جموں و کشمیر
ہندوارہ فائرنگ میں جاں بحق طالب علم
ہندوارہ میں سوموار کی شام جنگجوؤں اور فورسز کی فائرنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے ساتویں جماعت کے طالب علم کو بارہمولہ میں جنگجوؤں کیلئے مخصوص قبرستا ن میں چند لواحقین کی موجود گی میں سپرد لحد کیا گیا ہے۔ادھر وانگام قاضی آباد کرالہ گنڈ میں ہاضم شفیع بٹ ولد محمد شفیع بٹ کی ہلاکت پر مذکورہ آبائی گاوں ماتم کندہ ہے اور لواحقین نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ سرکار کے فیصلے پر انہوں ہمارے لخت جگر کو یہاں اپنے آبائی مقبرہ کے بجائے شیری بارہمولہ میں سپرد خاک کیا گیا جس کا ہمیں بڑا افسوس ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے میں سوموار کی شام جنگجوؤں کی جانب سے سی آر پی ایف کی ناکہ پارٹی پر حملہ ہوا،اس دوران جہاں حملے میں 3اہلکار ہلاک ہوئے ویہی دوسری جانب اس حملے کے دوران ایک14سالہ طالب علم زم شفیع بٹ ولد محمد شفیع بٹ فائرنگ میں جاں بحق ہوا ہے۔اس دوارن مزکورہ طالب علم کو منگل کی صبح شیری بارہمولہ کے گانٹہ مولہ میں جاں بحق ہونے والے غیر ملکی جنگجووں کیلئے مخصوص قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حازم شفیع بٹ کی میت کوعلی الصبح گانٹہ مولہ پہنچا گیا،جس کے بعد شیری پولیس اہلکار وں اور چند لواحقین کی موجودگی میں اْس کی تجہیز و تکفین عمل میں لائی گئی۔خیال رہے کہ ہندوارہ کے وانگام علاقے میں سوموار کو جنگجوؤں نے سی آر پی ایف پارٹی پر حملہ کیا۔
اس حملے میں تین فورسز اہلکار ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ ختم ہونے بعد جائے مقام سے کچھ دور حازم کی لاش پائی گئی جس کو گولیاں لگی تھیں۔گانٹہ مولہ کا مخصوص قبرستان سرینگر مظفرآباد شاہرہ پر دریائے جہلم کے بغل میں واقع ہے جہاں جاں بحق ہونے والے غیر ملکی جنگجوؤں کو دفنایا جاتا تھا۔تاہم حالیہ موجودہ کورونا وبا ئی سے پیدا صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے حالیہایام میں جاں بحق ہونے والے مقامی جنگجوؤں کو بھی یہی سپرد لحد کیا گیا ہے۔
ادھر وانگام قاضی آباد کرالہ گنڈ میں ہاضم شفیع بٹ ولد محمد شفیع بٹ کی ہلاکت پر مذکورہ آبائی گاوں ماتم کندہ ہے اور لواحقین نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ سرکار کے فیصلے پر انہوں ہمارے لخت جگر کو یہاں اپنے آبائی مقبرہ کے بجائے شیری بارہمولہ میں سپرد خاک کیا گیا جس کا ہمیں بڑا افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کافی کوشش کی انتظامیہ سے نعش کو واپس لانے ہمارے حوالے کرنے کی لیکن انہوں نے موجودہ حالات کی پیش نظر اور سرکاری احکامات پر لاش کو یہاں اپنے گاوں بجائے شیری بارہمولہ میں سپرد خاک کیا۔جس دوران انتظامیہ نے ان کے والدین کے کو وہاں بلا کر ان موجودگی میں شیری بارہمولہ میں سپرد خاک کیاگیا۔انہوں نے کہا ہمیں بس اس بات کا دکھ ہے کہ ہمارا لخت جگراور تین بہنوں میں اکلوتا بھائی کو آخری رسومات ادا نہ کرنے دی گئی۔خیال رہے سوموار کی شام قریب وانگام موڈ پر جنگجوں نے سی آر پی ایف ناکہ پر اندھا دھند گولیاں چلائی جس دوران مذکورہ طالب علم جاں بحق ہوا۔معلوم ہواکہ حازم اپنے میوہ باغ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کھاد وغیرہ ڈال رہے تھے،جس دوران جنگجوں نے دیوٹی پر تعینات سی ار پی ایف کی ایک ناکہ پارٹی کو نشانہ بنا کر ان پر اندھا دھند گولیاں چلائی جس میں تین سی ار پی ایف اہلکار سمیت ایک کمسن لڑکا جاں بحق ہواتھا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
