تازہ ترین
افغانستان سے لاپتا امريکی کنٹريکٹر ہماری تحويل ميں نہيں: طالبان
طالبان نے امریکی کنٹریکٹر مارک فریرکس کی گمشدگی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن پر واضح کیا ہے کہ امریکی کنٹریکٹر طالبان کی تحویل میں نہیں ہيں۔
امریکی کنٹریکٹر مارک فریرکس رواں برس جنوری کے آخر میں افغانستان کے صوبہ خوست سے لاپتا ہو گئے تھے۔
طالبان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے قطر کے اپنے حالیہ دورے میں طالبان کے سامنے مارک فریرکس کی رہائی کا معاملہ اٹھایا تھا۔
امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات ميں طالبان کے وفد کی قیادت کرنے والے رہنما شير محمد عباس استنکزئی نے وائس آف امریکہ سے کو بتایا ہے کہ زلمے خلیل زاد نے اپنے حاليہ دورۂ دوحہ ميں ان کی ٹيم کے ساتھ امريکی کنٹريکٹر کا معاملہ اٹھايا تھا کہ اگر وہ طالبان کے قبضے ميں ہوں تو ان کی رہائی عمل ميں لائی جائے۔
عباس استنکزئی کے بقول جہاں تک ہماری معلومات ہيں وہ طالبان کی تحويل ميں نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس ان کی گمشدگی کے بارے ميں کسی قسم کی اطلاع ہے۔
واضح رہے کہ زلمے خليل زاد نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں طالبان کے نمائندے ملا برادر سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں امريکہ اور طالبان کے درميان امن معاہدے پر عمل درآمد کے طريقوں پر تبادلۂ خيال کیا گیا تھا۔
وی او اے سے گفتگو میں عباس استنکزئی نے طالبان کے اس موقف کو بھی دہرایا کہ رواں سال فروری ميں طالبان کے ساتھ دوحہ ميں امریکہ نے جس معاہدے پر دستخط کے تھے اس کو پورا نہیں کیا گیا۔ اس کی واضح مثال ان کے بقول یہ ہے کہ امريکہ ابھی تک افغان حکومت سے طالبان کے پانچ ہزار قيدی رہا کرانے ميں ناکام رہا ہے۔
‘افغان حکومت نہیں چاہتی کہ ملک ميں امن قائم ہو’
طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نہیں چاہتی کہ ملک ميں امن قائم ہو بلکہ اس کی کوشش ہے کہ اپنا دورِ حکومت مکمل کرے۔ اس ضمن ميں مختلف بہانوں سے امن مذاکرات کا عمل سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔
ياد رہے کہ افغان طالبان اور امريکہ کے درميان ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار تک قيدی رہا کرنے ہيں جب کہ طالبان نے بھی افغان حکومت کے 1000 قيديوں کو رہا کرنا ہے۔ ليکن اب تک افغان حکومت نے طالبان کے 933 جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 200 سے زائد قيدی رہا کیے ہيں۔
افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاويد فيصل کا کہنا ہے کہ طالبان نے رمضان ميں اپنے حملے مزيد تيز کر دی ہيں اور رمضان کے دوسرے ہفتے ميں طالبان نے ملک بھر ميں 25 شہريوں کو ہلاک اور 74 کو زخمی کيا ہے۔ ان ميں خواتين اور بچے بھی شامل ہيں۔ ترجمان کے بقول جانی نقصان کی یہ شرح گزشتہ ہفتے کے مقابلے ميں 33 فی صد زیادہ ہے۔
تاہم شير محمد عباس استنکزئی نے وی او اے سے گفتگو میں اس تاثر کو رد کیا۔ ان کے مطابق کابل انتظاميہ نے اپنی کارروائياں تيز کی ہيں جب کہ الزام طالبان پر عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے تشدد کی لہر ميں اضافہ کيا ہے۔
‘جنگ ميں شدت افغان حکومت کی طرف سے ہے’
شير محمد عباس استنکزئی نے الزام لگایا کہ جنگ ميں شدت افغان حکومت کی طرف سے ہے اور افغان حکومت نے طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہيں۔ حتٰی کہ رات کو بھی چھاپے جاری رکھے ہوئے ہيں جس ميں نہ صرف لوگوں کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ ہلاک بھی کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان ميں جنگ بندی تب ہی ممکن ہے جب بين الافغان مذاکرات شروع ہو جائيں اور بات چيت کا عمل جاری ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امريکہ افغان حکومت پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ امن معاہدے کی شقوں پر عمل کرے تاکہ بين الافغان مذاکرات جلد از جلد شروع ہوں اور ايک ايسا سياسی بندوبست وجود ميں لايا جائے جو کہ تمام افغان عوام کو قابل قبول ہو۔
‘افغانستان ميں داعش کو کسی صورت برداشت نہيں کريں گے’
ايک سوال کے جواب ميں شير محمد عباس استنکزئی کا کہنا تھا کہ داعش نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنيا کے لیے ايک خطرناک گروہ ہے جو کہ پوری دنيا کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے اور کوئی بھی ملک اس پُر تشدد گروہ سے لاحق خطرہ نظر انداز نہیں کرسکتا۔
انہوں نے الزام لگايا کہ افغان سر زمين پر داعش کو افغانستان کے خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے بقول طالبان اس ضمن ميں دلائل کے ساتھ ساتھ شواہد بھی رکھتے ہيں۔
عباس استنکزئی کا کہنا تھا کہ طالبان نے داعش کے افغانستان ميں تقريباً تمام ٹھکانے ختم کر ديے ہيں۔ جو باقی ٹھکانے ہيں وہ بھی جلد ختم کر دیے جائیں گے کيونکہ داعش افغانستان کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہم افغانستان ميں داعش کو کسی بھی صورت ميں برداشت نہيں کريں گے۔
‘تمام قيدی رہا ہوتے ہی بين الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی’
خیال رہے کہ افغانستان کے داخلی سياسی حالات اب بہتر ہو رہے ہيں۔ عبداللہ عبداللہ نے ملک ميں جاری سياسی تناؤ کو حل کرنے کے لیے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بات چيت ميں اہم پيش رفت کی تصديق کی ہے۔
ليکن طالبان اب بھی موجودہ افغان حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہيں۔
طالبان کے مطابق موجودہ حکومت امريکہ کی جانب سے 20 سال سے قائم نظام کا تسلسل ہے جب کہ موجودہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درميان شراکتِ اقتدار اسی سلسلے کی کڑی ہے جو کہ انہيں قابلِ قبول نہيں۔
شير محمد عباس استنکزئی کے مطابق وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہيں کہ بين الافغان مذاکرات کا آغاز امن معاہدے کے تحت پانچ ہزار طالبان قيديوں کی رہائی سے مشروط ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ جس دن امن معاہدے کے تحت طالبان کے تمام قيدی رہا ہو جائيں گے اس کے اگلے ہی دن بين الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
‘طالبان امریکہ کے کسی بھی دباؤ ميں نہيں آئے’
افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے سينئر صحافی رحيم اللہ يوسف زئی کا کہنا ہے کہ امريکہ نے پہلے دن سے ہی طالبان کو دباؤ ميں رکھنے کی کوشش کی ہے ليکن طالبان ان کے کسی بھی دباؤ ميں نہيں آئے۔
وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے رحيم اللہ يوسف زئی کا کہنا تھا کہ امريکہ طالبان سے متعدد بار يہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افغان حکومت سے براہِ راست مذاکرات کریں ليکن طالبان نے انہيں صاف کہہ ديا تھا کہ پہلے مذاکرات امريکی حکومت سے ہی ہوں گے اور ايسا ہی ہوا اور افغان حکومت کو دوحہ ميں ہونے والے امن مذاکرات سے باہر رکھا گيا۔
انہوں نے مزيد بتايا کہ ابھی بھی امريکہ کی يہ کوشش ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درميان مذاکرات ہوں۔ ليکن طالبان کا اصرار ہے کہ پہلے فروری کے آخر ميں ہونے والے امن معاہدے کے تحت قيديوں کی رہائی اور تبادلے کے وعدے کو پورا کيا جائے۔
رحيم اللہ يوسف زئی کے مطابق امريکہ طالبان پر بین الافغان مذاکرات شروع کرنے پر دباؤ ڈال رہا ہے اور اس ضمن ميں امريکی سيکريٹری دفاع مارک ايسپر نے طالبان کو دھمکی بھی دی ہے ليکن وہ نہيں سمجھتے کہ طالبان پر اس طرز کی دھمکيوں کا کچھ اثر ہوگا۔
‘طالبان جنگ کے لیے ہر وقت تيار نظر آتے ہيں’
ان کے بقول طالبان جنگ کے لیے ہر وقت تيار نظر آتے ہيں ليکن وہ اپنے مطالبات امن معاہدے کے نکات کے مطابق منوانا چاہيں گے۔
امريکی کنٹريکٹر کے اغوا کے حوالے سے رحيم اللہ يوسف زئی کا کہنا تھا کہ اکثر اس قسم کی کارروائيوں ميں حقانی نيٹ ورک ملوث ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ بھی طالبان کی تحريک کا حصہ ہيں۔ پہلے جب انہوں نے اس قسم کے ہائی پروفائل لوگوں کو اغوا کيا تھا تو ان کے ذريعے اپنے قيديوں کو رہا کرايا تھا۔
رحيم اللہ يوسف زئی کے مطابق اگر کنٹریکٹر کے اغوا سے متعلق امريکہ کے پاس کوئی شواہد ہيں تو وہ انہيں سامنے لائيں اور اگر اسی طرح طالبان کے کوئی مطالبات ہيں تو وہ انہيں پیش کریں کيونکہ معاملات اعتماد سازی کے ذريعے ہی بہتر بنائے جا سکتے ہيں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
