تازہ ترین
عسکری کمانڈر کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے، پولیس فائرنگ میں ایک ہلاک
کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض احمد نائیکو عرف محمد بن قاسم کی ہلاکت کے خلاف پُر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری رہا۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ”بدھ کے مقابلے میں ان کی شدت نسبتا” کم تھی اور صورتِ حال مجموعی طور پر پُرامن رہی۔
بدھ کو جنوبی ضلع پُلوامہ میں سرکاری دستوں کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران ریاض نائیکو اور ان کے ایک قریبی ساتھی کی ہلاکت کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
حٖفاظتی دستوں نے کئی مقامات پر پتھراؤ کرنے والے ہجوموں پر قابو پانے کے لیے طاقت استعمال کی۔ حفاظتی دستوں کی فائرنگ اور چھرے والی بندوقوں کے استعمال کے نتیجے میں ایک شخص جس کی شناخت جہانگیر یوسف وانی کے طور پر کی گئی ہے ہلاک اور تقریباً ڈیڑھ درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بتیس سالہ جہانگیر کے گردن میں گولی لگی تھی۔ زخمیوں میں سے کم سے کم ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
پُلوامہ کے بیگ پورہ علاقے میں جہاں عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جمعرات کو عوامی مظاہروں میں شامل نوجوانوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان وقفے وقفے سے تصادم ہونے کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری رہا۔
وادی کشمیر کے کئی دوسرے علاقوں سے بھی اس طرح کے مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ تاہم، پولیس حکام نے انہیں “معمولی بلکہ ناقابلِ ذکر” واقعات قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیگ پورہ میں جمعرات کی صبح کو چند “شر پسند عناصر” نے امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
بیگ پورہ ریاض نائیکو کا آبائی علاقہ ہے۔ بدھ کو کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں کئی نجی گھر یا تو مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور دوسرے سرکاری دستوں نے علاقے میں محصور ہونے والے ریاض نائیکو اور ان کے ساتھی کو زیر کرنے کے لیے مارٹر بم داغے اور راکٹ لانچروں اور ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
وادی کشمیر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پچاس دن سے نافذ لاک ڈاؤن میں ریاض نائیکو کی ہلاکت سے پیدا شدہ کشیدگی اور کئی علاقوں میں پھوٹ پڑنے والے عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر اسے نہ صرف سخت کر دیا گیا ہے بلکہ بعض علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستے کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ وادی میں انٹرنیٹ سروسز کو مکمل طور پر اور موبائل فون سروسز کو جزوی طور پر بند کردیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ ریاض نائیکو کے ساتھ ہلاک ہونے والا دوسرا عسکریت پسند استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعت ‘تحریکِ حریت’ کے سربراہ محمد اشرف صحرائی کا بیٹا جیند اشرف ہے۔ ذرائع نے ہلاک کیے گیے اس نوجوان کی شناخت عادل بٹ کے طور پر کی ہے اور کہا ہے کہ بُدھ کے روز پُلوامہ ہی کے شرشالی کھریو علاقے میں اسی طرح کی ایک جھڑپ کے دوران مارے جانے والے مشتبہ عسکریت پسندوں عادل وانی اور رفیق ڈار کا تعلق کالعدم لشکرِ طیبہ سے تھا۔
پیشے کے لحاظ سے ریاض نائیکو ریاضی کے استاد تھے۔ لیکن وہ 2012 میں اپنی ملازمت چھوڑ کر عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگیے تھے۔ پولیس نے انہیں فوری طور پر عسکریت پسندوں کے ‘اے پلس پلس’ زمرے میں ڈال دیا تھا۔
اُن کا شمار معروف کشمیری عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج نے ضلع اننت ناگ کے کوکر ناگ علاقے میں کیے گیے ایک آپریشن کے دوران مظفر وانی کو ہلاک کیا تو اُن کی جگہ ذاکر رشید بٹ عرف ذاکر موسیٰ کو حزب المجاہدین کا آپریشنل کمانڈر بنایا گیا۔ لیکن ذاکر موسیٰ نے بہت جلد حزب المجاہدین سے علحیدگی اختیار کرلی اور ایک نیا عسکری گروپ انصار غزوۃ الہند تشکیل دیدیا جسے القاعدہ نے بھارت میں اپنی سیل یا شاخ کے طور پر تسلیم کیا۔ حزب المجاہدین میں ان کہ جگہ ریاض نائیکو نے لے لی۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ نے جون 2019 میں نائیکو کو “سب سے زیادہ مطلوب دس دہشت گردوں” کی فہرست میں شامل کیا تھا اور جموں و کشمیر میں عسکریت مخالف سیکیورٹی گرڈ کو انہیں اور دوسرے مطلوب عسکریت پسندوں کو “جلد از جلد موت کے گھاٹ اتارنےکا ولین کام” سونپا تھا۔
بھارتی عہدیداروں نے کہا تھا کہ مطلوب افراد کی یہ فہرست جموں و کشمیر پولیس، فوج اور وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف اور دوسرے حفاظتی دستوں اور سراغرساں اداروں کی طرف سے موصول ہونے والی خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر تیار کی ہے۔ مطلوب افراد میں سے چھ کا تعلق حزب المجاہدین، دو کا جیشِ محمد اور ایک ایک کا لشکرِ طیبہ اور البدر مجاہدین سے تھا۔ مقامی پولیس نے ریاض نائیکو کے سر پر بارہ لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔
سری نگر میں نامہ نگاروں کے ایک مخصوص گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا کہ حٖفاظتی دستے ریاض نائیکو کو پچھلے چھہ ماہ سے شد و مد کے ساتھ تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے ریاض نائیکو کی ہلاکت کو حفاظتی دستوں کو ملنے والی ایک بڑی کامیابی اور عسکریت پسندوں بالخصوص حزب المجاہدین کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔
اس دوران پولیس نے ریاض نائیکو اور ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے اُن کے ساتھی کی میتوں کو کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا ہے۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں حفاظتی دستوں کے ساتھ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی نعشوں کو اب ان کے رشتے داروں کو سونپنے کے بجائے انہیں پولیس اُن کے آبائی علاقوں سےدور ایسے قبرستانوں میں دفناتی ہے جہاں عمومی طور پر اس طرح کے واقعات میں مارے جانے والے غیر ملکی یا غیر شناخت شدہ عسکریت پسندوں کی آخری رسومات ادا کی جاتی تھیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے مقامی عسکریت پسندوں کی نعشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا تاکہ ان کی تجہیز و تکفین میں لوگ بڑی تعداد میں شریک نہ ہوں جیسا کہ پولیس کی طرف سے منع کرنے کے باوجود اپریل کے شروع میں شمال مغربی ضلع بارہمولہ میں ہوا تھا۔
حکام کا استدلال ہے کہ عسکریت پسندوں کی تدفین میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کرونا وائرس (کووڈ-19) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وادی کشمیر میں 19 مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن کے مقصد کو فوت کر سکتی ہے۔ تاہم، پولیس عہدیدار وجے کمار نے بتایا کہ اگر مارے جانے والے کسی عسکریت پسند کی پہچان کرنے کے لیے اُس کے گھر والے آگے آتے ہیں تو ان میں سے چند ایک کو بھی تدفین میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 میں شورش کے آغاز کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہلاک شدہ عسکریت پسندوں کی نعشوں کو اُن کے گھر والوں کو سونپنے کے بجائے پولیس انہیں از خود دفن کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض کارکنوں نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے، جبکہ حال ہی میں مارے گیے عسکریت پسندوں کے رشتے داروں کے مطابق یہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔ انہوں نے اس پر احتجاج کیا اور حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کے انسانی پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔
انسپکٹر جنرل وجے کمار سے استفسار کیا گیا کہ اس ہفتے کے شروع میں ہندوارہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے جواب میں حفاظتی دستوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے جسمانی طور پر معذور ایک چودہ سالہ مقامی لڑکے کی نعش کو کیوں لواحقین کے بجائے پولیس نے خاموشی کے ساتھ کسی اور جگہ سپردِ خاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس بات کا قوی امکان تھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کی تدفین کے موقعے پر امڈ آتی۔ ہم نے اس خدشے کا اظہار اس لڑکے کے گھر والوں کے سامنے کیا تو وہ بات کو سمجھ گئے۔ اسی لیے، اسے آبائی علاقے کے بجائے کہیں اور دفنایا گیا”-
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین6 days agoیوم آزادی اور مسلمان
