تازہ ترین
دنیا میں وائرس سے تقریباً 22 لاکھ افراد متاثر، لاک ڈاؤن میں نرمی پر خدشات
دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے تاحال 21 لاکھ 92 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، چین کے شہر ووہان میں اموات سے متعلق فراہم کردہ نئے اعداد و شمار سے بیجنگ کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔
ایک طرف ترقی یافتہ ممالک نے لاک ڈاؤن میں قدرے نرمی کا اعلان کیاجارہا ہے تو محدود طبی وسائل اور کمزور معیشت کے حامل ترقی پذیر ممالک بھی لاک ڈاؤن میں لچک چاہتے ہیں لیکن عالمی اداروں نے خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اس حوالے سے خبردار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں اموات کے اعدادو شمار میں تقریبا ً 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
چینی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ کچھ ماہ کے ڈیٹا کی دوبارہ جانچ کی گئی ہے جس کے بعد ووہان میں ہونے والی اموات میں مزید ایک ہزار 290 ہلاکتوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد صوبے میں مجموعی اموات 3 ہزار 896 جبکہ ملکی سطح پر 4 ہزار 600 سے زائد ہوگئیں۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کیلئے عوام کا دباؤ
لبنان سمیت دیگر مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا چاہتے ہیں لیکن عالمی اداروں نے خبردار کیا کہ مغربی ممالک کی تقلید کے نتیجے میں ان کے لیے صحت کے حوالے سے بڑا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ادھر لبنان کی ضکومت پر ان کی عوام کا شدید دباؤ ہے کہ وہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرے۔
واضح رہے کہ لبنان میں گزشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے اور ملک میں ناقص اور انتہائی محدود پیمانے پر طبی نظام کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے وائرس پھیلا تو نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
عالمی بینک میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے چیف ماہر معاشیات رباع آرزکی نے کہا کہ اس وقت ناکافی ٹیسٹنگ اور عدم شفافیت گمراہ کن فیصلے کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوگا، ہمیں اپنے فیصلے اعداد و شمار اور متعلقہ مواد کے تناظر میں لینے ہوں گے۔
قطر کی لبنان کو طبی سامان کی فراہمی
قطر نے وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے لبنان کو طبی امداد کی کھیپ پہنچا دی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی (کیو این اے) کے مطابق وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے لبنان کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے حکم پر امدادی سامان فراہم کیا گیا۔
جرمنی میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان
یورپ کے دیگر ممالک کی طرح جرمنی نے پابندیوں میں قدرے نرمی کا اعلان کردیا جس کے بعد اگلے ہفتے سے بیشتر دکانیں کھل جائے گئیں۔
لیکن جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے خبردار کیا کہ معیشت کو بہت جلد دوبارہ شروع کرنے کا عمل مضوط مراکز صحت کے نظام پر تیزی سے حاوی ہوسکتا ہے۔
مغربی ممالک بھی معاشی بدحالی کا شکار
کورونا وائرس سے مغربی ممالک کو بھی شدید معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔
لیکن مغربی ممالک خصوصاً امریکا نے معاشی بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 22 کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں وائرس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں بتدریج کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
امریکا میں مزید 24 افراد ہلاک ہونے کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 34 ہزار 641 ہوگئی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 لاکھ 78 ہزار ہوگئی ہے جس میں سے 57 ہزار 844 افراد صحتیاب ہوگئے ہیں۔
اگر ریلیف پیکج کے تناظر میں یورپی ممالک کی بات کی جائے تو انہوں نے 550 ارب ڈالر کے پیکج پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور ٹیکس سے متعلق ایسی اصلاحات لانے پر سوچ رہے ہیں جس سے عوام کو بڑا ریلیف مل سکے گا۔
علاوہ ازیں یورپی ممالک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کرگئی اور مجموعی طور پر اب تک 92 ہزار 664 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹے میں اسپین، اٹلی اور برطانیہ میں کوئی اموات ریکارڈ نہیں کی گئی لیکن جرمنی، بیلجیئم اور سوئزرلینڈ میں بالترتیب 41، 306 اور 7 افراد ہلاک ہوئے۔
مذکورہ ممالک میں تازہ اموات کے اعداد وشمار کے بعد وہاں مجموعی طور پر جرمنی میں 4 ہزار 93، بیلجیئم میں 5 ہزار 163 اور سوئزرلینڈ میں ایک ہزار 288 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
عالمی برادری کی ترقی پذیر ممالک کو مدد کی پیشکش
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ وہ ضرورت مند ممالک کو 10 کھر ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب دنیا کے امیر ترین ممالک، ترقی پذیر ممالک خصوصاً افریقہ کے قرضوں کو عارضی طور پر منجمد کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔
سعودی عرب میں مجموعی اموات 83 ہوگئیں
دوسری جانب سعودی عرب میں کورانا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید 518 کیسز کا اضافہ ہوا ہے جبکہ مزید 4 افراد کی موت کے بعد مجموعی اموات 83 تک پہنچ گئی ہیں۔
سعودی عرب کے محکمہ صحت کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 6 ہزار 380 ہوگئی۔
علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کی مجموعی تعداد 83 ہوگئی۔
ادھر سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اسکول کے طلبہ کو بغیر کسی امتحان کے اگلی کلاس میں ترقی دے دی جائے گی۔
سعودی گزیٹ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلے کا اطلاق کنڈرگارٹن، ابتدائی، انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری سطح کے طلبہ پر ہوگا۔
یو اے ای میں وائرس متاثرین کی تعداد 5 ہزار سے متجاوز
متحدہ عرب امارت (یو اے ای) میں کورونا وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 460 نئے متاثرین بھی سامنے آئے۔
یو اے ای میں مزید 61 افراد صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں صحتیاب افراد کی تعداد ایک ہزار 95 ہوگئی۔
اس موقع پر وزارت کی جانب سے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے دونوں ایشائی خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
مسجد الاقصیٰ میں رمضان میں عبادات پر پابندی
مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے بعد مقدس ترین مقام کی حیثیت رکھنے والی مسجد الاقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کو ’کورونا وائرس‘ کے پیش نظر احتیاط کے طور پر رمضان المبارک میں بھی عام نمازیوں کے لیے بند رکھا جائے گا۔
کورونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر فلسطینی حکام نے بیت المقدس میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ یہودیوں اور مسیحیوں کی عبادت گاہوں کو بھی عارضی طور پر بند کردیا تھا، مگر اب حکام نے عبادت گاہوں کی بندش میں مزید توسیع کردی۔
اسرائیل میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 9 ہزار 740 ہوگئی
اسرائیل میں وائرس کے 12 ہزار 855 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے 9 ہزار 740 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
اسرائیل میں تاحال مجموعی طور پر وائرس سے 148 افراد ہلاک جبکہ 2 ہزار 967 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔
علاوہ ازیں اسرائیل میں 182 مریضوں کی حالت نازک ہے جبکہ 129 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
