تازہ ترین
نوائے حق صدائے دل – الطاف جمیل ندوی
جس شخصیت کا تعارف کرانے جارہا ہوں میرے استاد ہیں استاد محترم کی ایک طویل نظم جو کرؤنا وائرس کے سلسلے میں منصہ شہود پر آئی ہے کے سلسلے میں کچھ لب کشائی کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ امت مسلمہ بلخصوص اور وطن عزیز کے مکین بالعموم اس سے استفادہ کر سکیں
کرؤنا وائرس جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر اب تک ہزاروں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر صاحب دل پریشان ہے ہر آنکھ اشک بار ہے ہر چہار جانب سے موت جیسی خاموشی دنیا کے بڑے بڑے ممالک بے کسی کے حال میں پریشان و سرگرداں اسی طرح وطن عزیز کا حال بھی دن بہ دن پریشان کن ہے
آئے روز کہیں نہ کہیں سے اس موذی مرض کے شکار افراد کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے جس کا تدراک کرنے کے لئے صاحب اقتدار و ذی شعور لوگ مختلف بچاؤ کے طریقے بتا رہے ہیں ایسے میں بارہمولہ ضلع کے توحید گنج محلہ کے مشہور ادراے دارلعلوم المصطفوی کے صدر مفتی شیخ الحدیث السید مفتی عبد الرحیم الحسنی مدظلہ العالی بھی خاموش نہ رہ سکے ویسے ان کا اپنا طریقہ تعلیم و تعلم ہے اسی سے ۱۹۹۲ سے وابستہ ہیں اپنی سند فراغت کے بعد سے پر کبھی کبھار کسی موضوع پر نظم نثر پر بھی لب کشائی کرتے ہیں جب کہ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ میں کوئی شاعر نہیں ہوں پر جب بھی کوئی افتاد آتی ہے تو دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے اور میں کچھ لکھ لیتا ہوں اس غرض سے کہ امت کا فائدہ ہو ہر صاحب ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ امت کا غم اٹھائے دل آزردہ رہتا ہے گرچہ زمانہ طالب علمی سے ہی کبھی کبھار اشعار کہتے تھے پر پہلی بار
پہلی بار مولانا اپنے استاد و مرشد کی وفات پر ایک طویل نظم لکھی جو النور دارلعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ میں شائع بھی ہوئی تھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
برق بن کر یہ خبر ہم پے گری ہے ناخدا
کہ آج حضرت تھانوی کا خلف صادق چل بسا
حضرت مدنی کا اک تلمیذ راشد چل بسا
ضامن و قاسم گنگوہی کا نائب چل بسا
سارے ہند و پاک کا شیخ طریقت چل بسا
یورپ افریقہ کا تاج شریعت چل بسا
ختم نبوت کے ایمانی عقیدہ پر ایک بڑی نظم بھی لکھی جب قادیانی فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ امت کے اجتماعی عقیدے پر ضرب لگانے کے لئے مشغول ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت رکھنے والے ہر صاحب ایمان کا دل تڑپ جانا اس مسئلہ پر کامل ایمان کی علامت ہے ویسے ہی مفتی عبد الرحیم صاحب بھی تڑپ اٹھے اور زبان و دل سے ایک ہدیہ عقیدت منسہ شہود پر آیا جس کا ایک بندھ کچھ یوں ہے
ہم ختم نبوت کے پروانے باطل کو جھکا کر دم لیں
یا ختم نبوت کی خاطر سر اپنا کٹا کر دم لیں گئے
سانحہ بابری مسجد ہوا تو مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس پر بھی ایک طویل نظم لکھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
بابری مسجد نہیں ہے یہ ہے بیت ذوالجلال
کیوں ہے تو ہندی مسلماں پابہ زنجیر ملال
کیا نہیں ہے یاد تجھ کو فیل بانوں کا وہ حال
جس کا ناطق سورہ الفیل میں قرآن ہے
استاد محترم مفتی عبد الرحیم صاحب کہتے ہیں کہ
وقت وقت پر یہ کیفیت رہتی ہے کہ دل اداس ہوجائے کسی بات پر تو دل زبان و قلم کا رفیق بن کر مجھ سے کہلواتا ہے اس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے کہ امت پر آئی مصیبت پر میرے جذبات میری زبان پر آجاتے ہیں اور میں انہیں نوک قلم کے سپرد کردیتا ہوں صرف اس غرض سے کہ شاید امت کے کام آجائیں اور میرا نام بھی ان پاک سیرت و پاکیزہ خصائل صالح مزاج لوگوں میں شامل ہوجائے جو امت کے لئے تڑپتے رہتے ہیں میری تمنا ہے کہ امت مسلمہ ہر حال میں ہر مصیبت سے محفوظ رہے اور میں اپنے جذبات و تاثرات امت تک پہنچانے کی سعی کرتا ہی رہتا ہوں
میری اوقات ایک عام سی طالب علم کی سی ہے پر امت مسلمہ کے غم سے دل آباد ہے اور اسی کیفیت کا نتیجہ اب بھی سامنے آیا کہ اس مصیبت کے وقت جب پوری دنیا حیرت زدہ ہے کہ اب کیا کیا جائے تو حضرت استاد محترم نے رجوع الی اللہ کی ترغیب دے دی اپنی اس نظم میں جو اس کرؤنا وائرس کی وبائی صورت حال میں ان کی زبان پے آئی جس میں تعلق باللہ کی دعوت دی گئی ہے اس
نظم پر لب کشائی کا حکم ہے اس لئے اپنے مربی و محترم کے حکم کا احترام کرتے ہوئے اس پر لب کشائی کی جرآت کر رہا ہوں ورنہ میری اپنی اتنی اوقات ہی نہیں
نظم عربی زبان میں ہے اس کا ترجمہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ قوسین میں کہیں کہیں پر ہلکا پھلکا سا تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں
نظم بحوالہ کورونا وائرس
از مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم صاحب الحسنی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عِبادَاللہ اَماءَالله مُنادِاللہِ یَدعُونَا
لَئِنْ عُدنَا اِلَی الٳسلام لَانُھْلک بِکَورُونا
اَما آنَ لَکُم اَن تَقرَؤُوْا دَومًا کِتابَ اللہ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَنْ تَسمعُوْا قَولَ نَبِیِّ اللہﷺ؟
اَمَا آنَ لَکُم اَنْ تَسلُکُوْا دَرْبَ رَسُولِ اللہﷺ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَن تَنتَھُوا عَنْ مَّا نَھَاہُ اللہ؟
خدا نے ہم کو پھر لوگو پکارا اپنی رحمت سے
مسلمانو! ذرا اٹھ جاؤ اب تو خوابِ غفلت سے
لگاؤ دل ہمیشہ میرے قرآن کی تلاوت سے
رسول اللہ کی باتوں سے نبیّ اللہ ﷺ کی سنت سے
کبھی ہرگز بھٹکنا مت عبادت اور طاعت سے
کبھی نزدیک مت جانا گناہوں اور بغاوت کے
مسلمانو! چلو احکام پر، رب کے منادی کے
تمہیں پھر وہ بچائے گا کرونا کی تباہی سے
( نظم کے پہلے ہی بند میں استاد محترم لوگوں کو اس جانب توجہ دلا رہے ہیں تعلق باللہ ہی اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے جس کا طریقہ اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ میں پوشیدہ ہے کبھی کسی بھی صورت میں اس سے منہ نہ پھیرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے یہ ضامن ہے ہماری بقاء و کامیابی کے لئے )
اَلَمْ نَبکِ بِمَا نَسمَع بِتَھدِیدَاتِ کَورُونَا؟
اَلمْ نُخبَر بِاَمرِاللہِ قَد ھزَّا بِہِ الصِّینَا؟
اَلم نُنذَر بِمَاحَاقَ بِاُورُوبَا وَ اَمرِیکَا؟
اَلم نُؤمِن بِقُرآنٍ وَّصَدَّقنَاہُ تَصدِیقًا؟
کرونا کی تباہی نے نہیں تم کو رُلایا کیا؟
نہیں وُوہان و چینا میں فساد اس نے مچایا کیا؟
یوروپ و امرِکا ایراں نہیں اس نے ہلایا کیا؟
نہیں عبرت پکڑنا ہم کو قرآں نے سکھایا کیا؟
( یہاں استاد محترم اس کی تباہ کاریاں بتا رہے ہیں جس سے کہ ہم پوریطرح واقف ہیں کہ اس نے دنیا کی بادشاہت اور چودراہٹ کو کیسے بے بس و لاچار کردیا عبرت کا مقام ہے )
مِنَ الکَعبَة مِنَ الرَّوضَة مِنَ الآثَارِ اُخرِجنَا
مِنَ الآیَاتِ وَالاَھوَالِ وَالاَزمَاتِ اُنذِرنَا
مِنَ الاَیَّامِ ذُکِّرنَا مِنَ العِصیَانِ زُجِّرنَا
وَلکِنْ! لَلاَسَفْ اِنَّا لَمَا زِلنَا کَمَا کُنَّا
نکالا ہم کو کعبہ سے نبیﷺ کے پاک روضے سے
ڈرایا خوف سے، بحراں سے، آثارِ قیامت سے
سنائے ہم کو عبرت کےلئے نبیوں کے سب قصے
نہیں سنبھلے جو پھر بھی ہم، تو ذلت کے پڑے ڈنڈے
خدائے پاک نے ہم کو جھنجھوڑا ہر طریقے سے
مگر افسوس ہم ویسے ہی ہیں، جیسے کہ پہلے تھے
( یہاں استاد محترم کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی اللہ کے تئیں غفلت کا انجام یہ ہوا کہ ہم کعبہ و روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی اب محروم ہوگئے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں بار بار اس سلسلے میں حکم سنایا تھا سابقہ اقوام کے قصص انبیاء کرام علیہ السلام سے دوری کے سبب آنے والے مصائب کا شکار ہونے والے لوگوں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا جس کا گواہ کلام الہی ہے رب نے ہمیں مختلف طریقوں سے باخبر کیا تھا پر ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے وائے حسرتا)
فَیَا أََسَفا عَلیٰ مَنْ لَّم یَذُقْ طُعْمَ العِبَادَاتِ
وَیَا وَیْحٰى! لِمَن لّم یَنتَبِهْ رَغْمَ العَذَابَاتِ
وَیٰحَسرَةْ عَلی مَن عَاشَ فِی بَحرِ الضَّلَالَاتِ
وَطُوبٰى لِلَّذِی اِزدَادَ اِیمَانًابِاٰیَاتِی
وہ کیا بندہ ہوا جس نے نہ طاعت کا مزہ چکّھا
مصائب جھیل کر بھی جو نہیں سنبھلا نہیں بدلا
بہت افسوس اس پر جو گناہوں سے رہا چمٹا
اصل بندہ تو وہ ہے جس کا ایماں خوب تر چمکا
( اللہ تعالی کا بندہ کیسا ہونا چاہئے یہ ہم نہ سمجھ سکے کیا اسے بھی بندگی کہتے ہیں کہ معبود مژدہ حق و فلاح سنائے اور بندہ غفلت میں ہی پڑا رہے اصل بندہ وہی ہے اپنے معبود کا جو جلد سمجھ جائے رب کے احکام و فرامین کو غفلت میں نہ پڑا رہے اور ہر لمحہ باخبر رہے اپنے رب کے احکام و فرامین سے )
فَتُوبُوا یَا عِبَادَاللہ اِلی الرَّحْمٰنِ مَولٰکُمْ
وَعُضُّو بِاالنَّوَاجِذِ مَا رَسُولُ اللہِ اَوصٰکُمْ
یُثِبْکُمْ جَنَّتَ الْخُلدِ وَ رَبُّ العَرْشِ حَیَّاکُمْ
یُزَوِّجُکُمْ بِحُورِ العِینِ فَمَاذَا بَعْدُ اَعْیَاکُم؟
اسی رحمت کے مالک سے عفو کی بھیک تو مانگو
گرہ میں تم نبیﷺ کی ہر وصیت کو ذرا باندھو
رضائے حق کو پاکر خلد میں اس سے سلامیں لو
بیاھے گا تمہیں حوروں سے کیوں کیا اب بھی عاجز ہو؟
( اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے مالک تمہارا تمہیں اب بھی نوید فلاح سنا رہا ہے کہ پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف وہ عفو و درگزر کرنے والا ہے اپنے بندوں کی غلطیوں سے بس شرط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اپنانا ہوگا ان کی سنن سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا بدلے میں خلد کی کامیابی ملے گی
بُعِثْتُمْ اُمَّةً وّ سَطًا اِلَى النَّاسِ بِفُرقَانِ
لِتَدْعُوھُم اِلی الخَیْرِ بِمَوعِظَةٍ وَّ سُلطَانِ
وَتُنجُوْھُم مِنَ النَّارِ وَ اِھلَاکٍ وَّ خُسرَانِ
فَقُومُوْا کَی تَنَالُوا حَظَّ مَغفِرَةٍ وَّ رِضوَانِ
تم ہی تو خیرِ امت ہو خلائق پر نگہباں ہو
بچاؤگے جہنم سے سبھی کو وہ مہرباں ہو
ہدایت کی طرف دو سب کو دعوت حق کے پروانو
خدا راضی رہے گا اور بخشے گا مسلمانو
( آئے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو تم کی اب آخری امت ہو تمہارے ذمہ ہے کہ دعوت دین کا فریضہ انجام دو جنت کی خوشخبری سناؤ اور جہنم کا ایندھن بننے سے لوگوں کو بچاؤ رب کی رحمت کے سایہ میں انسانیت کو لے آو آئے حق کے شیدائیو اسی سے رب کی رضا نصیب ہوگئی اور بخشش کی نوید بھی آئے گئی )
اُمِرنَا بِالطَّھُورِ وَ البَقَاءِ فِی مَنَازِلِنَا
اَطَعْنَا اَلرَّسُوْلَ اِذ عَبَدْنَا فِی مَعَازِلِنَا
وَصِرنَا حِلسَ بَیتٍ مَا حُرِمْنَا مِنْ مَّسَاجِدِنَا
اَخَذْنَا بَیْتَنَا کَھفًا وَّ نَتلُوْا مِن مَّصَاحِفِنَا
ہوا ہے حکم گھر میں بیٹھنے کا اور عبادت کا
الگ محتاط رہ کر خوب بچنے کا نظافت کا
ملا کیا خوب موقع اس سے اذکار و تلاوت کا
کہف میں رہ کے رونے کا ،نبی کی پاک سنت کا
( محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گھروں میں رہو تو اس تنہائی میں تم رب سے لو لگا لو اور الگ رہے اس وبا کے دوران آپسی اختلاط سے اور خوب پاکیزگئی طہارت کا خیال رکھا یہ تنہائی کرون ٹائن ایک موقعہ ہے کہ اس میں اللہ کو یاد کیا جائے اور قرآن کریم سے استفادہ کرنے کا ایک موقعہ ہے غنیمت جان لو تنہائیوں میں آنسو بہا کر رب سے عفو مانگیں گناہوں پر اظہار ندامت کریں یہی طریقہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
فَعَ فوًا رَبَّنَا تُبنَا فَطَھِّرنَا وَ فَقِّھْنَا
وَاَرشِدنَا وَ ثَبِّتنَا عَلی الدِّینِ وَ وَفِّقنَا
وَبَارِک فِی مَعِیشَتِنَا عَلی الاَعدَاءِ فَانصُرْنَا
وَاَبعِدْنَا عَنِ الأَمرَاضِ وَ الآفَاتِ مَا دُمْنَا
بخشدے پاک کردے ہم کو یارب سب گناہوں سے
سمجھ دے دین کی توفیق دے کر استقامت دے
ہدایت دے بچا ہم کو سبھی مرضوں وباؤں سے
معیشت میں فراخی دے سبھی اعداء پہ نصرت دے
( آخر پر یہ دعائیہ اشعار اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ہمیں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے رب الکریم کہ ہم دعائیں کریں اپنے پیارے رب کے حضور کہ بخش دے مولا تیرے سوا ہمارا کون ہے جس کے در پے ہم فریاد کریں گئے کون ہے سوائے تیرے جو ہماری دستگیری فرمائے)
شروع میں تصور بندگی آخر پر تصور معبود کے ساتھ اپنے معبود پر کامل بندگی کا اظہار کرنے کی ترغیب بس یہی ہے اسلام کا آفاقی پیغام کہ رب الکریم کی بندگی کی جائے مصائب مشکلات میں مومن کو چاہئے کہ خوب تعلق باللہ مضبوط کرے اپنے مشکلات کا حال رب کے حضور بیان کرے وہی تو ہے جو بندوں کی ہر حال میں مدد و اعانت کرتا ہے اور اس درمیان جو بھی ہو اسے رب کا حکم جان کر رب سے تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے نہ کہ مصائب و آلام کے زمانے میں رب الکریم کا در چھوڑ کر بیھٹا جائے احتیاط تدبر تفکر اور توکل یہ سب باتیں جڑ جائیں تو اللہ تعالی عنقریب اس مصیبت سے نجات عطا فرمائیں گئے
آخر پر اپنے استاد محترم سے التماس ہے کہ میرے قلم کو رونق آپ کے ہی دم سے ملی ہے التماس ہے کہ دعا کریں کہ اس قلم کی نوک سدا بہار رہے اور استعمال رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے والسلام
الطاف جمیل ندوی
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
