تازہ ترین
نوائے حق صدائے دل – الطاف جمیل ندوی
جس شخصیت کا تعارف کرانے جارہا ہوں میرے استاد ہیں استاد محترم کی ایک طویل نظم جو کرؤنا وائرس کے سلسلے میں منصہ شہود پر آئی ہے کے سلسلے میں کچھ لب کشائی کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ امت مسلمہ بلخصوص اور وطن عزیز کے مکین بالعموم اس سے استفادہ کر سکیں
کرؤنا وائرس جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر اب تک ہزاروں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر صاحب دل پریشان ہے ہر آنکھ اشک بار ہے ہر چہار جانب سے موت جیسی خاموشی دنیا کے بڑے بڑے ممالک بے کسی کے حال میں پریشان و سرگرداں اسی طرح وطن عزیز کا حال بھی دن بہ دن پریشان کن ہے
آئے روز کہیں نہ کہیں سے اس موذی مرض کے شکار افراد کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے جس کا تدراک کرنے کے لئے صاحب اقتدار و ذی شعور لوگ مختلف بچاؤ کے طریقے بتا رہے ہیں ایسے میں بارہمولہ ضلع کے توحید گنج محلہ کے مشہور ادراے دارلعلوم المصطفوی کے صدر مفتی شیخ الحدیث السید مفتی عبد الرحیم الحسنی مدظلہ العالی بھی خاموش نہ رہ سکے ویسے ان کا اپنا طریقہ تعلیم و تعلم ہے اسی سے ۱۹۹۲ سے وابستہ ہیں اپنی سند فراغت کے بعد سے پر کبھی کبھار کسی موضوع پر نظم نثر پر بھی لب کشائی کرتے ہیں جب کہ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ میں کوئی شاعر نہیں ہوں پر جب بھی کوئی افتاد آتی ہے تو دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے اور میں کچھ لکھ لیتا ہوں اس غرض سے کہ امت کا فائدہ ہو ہر صاحب ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ امت کا غم اٹھائے دل آزردہ رہتا ہے گرچہ زمانہ طالب علمی سے ہی کبھی کبھار اشعار کہتے تھے پر پہلی بار
پہلی بار مولانا اپنے استاد و مرشد کی وفات پر ایک طویل نظم لکھی جو النور دارلعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ میں شائع بھی ہوئی تھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
برق بن کر یہ خبر ہم پے گری ہے ناخدا
کہ آج حضرت تھانوی کا خلف صادق چل بسا
حضرت مدنی کا اک تلمیذ راشد چل بسا
ضامن و قاسم گنگوہی کا نائب چل بسا
سارے ہند و پاک کا شیخ طریقت چل بسا
یورپ افریقہ کا تاج شریعت چل بسا
ختم نبوت کے ایمانی عقیدہ پر ایک بڑی نظم بھی لکھی جب قادیانی فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ امت کے اجتماعی عقیدے پر ضرب لگانے کے لئے مشغول ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت رکھنے والے ہر صاحب ایمان کا دل تڑپ جانا اس مسئلہ پر کامل ایمان کی علامت ہے ویسے ہی مفتی عبد الرحیم صاحب بھی تڑپ اٹھے اور زبان و دل سے ایک ہدیہ عقیدت منسہ شہود پر آیا جس کا ایک بندھ کچھ یوں ہے
ہم ختم نبوت کے پروانے باطل کو جھکا کر دم لیں
یا ختم نبوت کی خاطر سر اپنا کٹا کر دم لیں گئے
سانحہ بابری مسجد ہوا تو مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس پر بھی ایک طویل نظم لکھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
بابری مسجد نہیں ہے یہ ہے بیت ذوالجلال
کیوں ہے تو ہندی مسلماں پابہ زنجیر ملال
کیا نہیں ہے یاد تجھ کو فیل بانوں کا وہ حال
جس کا ناطق سورہ الفیل میں قرآن ہے
استاد محترم مفتی عبد الرحیم صاحب کہتے ہیں کہ
وقت وقت پر یہ کیفیت رہتی ہے کہ دل اداس ہوجائے کسی بات پر تو دل زبان و قلم کا رفیق بن کر مجھ سے کہلواتا ہے اس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے کہ امت پر آئی مصیبت پر میرے جذبات میری زبان پر آجاتے ہیں اور میں انہیں نوک قلم کے سپرد کردیتا ہوں صرف اس غرض سے کہ شاید امت کے کام آجائیں اور میرا نام بھی ان پاک سیرت و پاکیزہ خصائل صالح مزاج لوگوں میں شامل ہوجائے جو امت کے لئے تڑپتے رہتے ہیں میری تمنا ہے کہ امت مسلمہ ہر حال میں ہر مصیبت سے محفوظ رہے اور میں اپنے جذبات و تاثرات امت تک پہنچانے کی سعی کرتا ہی رہتا ہوں
میری اوقات ایک عام سی طالب علم کی سی ہے پر امت مسلمہ کے غم سے دل آباد ہے اور اسی کیفیت کا نتیجہ اب بھی سامنے آیا کہ اس مصیبت کے وقت جب پوری دنیا حیرت زدہ ہے کہ اب کیا کیا جائے تو حضرت استاد محترم نے رجوع الی اللہ کی ترغیب دے دی اپنی اس نظم میں جو اس کرؤنا وائرس کی وبائی صورت حال میں ان کی زبان پے آئی جس میں تعلق باللہ کی دعوت دی گئی ہے اس
نظم پر لب کشائی کا حکم ہے اس لئے اپنے مربی و محترم کے حکم کا احترام کرتے ہوئے اس پر لب کشائی کی جرآت کر رہا ہوں ورنہ میری اپنی اتنی اوقات ہی نہیں
نظم عربی زبان میں ہے اس کا ترجمہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ قوسین میں کہیں کہیں پر ہلکا پھلکا سا تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں
نظم بحوالہ کورونا وائرس
از مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم صاحب الحسنی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عِبادَاللہ اَماءَالله مُنادِاللہِ یَدعُونَا
لَئِنْ عُدنَا اِلَی الٳسلام لَانُھْلک بِکَورُونا
اَما آنَ لَکُم اَن تَقرَؤُوْا دَومًا کِتابَ اللہ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَنْ تَسمعُوْا قَولَ نَبِیِّ اللہﷺ؟
اَمَا آنَ لَکُم اَنْ تَسلُکُوْا دَرْبَ رَسُولِ اللہﷺ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَن تَنتَھُوا عَنْ مَّا نَھَاہُ اللہ؟
خدا نے ہم کو پھر لوگو پکارا اپنی رحمت سے
مسلمانو! ذرا اٹھ جاؤ اب تو خوابِ غفلت سے
لگاؤ دل ہمیشہ میرے قرآن کی تلاوت سے
رسول اللہ کی باتوں سے نبیّ اللہ ﷺ کی سنت سے
کبھی ہرگز بھٹکنا مت عبادت اور طاعت سے
کبھی نزدیک مت جانا گناہوں اور بغاوت کے
مسلمانو! چلو احکام پر، رب کے منادی کے
تمہیں پھر وہ بچائے گا کرونا کی تباہی سے
( نظم کے پہلے ہی بند میں استاد محترم لوگوں کو اس جانب توجہ دلا رہے ہیں تعلق باللہ ہی اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے جس کا طریقہ اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ میں پوشیدہ ہے کبھی کسی بھی صورت میں اس سے منہ نہ پھیرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے یہ ضامن ہے ہماری بقاء و کامیابی کے لئے )
اَلَمْ نَبکِ بِمَا نَسمَع بِتَھدِیدَاتِ کَورُونَا؟
اَلمْ نُخبَر بِاَمرِاللہِ قَد ھزَّا بِہِ الصِّینَا؟
اَلم نُنذَر بِمَاحَاقَ بِاُورُوبَا وَ اَمرِیکَا؟
اَلم نُؤمِن بِقُرآنٍ وَّصَدَّقنَاہُ تَصدِیقًا؟
کرونا کی تباہی نے نہیں تم کو رُلایا کیا؟
نہیں وُوہان و چینا میں فساد اس نے مچایا کیا؟
یوروپ و امرِکا ایراں نہیں اس نے ہلایا کیا؟
نہیں عبرت پکڑنا ہم کو قرآں نے سکھایا کیا؟
( یہاں استاد محترم اس کی تباہ کاریاں بتا رہے ہیں جس سے کہ ہم پوریطرح واقف ہیں کہ اس نے دنیا کی بادشاہت اور چودراہٹ کو کیسے بے بس و لاچار کردیا عبرت کا مقام ہے )
مِنَ الکَعبَة مِنَ الرَّوضَة مِنَ الآثَارِ اُخرِجنَا
مِنَ الآیَاتِ وَالاَھوَالِ وَالاَزمَاتِ اُنذِرنَا
مِنَ الاَیَّامِ ذُکِّرنَا مِنَ العِصیَانِ زُجِّرنَا
وَلکِنْ! لَلاَسَفْ اِنَّا لَمَا زِلنَا کَمَا کُنَّا
نکالا ہم کو کعبہ سے نبیﷺ کے پاک روضے سے
ڈرایا خوف سے، بحراں سے، آثارِ قیامت سے
سنائے ہم کو عبرت کےلئے نبیوں کے سب قصے
نہیں سنبھلے جو پھر بھی ہم، تو ذلت کے پڑے ڈنڈے
خدائے پاک نے ہم کو جھنجھوڑا ہر طریقے سے
مگر افسوس ہم ویسے ہی ہیں، جیسے کہ پہلے تھے
( یہاں استاد محترم کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی اللہ کے تئیں غفلت کا انجام یہ ہوا کہ ہم کعبہ و روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی اب محروم ہوگئے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں بار بار اس سلسلے میں حکم سنایا تھا سابقہ اقوام کے قصص انبیاء کرام علیہ السلام سے دوری کے سبب آنے والے مصائب کا شکار ہونے والے لوگوں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا جس کا گواہ کلام الہی ہے رب نے ہمیں مختلف طریقوں سے باخبر کیا تھا پر ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے وائے حسرتا)
فَیَا أََسَفا عَلیٰ مَنْ لَّم یَذُقْ طُعْمَ العِبَادَاتِ
وَیَا وَیْحٰى! لِمَن لّم یَنتَبِهْ رَغْمَ العَذَابَاتِ
وَیٰحَسرَةْ عَلی مَن عَاشَ فِی بَحرِ الضَّلَالَاتِ
وَطُوبٰى لِلَّذِی اِزدَادَ اِیمَانًابِاٰیَاتِی
وہ کیا بندہ ہوا جس نے نہ طاعت کا مزہ چکّھا
مصائب جھیل کر بھی جو نہیں سنبھلا نہیں بدلا
بہت افسوس اس پر جو گناہوں سے رہا چمٹا
اصل بندہ تو وہ ہے جس کا ایماں خوب تر چمکا
( اللہ تعالی کا بندہ کیسا ہونا چاہئے یہ ہم نہ سمجھ سکے کیا اسے بھی بندگی کہتے ہیں کہ معبود مژدہ حق و فلاح سنائے اور بندہ غفلت میں ہی پڑا رہے اصل بندہ وہی ہے اپنے معبود کا جو جلد سمجھ جائے رب کے احکام و فرامین کو غفلت میں نہ پڑا رہے اور ہر لمحہ باخبر رہے اپنے رب کے احکام و فرامین سے )
فَتُوبُوا یَا عِبَادَاللہ اِلی الرَّحْمٰنِ مَولٰکُمْ
وَعُضُّو بِاالنَّوَاجِذِ مَا رَسُولُ اللہِ اَوصٰکُمْ
یُثِبْکُمْ جَنَّتَ الْخُلدِ وَ رَبُّ العَرْشِ حَیَّاکُمْ
یُزَوِّجُکُمْ بِحُورِ العِینِ فَمَاذَا بَعْدُ اَعْیَاکُم؟
اسی رحمت کے مالک سے عفو کی بھیک تو مانگو
گرہ میں تم نبیﷺ کی ہر وصیت کو ذرا باندھو
رضائے حق کو پاکر خلد میں اس سے سلامیں لو
بیاھے گا تمہیں حوروں سے کیوں کیا اب بھی عاجز ہو؟
( اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے مالک تمہارا تمہیں اب بھی نوید فلاح سنا رہا ہے کہ پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف وہ عفو و درگزر کرنے والا ہے اپنے بندوں کی غلطیوں سے بس شرط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اپنانا ہوگا ان کی سنن سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا بدلے میں خلد کی کامیابی ملے گی
بُعِثْتُمْ اُمَّةً وّ سَطًا اِلَى النَّاسِ بِفُرقَانِ
لِتَدْعُوھُم اِلی الخَیْرِ بِمَوعِظَةٍ وَّ سُلطَانِ
وَتُنجُوْھُم مِنَ النَّارِ وَ اِھلَاکٍ وَّ خُسرَانِ
فَقُومُوْا کَی تَنَالُوا حَظَّ مَغفِرَةٍ وَّ رِضوَانِ
تم ہی تو خیرِ امت ہو خلائق پر نگہباں ہو
بچاؤگے جہنم سے سبھی کو وہ مہرباں ہو
ہدایت کی طرف دو سب کو دعوت حق کے پروانو
خدا راضی رہے گا اور بخشے گا مسلمانو
( آئے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو تم کی اب آخری امت ہو تمہارے ذمہ ہے کہ دعوت دین کا فریضہ انجام دو جنت کی خوشخبری سناؤ اور جہنم کا ایندھن بننے سے لوگوں کو بچاؤ رب کی رحمت کے سایہ میں انسانیت کو لے آو آئے حق کے شیدائیو اسی سے رب کی رضا نصیب ہوگئی اور بخشش کی نوید بھی آئے گئی )
اُمِرنَا بِالطَّھُورِ وَ البَقَاءِ فِی مَنَازِلِنَا
اَطَعْنَا اَلرَّسُوْلَ اِذ عَبَدْنَا فِی مَعَازِلِنَا
وَصِرنَا حِلسَ بَیتٍ مَا حُرِمْنَا مِنْ مَّسَاجِدِنَا
اَخَذْنَا بَیْتَنَا کَھفًا وَّ نَتلُوْا مِن مَّصَاحِفِنَا
ہوا ہے حکم گھر میں بیٹھنے کا اور عبادت کا
الگ محتاط رہ کر خوب بچنے کا نظافت کا
ملا کیا خوب موقع اس سے اذکار و تلاوت کا
کہف میں رہ کے رونے کا ،نبی کی پاک سنت کا
( محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گھروں میں رہو تو اس تنہائی میں تم رب سے لو لگا لو اور الگ رہے اس وبا کے دوران آپسی اختلاط سے اور خوب پاکیزگئی طہارت کا خیال رکھا یہ تنہائی کرون ٹائن ایک موقعہ ہے کہ اس میں اللہ کو یاد کیا جائے اور قرآن کریم سے استفادہ کرنے کا ایک موقعہ ہے غنیمت جان لو تنہائیوں میں آنسو بہا کر رب سے عفو مانگیں گناہوں پر اظہار ندامت کریں یہی طریقہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
فَعَ فوًا رَبَّنَا تُبنَا فَطَھِّرنَا وَ فَقِّھْنَا
وَاَرشِدنَا وَ ثَبِّتنَا عَلی الدِّینِ وَ وَفِّقنَا
وَبَارِک فِی مَعِیشَتِنَا عَلی الاَعدَاءِ فَانصُرْنَا
وَاَبعِدْنَا عَنِ الأَمرَاضِ وَ الآفَاتِ مَا دُمْنَا
بخشدے پاک کردے ہم کو یارب سب گناہوں سے
سمجھ دے دین کی توفیق دے کر استقامت دے
ہدایت دے بچا ہم کو سبھی مرضوں وباؤں سے
معیشت میں فراخی دے سبھی اعداء پہ نصرت دے
( آخر پر یہ دعائیہ اشعار اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ہمیں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے رب الکریم کہ ہم دعائیں کریں اپنے پیارے رب کے حضور کہ بخش دے مولا تیرے سوا ہمارا کون ہے جس کے در پے ہم فریاد کریں گئے کون ہے سوائے تیرے جو ہماری دستگیری فرمائے)
شروع میں تصور بندگی آخر پر تصور معبود کے ساتھ اپنے معبود پر کامل بندگی کا اظہار کرنے کی ترغیب بس یہی ہے اسلام کا آفاقی پیغام کہ رب الکریم کی بندگی کی جائے مصائب مشکلات میں مومن کو چاہئے کہ خوب تعلق باللہ مضبوط کرے اپنے مشکلات کا حال رب کے حضور بیان کرے وہی تو ہے جو بندوں کی ہر حال میں مدد و اعانت کرتا ہے اور اس درمیان جو بھی ہو اسے رب کا حکم جان کر رب سے تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے نہ کہ مصائب و آلام کے زمانے میں رب الکریم کا در چھوڑ کر بیھٹا جائے احتیاط تدبر تفکر اور توکل یہ سب باتیں جڑ جائیں تو اللہ تعالی عنقریب اس مصیبت سے نجات عطا فرمائیں گئے
آخر پر اپنے استاد محترم سے التماس ہے کہ میرے قلم کو رونق آپ کے ہی دم سے ملی ہے التماس ہے کہ دعا کریں کہ اس قلم کی نوک سدا بہار رہے اور استعمال رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے والسلام
الطاف جمیل ندوی
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
