تازہ ترین
کورونا وائرس نے آخری رسومات کو بھی تبدیل کردیا
ہر مذہب میں آخری رسومات کے انداز مختلف ہیں، مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف انداز میں اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔مگر کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں آخری رسومات سے جڑی روایات میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کئے گئے رہنما خطوط اور سماجی دور ی کی ہدایات کے تحت کورونا وائرس سے فوت ہونے والے افراد کی تدفین میں گنے چنے لوگ ہی شرکت کرتے ہیں جبکہ تدفین کا سارا عمل پولیس اور انتظامیہ کی نگرانی میں ہوتا ہے،تاکہ کسی طرح کی کوتائی سامنے نہ آجائے۔
کورونا وائرس نے آخری رسومات کو کیسے تبدیل کیا،اُسکی ایک جھلک منگلوار کو اُس وقت کی دیکھنے کو ملی جب پولیس اہلکاروں کو کووڈ۔19سے متاثرہ رعناواری کی فوت خاتون کو سپرد خاک کرنے کیلئے قبر کھودنی پڑی۔ فوت خاتون کے سبھی افراد ِ خانہ کو کورنٹائن میں رکھا گیا،جسکی وجہ سے چند ایک ہی مرحومہ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پڑی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چنانچہ روایتی طور قبر کھود نے والے افراد کیساتھ کوئی رابطہ نہ ہوسکا اور سبھی افراد خانہ کو بھی کورنٹائن میں رکھا گیا،اس لئے پولیس کے اہلکاروں نے مرحومہ کی آخری رسومات سر انجام دیں۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک ویڈ یو بھی وائر ل ہوا،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرحومہ کی قبر پولیس اہلکار کھود رہے ہیں۔مرحومہ کو آبائی قبرستان واقع ملقاہ نزدیک گنڈولہ پروجیکٹ بیرون کاٹھی دروازہ رعناواری میں منگل کی شام کو سپرد لحد کیا گیا۔
مرحومہ کو سانس لینے میں تکلیف کے بعد سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ سرینگر میں علاج ومعالجہ کی خاطر داخل کیا گیا تھا،جہاں اُس کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا اور منگلوار کو اُسکی موت ہوئی۔مذکورہ خاتون کے 40افراد خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو کورنٹائن میں رکھا گیا،جسکی وجہ سے اس کی آخری رسومات میں چند ہی افراد نے شرکت کی جبکہ خاتون کی آخری رسومات کووڈ۔19پرو ٹوکول کے مطابق ہوئیں۔ پولیس کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرحومہ کی آخری رسومات مذہبی اصولوں کے تحت انجام دی گئیں جبکہ اس دوران رہنما خطوط کا خاص خیال رکھا گیا۔پولیس نے اُن رپورٹس کو سختی کیساتھ تردید کی کہ مرحومہ کے اہلخانہ نے اُسکی میت لینے سے انکار کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ خاتون کے سبھی افراد خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو احتیاطی اقدامات کے تحت کورنٹائن میں رکھا گیا جبکہ پروٹوکول کے تحت ہی مرحومہ کی نماز جنازہ میں لوگوں نے شرکت کی۔اس قبل فوت ہونے والے افراد کی بھی پولیس نے تصاویر جاری کیں اور واضح کیا کہ کووڈ۔ 19مرض سے مرنے والے کی گائیڈ لائنز کے تحت ہی آخری رسومات انجام دی جارہی ہے۔
جموں وکشمیر میں اب تک عالمگیر وبا سے8افراد کی موت ہوگئی،جن میں 7کا تعلق کشمیر اور ایک کا تعلق صوبہ جموں سے ہے۔گائیڈ لائنز:عالمی ادارہ صحت نے 24 مارچ کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ۔ 19 سے انتقال کرنے جانے والے افراد کی لاشیں وائرس کو منتقل نہیں کرتیں۔تاہم عالمی ادارے نے رشتے داروں کو میت کو نہ چھونے کا مشورہ دیا جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے سماجی دوری کی ہدایات کے نتیجے آخری رسومات اور تدفین کے عمل میں بھی کافی کچھ تبدیل ہوا۔بھارت اور اسرائیل:بھارت میں اس حوالے سے نئی ہدایات کے تحت آخری رسومات کے دوران20 سے زیادہ افراد کی اجازت نہیں۔اس مرض سے مرنے والوں کی لاشیں جلانے کے بعد راکھ کو دریا میں بہانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔اسرائیل میں ایسے افراد کی لاش کو ایک شیشے کے بوتھ میں رکھا جاتا ہے جہاں سے رشتے دار آخری دیدار کرپاتے ہیں اور تدفین کے عمل میں 20 سے زیادہ لوگوں کو اجازت نہیں، جبکہ یہودی مذہب کی دیگر روایات پر عمل کرنے کی بھی اجازت نہیں، جس کے تحت بیلچے کو چھوا جاتا ہے اور قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔پاکستان اور ترکی:پاکستان میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی نماز جنازہ اور تدفین کے عمل کے حوالے سے باقاعدہ گائیڈ لائنز جاری ہوئی ہیں۔
ان ہدایات کے تحت میت کو غسل دینے کے لیے مناسب حفاظتی ملبوسات کا استعمال ہوگا جبکہ تدفین کے دوران بھی کم لوگوں کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے سماجی دوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ترکی میں بھی پرہجوم رسومات کو فاصلے سے تدفین میں بدل دیا گیا ہے اور صرف ان افراد کو میت کے غسل کی اجازت دی جارہی ہے جو تدفین کے عمل میں بھی شامل ہوں، قریب ترین رشتے دار اس میں شریک ہوں سکیں گے۔امام کی جانب محفوظ فاصلے سے نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، وہاں تابوت کے قریب جانے اور آخری دیدار کی بھی اجازت نہیں۔آئرلینڈ اور اٹلی:آئرلینڈ میں بھی نئے قوانین کا اطلاق ہوا ہے، جس کے تحت گرجا گھروں میں تقریب کی اجازت نہیں، یہاں تک کہ لاش کو بھی فیس ماسک پہنا دیا جاتا ہے، جبکہ تدفین کے دوران بھی کئی، کئی فٹ کا فاصلہ یقینی بنانا ہوگا، ایسی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
اٹلی کے مختلف حصوں میں اب لاشوں کو دفن کرنے کی جگہ انہیں جلایا جارہا ہے کیونکہ تعداد بہت زیادہ بڑھنے سے تدفین کے انتظامات ممکن نہیں رہے۔اسی طرح آخری رسومات کے دوران لوگوں کو اجازت نہیں بلکہ اس کے لیے ورچوئل انتظامات کیے جارہے ہیں۔فرانس اور برازیل:متعدد ممالک میں تدفین میں شرکت کے لیے لوگوں کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے، برازیل اور فرانس دونوں ممالک میں انتظامیہ کی جانب سے لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ تدفین کے دوران10 سے زیادہ لوگوں کی اجازت نہیں ہوگی۔۔چین اور فلپائن:چین میں فروری میں اس حوالے سے ضوابط جاری کرتے ہوئے اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات، تدفین اور دیگر متعلق سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ان ہدایات کے مطابق وائرس سے ہلاک مریضوں کی تدفین کی بجائے ان کی لاشوں کو قریبی مرکز میں جلایا جائے گا، جبکہ کسی کو بھی یعنی رشتے داروں کو اس عمل کے دوران جلانے والے مرکز میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فلپائن میں حکومت کی جانب سے ایک حکم جاری کرتے ہوئے اس مرض سے ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں 12 گھنٹے کے اندر جلانے کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے، تاہم اگر مریض مسلمان ہے تو میت کو سیل بیگ میں رکھ کر قریبی مسلم قبرستان میں مسلم روایات کے مطابق 12گھنٹے میں تدفین کی جائے گی۔
خیال رہے کہ فلپائن میں کیتھولک عیسائی افراد کی تعداد زیادہ ہے جن کی تدفین اور آخری رسومات کا عمل اکثر 3 سے 7دن تک جاری رہتا ہے۔عراق اور ایران: ایران میں بھی سب کچھ پہلے ویسے ہی ہوتا تھا مگر اب تدفین کے عمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کیا جاتا ہے، یعنی حفاظتی ملبوسات اور دور دور رہ کر تدفین ہوتی ہے۔عراق میں بھی اب لوگوں کے اجتماع کی اجازت نہیں اور حفاظتی ملبوسات کے استعمال کے ساتھ سماجی دوری کے اقدامات کو مدنظر رکھ کر یہ عمل مکمل کیا جاتا ہے۔برطانیہ اور اسپین:برطانیہ میں متعدد کونسلز میں تدفین کی تقریبات پر پابندی عائد کی گئی اور خاندانوں کو آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا گیا، جبکہ تدفین کے موقع پر10 سے زیادہ لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔چرج آف انگلینڈ نے بھی گرجا گھروں میں فرنیل سروسز پر پابندی عائد کی ہے تاہم مسلمانوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ غسل اور نماز جنازہ کی اجازت دی گئی ہے۔
اسپین میں بھی اسی طرح کی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے اور لوگوں کو تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ 3 افراد کسی تدفین کے عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔امریکا:امریکا میں بھی حالات مختلف نہیں اور اب وہاں آخری رسومات اور تدفین کے موقع پر زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔اب امریکا بھر میں صرف خاندان کے افراد (10 یا اس سے کم) ہی اس کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ آخری رسومات کو لائیو اسٹریم بھی کیا جاتا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
