تازہ ترین
دنیا بھر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد29 لاکھ 77 ہزار سے زائد ہوگئی
دنیا بھر کے 188 سے زائد خطوں میں کورونا وائرس سے بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور جہاں اب تک مجموعی تعداد 29 لاکھ 76 ہزار 956 ہوچکی ہے جبکہ 2 لاکھ 6 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز پر نظر رکھنے والے ویب سائٹ کے اعداد وشمار کے مطابق امریکا بدستور پہلے نمبر پر ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے تاہم نئے کیسز سامنے کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکا
امریکا میں کوروناوائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 9لاکھ 76 ہزار 176 ہوگئی۔
کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بدستور بڑھ رہی ہے اور مزید 702 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے اور یوں امریکا میں اب تک کورونا وائرس سے 54 ہزار 958 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اعداد وشمار کے مطابق امریکا میں اب تک صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 1 لاکھ 18 ہزار 633 ہے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد 8 لاکھ 2 ہزار 585 ہوگئی۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کورونا وائرس کی وبا کے باعث جہاں دنیا کے کئی ممالک میں ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
وہیں کورونا وائرس کے باعث دنیا کی نصف آبادی کے گھروں تک محدود رہنے کی وجہ سے دنیا بھر میں جرائم اور مسائل میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم ساتھ ہی کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کی وجہ سے گھریلو تشدد کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں دنیا بھر میں بےروزگاری میں بھی اضافے ہوا ہے۔
اٹلی اور اسپین
کورونا وائرس سے یورپ میں سب سے ہلاکتوں کا سامنا کرنے والا ملک اٹلی ہے جہاں کیسز کی شرح میں کمی آگئی ہے۔
اب تک اٹلی میں مجموعی ہلاکتیں 26 ہزار 644 ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 2 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اسپین میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار 629 ہوگئی جبکہ 23 ہزار کے قریب اموات ریکارڈ کی گئی۔
اسپین میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 2 ہزار 870 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
علاوہ ازیں اسپین میں یومیہ ہلاکتوں میں کمی دیکھی گئی ہے جہاں 24 گھنٹے میں صرف 288 ہلاکتیں ہوئیں۔
کینیڈا میں انسداد ملیریا دوائی کے استعمال کےخلاف انتباہ جاری
کینیڈا میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 46 ہزار 644 جبکہ ہلاکتیں ڈھائی ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔
علاوہ ازیں کینیڈیا نے انسداد ملیریا دوائی ہائیڈروکسی کلورو کوئن کو کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال کے خلاف انتباہ جاری کردیا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ کلوروکوئن اور ہائیڈرو آکسیروکلون کے سنگین ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔
جرمنی میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے
جرمنی میں کیسز کی مجموعی کیسز کی تعداد 1 لاکھ 57 ہزار جبکہ 19 نئی اموات کے بعد تعداد 5 ہزار 896 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب جرمنی میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔
جرمنی میں ایک عرصے سے جاری لاک ڈاؤن کے خلاف ایک ہزار سے زائد افراد نے احتجاج کیا اور احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔
دارالحکومت برلن میں ایک ہزار سے زائد افراد نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی جہاں حکام کی جانب سے انتباہ جاری کیے جانے کے باوجود مستقل چند ہفتوں سے اس احتجاج کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اس احتجاج میں بائیں بازوں کے افراد کی اکثریت موجود تھی لیکن حیران کن طور پر اس مرتبہ احتجاج میں دائیں بازو کے افراد بھی موجود تھے۔
چین کا یورپی یونین پر غلط معلومات کے الزامات کو روکنے کے لیے دباؤ
دوسری جانب چین نے یورپی یونین (ای یو) پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنی ایک رپورٹ کو شائع نہ کرے، جس میں بیجنگ پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات پھیلائی۔
مذکورہ رپورٹ کو چین پر کی گئی تنقید میں نرمی کرنے یا پھر تنقید کو نکال کر ایک متوازن رپورٹ کے طور پر اختتام ہفتہ سے قبل شائع کردیا گیا تھا کیوں برسلز نہیں چاہتا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس کے عالمی تعلقات متاثر ہوں۔
خیال رہے کہ چین میں گزشتہ 10 دن میں کوئی اموات ریکارڈ نہیں کی گئی۔
روس: ’ کورونا وائرس آج کا سب سے بڑا خطرہ ہے ‘
روس میں وائرس سے متاترہ افراد کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 747 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
اس ضمن میں روس میں محکمہ صحت کے افسران نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مئی کی چھٹیوں میں لوگوں نےلاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی تو وائرس کے کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ صحت کے عہدیدار نے بتایا لوگوں کو لازمی طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’کورونا وائرس آج کا سب سے بڑا خطرہ ہے‘۔
سعودی عرب میں کرفیو جزوی طور پر ہٹا لیا گیا
سعودی عرب میں کیسز کی مجموعی تعداد 17 ہزار جبکہ ہلاکتیں 139 ہوگئی ہیں۔
دوسری جانبب سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے احکامات جاری کیے ہیں کہ سعودی عرب بھر میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کرفیو ہٹا دیا جائے تاہم مکہ میں بدستور 24 گھنٹے کرفیو نافذ رہے گا۔
سعودی نیوزی ایجنسی کے مطابق ہول سیل اور ریٹیل کی دکانوں کو 6 رمضان سے 20 رمضان (29 اپریل سے 13 مئی) تک کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس فیصلے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے چین کی کمپنی سے 265ملین ڈالرز کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ انہیں ٹیسٹنگ کٹس فراہم کریں گے۔
ایران: مخصوص علاقوں میں مساجد کھولنے کا فیصلہ
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ملک کے وہ حصے جو مستقل کورونا وائرس سے پاک ہیں، وہاں مساجد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کورونا وائرس سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہاں 5ہزار 700 افراد ہلاک اور 90ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔
حسن روحانی نے کہا کہ ملک میں انفیکشن اور اموات کی مناسبت سے مختلف حصوں کو سیفد، پیلے اور لال رنگ سے جدا کیا جائے گا اور خطے میں سرگرمیاں اسی مناسبت سے محدود کردی جائیں گی۔
نیدرلینڈ میں 655 نئے کیسز، مزید 66 اموات
نیدرلینڈ میں نئے 655 کیسز منظر عام پر آنے کے بعد مجموی تعداد 37 ہزار 845 ہوگئی۔
حکام کے مطابق مزید 66 اموات بھی ریکارڈ کی گئیں۔
ترکی میں کورونا وائرس سے 2ہزار 805افراد ہلاک
ترکی میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ 2ہزار 357 مصدقہ کیسز کا اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
ملک میں 24گھنٹے کے دوران مزید 99 اموات ہوئیں جس سے ترکی میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2ہزار 805 ہو گئی ہے۔
ترکی ایک لاکھ 10ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو مغربی یورپ اور امریکا کے بعد کسی بھی ملک میں متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
دنیا میں اموات کی شرح 60 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے، فنانشل ٹائمز
فنانشل ٹائمز کے مطابق اموات کی جو تعداد بتائی جارہی ہے اس میں مجموعی اموات کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
