تازہ ترین
کورونا وائرس کے خلاف ادویات بنانے کے دعوے
چین کے شہر وہان سے پیدا ہونی والی عالمی وبا (کووڈ۔19) کے خلاف بہت سے ممالک دوا بنانے کے آئے روز دعوے کررہے ہیں۔لاکھوں لوگ اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں اور 2لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ کے این ایس مانیٹر نگ کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ24 گھنٹے میں کورونا وائرس کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ خوفزدہ کرنے والے ہیں۔ ایک دن میں جہاں 3900 نئے کیس درج کیے گئے وہیں 195 لوگوں کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ اس درمیان ایک راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔
ہندوستان کووڈ۔19 یعنی کورونا انفیکشن کی دوا بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ حیدرآباد واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) نے کووڈ۔19 کے علاج میں استعمال ہو رہے ریمیڈسیور کے لیے اسٹارٹنگ میٹریل کو سنتھسائزڈ کیا ہے جو دوا بنانے کی سمت میں پہلا قدم ہے۔’ہندوستان ٹائمز‘ میں شائع خبر کے مطابق آئی آئی سی ٹی نے سِپلا جیسی دوا ساز کمپنی کے لیے کام شروع کیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہندوستان میں بھی اسے بنایا جا سکے۔ کچھ دنوں پہلے ہی امریکہ کی ایف ڈی اے نے کووڈ۔19 کے مریضوں کے علاج کے لیے ریمیڈیسیور کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری تب دی گئی ہے جب کہ کچھ محققین نے پایا کہ یہ دوا انفیکشن والے لوگوں کو تیزی سے صحت مند ہونے میں مدد کرتی ہے۔دراصل کووڈ۔19 کے علاج میں اب تک ریمیڈیسیور (ریمیڈیسیور یا ریمیڈیسیویر) کو کارگر بتایا جا رہا ہے جس کی منظوری امریکہ نے دے دی ہے۔
ریمیڈیسیویر بنانے کا کام گیلیڈ سائنسز کرتی ہے۔ ریمیڈیسیور کو کلینیکل ڈاٹا کی بنیاد پر امریکہ میں کووڈ۔19 کے علاج کے لیے ایمرجنسی اجازت مل چکی ہے۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے ملک اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وبا کے علاج کے لیے حیاتیاتی اینٹی باڈیز تیار کرلیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے رواں برس فروری میں ہی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اسرائیلی حکومت نے فروری میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ماہرین کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کے بلکل قریب ہیں اور چند ہی ہفتوں میں ویکسین کو تیار کرکے اس کی انسانوں پر آزمائش شروع کردی جائے گی۔
تاہم گزشتہ ماہ اپریل کے وسط میں خبریں سامنے آئیں کہ اسرائیل کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مشکلات درپیش ہیں،تاہم حکومت نے عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اگلے چند ہفتوں مین ویکسین کی تیاری کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس کی آزمائش شروع کردی جائے گی۔تاہم تاحال اسرائیل کی جانب سے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے کی خبر سامنے نہیں آئی لیکن اب اسرائیلی حکومت نے کورونا کا ایک اور علاج تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جی ہاں!ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنیو الے ملک اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ماہرین نے کورونا کی وبا کے علاج کے لیے حیاتیاتی اینٹی باڈیز تیار کرلیں ہیں۔اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہودی ماہرین کورونا کے علاج کی حیاتیاتی اینٹی باڈیز تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اخبار کے مطابق وزیر دفاع نفتالی بینت کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف بائیو لاجیکل ریسرچ (آئی آئی بی آر) کے ماہرین نے طویل جدوجہد کے بعد کورونا کے علاج کیلیے منفرد اینٹی باڈیز تیار کرلی ہیں۔وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر دفاع نے حیاتیاتی اینٹی باڈیز کو تیار کرنے والے ادارے کا دورہ کیا، جہاں وزیر دفاع کو نئی پیش رفت سے آگاہ کیا۔جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حیاتیاتی تحقیقی ادارے کی جانب سے تیار کی گئی اینٹی باڈیز مریض کے جسم اندر ہی وائرس کو ختم کردیتی ہے۔بیان کے مطابق حیاتیاتی تحقیق کے ادارے کی جانب سے اینٹی باڈیز کو تیار کرنے کے بعد اب اگلے مرحلے میں ادارہ اس کی رجسٹریشن کروائے گا، جس کے بعد اسرائیلی ادارہ مذکورہ فارمولے کے تحت بڑے پیمانے پر اینٹی باڈیز کی تیاری کے لیے دیگر ممالک کے حیاتیاتی تحقیقاتی اداروں سے اینٹی باڈیز بنوائے گا۔بیان میں اینٹی باڈیز کی تیاری کے حوالے سے شفاف اور مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مذکورہ اینٹی باڈیز کی آزمائش کی گئی تھی یا نہیں اور نہ ہی بیان میں اسرائیل کی جانب سے تیاری کی جانے والی ویکسین کے حوالے سے کوئی وضاحت کی گئی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے کورونا کے علاج کے لیے حیاتیاتی اینٹی باڈیز بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اسرائیل نے ایسی اینٹی باڈی تیار کرنے کے حوالے سے کسی طرح کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج اینٹی باڈیز سے کیا جا رہا ہے، تاہم وہ اینٹی باڈیز ایسے لوگوں سے حاصل کی جاتی ہیں جو کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہوں۔اینٹی باڈیز دراصل وہ خلیات ہیں جو غلیل نما دکھائی دیتے ہیں اور یہ انسانی خون میں موجود ہوتے ہیں، جن افراد کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے، انہیں ایسی دوائی دی جاتی ہیں کہ ان کے خون میں اینٹی باڈیز کی مقدار بڑھ جاتی ہے یا وہ مضبوط بن جاتے ہیں اور اگر کسی بھی شخص کی ان اینٹی باڈیز کو نکال کر دوسرے بیمار شخص میں منتقل کیا جائے تو وہ فوری طور پر صحت مند ہو سکتا ہے۔
کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون کے بلڈ پلازما اور اینٹی باڈیز کو چین سے لے کر امریکا تک اور پاکستان سے لے کر بھارت تک آزمایا جا رہا ہیاور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی نکلے ہیں، تاہم وہ اینٹی باڈیز حیاتیاتی نہیں بلکہ انسانوں کی جانب سے عطیہ کیے جاتے ہیں۔لیکن اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ماہرین نے حیاتیاتی اینٹی باڈی تیار کرلی ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ماہرین نے کس طرح یہ اینٹی باڈیز لیبارٹری میں تیار کیں؟۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
