تازہ ترین
کورو نا لاک ڈاءون میں رمضان کا دوسرا جمعہ
وادی کشمیر میں لاک ڈاؤن کے7ہفتے مکمل ہونے کے بیچ ماہ رمضان کے دوسرے جمعہ کو شہر ودیہات کی مساجد،خانقاہیں،درگاہیں اور امام باڈوں کے منبر ومحراب خاموش رہے،جس دوران لوگوں نے نمازجمعہ گھروں میں ہی حسب سابقہ ادا کی۔اس دوران لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے اور جمعہ اجتماعات کے پیش دارالحکومت سرینگر کے شہر خاص میں دفعہ144کے تحت اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا جبکہ سیول لائنز میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق رحمتوں،برکتوں اور مغفرتوں کا سایہ فگن مہینہ ماہ رمضان جاری رہنے کے بیچ رمضان کے دوسرے جمعہ کوکورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں وادی کشمیر میں چہار سو سناٹا پسرا ہوا ہے۔عالمی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے نافذ کئے گئے سرکاری لاک ڈاؤن کے7ہفتے کشمیر وادی میں مکمل ہوگئے،جس دوران مسلسل 7ویں جمعے کو بھی تاریخی جامع مسجد سرینگر،آثار شریف حضرت بل سمیت سبھی عباد ت گاہوں میں جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔تاہم گذشتہ ہفتوں کے مقابلے میں دوسرے جمعہ کو شہر خاص میں دفعہ 144کے تحت اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔
جمعہ کی علی الصبح شہر خاص کے کم ازکم 5پولیس تھانوں رعناواری،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج اور صفاکدل کے تحت آنے والے علاقوں میں پولیس کی جپسیوں نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے شہر میں کرفیو نافذ کر نے کا اعلان کیا۔شہر خاص کے کئی شہریوں نے فون پر بتایا کہ مذکورہ علاقوں میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا گیا کہ دفعہ144 کے تحت شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا،لہٰذا لوگ گھروں میں رہیں اور باہر آنے کی کوشش نہ کریں۔سٹی رپورٹر کے مطابق گذشتہ جمعہ کے مقابلے میں اس جمعہ شہر خاص میں پابندیاں اور بندشیں سخت تھیں۔پولیس وفورسز نے جگہ جگہ تار بندی،ناکہ بندی اور گھیرا بندی کر رکھی تھی،جسکی وجہ سے شہر خاص میں ہر سو ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ماہ رمضان میں بھی مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور حکومتی احکامات پر سختی کیساتھ عمل در آمد کیا جارہا ہے۔تاہم بدھ کے روز اپنے آبائی گاؤں بیگ پورہ اونتی پورہ پلوامہ میں حزب کمانڈر ریاض نائیکو اپنے ساتھی کیساتھ ایک معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوا جبکہ پُرتشدد جھڑپوں میں متعدد نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے جمعرات کو ایک نوجوان کی موت ہوگئی۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات اور جمعہ اجتماعات کے پیش نظر یہ پابندیاں گزشتہ جمعہ کے مقابلوں میں سختی کیساتھ نافذ رہیں۔سیول لائنز میں گزشتہ دنوں کے مقابلوں میں پابندیاں اور بندشیں سخت کردی گئیں تھیں۔ وادی کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو جمعہ اجتماعات کے پیش نظر مزید سخت رہا،جس دوران خانیار سے خادنیار تک پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ لاگو رہیں۔
وادی کے شہر ودیہات میں لگاتار ساتویں جمعے(7ویں ہفتے) کو بھی کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی جبکہ عبادت گاہو ں سے آزان بھی نہیں گونجی،تاہم محلہ کی مساجد میں نما ز جمعہ کی آزان دی گئی،تاہم جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔ انتظامیہ کی اپیل کے بعد بیشتر جگہوں پر مساجد، خانقاہوں،زیارت گاہوں، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کے منتظمین نے رضاکارانہ طور پر یہ مقامات نمازیوں اور عقیدتمندوں کے لئے بند رکھے ہیں۔ رمضان سے قبل انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ماہ رمضان المبارک کی آمد پر ملت اسلامیہ خصوصاً مسلمانان جموں وکشمیر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔کوڈ۔19 کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کی’ایڈ وائزی‘ کو مدنظر رکھ کر انجمن اوقاف جامع مسجد نے سردست جامع مسجد میں نہ صرف نماز جمعہ بلکہ نماز تراویح بھی موقوف کردی ہے۔ تاہم حالات سازگار ہوتے ہی جامع مسجد میں حسب سابق نمازوں کا اہتمام ہوگا۔ لہٰذا مسلمانوں کو تلقین کیا جاتا ہے کہ وہ پنچگانہ نمازوں کے ساتھ ساتھ تراویح کی نماز بھی اپنے اپنے گھروں میں ہی پڑھیں اور اللہ رب العزت سے اس سنگین وبا کے خاتمہ کیلئے دعائیں کریں۔
اس دوران وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں مسلسل اور تشویشناک اضافے سے جہاں لوگ دہشت زدہ ہیں، وہیں حکومت نے بھی لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے پابندیوں کو مزید سنگین کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد لوگوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔جمعہ کوشہر سرینگر میں ہر سو سناٹا اور خوف وخاموشی چھائی ہوئی ہے لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں حد درجہ احتیاط کررہے ہیں۔ سڑکوں اور گلی کوچوں پر سیکورٹی اہلکار ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کھڑے ہیں اور خار دار تار سے بچھا کر بھی لوگوں کی نقل وحمل کو محدود کردیا گیا۔ سخت ترین بندشوں،پابندیوں،تار بندی کے سبب سرینگر کی تاریخی جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ جمعہ کوبھی شہرسری نگرسمیت کشمیرسے سبھی اضلاع میں لوگ گھروں میں ہی محدود رہے۔سری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں،بین الاضلاعی سڑکوں اورلنک روڈز پربھی پولیس اورفورسزنے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ جگہ جگہ چیک پوائنٹ پوسٹس قائم کی گئی ہیں جہاں سے لازمی خدمات سے منسلک افسروں،ڈاکٹروں اورملازمین کے بغیرکسی بھی شہری کوپیدل یاگاڑیوں میں سوارہوکر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
شہر سری نگر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد بند ہیں اور لوگ گھروں میں ہی نماز پنجگانہ ادا کررہے ہیں۔عالمی وبا سے متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے ساتھ وادی کشمیر میں جہاں ایک طرف گزشتہ51دنوں سے جاری لاک ڈاون ہر گزرتے روز کے ساتھ سخت ہوتا جارہا ہے وہیں لوگوں میں بھی خوف و تشویش کی لہر دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ کوروناوائرس کی اس وبائی بیماری کی منتقلی کی زنجیر کو توڑنے کے لیے حکام کی طرف سے کرناہ سے قاضی گنڈ تک کرفیو جیسی بندشیں اور پابندیاں عائد ہیں۔شہرو دیہات میں تمام دکانیں، کاروباری ادارے، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر کے علاوہ تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور غائب ہے۔لوگ گھروں میں ہی سہمے ہوئے ہیں اور ہر طرف خوف وہراس اور ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ادھر سرینگر سمیت وادی کے شہر و دیہات کے متعدد علاقے ریڈ زون میں تبدیل کئے گئے ہیں۔ جبکہ کئی بستیاں بفر زون میں رکھی گئی ہیں۔وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144 کے تحت کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں اور لوگوں کو گھروں میں بیٹھے رہنے کو یقینی بنانے کے لئے پولیس گاڑیاں مسلسل چکر کاٹ رہی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کی اپیل کرتے ہیں۔وادی میں سری نگر سے لے کر دیہات تک کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کرکے اس وبا کے فوری خاتمے کے لئے دعائیں کیں۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے خیرات دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے تاکہ اس وبا سے چھٹکارا پایا جاسکے۔
حکومت کے علاوہ مذہبی تنظیموں نے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کو موجودہ حالات کے پیش نظر معطل رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ جموں وکشمیر میں انتظامیہ نیدرجنوں ایسے علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا ہے جہاں سے کورونا وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان علاقوں کواب سلاخوں سے مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کرکے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے علاقوں میں لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے ہوم ڈیلوری بھی کی جارہی ہے۔ادھرصوبہ جموں، جہاں کشمیر کے نسبت کورونا وائرس کے بہت کم مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں، میں جمعہ کو مسلسل لاک ڈاؤن جاری رہا۔ جموں شہر اور صوبہ کے دیگر 9 اضلاع کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے اور کاروباری و دیگر سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سڑکوں پر سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ صوبہ جموں میں بھی کہیں بھی نماز جمعہ کا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔جموں کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے،تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں مندروں میں پوجا پاٹ نہیں ہورہی ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان6 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
