پاکستان
برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج آمنے سامنے
برصغیر کی دو ایٹمی طاقتیں ہند وستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے حدمتارکہ (لائن آف کنٹرول )پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جسکے نتیجے میں کپوارہ میں 3 عام شہری ہلاک اورمتعدد عام شہری زخمی ہوئے، جبکہ دونوں فریق لڑائی شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں ۔
کے این ایس کے مطابق طرفین کے مابین کا تازہ گولہ باری کا تبادلہ ضلع پونچھ کے قصبہ اور کیرنی سیکٹروں میں ہوا ،جس دوران دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے پر جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا ۔ جموں میں مقیم دفاعی ترجمان نے بتایا کہ اتوار 1بجکر 40منٹ پر پاکستانی رینجروں نے پونچھ کے قصبہ اور کیرنی سیکٹروں میں سیز فائر سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی مارٹر گولے داغے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے فوج کے اگلی مو رچوں اور آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا ۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان کی کارروائی میں بھارتی فوج یا آبادی کو کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے مسلسل کی جارہی سیز فائر سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کا بھر پور جواب دیا جارہا ہے،تاہم قصبہ میں ایک عام شہری شوکت احمد ولد جلال الدین ساکنہ قصبہ زخمی ہوا ۔
ان کا کہناتھا کہ گزشتہ کئی د نوں سے پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کی جس دوران پاکستانی فوج نے ہیرا نگر کٹھوعہ ،بالاکوٹ پونچھ اور دیگر کئی سیکٹروں میں گولہ باری کی ،جس کا بھر پور جواب دیا جارہا ہے ۔ بالا کوٹ میں ایک خاتون کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ کئی رہائشی ڈھانچوں کو نقصان بھی پہنچا اور مویشی بھی ہلاک ہوئے ۔ اس کے علاوہ کھیتوں کو باری گولہ باری کے نتیجے میں نقصان پہنچا ۔
اس دوران نامہ نگار نے پونچھ سے اطلاع دی ہے کہ مینڈھر تحصیلدار کی قیادت میں تحصیل انتظامیہ کی ایک ٹیم نے اتوار کو بالا کوٹ میں ایل او سی شیلنگ کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو پہنچے نقصانات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے متاثرین کی یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ اُنہیں ہر طرح کی سہولیت فراہم کرے گی ۔ ادھر پاکستانی میڈیا رپورٹسکے مطابق پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا ہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ چری کوٹ، شکر گڑھ اور ورکنگ باوَنڈری پرگولہ باری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج جان بوجھ کر سویلین آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے، بھارتی اشتعال انگیزی سے چری کوٹ سیکٹر میں 35 سال کا شہری اور شکر گڑھ کے گاؤں ننگل کا 57 سالہ بزرگ شدید زخمی ہوا ۔
واضح رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ بھارتی فوج نے گزشتہ روز بھی شاردہ، شاہ کوٹ، ڈھڈیال سیکٹر پر بلا اشتعال گولہ باری کی جب کہ چند روز قبل بھی پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرا یا تھا ۔ ادھر سرینگر میں مقیم دفاعی ترجماننے پاکستانی فوج پر ’جنگ بندی لائن کی قریب اگلے مورچوں اور دیہات پر حملے کرکے لڑائی کے آغاز‘ کا الزام لگایا ہے ۔ انہوں نے کہ’پاکستانی افواج نے ہفتے کی صبح پھر سے جارحیت شروع کی اور چھوٹے ہتھیاروں سے شدید نوعیت کی شیلینگ کی، جسکا بھارتی فوج نے مناسب جواب دیا‘ ۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ایک معمول بن گئی ہیں ،دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی خاص طور پر اگست 2019 کے بعد سے بہت بڑھی ہے، جب مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی، جو آئین ہندکے تحت ملی ہوئی تھی ۔ پاکستان نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے ۔
پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی چین کی مدد سے یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا ۔ لیکن، نئی دہلی نے اسے غیر ملکی مداخلت قرار دیا اور کہا ہے کہ کشمیر کو دی گئی حیثیت کو ختم کرنا اس کا اندرونی معاملہ ہے ۔ ادھر شام دیر گئے ملی تفصیلات کے مطابو چوکی بل سیکٹر میں آر پار گولہ باری کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک ہوگئیں ،جسکی شناخت شمیمہ بانو کے بطور ہوئی ۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق کپوارہ کے مذکورہ سیکٹر میں 3عام شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مہلوکین میں 2بچے بھی شامل ہیں ۔ یہاں صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جارہی ہے ۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
