تازہ ترین
کورو نا لاک ڈاءون میں رمضان کا دوسرا جمعہ
وادی کشمیر میں لاک ڈاؤن کے7ہفتے مکمل ہونے کے بیچ ماہ رمضان کے دوسرے جمعہ کو شہر ودیہات کی مساجد،خانقاہیں،درگاہیں اور امام باڈوں کے منبر ومحراب خاموش رہے،جس دوران لوگوں نے نمازجمعہ گھروں میں ہی حسب سابقہ ادا کی۔اس دوران لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے اور جمعہ اجتماعات کے پیش دارالحکومت سرینگر کے شہر خاص میں دفعہ144کے تحت اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا جبکہ سیول لائنز میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق رحمتوں،برکتوں اور مغفرتوں کا سایہ فگن مہینہ ماہ رمضان جاری رہنے کے بیچ رمضان کے دوسرے جمعہ کوکورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں وادی کشمیر میں چہار سو سناٹا پسرا ہوا ہے۔عالمی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے نافذ کئے گئے سرکاری لاک ڈاؤن کے7ہفتے کشمیر وادی میں مکمل ہوگئے،جس دوران مسلسل 7ویں جمعے کو بھی تاریخی جامع مسجد سرینگر،آثار شریف حضرت بل سمیت سبھی عباد ت گاہوں میں جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔تاہم گذشتہ ہفتوں کے مقابلے میں دوسرے جمعہ کو شہر خاص میں دفعہ 144کے تحت اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔
جمعہ کی علی الصبح شہر خاص کے کم ازکم 5پولیس تھانوں رعناواری،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج اور صفاکدل کے تحت آنے والے علاقوں میں پولیس کی جپسیوں نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے شہر میں کرفیو نافذ کر نے کا اعلان کیا۔شہر خاص کے کئی شہریوں نے فون پر بتایا کہ مذکورہ علاقوں میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا گیا کہ دفعہ144 کے تحت شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا،لہٰذا لوگ گھروں میں رہیں اور باہر آنے کی کوشش نہ کریں۔سٹی رپورٹر کے مطابق گذشتہ جمعہ کے مقابلے میں اس جمعہ شہر خاص میں پابندیاں اور بندشیں سخت تھیں۔پولیس وفورسز نے جگہ جگہ تار بندی،ناکہ بندی اور گھیرا بندی کر رکھی تھی،جسکی وجہ سے شہر خاص میں ہر سو ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ماہ رمضان میں بھی مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور حکومتی احکامات پر سختی کیساتھ عمل در آمد کیا جارہا ہے۔تاہم بدھ کے روز اپنے آبائی گاؤں بیگ پورہ اونتی پورہ پلوامہ میں حزب کمانڈر ریاض نائیکو اپنے ساتھی کیساتھ ایک معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوا جبکہ پُرتشدد جھڑپوں میں متعدد نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے جمعرات کو ایک نوجوان کی موت ہوگئی۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات اور جمعہ اجتماعات کے پیش نظر یہ پابندیاں گزشتہ جمعہ کے مقابلوں میں سختی کیساتھ نافذ رہیں۔سیول لائنز میں گزشتہ دنوں کے مقابلوں میں پابندیاں اور بندشیں سخت کردی گئیں تھیں۔ وادی کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو جمعہ اجتماعات کے پیش نظر مزید سخت رہا،جس دوران خانیار سے خادنیار تک پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ لاگو رہیں۔
وادی کے شہر ودیہات میں لگاتار ساتویں جمعے(7ویں ہفتے) کو بھی کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی جبکہ عبادت گاہو ں سے آزان بھی نہیں گونجی،تاہم محلہ کی مساجد میں نما ز جمعہ کی آزان دی گئی،تاہم جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔ انتظامیہ کی اپیل کے بعد بیشتر جگہوں پر مساجد، خانقاہوں،زیارت گاہوں، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کے منتظمین نے رضاکارانہ طور پر یہ مقامات نمازیوں اور عقیدتمندوں کے لئے بند رکھے ہیں۔ رمضان سے قبل انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ماہ رمضان المبارک کی آمد پر ملت اسلامیہ خصوصاً مسلمانان جموں وکشمیر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔کوڈ۔19 کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کی’ایڈ وائزی‘ کو مدنظر رکھ کر انجمن اوقاف جامع مسجد نے سردست جامع مسجد میں نہ صرف نماز جمعہ بلکہ نماز تراویح بھی موقوف کردی ہے۔ تاہم حالات سازگار ہوتے ہی جامع مسجد میں حسب سابق نمازوں کا اہتمام ہوگا۔ لہٰذا مسلمانوں کو تلقین کیا جاتا ہے کہ وہ پنچگانہ نمازوں کے ساتھ ساتھ تراویح کی نماز بھی اپنے اپنے گھروں میں ہی پڑھیں اور اللہ رب العزت سے اس سنگین وبا کے خاتمہ کیلئے دعائیں کریں۔
اس دوران وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں مسلسل اور تشویشناک اضافے سے جہاں لوگ دہشت زدہ ہیں، وہیں حکومت نے بھی لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے پابندیوں کو مزید سنگین کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد لوگوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔جمعہ کوشہر سرینگر میں ہر سو سناٹا اور خوف وخاموشی چھائی ہوئی ہے لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں حد درجہ احتیاط کررہے ہیں۔ سڑکوں اور گلی کوچوں پر سیکورٹی اہلکار ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کھڑے ہیں اور خار دار تار سے بچھا کر بھی لوگوں کی نقل وحمل کو محدود کردیا گیا۔ سخت ترین بندشوں،پابندیوں،تار بندی کے سبب سرینگر کی تاریخی جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ جمعہ کوبھی شہرسری نگرسمیت کشمیرسے سبھی اضلاع میں لوگ گھروں میں ہی محدود رہے۔سری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں،بین الاضلاعی سڑکوں اورلنک روڈز پربھی پولیس اورفورسزنے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ جگہ جگہ چیک پوائنٹ پوسٹس قائم کی گئی ہیں جہاں سے لازمی خدمات سے منسلک افسروں،ڈاکٹروں اورملازمین کے بغیرکسی بھی شہری کوپیدل یاگاڑیوں میں سوارہوکر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
شہر سری نگر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد بند ہیں اور لوگ گھروں میں ہی نماز پنجگانہ ادا کررہے ہیں۔عالمی وبا سے متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے ساتھ وادی کشمیر میں جہاں ایک طرف گزشتہ51دنوں سے جاری لاک ڈاون ہر گزرتے روز کے ساتھ سخت ہوتا جارہا ہے وہیں لوگوں میں بھی خوف و تشویش کی لہر دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ کوروناوائرس کی اس وبائی بیماری کی منتقلی کی زنجیر کو توڑنے کے لیے حکام کی طرف سے کرناہ سے قاضی گنڈ تک کرفیو جیسی بندشیں اور پابندیاں عائد ہیں۔شہرو دیہات میں تمام دکانیں، کاروباری ادارے، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر کے علاوہ تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور غائب ہے۔لوگ گھروں میں ہی سہمے ہوئے ہیں اور ہر طرف خوف وہراس اور ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ادھر سرینگر سمیت وادی کے شہر و دیہات کے متعدد علاقے ریڈ زون میں تبدیل کئے گئے ہیں۔ جبکہ کئی بستیاں بفر زون میں رکھی گئی ہیں۔وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144 کے تحت کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں اور لوگوں کو گھروں میں بیٹھے رہنے کو یقینی بنانے کے لئے پولیس گاڑیاں مسلسل چکر کاٹ رہی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کی اپیل کرتے ہیں۔وادی میں سری نگر سے لے کر دیہات تک کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کرکے اس وبا کے فوری خاتمے کے لئے دعائیں کیں۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے خیرات دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے تاکہ اس وبا سے چھٹکارا پایا جاسکے۔
حکومت کے علاوہ مذہبی تنظیموں نے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کو موجودہ حالات کے پیش نظر معطل رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ جموں وکشمیر میں انتظامیہ نیدرجنوں ایسے علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا ہے جہاں سے کورونا وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان علاقوں کواب سلاخوں سے مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کرکے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے علاقوں میں لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے ہوم ڈیلوری بھی کی جارہی ہے۔ادھرصوبہ جموں، جہاں کشمیر کے نسبت کورونا وائرس کے بہت کم مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں، میں جمعہ کو مسلسل لاک ڈاؤن جاری رہا۔ جموں شہر اور صوبہ کے دیگر 9 اضلاع کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے اور کاروباری و دیگر سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سڑکوں پر سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ صوبہ جموں میں بھی کہیں بھی نماز جمعہ کا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔جموں کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے،تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں مندروں میں پوجا پاٹ نہیں ہورہی ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
