تازہ ترین
فوجی کرنل ،میجر،ایس آئی2فورسز اہلکار،2جنگجوسمیت7افراد ہلاک
شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ راجوار ہندوارہ میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جاری تصادم آرائی 15گھنٹے بعد اختتام پزیر ہوئی۔اس دوران اس جھڑپ میں مقامی فوجی یونٹ کا1 کرنل،میجر،جموں کشمیر پولیس کے ایک ایس آئی 2فورسز اہلکار،2جنگجوسمیت7افراد ہلاک ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ گاؤخانے میں چھلے جنگجوؤں نے تمام افسر و اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد مارڈا ہے تاہم فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مکان میں موجودجنگجووں نے کنبے کے سبھی افراد کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تاہم فوجی کرنل کی قیادت میں فورسز کی ایک ٹیم کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں عام شہریوں کو بچالیا گیا،جس دوران جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ تمام افسر اور اہلکار جاں بحق ہوئے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ کے ہند وارہ گاؤں سے چند کلو میٹر دور ایک بستی راجواڑ ہندوارہ کے ڑنجہ مولہ میں فورسز نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجود گئی کی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہوئی،جس کے بعد فوج کے 21RR،اورسپیشل آپریشن گروپ اہلکاروں (ایس او جی)نے اطلاع موصول ہونے کے فوراً بعدپورے علاقے کو سنیچر کے صبح ہی سخت محاصرے میں لے کر اور گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی ہے،ذارئع نے بتایا اگر چہ فورسز کو شام چار بجے تک تلاشی کارروائیوں کے دوران کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوا ہے تاہم شام 4بجے کے قریب فوج اور جنگجو ؤں کے درمیان مختصر گولیوں کا تبادلہ ہوا،اور اس کے ساتھ ہی گاؤں میں مزید کمک کو طلب کیا گیا،اور پوری بستی کو سیل کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا گاؤں کی طرف آنے اورباہر جانے والے تمام راستوں کو سیل کیا گیا ہے اورچھپے بیٹھے جنگجو ؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کی گئی۔ ذرائع نے کہا کہ زور دار فائرنگ کے دوران جنگجو ؤں نے ایک رہائشی گاؤ کانے میں پناہ لی اور اس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ہے جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اسکے بعد فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ذرائع نے بتایافائرنگ رک جانے کے فوراً بعد مقامی فوجی یونٹ کا کمانڈنگ آفسر،ایک میجر،زچل ڈارہ ایس او جی کیمپ کا انچارج اور ان کے2باڑی گاڑ یہ سمجھ کر کہ اب فائرنگ کا سلسلہ رک گیا،اور جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ جنگجوؤں جاں بحق ہوئے ہیں کیوں کہ دوسری جانب سے کوئی فائرنگ نہیں ہو ئی۔اس دوران جب پانچوں افراد مکان میں داخل ہوئے تو یہاں گاؤں خانے میں موجود جنگجوؤں نے دوبارہ شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی ان افسران اور اہلکاروں کاشام ساڑے 5بجے کے قریب کنٹرول روم کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا ہے اور فائرنگ بھی رک گئی ہے۔
بتایا جاتا ہیاس دوران جو فورسز گیرے کی ڈیوٹی پر مامور تھی انہیں لگا کہ فوجی پارٹی نے افسر سمیت اند ہی مورچہ سنبھالا،جس دوران جب رابطہ نہیں ہوا تو انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے مکان میں بھی جنگجوؤں موجود تھے جن کو غالباً یرغمال بنا لیا گیا ہے۔اگر چہ سنیچر کی شام اس حوالے سے سوشل میڈیا اور نیشنل میڈیا نے اس حوالے سے پہلے ہی خبر چلائی تھی”تاہم دفاعی ذرائع نیا س خبر کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ برینگ نیوز بنانے کے بجائے میڈیا اداروں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہے کہ جو اہلکار لڑ رہے ہیں ان کے افرد کنبہ کتنے پریشان ہو ں گے جس کے حوالے سے فوج نے بھی متعدد فوج کالز وصول کئے ہیں“۔نمائندے ذرائع کا حوالہ دینے ہوئے بتایا کہ ہلاکتوں کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی فوج کے دیگر اعلیٰ افسران جائے واردات پر پہنچ گئے ہیں۔
اس دوران رات بھرجائے جھڑپ سے وقفے وقفے سے علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ہے جہاں بعد میں 21آر آر کے کمانڈگ آفسر،ایک میجر،ایس او جی سب انسپکٹر دو اہلکاروں کے علاوہ2جنگجوؤں کی لاشوں کو برآمد کر لیا گیا ہے،بتایا جاتا ہے کہ مارے گئے جنگجوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت لشکر کمانڈر ساکن پاکستان کے طور کی ہے جبکہ غیر سرکاری اطلاع کے مطابق دوسرا مقامی ہے جو ہندوارہ سے ہی تعلق رکھتا تھا۔اس دوران اتوار کے صبح فوج کی طرف سے جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر جنگجووں نے مکان میں موجود عام شہریوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تاہم فوجی کرنل کی قیادت میں فورسز کی ایک ٹیم کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں عام شہریوں کو بچالیا گیا۔ فوج کے مطابق تاہم اس دوران مذکورہ ٹیم جنگجووں ں کی فائرنگ کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں کرنل آشوتوش شرما، میجر انوج سود،نائک راجیش اور لانس نائک دنیش نامی فوجی ہلاک ہوگئے۔
اس کے علاوہ ٹیم میں شامل جموں کشمیر پولیس کی ایس او جی ونگ کا ایک سب انسپکٹر بھی ہلاک ہوگیا۔ کرنل شرما21آر آر کا کمانڈنگ آفیسر تھا اور اْسے کشمیر میں ابھی تک بہادری کیلئے دو میڈل عطا ہوئے تھے۔کرنل شرما کا تعلق اْتر پردیش کے بلند شہر جبکہ میجر سود کا تعلق بلند شہر سے تھا۔جھڑپ میں مارے گئے ایس او جی سب انسپکٹر کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ لولاب سے تعلق رکھتا تھا۔ذرائع کے مطابق علاقے میں سال2000ء میں بھی اسی طرح کی ایک جھڑپ میں ایک کمانڈنگ افسر مارا گیا ہے خیال رہے اس سے چند سال قبل جنوبی کشمیر کے ہندورہ ترال میں 42RRکاکرنل ایم این رائی بھی ایک مختصر فائرنگ کے واقعے میں مار گیا تھا۔کشمیر وادی میں اگر چہ فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان تصادم آرئیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے تاہم گزشتہ شند سال کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ جب کوئی افسرکسی جھڑپ کو انتا قریب گیا تھا۔
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
استنبول، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر استنبول میں آر4 (ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب) اور اٹلی کی شرکت کے ساتھ منعقدہ آر4 ای3 (برطانیہ، جرمنی، فرانس) وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔
وزیر فیدان نے کہا کہ استنبول میں پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے آر4 مذاکرات کے بعد، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ آٹھ ممالک کو یکجا کرنے والے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی گئی۔
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے آپس میں جڑے تمام مسائل اور تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اختلافات کو علاقائی ملکیت کے تصور کے تحت، گفت و شنید اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں شریک ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر فیدان نے کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ جس اقدام کی ہم رہنمائی کر رہے ہیں وہ مستقل مزاجی اختیار کرے اور ہمارے خطے میں اور اس سے باہر امن اور استحکام میں حصہ ڈالے۔ ترکیہ دو جغرافیوں کے درمیان مرکزی مقام کے ساتھ علاقائی مسائل کے حل میں اپنی ذمہ
داریوں کو جاری رکھے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فلپائن میں تربیتی طیارے حادثے کا شکار، فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک
منیلا، فلپائن میں منیلا کے جنوب میں واقع ایک فضائی اڈے پر تربیتی پرواز کے دوران دو ایس ایف 260 طیاروں کے حادثے کا شکار ہونے سے فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ فوج نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
فلپائن کی فضائیہ (پی اے ایف) کے ایک بیان کے مطابق، یہ حادثہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 51 منٹ پر صوبہ باتانگاس میں واقع فرنانڈو ایئر بیس پر پیش آیا۔ دونوں طیارے فضائی اڈے کی حدود کے اندر گر کر تباہ ہو گئے۔
حادثے میں کسی دوسرے شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق، دونوں طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا گئے تھے، تاہم فضائیہ نے حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
پی اے ایف نے کہا کہ حادثے کے حالات اور اسباب کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر تحقیقات مکمل ہونے تک ایس ایف 260 طیاروں کے پورے بیڑے کی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے پائلٹوں کے اہل خانہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی نجی زندگی کا احترام کریں۔
بیان میں ہلاک ہونے والے پائلٹوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی حادثے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔
فلپائن میں ایس ایف 260 تربیتی طیاروں کے ساتھ پیش آنے والا یہ تازہ ترین جان لیوا حادثہ ہے۔
مئی میں ملک کے شمالی حصے کے ایک پہاڑی علاقے میں ایس ایف 260 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں دو پائلٹ ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2023 میں تربیتی پرواز کے دوران ایک اور ایس ایف 260 ٹی پی مارچیٹی طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں دو پائلٹوں کی موت ہو گئی تھی۔
فلپائن کی فوج نے 2017 میں جنوبی شہر مراوی کے بعض علاقوں پر قبضہ کرنے والے اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی ایس ایف 260 طیاروں کا استعمال کیا تھا۔
جمعہ کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ فضائیہ نے یہ نہیں بتایا کہ عارضی طور پر گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کو دوبارہ پرواز کی اجازت کب دی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
