھاری بیعت لے لی ہے، تم لوٹ جاؤ۔ (مسلم)
یہ خوش گمانی پال لینا کہ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ہوگا ورنہ ووہان میں جاکر بھی نہیں ہوگا
تو یہ اس نبوی تعلیمات کی صریح مخالفت ہے، جس میں آپ نے اپنے نواسہ حسین رضی اللہ عنہ سے کوڑھی (جذام) کو گہری نظر سے دیکھنے اور قریب سے بات کرنے تک سے منع فرمایا اور ایک نیزہ کا فاصلہ بتایا (مجمع الزوائد)
طاعون کے متاثرہ علاقہ سے نکلنے اور خارجیوں کو وہاں جانے سے منع فرمایا،یہ حسنِ تدبیر ہے جسے دنیا آج کورونا کے چلتے اپنا رہی ہے
حضرت سعد رضیاللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی علاقے میںطاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اورتم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو
طاعون میں احتیاط یہ ہے کہ نزدیک پہنچ کر بھی فاروق اعظم رضی اللہ واپس چلے آتے ہیں امین امت رضی اللہ عنہ ابھی ٹھیک ہیں پر علاقہ طاعون زدہ ہے ہے چھوڑ کر جاسکتے تھے پر نہیں گئے احتیاط یہی ہے حکمت و دانائی یہی ہے اللہ تعالی ہدایت دیتا ہے پر ان اللہ لا یغیرو ما بقوم حتی یغیرو والی آیت بھی موجود ہے محترم علماء اللہ تعالی نہیں چاہتا کہ کسی کو مصائب میں مبتلا کرے یہ تو انسان ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں غور و فکر لازمی ہے کسی آیت یا کسی حدیث کے متن کو بنا سوچے سمجھے فتوی بازی کرنا سب سے بڑی خبیث حرکت ہے انسانیت کا بچاؤ سب سے بڑی نیکی ہے اسے ضائع نہ کریں لاعلمی کے سبب میدان جہاد میں جو کفار ہتھیار نہیں اٹھاتے تھے چاہئے وہ جوان ہی کیوں نہ ہوتے ان سے لڑائی نہ کرنے کا حکم ہے ایسا نہیں ہے کہ کفار کو ختم کرو اسلام یہ ہرگز نہیں چاہتا یہود کی ابلیسی حرکات کے سبب انہیں مدینہ سے نکالا جاتا ہے ورنہ انہیں قتل بھی کیا جاسکتا تھا نہیں کیا گیا یہی حکمت عملی ہے اسی کو رب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بتایا ہے تو ہم ضد کیوں کریں نہیں جی سائنس و ٹیکنالوجی اللہ کو پسند نہیں وہ تلوار اٹھانا ذرہ پہننا ہوشیاری سے وار کرنا کیا انہیں رب کا بھروسہ نہیں تھا مصائب اور مشکل کی اس گھڑی میں سب سے اہم یہی ہے کہ ہم اپنی ذم داری کا احساس کرین نتائیج بہتر آئیں گئے اس کی امید رکھیں
نیم حکیم جو سائنس و ٹیکنالوجی کا رونا رو رہے ہیں انتہائی ادب سے ان کی خدمت میں گذارش ہے کہ جتنی بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا جارہا ہے کرؤنا کے لئے تقریبا ہر بات پہلے سے سنن نبوی علیہ السلام میں موجود ہے مطلب اللہ تعالی یا رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی تعلیمات دی ہیں جو ہماری صحت کے لئے اہم ہیں آپ ملا یا اسلام پر نہ برسیں یہ ہماری لاعلمی ہوسکتی ہے آپ گر چاہیں تو ان ملاؤں کی تربیت کر سکتے ہیں پیار محبت سے ضد کسی بات کی دوا نہیں ضد سے تباہی ہی آسکتی ہے
اس تباہی کا شکار ملا بھی ہوگا اور نیم حکیم بھی خدا را انسانیت کو بچائے یہ سب سے نمایاں کام ہے اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے اپنی علمی صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹنے بجائے انسانیت کے کرب کو محسوس کیجئے یہی سب سے پیاری عبادت ہے اللہ تعالی کے لئے رب چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ کاٹنے کے ہاتھ تھامنے والے بن جائیں ہم بحیثیت مسلم اس کے زیادہ ذمہ دار ہیں اپنی فکر کے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکر کرنا بھی سنت نبوی علیہ السلام ہی ہے اس سے منہ نہ پھیر لیں یہ سب سے بڑا احسان ہوگا انسانیت پر ہم سب کا
لاک ڈاؤن اور مسلمان
کووڈ 19 کی بنا پر بڑی بڑی حکمرانیاں تہ و بالا ہورہی تعلیمی اور دیگر اداروں میں تعطیل، کاروباری مارکیٹ کا تعطل اور پوری دنیا میں کرفیو جیسی صورتحال مار متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دینے والی ہے
تو غریب روزانہ مزدوری پہ کام کرنے والے مزدوروں کا کیا حال ہوگا؟ تصور کرنا محال ہے
ایک دن تو ٹھیک لوگ برداشت کرپائیں گے
لیکن اگر لاک ڈاؤن کی مدت بڑھ جائے تو پھر بےچارے غریب کی زندگی کا کیا بنےگا؟
اس سلسلے میں کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ دارد
ایسے میں ملت اسلامیہ کو منجانب اللہ ایک غیر معمولی عظیم الشان موقع ہاتھ آئےگا کہ اسلام کی انسانی ہمدردی کا عملی مظاہرہ کربتائیں
ہمارے اپنے آس پاس کروڑوں ایسے افراد بستے ہیں جو نان شبینہ کےلئے بھی ترستے ہیں
روزانہ مزدوری پہ کام کرنے والے غریب غرباء اور ایسے معاشی پریشان حال لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے چہرے سے ان کی غربت ظاہر نہیں ہوتی اور وہ کتاب اللہ کی روشنی میں
تعرفھم بسیماھم لایسئلون الناس الحافا
کا عملی مظہر ہوتے ہیں
ایسے لوگوں کو ڈھونڈڈھونڈ کر اس مشکل میں سہارا دینے کی ضرورت ہے
عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ
ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔
حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم شوربہ بنائو تواس میں پانی زیادہ کردو ،پھر اپنے پڑوسیوں کے اہلخانہ کو دیکھو اوران کو اس میں سے کچھ پہنچادو۔(مسلم)
مساجد میں نماز
مساجد واجتماعات کے تعلق سے مفتیان کرام اور بڑے دارالافتاوں کو فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ مصیبت کے وقت تو مسجد میں جانا چاہیے اور لوگ مساجد سے روک رہے ہیں، کچھ لوگ تو فمن أظلم ممن منع مساجد الله والی آیت اس تناظر میں پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں مساجد میں داخلے کو محدود کردینا حرام ہے۔ احتیاط اور اسباب کا اختیار توکل کے خلاف نہیں ہے واضح رہے کہ مساجد میں جانا تقرب الی اللہ کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اگر اجتماعات ہی ہلاکت یا مرض کا سبب ہوں، تو اجتماعات کے بغیر ہی اللہ کا تقرب حاصل کرنا شریعت کا مقصد سمجھا جائے گا۔ ملیشیا میں تبلیغی اجتماع میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور وہیں پر کووڈ 19 پھیل گیا۔ آج وہ ملک بھی لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔ ممبئی کی کسی مسجد میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔
تو یاد رہے
اس وقت سوشل میڈیا پر جو فتوی بازی کا دور چل رہا ہے اس میں اعتدال اختیار کرنا بہتر ہے
جہاں حتمی یقین ہوجائے کہ یہاں وبا پھیل چکی ہے اب شدید خطرہ ہے کہ وبا کے اثرات منتقل ہوسکتے ہیں
ایسی صورت میں وہ لوگ احتیاط کریں جن میں اس وبا کے اثرات پائے گئے ہوں کہ لوگوں سے دوری بنائے رکھیں اب جبکہ ایسی غیرت و حمیت ناپید ہوتی جارہی ہے تو حتمی وہی اعلان مانا جائے جو کہ محکمہ صحت کی جانب سے کیا جائے جن کے بارے میں یا جن علاقوں کے بارے میں جانکاری دیں کہ وہاں اس وبا کے مریض ہیں تو ان لوگوں اور علاقوں سے دوری بنائے رکھی جائے جو کہ تعلیمات اسلامیہ کے عین مطابق ہے
نماز جمعہ کے بارے میں جو تضاد و تصادم کی صورت بنی ہوئی ہے اس میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ نماز کو مختصر سنت کے ساتھ ادا کرکے اپنے گھروں کی راہ لی جائے نوافل ازکار گھروں میں ادا کی جائیں اب اگر کہیں پر شدید اثرات پائے جاتے ہوں تو وہاں بہتر ہے کہ نماز گھروں میں ہی ادا کی جائے صرف افواہ پر یقین کرکے خدا را مساجد کو بند نہ کیا جائے
توبہ و استغفار کیا جائے اللہ کے حضور میں اور رحمت ربی کی طلب کی جائے رب الکریم کی زات مبارکہ سے امید رکھی جائے کہ اس مصیبت میں وہ دستگیری فرمائیں گئے
توہمات سے بچا جائے اصول و ضوابط جو محکمہ صحت کی جانب سے بتائے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل کیا جائے ( جن میں سے زیادہ تر امت مسلمہ کے ہاں سنت نبوی علیہ السلام سے ثابت ہیں ) ان پر توجہ دی جائے اللہ نہ کرے گر ان احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود بھی کوئی بات ہو جائے تو یقین کریں کہ اللہ تعالی نے کسی بہتری کے سبب ہی یہ بلا مسلط کی ہو گئی جس کا تذکرہ اللہ تعالی نے کیا ہے کہ تم خوف بھوک مال کے نقصان سے آزمائے جاؤ گئے کسی بھی صورت میں خوف زدہ نہ ہوں اللہ تعالی کا فضل و کرم دائمی ہے اس کے سایہ میں رہنا اختیار کیا جائے
تعصب و طنزیہ انداز سے حتی المقدور بچا جائے کہ اس سے ہماری پہچان اور بنیادی اسلامی تعلیمات کا مذاق بن جاتا ہے خوف الہی کے ساتھ کہ مبادا رب ناراض ہوجائے انتہائی ندامت و شرمندہ گئی کا اظہار اپنی سیاہ کاریوں پر اختیار کیا جائے اور رب سے معافی چاہتا ہوں والی صورت بہتر ہے اختیار کی جائے
آخری بات
اس مصیبت میں مذاق طعن بازی یا افواہ بازی سے بہتر ہے کہ ہم خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں غریبوں کی مدد کریں اپنے ساتھ رہنے والے پڑوسیوں کا خیال رکھیں اسلام ایمان کے نام پر ضد نہ کریں کیونکہ یہ کسی خاص مذہب یا ملت کے لئے نہیں ہے بلکہ اس وبا کے ہتھے ہر انسان چڑھ رہا ہے انسانیت کی حالت ایسی ہوئی ہے کہ موت اور اس کے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے آپ احتیاط برتیں گئے تو رب مدد فرمائے گا آپ انسانیت کے کام آئیں یہی سب سے بڑی عبادت ہے اس وقت.
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
