تازہ ترین
کشمیرمیں حاملہ خواتین پرریڈ زون کاکالاسایہ:محکمہ صحت کنفیوژن کا شکار،مریض بے یار و مدد گار
کہتے ہیں کہ درد زہ سے زیادہ کوئی درد نہیں ہوتا لیکن شاہدہ(نام تبدیل) کا درد زچگی کے بعد بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جنوبی کشمیر کے تیل ونی علاقہ کی اس خاتون نے ایک رات میں چار اسپتالوں کی طرف سے ٹھکرائے جانے کے بعد لل دید اسپتال سرینگر میں آج بچی کو جنم تو دیا لیکن یہ خوشی بھی چند منٹوں کی مہمان ثابت ہوئی۔ زچگی کے تھوڑی دیر بعد ہی انکے شوہر جاوید احمد کو بتایا گیا کہ انکی اہلیہ کویڈ19 مثبت پائی گئی ہے۔ بس پھر کیا تھا کشمیر کے واحد زچگی اسپیشلٹی اسپتال میں سراسیمگی پھیل گئی۔ طبی اور نیم طبی عملہ پریشان۔ شاہدہ کے ربط میں آئے اسپتال عملہ کے 10 افراد بشمول دو ڈاکٹر کورنٹاین کردئیے گئے ۔اس سے پہلے کہ شاہدہ کا شوہر خود کو سنبھالتا۔ انہیں نوزاید بچے سمیت ایمبولنس میں ڈال دیا گیا اور اننت ناگ کے کویڈ اسپتال پہنچایا گیا۔ اب شاہدہ زچگی کے رستے زخموں کے ساتھ کویڈ وارڈ میں درد سے کراہ رہی ہے۔
شاہدہ کی یہ درد بھری کہانی کل رات تقریباً8 بجے شروع ہوئی ۔پیٹ میں درد شروع ہوتے ہی اسے میکے والوں نے نزدیکی شانگس کے سرکاری اسپتال پہنچایا۔ انکے شوہر جاوید کے مطابق یہاں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ انکا سسرال تیلونی علاقہ میں ہے جو کویڈ ریڈ زون ہے لہذا نہیں 8 کلو میٹر دور اچھہ بل اسپتال لیا جائے۔” ہم اچھہ بل پہنچے تو وہاں ایک مرد ڈاکٹر ملا۔انہوں نے اننت ناگ کے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ کیر اسپتال ریفر کیا۔ یہاں پر دروازے سے ہی واپس کردیا گیا یہ کہہ کر کہ ریڈ زون کے مریض یہاں ایڈمٹ نہیں ہوسکتے اور درد سے کرہ رہی میری بیوی کو بغیر دیکھیے سرینگر کے سکمز میڈیکل کالج اسپتال ریفر کیا۔ ” جاوید نے کہا۔ تقریباً 100 کلومیٹر کی مسافت طے کرکے سکمز میڈیکل کالج اسپتال پہنچے تو یہاں ایمبولنس سے اترنے کا موقعہ بھی نہیں ملا۔ دروازے سے ہی کہا گیا کہ یہ اسپتال کویڈ19 مریضوں کے لئے ہے ۔ ایک طرف درد سے کراہ رہی مریض اور اس پر در در کی ٹھوکریں مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہمارا قصور کیا ہے؟۔ جاوید نے کہا
ہم آخر کار لل دید اسپتال سرینگر پہنچے تب تک پونے دو بجے تھے۔اندھیرے میں ڈاکٹر شاید ہمارا ریڈ زون کا کلنک دیکھنا بھول گئے یا پھر ہم پر ترس آیا ہوگا۔ جاوید نیوز 18 کو فون پر اپنی بپتا سنا رہا تھا۔ صبح بچی کا جنم ہوا تب جا کے کچھ سکون ملا۔لیکن پھر کویڈ19 مثبت ہونے کی خبر آئی اور ایک نئی مصیبت نے گھیر لیا۔یہ کہتے کہتے جاوید کی آواز بھر گئی۔یہ اکلوتی ایسی کہانی نہیں ہے۔سوال یہ ہئے کہ اگر شاہدہ کی زچگی نارمل طریقہ سے ہوئی تو پھر اسے اننت ناگ ضلع سے اتنی دور ریفر کیوں کیا گیا۔ اننت ناگ کا Mother And Child Health Care Hospital مریضوں کو آئے دن کیوں ٹھکرا رہا ہے۔ یہ سوال جب ہم نے اننت ناگ گورنمنٹ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت گیلانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے معاملہ کی جانکاری لینے کے بعد جواب دینے کی بات کہی لیکن ساتھ ہی انتظامیہ کے نئے ضوابط کی بات کی جس کی رو سے کویڈ ریڈ زون کی زچگی کے معاملے محکمہ ہیلتھ سروسز کے زمہ ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ نئے ضوابط پہلی اپریل کو جاری کئے گئے ہیں یعنی ابھی تک ان معاملات کو دھیان میں نہیں رکھا گیا تھا۔ اننت ناگ کے اسی زچگی اسپتال میں کچھ دن پہلے ایک خاتون اور اسکے دو نو زاید بچوں کی موت ہوئی ۔کویڈ پروٹوکول کو بالائے رکھتے ہوئے لاشیں کویڈ ٹیسٹ رپورٹ آنے سے پہلے ہی لواحقین کے حوالہ کردی گئیں ۔ پانچ سو کے قریب لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی اور جب رپورٹ آئی تو اس میں خاتون کویڈ19 مثبت پائی گئی۔ معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا گیا کہ آخر اتنے لوگوں کو کویڈ کے خطرہ میں کیونکر ڈالا گیا لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ تحقیقات سے پہلے ہی اس اسپتال کے طبی اور نیم طبی عملہ نے حفاظتی پوشاک نہ ملنے کی وجہ دے کر خوب احتجاج کیا۔تب بھی کوئی معاملہ حل نہیں کیا گیا۔
اس کے بعد سکمز میڈیکل کالج اسپتال سرینگر میں ڈاکٹروں نے جنوبی کشمیر کی ہی ایک حاملہ خاتون کی اسپتال میں سرجری کے معاملہ پر ہنگامہ کھڑا کیا ۔دلیل دی گئی اسپتال میں ریڈ زون سے مریض نہ لائے جائیں حالانکہ تب سرکار کا فیصلہ تھا کہ کویڈ پازیٹیو اور کویڈ مشکوک حاملہ خواتین کو اگر ریفر کرنا ہو تو سکمز میڈیکل کالج اسپتال کیا جانا چاہیے لیکن اس اسپتال کے زچگی شعبہ سے وابستہ طبی عملہ نے پرنسپل کے خلاف مورچہ کھولا اور بات ڈویژنل کمشنر تک جا پہنچی حالانکہ یہ بھی حقیقت ہیے کہ اکتیس مارچ سے لیکر ستائیس فروری تک اسپتال میں یہ زچگی کی یہ پہلی سرجری تھی۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ ڈاکٹر کویڈ معاملوں سے بچنے کے لئے بہانے گڑھ رہئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہئے کہ انتظامیہ نے کئی اسپتالوں کو کویڈ اسپتالوں میں جب تبدیل کیا تب زچگی اور دیگر مریضوں کے بارے میں انتظام کرنا بھول ہی گئے۔
اب ایک دن پہلے نیا طریقہ کار تو وضع کیا گیا ہئے لیکن زمینی سطح پر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو پھر شاہدہ کو اننت ناگ سے ریفر نہیں کیا جاتا۔ نیوز18 نے اس باپت جب سکمز میڈیکل کالج اسپتال کے پرنسپل پروفیسر ریاض اونتو سے پوچھا تو انہوں نے صاف کیا کہ وہ نئے ایس او پی پر عمل کررہئے ہیں جسکی رو سے انھیں کویڈ19 کے مثبت معاملے ہی دیکھنے کو کہا گیا ہئے۔ ادھر لل دید اسپتال میں طبی اور نیم طبی عملہ کے ساتھ ساتھ باقی مریض بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ضوابط کے حساب سے یہاں کویڈ یا ریڈ زون سے آئے مریضوں کا علاج نہیں کرنا ہئے اور سنیچر کے معاملہ سے یہاں پریشانی بڑھ گئی ہئے۔
اسپتال زرائع سے پتہ چلا ہے کہ نئے ضوابط کا باقاعدہ آرڈر جاری ہونے کے بعد بھی جنوبی کشمیر سے یہاں مریض ریفر کئے جارہے ہیں ۔سنیچر کو ہی جنوبی کشمیر کے کویڈ ریڈ زون سے دو اور مریض ریفر کئے گئے۔ جب اسپتال انتظامیہ سے پوچھا گیا کہ وہ ان مریضوں کا علاج کیوں کرتے ہیں تو جواب یہ ملا کہ رات کے دو بجے جب درد زہ میں مبتلا خاتون سو کلو میٹر طے کرکے یہاں پہنچے تو کیا اسے سڑک پر مرنے کے لئے چھوڑا جاسکتا ہئے۔ سنیچر کے معاملہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ،انھوں نے کہا۔ مختصر معاملہ یہ ہے کہ انتظامیہ کاغذی گھوڈے تو دوڑا رہی ہئے لیکن زمین پر بنیادی ڈھانچہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں مریض جایئں تو جائیں کہاں ۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
