تازہ ترین
خاتون فوٹو جرنلسٹ سمیت2صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج
جموں و کشمیر پولیس کی (سائبر کرائم برانچ) نے خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کے خلاف ’یو اے پی اے ایکٹ‘ (غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ترمیم شدہ ایکٹ)کے تحت سوشل میڈیا پر ملک مخالف مواد شائع کرنے کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جبکہ دی ہندو کے نامہ نگار پیر زادہ عاشق کے خلاف پولیس تھانہ اننت ناگ میں شوپیان جھڑپ سے متعلق غیر تصدیق شدہ خبر شائع کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔ادھر ایوان صحافت کشمیر (پریس کلب کشمیر) نے خاتون کے صحافی پر مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی مذمت کی۔
اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون،وجے کمار نے صحافتی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خبریں شائع کرنے سے قبل حقائق کو چیک کریں۔کے این ایس کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والی نوجوان فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو سائبر پولیس نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر ملک مخالف اور غیر قانونی مواد پوسٹ کرنے کے خلاف یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔سائبر پولیس نے پریس بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ مسرت زہرہ نوجوانوں کو اپنے فیس بک پوسٹس کے ذریعے ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے کے لیے اکسا رہی تھیں جس کی وجہ سے امن و قانون میں خلل واقع ہونے کا امکان تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ فیس بک صارف ایسا مواد بھی اپ لوڈ کررہی ہیں جو ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی شبیہہ بگاڑنے کے مترادف ہے۔
اس ضمن میں سائبر پولیس نے ایک ایف آئی آر زیر نمبر10/2020زیر سیکشن(یو اے پی اے ایکٹ)کے تحت ان پر مقدمہ درج کیا ہے۔مسرت زہرہ سرینگر کے علمگری بازار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ ہیں جو قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ فری لانس فوٹو گرافر کے طورپر وابستہ ہیں اور ان کا کام ملکی سطح پر کافی سراہا گیا ہے۔مسرت زہرہ نے کہا کہ انہیں اس بارے میں صبح تک کوئی علم نہیں تھا،تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی پولیس کا پریس ریلیز دیکھا،جس میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تفصیلات درج تھیں۔واضح رہے سائبر پولیس نے اس سلسلے میں جاری پریس ریلیز میں انہیں صرف ایک عام فیس بک صارف کے طور پر ظاہر کیا ہے۔
تاہم اس میں انہیں فوٹو جرنلسٹ نہیں لکھا گیا ہے۔ادھر بیان کے مطابق 19فروری کوانگریزی روزنامہ(دی ہندو) کے نامہ نگارپیر زادہ عاشق کی بائی لائن سے شائع ایک فرضی خبر کی اطلاع ملی،جوکہ شوپیان کے انکوانٹر سے متعلق تھی۔بیان کے مطابق خبر کامتن سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا اور خبر کی تفاصیل مکمل طور غلط ہیں جسکی وجہ سے عام لوگوں کے ذہنوں پر خوف طاری ہوا جبکہ ضلع انتظامیہ سے خبر سے متعلق تصدیق نہیں کی گئی۔اس ضمن میں ایک ایف آئی آر81/2020پولیس تھانہ اننت ناگ میں مذکورہ صحافی کے خلاف درج کی گئی اور پوچھ تاچھ کیلئے صحافی کو طلب کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سی آر پی سی کے تحت پولیس پاچھ تاچھ کا حق رکھتی ہے جبکہ دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہے۔
اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے صحافی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غلط خبروں کو شائع نہ کریں،جسکی وجہ سے امن وقانون میں خلل پڑ نے کا خطرہ رہنے کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے۔انہوں نے خبریں شائع کرنے سے قبل انتظامیہ سے تصدیق کرنے کا مشورہ دیا۔اس دوران ایوان صحافت کشمیر (پریس کلب کشمیر) نے بھی ایک بیان جاری کیا،جس میں ترجمان نے بتایا کہ پریس کلب حالیہ دنوں صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں اور مقدمہ مات درج کرنے پر مذمت کرتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ وادی کشمیر میں صحافت آسان نہیں،یہاں ہر وقت صحافیوں کو طرح طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا جبکہ5اگست2019کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران بھی صحافیوں کو پولیس تھانوں میں طلب کیا جاتا ہے اور اُنہیں اپنی اسٹوریز(نیوز رپورٹ) کے بارے میں تفصیل دینے کیلئے کہا جاتا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اسکی ایک مثال خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو ’یو اے پی اے ایکٹ پر مقدمہ درج کرنا ہے۔موصوفہ کو 18اپریل کو سائبر پولیس اسٹیشن ائر کار گو طلب کیا گیا،تاہم پریس کلب اور ڈائریکٹر انفار میشن کی مداخلت کے بعد معاملہ ٹل کیا۔
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
