تازہ ترین
لاک ڈاؤن کا5واں دن
بے قابو اور قاتل عالمی وبا ’کورونا وائرس‘ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کئے گئے احتیاطی اقدامات کے پیش نظر کشمیر میں سوموار کو مسلسل 5ویں روز بھی لاک ڈاؤن جاری رہا،جس دوران وادی کے سبھی10اضلاع میں سڑکیں سنسان رہیں جبکہ بازاروں پر تالے رہے۔چہار سو خوف،سنا ٹا،اضطراب اور تذبزب کا ماحول ہے جبکہ لاکھوں افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے پولیس نے ڈرون کا استعما ل بھی کیا۔اس دوران لیفٹیننٹ گور نر کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں کووڈ۔19کو کی لہر کو روکنے کیلئے 31مارچ تک مکمل لاک ڈاؤن رہے گا اور جو کوئی بھی احتیاطی اقدامات کی خلاف ورزی کر ے گا،اُس پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کیساتھ ساتھ6ماہ قید کی سزا بھی دی جائیگی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے انتظامیہ نے31مارچ تک پورے جموں وکشمیر دفعہ144نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ حکم چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرانیم نے جاری کیا ہے۔ حکمنامے میں تمام ضلع کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ اتوار22مارچ شام 8بجے سے31مارچ تک پابندی کے ساتھ دفعہ144اور ڈزاسٹر مینجمینٹ ایکٹ2005کے تحت بندشیں عائد کی جائیں۔ اِس عرصے میں صرف 16 ضروری خدمات کام کریں گی۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اِس عرصے کے دوران ضروری اشیاء لے جانے والے سبھی ٹرکوں اور گاڑیوں کو آنے کی اجازت دی جائے۔
لوگوں سے بار بار اپیل کی جارہی تھی کہ وہ اپنی،اپنے کنبے اور معاشرے کی سلامتی کیلئے گھروں میں ہی رہیں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ آئیں۔اس حکمنا مے کے تحت سوموار کو وادی کشمیر کے سبھی اضلاع میں سختی کیساتھ بندشیں اور پابندیاں عائد رہیں۔پولیس گاڑیوں کے ذریعے لاؤڈ اسپیکروں سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کے اعلانات کئے گئے۔شہر سرینگر سمیت قصبہ جات میں لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور خار دار تاروں سے علاقوں،سڑکوں،پلوں کو مکمل طور سیل کیا گیا۔صرف لازمی خدمات سے وابستہ گاڑیوں اور افراد کو ہی پوچھ تاچھ کے بعد ایک جگہ سے دوسرے مقام کی اور آنے جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔پوری وادی میں سبھی چھوٹے بڑے بازاربند رہے،تجارتی مراکز،کاروباری اداروں اور ہر طرح کے دکانات پر تالے چڑھے رہے۔
سڑکوں اور شاہراہوں سے پبلک ونجی ٹرانسپورٹ غائب رہا۔چہار سو وادی میں سنا ٹا،ویرانی اور سنسانی نظر آرہی تھی۔سرینگر،بڈگام،گاندر بل،پلوامہ،کولگام،اننت ناگ،شوپیان،کپوارہ،بانڈیپورہ اور بارہمولہ میں لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کیلئے پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔وادی کشمیر میں ریل سروس اور انٹر ااسٹیٹ ٹرانسپورٹ کو 31مارچ تک معطل رکھنے کے احکامات پہلے جاری ہوگئے ہیں،جسکی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سر گرمیاں ٹھپ رہیں۔وادی کشمیر میں 31مارچ تک تعلیمی ادارے،عوامی وتفریحی پارکیں وصحت افزاء مقامات،کلبس اور رستوران وہوٹل بھی بند رہیں گے۔مختلف مقامات سے کشمیر وارد ہونے والے1100افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔صحت افسران نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں کیونکہ وبا کی صورت میں سفر کرنے خطرے سے خالی نہیں ہے۔پرنسپل گور نمنٹ مڈل کالج سائمہ رشید نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں کہیں بھی ہیں،گھر میں وہیں۔کئی افراد نے قرنطینہ میں رہنے سے بچنے کیلئے اپنی ٹرول ہسٹری چھپائی،جسکی وجہ سے صورتحال مزید ابتر ہورہی ہے۔
یاد رہے کہ وادی کشمیر میں جمعرات کو اُس وقت بندشیں عائد کی گئیں جب خیام سرینگر سے تعلق رکھنے والی67سالہ خاتون کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا۔مذکورہ خاتون 16مارچ کو عمر ہ کی ادائیگی کے بعد کشمیر وارد ہوئی تھیں۔تاہم تاحال کشمیر میں ایک مثبت کیس سامنے آیا ہے۔اس دوران کئی جگہوں پر سماجی دوریاں اختیار کرنے کیلئے پولیس نے ادویات،اے ٹی ایم مشینوں اور دگر لازمی خدمات کے مقامات پر نشانات ڈالے،تاکہ سوشل فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے۔سرکاری احکامات کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں جموں،اننت ناگ اور دیگر کئی مقامات پر دکانوں اور دیگر کارو باری مراکز کو سربمہر کردیا گیا۔ ادھر پولیس نے سرینگر اور دیگر علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت جاننے اور صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا۔ڈرون طیاروں کے ذریعے بھی پولیس نے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی اپیل کی۔پولیس ٹیم جسکی قیادت ایس ایس پی سرینگر ڈاکٹر حسیب مغل کررہے تھے،نے سرینگر میں لوگوں کی نقل وحرکت پر ڈرون سے جائزہ لیا۔
ڈرون کے ذریعے یہ دیکھا جارہا تھا کہ گلی کوچوں اور محلوں میں کہیں لوگ ایک جگہ جمع تو نہیں ہوئے ہیں۔ایس ایس پی سرینگر نے کہا کہ لوگوں کو گھروں کے اندر رہنا اُنکے لئے اُنکے افراد خانہ کی سلامتی کیلئے لازمی ہے،کیونکہ سماجی رابطے سے ہی کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔اس دوران لیفٹیننٹ گور نر کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں کووڈ۔19کو کی لہر کو روکنے کیلئے 31مارچ تک مکمل لاک ڈاؤن رہے گا اور جو کوئی بھی احتیاطی اقدامات کی خلاف ورزی کر ے گا،اُس پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کیساتھ ساتھ6ماہ قید کی سزا بھی دی جائیگی۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
