تازہ ترین
وباؤں کا انسان کیلئے سبق
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔
ایک فٹبال کھلاڑی کو ماہانہ دس لاکھ یوروز دئے جاتے ہیں اور لوگ انہیں ایک دیوتاؤں کی طرح پیار کرتے ہیں لیکن ایک بیالوجی کے ریسرچر کو محض 1800یوورز ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں ۔
اب جائیے اور کرسٹیانو رونالڈو سے پوچھئے کہ کورونا وائرس کی دوا کیا ہے ۔اس جیسے کئی وٹس ایپ پیغامات اسپین کے ایک لائف سائنس ریسرچر کی طرف سے دیے گئے بیان کو بھیجا گیا ہے ۔فٹبالروں کیخلاف کوئی غصہ یا ان سے کوئی حسد نہیں ہے ۔لیکن ممالک، حکومتوں اور لیڈروں کی غلط ترجیحات اورتنگ نظری پر مبنی اپروچ پر ضرور ناراض ہے جو آفات اور کورونا وائرس جیسی وبا کے وقت بے بسی کو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے فضول ہیں اور وہ کسی کام کے لائق نہیں ہیں۔ہمارے وجود کو اس وقت جو خطرہ لاحق ہے ‘ہم اس کا احساس نہیں کر پا رہے ہیں۔
وبائیں دنیا کیلئے کوئی نئی با ت نہیں ہے
اس کی شروعات 430 سال قبل از مسیح ایتھنز میں طاعون سے ہوئی اور حال ہی میں سارس اور ایبولا جیسی خطرناک بیماری سے ہمارا سامنا ہوا ۔زندگی میں درپیش ان لاحق خطرات کے باوجود انسان ثابت قدم رہا اور ان پر قانو بھی پایا گیا ۔ان وباہؤں نے زیاہ سے زیادہ ہمیںڈرایا آور ہمیں تکلیف پہنچائی لیکن کسی وبا نے کبھی بھی پوری انسانیت کا صفایا نہیں کیا اور کورونا اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔
لیکن ایک ایسے وقت پر جب ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہر شعبہ میں بہت آگے بڑھے ہیں یہاں تک جب ہمیں 5G اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے لیکن پھر بھی کورونا نے امریکہ، یورپ اور چین جیسے ترقی یافتہ مماملک کو جو چیلنج دیا ہے وہ بحث گفتگو ہے۔ وائرس کچھ دنوں میں ختم ہو سکتا ہے یاہم کوئی ویکسین بنا کر اس کو محدود کر سکتے ہیں لیکن یہ سوچنا غلط ہو گا کہ ہم نا قابل تسخیر ہیں ۔
انسانیت کے سامنے در پیش کئی سوالات
ہم کورونا سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں ؟کورونا کے بعد ہم انسانوں کا کیسا برتاؤ ہونا چاہئے؟ہماری فطرت اور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ۔نئی نسل، جو زندگی کو تیار بہ تیار اور کافی پینے جیسا آسان سمجھتی ہے اب اس کے تئیں ان کا کیسا رویہ ہونا چاہئے ؟ حکومت اب کاروبار کو کیسے چلائے گی، سیاسی لیڈر کی قیادت کیسی ہو گی، ریسرچوں کا ردعمل کیسا ہو گا؟ ان جیسے سوالات کا جواب انسانیت کی بقاء کا فیصلہ کریگا۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا ترقی یافتہ، ترقی پذیر اورپسماندہ ممالک، سپر پاور، جدیدیت، سفید فام، سیاہ فام، ذات، مذہب، سرمایہ، کمیونزم، مصنوعی اور مجازی ذہانت میں تقسیم ہوگئی ہے۔جس سے ہم صرف خود کو برتر اور دوسروں کو ابتر سمجھتے تھے لیکن کورونا وائرس ہمیں ہماری اصل اوقات دکھا رہا ہے ۔ہماری نام نہاد ترقی کی حقیقی قیمت اور قدر دکھا رہا ہے ۔تنے ہی واضح انداز میں جتنی ہمیں اب مریخ کی تصویر دکھائی دے رہی ہے ۔
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔ہر ایک وبا انسان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرکے ان کو درست کرنے کا موقع دیتی ہے ۔
جن لوگوں نے اس اشارے کو نہیں سمجھا انہیں اس سے بہت بڑی سبق سیکھنی پڑی ہے۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ’سیاہ موت‘ نامی وبا جو 1346-1353میں یورپ میں شروع ہوئی اور وسطی ایشیا تک پھیل گئی اس نے اکیلے ہی نصف یورپ کا صفایا کردیا تھا اور جس نے تاریخ کا رخ ہی بدل دیا تھا۔اُس وقت تنخواہوں میں رائج جاگیردارانہ نظام کو اس وبا نے ختم کرکے رکھ دیا ۔اموات کی وجہ سے ان لوگوں کی تنخواہیں بڑھ گئیں جو اس وبا سے محفوظ رہے ۔کہا جا رہا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے ہی بعد میں ٹیکنالوجیکل دریافتیں ہوئیں ۔تاریخ ایسی وباؤں کی بھی گواہ ہے ‘ جیسی پہلی جنگ عظیم میں طاعون‘بھی ممالک کی ایک دوسرے پر اجارہ داری حاصل کرنے کی خواہش اورلالچ پر قابو نہیں پاسکا۔
فطرت کو سمجھ کر ہی ترقی ممکن
ایک گروپ’کلب آف روم‘کا قیام اٹلی میں سنہ 1960 کی دہائی میں آیا، جو اس وقت کورونا وائرس سے جوجھ رہا ہے ۔دنیا کے بیشترسائنسدان، ماہرین اقتصادیات، صنعت کار اور سیاسدان اس گروپ کے ممبران تھے ۔سنہ 1972 میں گروپ نے ایک رپورٹ جس کا عنوان تھا ’ترقی کی حدیں‘ منظر عام پر لائی ۔گروپ نے اس بات کو واضح کیا کہ ترقی کی کچھ اپنی حدیں ہو تی ہیں ۔ دنیا کے ساتھ رشتہ رکھے بغیر انسان کی ترقی کا سفر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارا ماحولیاتی نظام 2100 کے بعد آبادی میں اضافہ اور تیز معاشی ترقی بر داشت نہیں کر پائیگا۔
ریسرچ میں کرڑوں روپے صرف کرنے کے باوجود بھی نادیدہ مائیکرو micro-organisms سے لڑ نہیں پا رہے ہیں ۔ہم تا حال ملیریا کا موثر ویکسین بنا نہیں سکے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی خسرہ بار بار حکومت کو پریشان کرتا رہا ہے ۔آخر دنیا کی بایو میڈیکل ریسرچ کا کیا ہو رہا ہے ؟گرچہ ہم اسے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نام دے رہے ہیں لیکن بیشتر طلباء صرف ٹیکنالوجی میں ہی دلچسپی لے رہے ہیں۔آجکل کے اس تیز رفتار دور میں طلباکالج سے فارغ ہوتے ہی صرف ٹیکنالوجی والی نوکریاں کرنا چاہتے ہیں جن میں لاکھوں روپے کی تنخواہیں ہوتی ہیں‘ ۔ ان میں سے کسی میں نہ سائنس کے تئیں لگاؤ اور دلچسپی ہے اور نہ ریسرچ میں اپنے کئی سال صرف کرنے کا صبر۔
ترقی کا ثمر ہر ایک تک پہنچ جانا چاہیے
موجودہ حالات میں حکومتوں، سربراہان، مملکتوں اور عالمی قیادت کی تمام تر توجہ انتخابات جیتنے پر ہو تی ہے ۔اس کے علاوہ تجارتی تعلقات، جنگیں اور دنیا پر اپنا دبدبہ قائم کرنا ان کی ترجیح ہوتی ہے ۔کون اپنے کھلے دل اور دور اندیشی سے انسانیت کی بقا، فلاح اور بہبودی کے بارے میں سوچتا ہے ؟بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، جن سے دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا ہے، ڈرون کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ہتھیاروںکے حصول میں دلچسپی لی جا رہی ہے لیکن ہمارے لوگوں کی صحت میں بہتری لانے پر کوئی توجہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔
انسانیت کی یہ ایک بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سیاسی پنڈت کسی کام نہ آنے والے ڈاکٹرین اور نظریات پر بحث کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فلسفہ، کوئی بھی مذہب انسانیت سے بڑا نہیں ہے ۔یہ ایک ایسا سچ ہے جو تاریخ ہمیں بتانے کی کوشش کرہی ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔لیکن اس کے باوجود سرمایہ داری، کمیونزم، دایاں بازو، بایاں بازو اور تمام مذاہب کے نام پر ہم خود فریبی میں مبتلا ہیں۔یہ امریکہ اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک کیلئے محاسبہ کا وقت ہے کہ وہ سوچیں کہ وہ کس راستے پر چل کر دنیا کی رہنمائی کریں گے، تاکہ ضرورت کے وقت انسانیت کی مدد کی جا سکے ، اپنے ذاتی فائدے کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی مدد کی جائے ۔معیار زندگی میں کسی بہتری کے بغیر ترقی کسی کام کی نہیں ہے ۔
ترقی جس میں بقائے باہم کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہو وہ صحیح معنوں میں کوئی ترقی ہے ہی نہیں ۔تمام ممالک بغیر کسی امتیاز کے تنگ نظر سیاسی نظریات کی وجہ سے تکالیف سے دو چار ہیں ۔کم از کم اب لوگوں کیلئے ایک جامع صحت کو تجارتی خواہشات پر ترجیح ہونی چاہیے ۔ ممالک کو پبلک ہیلتھ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے ۔ایک ساتھ یا انفرادی طور پر صحت مند دنیا تمام ممالک کی پہلی ترجیح ہو نی چاہئے ۔دنیا کو اب چونکہ کرونا دبا کا سامنا ہے ‘ اس لئے تمام اختلافات کو بھلا کر تمام ممالک کو ایک ساتھ آگے آ کر ‘ ایک دوسرے سے اشتراک کرکے ریسرچ شیئر کرکے اس بحران پر قابو پانا چاہئے ۔شکوک و شبہات ‘الزامات‘ دغابازیوں سے صرف انسانیت کا خاتمہ ہو گا‘ اس سے خوشی میسر ہو گی اور نہ خوشحالی آئیگی ۔کورونا اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے سوچنے کا انداز بدلنا ہو گا ۔کورونا نے ثابت کیا کہ انسان فانی ہے ۔اس نے ہمیں خبر دا ر کیا کہ ہمیں روبوٹوں اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ رہنے سے پہلے فطرت اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لینا چاہئے ۔اگر ہم تلخ حقائق سے اپنی آنکھیں پھیر لیں گے تو ہم ایک مہلک بحران کی گرفت میں آئیں گے ۔تاریخ کا حوالہ دیتے وقت قبل از مسیح اور بعد از مسیح کے بجائے قبل از کورونا اور بعد از کورونا کہا جائیگا ۔اب جبکہ کورونا وائرس حملہ آور ہوا ہے ہمیں ایک اچھا انسان بن جانا چاہئے … جس میں انسانیت ہو لیکن کیا ہم ایسا بن سکتے ہیں ؟
وائرس سے ہوا بھاری نقصانان
وائرسوں کے نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں ان کے حملے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں ۔ یول فیور، جائیکا، مرس، ایبولا، سوائن فلو، سارس یا کوئی دیگر وائرس انسانیت کو چیلنج کررہا ہے۔عالمی صحت ادارے کو ہر ماہ 5,000 نئی علامات ملتی ہیں یہ اس کا ایک ثبوت ہے ۔عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ان وباؤں کی وجہ سے ہو ئے نقصانات کا حجم سالانہ 57 بلین ڈالر ہے ۔یہ سوچنا غلط ہو گا کہ صرف دو ماملک میں جنگوں سے بھاری نقصان ہوتا ہے ۔
ان نادیدہ مائیکرو آرگنزم کیخلاف جد وجہد کی زیادہ قیمت چکانی پڑیگی اگر دانشمندگی سے کام نہیں لیا گیا۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
