تازہ ترین
وباؤں کا انسان کیلئے سبق
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔
ایک فٹبال کھلاڑی کو ماہانہ دس لاکھ یوروز دئے جاتے ہیں اور لوگ انہیں ایک دیوتاؤں کی طرح پیار کرتے ہیں لیکن ایک بیالوجی کے ریسرچر کو محض 1800یوورز ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں ۔
اب جائیے اور کرسٹیانو رونالڈو سے پوچھئے کہ کورونا وائرس کی دوا کیا ہے ۔اس جیسے کئی وٹس ایپ پیغامات اسپین کے ایک لائف سائنس ریسرچر کی طرف سے دیے گئے بیان کو بھیجا گیا ہے ۔فٹبالروں کیخلاف کوئی غصہ یا ان سے کوئی حسد نہیں ہے ۔لیکن ممالک، حکومتوں اور لیڈروں کی غلط ترجیحات اورتنگ نظری پر مبنی اپروچ پر ضرور ناراض ہے جو آفات اور کورونا وائرس جیسی وبا کے وقت بے بسی کو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے فضول ہیں اور وہ کسی کام کے لائق نہیں ہیں۔ہمارے وجود کو اس وقت جو خطرہ لاحق ہے ‘ہم اس کا احساس نہیں کر پا رہے ہیں۔
وبائیں دنیا کیلئے کوئی نئی با ت نہیں ہے
اس کی شروعات 430 سال قبل از مسیح ایتھنز میں طاعون سے ہوئی اور حال ہی میں سارس اور ایبولا جیسی خطرناک بیماری سے ہمارا سامنا ہوا ۔زندگی میں درپیش ان لاحق خطرات کے باوجود انسان ثابت قدم رہا اور ان پر قانو بھی پایا گیا ۔ان وباہؤں نے زیاہ سے زیادہ ہمیںڈرایا آور ہمیں تکلیف پہنچائی لیکن کسی وبا نے کبھی بھی پوری انسانیت کا صفایا نہیں کیا اور کورونا اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔
لیکن ایک ایسے وقت پر جب ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہر شعبہ میں بہت آگے بڑھے ہیں یہاں تک جب ہمیں 5G اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے لیکن پھر بھی کورونا نے امریکہ، یورپ اور چین جیسے ترقی یافتہ مماملک کو جو چیلنج دیا ہے وہ بحث گفتگو ہے۔ وائرس کچھ دنوں میں ختم ہو سکتا ہے یاہم کوئی ویکسین بنا کر اس کو محدود کر سکتے ہیں لیکن یہ سوچنا غلط ہو گا کہ ہم نا قابل تسخیر ہیں ۔
انسانیت کے سامنے در پیش کئی سوالات
ہم کورونا سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں ؟کورونا کے بعد ہم انسانوں کا کیسا برتاؤ ہونا چاہئے؟ہماری فطرت اور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ۔نئی نسل، جو زندگی کو تیار بہ تیار اور کافی پینے جیسا آسان سمجھتی ہے اب اس کے تئیں ان کا کیسا رویہ ہونا چاہئے ؟ حکومت اب کاروبار کو کیسے چلائے گی، سیاسی لیڈر کی قیادت کیسی ہو گی، ریسرچوں کا ردعمل کیسا ہو گا؟ ان جیسے سوالات کا جواب انسانیت کی بقاء کا فیصلہ کریگا۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا ترقی یافتہ، ترقی پذیر اورپسماندہ ممالک، سپر پاور، جدیدیت، سفید فام، سیاہ فام، ذات، مذہب، سرمایہ، کمیونزم، مصنوعی اور مجازی ذہانت میں تقسیم ہوگئی ہے۔جس سے ہم صرف خود کو برتر اور دوسروں کو ابتر سمجھتے تھے لیکن کورونا وائرس ہمیں ہماری اصل اوقات دکھا رہا ہے ۔ہماری نام نہاد ترقی کی حقیقی قیمت اور قدر دکھا رہا ہے ۔تنے ہی واضح انداز میں جتنی ہمیں اب مریخ کی تصویر دکھائی دے رہی ہے ۔
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔ہر ایک وبا انسان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرکے ان کو درست کرنے کا موقع دیتی ہے ۔
جن لوگوں نے اس اشارے کو نہیں سمجھا انہیں اس سے بہت بڑی سبق سیکھنی پڑی ہے۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ’سیاہ موت‘ نامی وبا جو 1346-1353میں یورپ میں شروع ہوئی اور وسطی ایشیا تک پھیل گئی اس نے اکیلے ہی نصف یورپ کا صفایا کردیا تھا اور جس نے تاریخ کا رخ ہی بدل دیا تھا۔اُس وقت تنخواہوں میں رائج جاگیردارانہ نظام کو اس وبا نے ختم کرکے رکھ دیا ۔اموات کی وجہ سے ان لوگوں کی تنخواہیں بڑھ گئیں جو اس وبا سے محفوظ رہے ۔کہا جا رہا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے ہی بعد میں ٹیکنالوجیکل دریافتیں ہوئیں ۔تاریخ ایسی وباؤں کی بھی گواہ ہے ‘ جیسی پہلی جنگ عظیم میں طاعون‘بھی ممالک کی ایک دوسرے پر اجارہ داری حاصل کرنے کی خواہش اورلالچ پر قابو نہیں پاسکا۔
فطرت کو سمجھ کر ہی ترقی ممکن
ایک گروپ’کلب آف روم‘کا قیام اٹلی میں سنہ 1960 کی دہائی میں آیا، جو اس وقت کورونا وائرس سے جوجھ رہا ہے ۔دنیا کے بیشترسائنسدان، ماہرین اقتصادیات، صنعت کار اور سیاسدان اس گروپ کے ممبران تھے ۔سنہ 1972 میں گروپ نے ایک رپورٹ جس کا عنوان تھا ’ترقی کی حدیں‘ منظر عام پر لائی ۔گروپ نے اس بات کو واضح کیا کہ ترقی کی کچھ اپنی حدیں ہو تی ہیں ۔ دنیا کے ساتھ رشتہ رکھے بغیر انسان کی ترقی کا سفر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارا ماحولیاتی نظام 2100 کے بعد آبادی میں اضافہ اور تیز معاشی ترقی بر داشت نہیں کر پائیگا۔
ریسرچ میں کرڑوں روپے صرف کرنے کے باوجود بھی نادیدہ مائیکرو micro-organisms سے لڑ نہیں پا رہے ہیں ۔ہم تا حال ملیریا کا موثر ویکسین بنا نہیں سکے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی خسرہ بار بار حکومت کو پریشان کرتا رہا ہے ۔آخر دنیا کی بایو میڈیکل ریسرچ کا کیا ہو رہا ہے ؟گرچہ ہم اسے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نام دے رہے ہیں لیکن بیشتر طلباء صرف ٹیکنالوجی میں ہی دلچسپی لے رہے ہیں۔آجکل کے اس تیز رفتار دور میں طلباکالج سے فارغ ہوتے ہی صرف ٹیکنالوجی والی نوکریاں کرنا چاہتے ہیں جن میں لاکھوں روپے کی تنخواہیں ہوتی ہیں‘ ۔ ان میں سے کسی میں نہ سائنس کے تئیں لگاؤ اور دلچسپی ہے اور نہ ریسرچ میں اپنے کئی سال صرف کرنے کا صبر۔
ترقی کا ثمر ہر ایک تک پہنچ جانا چاہیے
موجودہ حالات میں حکومتوں، سربراہان، مملکتوں اور عالمی قیادت کی تمام تر توجہ انتخابات جیتنے پر ہو تی ہے ۔اس کے علاوہ تجارتی تعلقات، جنگیں اور دنیا پر اپنا دبدبہ قائم کرنا ان کی ترجیح ہوتی ہے ۔کون اپنے کھلے دل اور دور اندیشی سے انسانیت کی بقا، فلاح اور بہبودی کے بارے میں سوچتا ہے ؟بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، جن سے دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا ہے، ڈرون کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ہتھیاروںکے حصول میں دلچسپی لی جا رہی ہے لیکن ہمارے لوگوں کی صحت میں بہتری لانے پر کوئی توجہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔
انسانیت کی یہ ایک بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سیاسی پنڈت کسی کام نہ آنے والے ڈاکٹرین اور نظریات پر بحث کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فلسفہ، کوئی بھی مذہب انسانیت سے بڑا نہیں ہے ۔یہ ایک ایسا سچ ہے جو تاریخ ہمیں بتانے کی کوشش کرہی ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔لیکن اس کے باوجود سرمایہ داری، کمیونزم، دایاں بازو، بایاں بازو اور تمام مذاہب کے نام پر ہم خود فریبی میں مبتلا ہیں۔یہ امریکہ اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک کیلئے محاسبہ کا وقت ہے کہ وہ سوچیں کہ وہ کس راستے پر چل کر دنیا کی رہنمائی کریں گے، تاکہ ضرورت کے وقت انسانیت کی مدد کی جا سکے ، اپنے ذاتی فائدے کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی مدد کی جائے ۔معیار زندگی میں کسی بہتری کے بغیر ترقی کسی کام کی نہیں ہے ۔
ترقی جس میں بقائے باہم کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہو وہ صحیح معنوں میں کوئی ترقی ہے ہی نہیں ۔تمام ممالک بغیر کسی امتیاز کے تنگ نظر سیاسی نظریات کی وجہ سے تکالیف سے دو چار ہیں ۔کم از کم اب لوگوں کیلئے ایک جامع صحت کو تجارتی خواہشات پر ترجیح ہونی چاہیے ۔ ممالک کو پبلک ہیلتھ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے ۔ایک ساتھ یا انفرادی طور پر صحت مند دنیا تمام ممالک کی پہلی ترجیح ہو نی چاہئے ۔دنیا کو اب چونکہ کرونا دبا کا سامنا ہے ‘ اس لئے تمام اختلافات کو بھلا کر تمام ممالک کو ایک ساتھ آگے آ کر ‘ ایک دوسرے سے اشتراک کرکے ریسرچ شیئر کرکے اس بحران پر قابو پانا چاہئے ۔شکوک و شبہات ‘الزامات‘ دغابازیوں سے صرف انسانیت کا خاتمہ ہو گا‘ اس سے خوشی میسر ہو گی اور نہ خوشحالی آئیگی ۔کورونا اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے سوچنے کا انداز بدلنا ہو گا ۔کورونا نے ثابت کیا کہ انسان فانی ہے ۔اس نے ہمیں خبر دا ر کیا کہ ہمیں روبوٹوں اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ رہنے سے پہلے فطرت اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لینا چاہئے ۔اگر ہم تلخ حقائق سے اپنی آنکھیں پھیر لیں گے تو ہم ایک مہلک بحران کی گرفت میں آئیں گے ۔تاریخ کا حوالہ دیتے وقت قبل از مسیح اور بعد از مسیح کے بجائے قبل از کورونا اور بعد از کورونا کہا جائیگا ۔اب جبکہ کورونا وائرس حملہ آور ہوا ہے ہمیں ایک اچھا انسان بن جانا چاہئے … جس میں انسانیت ہو لیکن کیا ہم ایسا بن سکتے ہیں ؟
وائرس سے ہوا بھاری نقصانان
وائرسوں کے نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں ان کے حملے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں ۔ یول فیور، جائیکا، مرس، ایبولا، سوائن فلو، سارس یا کوئی دیگر وائرس انسانیت کو چیلنج کررہا ہے۔عالمی صحت ادارے کو ہر ماہ 5,000 نئی علامات ملتی ہیں یہ اس کا ایک ثبوت ہے ۔عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ان وباؤں کی وجہ سے ہو ئے نقصانات کا حجم سالانہ 57 بلین ڈالر ہے ۔یہ سوچنا غلط ہو گا کہ صرف دو ماملک میں جنگوں سے بھاری نقصان ہوتا ہے ۔
ان نادیدہ مائیکرو آرگنزم کیخلاف جد وجہد کی زیادہ قیمت چکانی پڑیگی اگر دانشمندگی سے کام نہیں لیا گیا۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
