تازہ ترین
کشمیرمیں حاملہ خواتین پرریڈ زون کاکالاسایہ:محکمہ صحت کنفیوژن کا شکار،مریض بے یار و مدد گار
کہتے ہیں کہ درد زہ سے زیادہ کوئی درد نہیں ہوتا لیکن شاہدہ(نام تبدیل) کا درد زچگی کے بعد بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جنوبی کشمیر کے تیل ونی علاقہ کی اس خاتون نے ایک رات میں چار اسپتالوں کی طرف سے ٹھکرائے جانے کے بعد لل دید اسپتال سرینگر میں آج بچی کو جنم تو دیا لیکن یہ خوشی بھی چند منٹوں کی مہمان ثابت ہوئی۔ زچگی کے تھوڑی دیر بعد ہی انکے شوہر جاوید احمد کو بتایا گیا کہ انکی اہلیہ کویڈ19 مثبت پائی گئی ہے۔ بس پھر کیا تھا کشمیر کے واحد زچگی اسپیشلٹی اسپتال میں سراسیمگی پھیل گئی۔ طبی اور نیم طبی عملہ پریشان۔ شاہدہ کے ربط میں آئے اسپتال عملہ کے 10 افراد بشمول دو ڈاکٹر کورنٹاین کردئیے گئے ۔اس سے پہلے کہ شاہدہ کا شوہر خود کو سنبھالتا۔ انہیں نوزاید بچے سمیت ایمبولنس میں ڈال دیا گیا اور اننت ناگ کے کویڈ اسپتال پہنچایا گیا۔ اب شاہدہ زچگی کے رستے زخموں کے ساتھ کویڈ وارڈ میں درد سے کراہ رہی ہے۔
شاہدہ کی یہ درد بھری کہانی کل رات تقریباً8 بجے شروع ہوئی ۔پیٹ میں درد شروع ہوتے ہی اسے میکے والوں نے نزدیکی شانگس کے سرکاری اسپتال پہنچایا۔ انکے شوہر جاوید کے مطابق یہاں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ انکا سسرال تیلونی علاقہ میں ہے جو کویڈ ریڈ زون ہے لہذا نہیں 8 کلو میٹر دور اچھہ بل اسپتال لیا جائے۔” ہم اچھہ بل پہنچے تو وہاں ایک مرد ڈاکٹر ملا۔انہوں نے اننت ناگ کے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ کیر اسپتال ریفر کیا۔ یہاں پر دروازے سے ہی واپس کردیا گیا یہ کہہ کر کہ ریڈ زون کے مریض یہاں ایڈمٹ نہیں ہوسکتے اور درد سے کرہ رہی میری بیوی کو بغیر دیکھیے سرینگر کے سکمز میڈیکل کالج اسپتال ریفر کیا۔ ” جاوید نے کہا۔ تقریباً 100 کلومیٹر کی مسافت طے کرکے سکمز میڈیکل کالج اسپتال پہنچے تو یہاں ایمبولنس سے اترنے کا موقعہ بھی نہیں ملا۔ دروازے سے ہی کہا گیا کہ یہ اسپتال کویڈ19 مریضوں کے لئے ہے ۔ ایک طرف درد سے کراہ رہی مریض اور اس پر در در کی ٹھوکریں مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہمارا قصور کیا ہے؟۔ جاوید نے کہا
ہم آخر کار لل دید اسپتال سرینگر پہنچے تب تک پونے دو بجے تھے۔اندھیرے میں ڈاکٹر شاید ہمارا ریڈ زون کا کلنک دیکھنا بھول گئے یا پھر ہم پر ترس آیا ہوگا۔ جاوید نیوز 18 کو فون پر اپنی بپتا سنا رہا تھا۔ صبح بچی کا جنم ہوا تب جا کے کچھ سکون ملا۔لیکن پھر کویڈ19 مثبت ہونے کی خبر آئی اور ایک نئی مصیبت نے گھیر لیا۔یہ کہتے کہتے جاوید کی آواز بھر گئی۔یہ اکلوتی ایسی کہانی نہیں ہے۔سوال یہ ہئے کہ اگر شاہدہ کی زچگی نارمل طریقہ سے ہوئی تو پھر اسے اننت ناگ ضلع سے اتنی دور ریفر کیوں کیا گیا۔ اننت ناگ کا Mother And Child Health Care Hospital مریضوں کو آئے دن کیوں ٹھکرا رہا ہے۔ یہ سوال جب ہم نے اننت ناگ گورنمنٹ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت گیلانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے معاملہ کی جانکاری لینے کے بعد جواب دینے کی بات کہی لیکن ساتھ ہی انتظامیہ کے نئے ضوابط کی بات کی جس کی رو سے کویڈ ریڈ زون کی زچگی کے معاملے محکمہ ہیلتھ سروسز کے زمہ ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ نئے ضوابط پہلی اپریل کو جاری کئے گئے ہیں یعنی ابھی تک ان معاملات کو دھیان میں نہیں رکھا گیا تھا۔ اننت ناگ کے اسی زچگی اسپتال میں کچھ دن پہلے ایک خاتون اور اسکے دو نو زاید بچوں کی موت ہوئی ۔کویڈ پروٹوکول کو بالائے رکھتے ہوئے لاشیں کویڈ ٹیسٹ رپورٹ آنے سے پہلے ہی لواحقین کے حوالہ کردی گئیں ۔ پانچ سو کے قریب لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی اور جب رپورٹ آئی تو اس میں خاتون کویڈ19 مثبت پائی گئی۔ معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا گیا کہ آخر اتنے لوگوں کو کویڈ کے خطرہ میں کیونکر ڈالا گیا لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ تحقیقات سے پہلے ہی اس اسپتال کے طبی اور نیم طبی عملہ نے حفاظتی پوشاک نہ ملنے کی وجہ دے کر خوب احتجاج کیا۔تب بھی کوئی معاملہ حل نہیں کیا گیا۔
اس کے بعد سکمز میڈیکل کالج اسپتال سرینگر میں ڈاکٹروں نے جنوبی کشمیر کی ہی ایک حاملہ خاتون کی اسپتال میں سرجری کے معاملہ پر ہنگامہ کھڑا کیا ۔دلیل دی گئی اسپتال میں ریڈ زون سے مریض نہ لائے جائیں حالانکہ تب سرکار کا فیصلہ تھا کہ کویڈ پازیٹیو اور کویڈ مشکوک حاملہ خواتین کو اگر ریفر کرنا ہو تو سکمز میڈیکل کالج اسپتال کیا جانا چاہیے لیکن اس اسپتال کے زچگی شعبہ سے وابستہ طبی عملہ نے پرنسپل کے خلاف مورچہ کھولا اور بات ڈویژنل کمشنر تک جا پہنچی حالانکہ یہ بھی حقیقت ہیے کہ اکتیس مارچ سے لیکر ستائیس فروری تک اسپتال میں یہ زچگی کی یہ پہلی سرجری تھی۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ ڈاکٹر کویڈ معاملوں سے بچنے کے لئے بہانے گڑھ رہئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہئے کہ انتظامیہ نے کئی اسپتالوں کو کویڈ اسپتالوں میں جب تبدیل کیا تب زچگی اور دیگر مریضوں کے بارے میں انتظام کرنا بھول ہی گئے۔
اب ایک دن پہلے نیا طریقہ کار تو وضع کیا گیا ہئے لیکن زمینی سطح پر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو پھر شاہدہ کو اننت ناگ سے ریفر نہیں کیا جاتا۔ نیوز18 نے اس باپت جب سکمز میڈیکل کالج اسپتال کے پرنسپل پروفیسر ریاض اونتو سے پوچھا تو انہوں نے صاف کیا کہ وہ نئے ایس او پی پر عمل کررہئے ہیں جسکی رو سے انھیں کویڈ19 کے مثبت معاملے ہی دیکھنے کو کہا گیا ہئے۔ ادھر لل دید اسپتال میں طبی اور نیم طبی عملہ کے ساتھ ساتھ باقی مریض بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ضوابط کے حساب سے یہاں کویڈ یا ریڈ زون سے آئے مریضوں کا علاج نہیں کرنا ہئے اور سنیچر کے معاملہ سے یہاں پریشانی بڑھ گئی ہئے۔
اسپتال زرائع سے پتہ چلا ہے کہ نئے ضوابط کا باقاعدہ آرڈر جاری ہونے کے بعد بھی جنوبی کشمیر سے یہاں مریض ریفر کئے جارہے ہیں ۔سنیچر کو ہی جنوبی کشمیر کے کویڈ ریڈ زون سے دو اور مریض ریفر کئے گئے۔ جب اسپتال انتظامیہ سے پوچھا گیا کہ وہ ان مریضوں کا علاج کیوں کرتے ہیں تو جواب یہ ملا کہ رات کے دو بجے جب درد زہ میں مبتلا خاتون سو کلو میٹر طے کرکے یہاں پہنچے تو کیا اسے سڑک پر مرنے کے لئے چھوڑا جاسکتا ہئے۔ سنیچر کے معاملہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ،انھوں نے کہا۔ مختصر معاملہ یہ ہے کہ انتظامیہ کاغذی گھوڈے تو دوڑا رہی ہئے لیکن زمین پر بنیادی ڈھانچہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں مریض جایئں تو جائیں کہاں ۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
