تازہ ترین
کورونا وائرس نے آخری رسومات کو بھی تبدیل کردیا
ہر مذہب میں آخری رسومات کے انداز مختلف ہیں، مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف انداز میں اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔مگر کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں آخری رسومات سے جڑی روایات میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کئے گئے رہنما خطوط اور سماجی دور ی کی ہدایات کے تحت کورونا وائرس سے فوت ہونے والے افراد کی تدفین میں گنے چنے لوگ ہی شرکت کرتے ہیں جبکہ تدفین کا سارا عمل پولیس اور انتظامیہ کی نگرانی میں ہوتا ہے،تاکہ کسی طرح کی کوتائی سامنے نہ آجائے۔
کورونا وائرس نے آخری رسومات کو کیسے تبدیل کیا،اُسکی ایک جھلک منگلوار کو اُس وقت کی دیکھنے کو ملی جب پولیس اہلکاروں کو کووڈ۔19سے متاثرہ رعناواری کی فوت خاتون کو سپرد خاک کرنے کیلئے قبر کھودنی پڑی۔ فوت خاتون کے سبھی افراد ِ خانہ کو کورنٹائن میں رکھا گیا،جسکی وجہ سے چند ایک ہی مرحومہ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پڑی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چنانچہ روایتی طور قبر کھود نے والے افراد کیساتھ کوئی رابطہ نہ ہوسکا اور سبھی افراد خانہ کو بھی کورنٹائن میں رکھا گیا،اس لئے پولیس کے اہلکاروں نے مرحومہ کی آخری رسومات سر انجام دیں۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک ویڈ یو بھی وائر ل ہوا،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرحومہ کی قبر پولیس اہلکار کھود رہے ہیں۔مرحومہ کو آبائی قبرستان واقع ملقاہ نزدیک گنڈولہ پروجیکٹ بیرون کاٹھی دروازہ رعناواری میں منگل کی شام کو سپرد لحد کیا گیا۔
مرحومہ کو سانس لینے میں تکلیف کے بعد سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ سرینگر میں علاج ومعالجہ کی خاطر داخل کیا گیا تھا،جہاں اُس کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا اور منگلوار کو اُسکی موت ہوئی۔مذکورہ خاتون کے 40افراد خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو کورنٹائن میں رکھا گیا،جسکی وجہ سے اس کی آخری رسومات میں چند ہی افراد نے شرکت کی جبکہ خاتون کی آخری رسومات کووڈ۔19پرو ٹوکول کے مطابق ہوئیں۔ پولیس کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرحومہ کی آخری رسومات مذہبی اصولوں کے تحت انجام دی گئیں جبکہ اس دوران رہنما خطوط کا خاص خیال رکھا گیا۔پولیس نے اُن رپورٹس کو سختی کیساتھ تردید کی کہ مرحومہ کے اہلخانہ نے اُسکی میت لینے سے انکار کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ خاتون کے سبھی افراد خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو احتیاطی اقدامات کے تحت کورنٹائن میں رکھا گیا جبکہ پروٹوکول کے تحت ہی مرحومہ کی نماز جنازہ میں لوگوں نے شرکت کی۔اس قبل فوت ہونے والے افراد کی بھی پولیس نے تصاویر جاری کیں اور واضح کیا کہ کووڈ۔ 19مرض سے مرنے والے کی گائیڈ لائنز کے تحت ہی آخری رسومات انجام دی جارہی ہے۔
جموں وکشمیر میں اب تک عالمگیر وبا سے8افراد کی موت ہوگئی،جن میں 7کا تعلق کشمیر اور ایک کا تعلق صوبہ جموں سے ہے۔گائیڈ لائنز:عالمی ادارہ صحت نے 24 مارچ کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ۔ 19 سے انتقال کرنے جانے والے افراد کی لاشیں وائرس کو منتقل نہیں کرتیں۔تاہم عالمی ادارے نے رشتے داروں کو میت کو نہ چھونے کا مشورہ دیا جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے سماجی دوری کی ہدایات کے نتیجے آخری رسومات اور تدفین کے عمل میں بھی کافی کچھ تبدیل ہوا۔بھارت اور اسرائیل:بھارت میں اس حوالے سے نئی ہدایات کے تحت آخری رسومات کے دوران20 سے زیادہ افراد کی اجازت نہیں۔اس مرض سے مرنے والوں کی لاشیں جلانے کے بعد راکھ کو دریا میں بہانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔اسرائیل میں ایسے افراد کی لاش کو ایک شیشے کے بوتھ میں رکھا جاتا ہے جہاں سے رشتے دار آخری دیدار کرپاتے ہیں اور تدفین کے عمل میں 20 سے زیادہ لوگوں کو اجازت نہیں، جبکہ یہودی مذہب کی دیگر روایات پر عمل کرنے کی بھی اجازت نہیں، جس کے تحت بیلچے کو چھوا جاتا ہے اور قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔پاکستان اور ترکی:پاکستان میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی نماز جنازہ اور تدفین کے عمل کے حوالے سے باقاعدہ گائیڈ لائنز جاری ہوئی ہیں۔
ان ہدایات کے تحت میت کو غسل دینے کے لیے مناسب حفاظتی ملبوسات کا استعمال ہوگا جبکہ تدفین کے دوران بھی کم لوگوں کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے سماجی دوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ترکی میں بھی پرہجوم رسومات کو فاصلے سے تدفین میں بدل دیا گیا ہے اور صرف ان افراد کو میت کے غسل کی اجازت دی جارہی ہے جو تدفین کے عمل میں بھی شامل ہوں، قریب ترین رشتے دار اس میں شریک ہوں سکیں گے۔امام کی جانب محفوظ فاصلے سے نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، وہاں تابوت کے قریب جانے اور آخری دیدار کی بھی اجازت نہیں۔آئرلینڈ اور اٹلی:آئرلینڈ میں بھی نئے قوانین کا اطلاق ہوا ہے، جس کے تحت گرجا گھروں میں تقریب کی اجازت نہیں، یہاں تک کہ لاش کو بھی فیس ماسک پہنا دیا جاتا ہے، جبکہ تدفین کے دوران بھی کئی، کئی فٹ کا فاصلہ یقینی بنانا ہوگا، ایسی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
اٹلی کے مختلف حصوں میں اب لاشوں کو دفن کرنے کی جگہ انہیں جلایا جارہا ہے کیونکہ تعداد بہت زیادہ بڑھنے سے تدفین کے انتظامات ممکن نہیں رہے۔اسی طرح آخری رسومات کے دوران لوگوں کو اجازت نہیں بلکہ اس کے لیے ورچوئل انتظامات کیے جارہے ہیں۔فرانس اور برازیل:متعدد ممالک میں تدفین میں شرکت کے لیے لوگوں کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے، برازیل اور فرانس دونوں ممالک میں انتظامیہ کی جانب سے لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ تدفین کے دوران10 سے زیادہ لوگوں کی اجازت نہیں ہوگی۔۔چین اور فلپائن:چین میں فروری میں اس حوالے سے ضوابط جاری کرتے ہوئے اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات، تدفین اور دیگر متعلق سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ان ہدایات کے مطابق وائرس سے ہلاک مریضوں کی تدفین کی بجائے ان کی لاشوں کو قریبی مرکز میں جلایا جائے گا، جبکہ کسی کو بھی یعنی رشتے داروں کو اس عمل کے دوران جلانے والے مرکز میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فلپائن میں حکومت کی جانب سے ایک حکم جاری کرتے ہوئے اس مرض سے ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں 12 گھنٹے کے اندر جلانے کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے، تاہم اگر مریض مسلمان ہے تو میت کو سیل بیگ میں رکھ کر قریبی مسلم قبرستان میں مسلم روایات کے مطابق 12گھنٹے میں تدفین کی جائے گی۔
خیال رہے کہ فلپائن میں کیتھولک عیسائی افراد کی تعداد زیادہ ہے جن کی تدفین اور آخری رسومات کا عمل اکثر 3 سے 7دن تک جاری رہتا ہے۔عراق اور ایران: ایران میں بھی سب کچھ پہلے ویسے ہی ہوتا تھا مگر اب تدفین کے عمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کیا جاتا ہے، یعنی حفاظتی ملبوسات اور دور دور رہ کر تدفین ہوتی ہے۔عراق میں بھی اب لوگوں کے اجتماع کی اجازت نہیں اور حفاظتی ملبوسات کے استعمال کے ساتھ سماجی دوری کے اقدامات کو مدنظر رکھ کر یہ عمل مکمل کیا جاتا ہے۔برطانیہ اور اسپین:برطانیہ میں متعدد کونسلز میں تدفین کی تقریبات پر پابندی عائد کی گئی اور خاندانوں کو آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا گیا، جبکہ تدفین کے موقع پر10 سے زیادہ لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔چرج آف انگلینڈ نے بھی گرجا گھروں میں فرنیل سروسز پر پابندی عائد کی ہے تاہم مسلمانوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ غسل اور نماز جنازہ کی اجازت دی گئی ہے۔
اسپین میں بھی اسی طرح کی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے اور لوگوں کو تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ 3 افراد کسی تدفین کے عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔امریکا:امریکا میں بھی حالات مختلف نہیں اور اب وہاں آخری رسومات اور تدفین کے موقع پر زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔اب امریکا بھر میں صرف خاندان کے افراد (10 یا اس سے کم) ہی اس کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ آخری رسومات کو لائیو اسٹریم بھی کیا جاتا ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
