تازہ ترین
لاک ڈاءون ،جمعتہ الوداع ، ماہ رمضان کا اختتام
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کےلئے نئے رنگ روپ میں چوتھے مرحلے کے ملک لاک ڈاءون کے وادی کشمیر میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کو بھی تما م چھوٹی بڑی مسا جد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل9ویں ہفتے بھی لوگوں نے نمازجمعہ گھروں میں ہی ادا کی ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کیسوں کی تعداد1400سے زیادہ ہوگئی اور ہر روز اس تعداد میں غیر معمولی وتشویشناک اضافے کے پیش نظر جہاں انتظامیہ لاک ڈاءون کو سخت سے سخت تر کررہی ہے ،وہیں لوگ بھی صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گھروں میں بیٹھ کر سما جی دور ی کو یقینی بنارہے ہیں ،تاکہ لوگ عالمی وبا سے محفوظ رہ سکے ۔
اگرچہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کورونا لاک ڈاءون میں کسی حد تک نرمی لائی گئی اور نجی گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اور عید الفطر کے پیش نظر بھی گزشتہ چند روز کے دوران لوگوں کی نقل وحرکت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ تاہم شہر ودیہات میں ہنوز ہر طرح کے بازار بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور ٹھپ ہے ۔ چہار سو خاموشی چھا ئی ہوئی اور لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ۔ وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں ماہ رمضان کے دوران مساجد پوری طرح سے آباد رہتی ہیں ،تاہم رواں ماہ رمضان پر عالمگیر وبا کا سیاہ سائیہ رہا ۔ ماہ رمضان میں نماز کی ادائیگی کے دوران لوگوں کی بھیڑ کافی رہتی ہے اور خاص طور پر جمعتہ الوداع کو نماز کی ادائیگی کےلئے ہر چھوٹی بڑی مساجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں اور یہ عالم ہو تا تھا کہ مساجد کے صحنوں کے باہر سڑکوں پر بھی مصلے بچھتے تھے لیکن امسال تمام چھوٹی بڑی مساجد خالی ہیں ۔ شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد میں لوگ جمعہ کے روز صبح سے ہی انتظار میں بیٹھے رہتے تھے تاکہ انہیں اندر جگہ ملے اور لوگوں کو صبح 11 بجے سے ہی نماز کی تیاریوں میں مصروف دیکھا جاتاتھا،یہاں جمعتہ الوداع کو وادی کا سب سے بڑا اور عظیم المشان اجتماع منعقد ہوتا تھا ،لیکن امسال کورونا وائرس نے اس پر روک لگا دی ۔
گزشتہ 4 جمعے سے کورونا وائرس کی وجہ سے تمام مساجد بند ہیں اور ان میں خال ہی کسی کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہیں بھی باقاعدگی کیسا تھ پنجگانہ نمازیں بھی باجماعت ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ مسلسل چوتھے اورماہ رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کو بھی وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل9ویں ہفتے بھی لوگوں نے نما زجمعہ مساجد کی بجائے گھروں میں ادا کی ۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر کیساتھ ساتھ آچار شریف حضرت بل جسے مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے، میں بھی ماہ رمضان خاص طور پر جمعتہ الوداع کو کافی بھیڑ دیکھنے کو ملتی تھی ،لیکن امسال ایساکچھ نہیں دیکھنے کو مل رہا ۔
اسی طرح شہر خاص میں واقع حضرت میر سید علی ہمدانی ;231; کی خانقاہ معلی سمیت دیگرصوفی بزرگان دین کی زیارت گاہوں سے منسلک مساجد میں بھی ماہ رمضان کے دوران نمازیوں کی کافی بھیڑ رہتی تھی ،لیکن امسال ان عبادت گاہوں کے منبر ومحراب مکمل طور خاموش ہیں اور جمعتہ الوداع کو بھی صورتحال مختلف نہیں رہی ۔ وادی کے دیگر تمام ضلع و تحصیل صدر مقامات اور دیگر علاقہ جات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کسی بھی چھوٹی بڑی مسجد میں جمعتہ الوداع کو بھی نماز جمعہ ادا نہیں ہوئی ہے ۔
لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کی اور مسجدوں کی طرف جانے سے احتراز کیا ۔ متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر نے موجودہ صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ کووڈ ۔ 19کے گراف اور احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شب قدر،جمعتہ الوداع اور نماز عید کی اجتماعی تقریبات انجام نہیں دی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ رمضان کے معمولات کے مطابق لوگ گھروں میں ہی انفرادی طور نمازوں ، ذکر و اذکار ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا اہتما م کرےں ۔
ایک تحریری بیان کے مطابق متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے بنیادی اراکین اور اس میں شامل مقتدر دینی ادارے انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر ، مفتی اعظم جموں وکشمیر مفتی ناصر الاسلام ، مسلم وقف بورڈ جموں وکشمیر، جموں وکشمیر جمعیت اہلحدیث، دارالعلوم رحیمیہ ،جموں وکشمیر انجمن شریعت شیعان اور کاروان اسلامی جموں وکشمیر ، جموں وکشمیر اتحاد المسلین، انجمن تبلیغ الاسلام کے علاوہ اور دیگر دینی و ملی تنظیمات نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ موجودہ وبا کی سنگینی آئے روز بڑھتے ہوئے (کووڈ ۔ 19)کے گراف اور احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شب قدر،جمعتہ الوداع اور نماز عید وغیرہ کی اجتماعی تقریبات انجام نہیں دی جائیں گی بلکہ رواں ماہ رمضان کے معمولات کے مطابق لوگ گھروں میں ہی انفرادی طور نمازوں ، ذکر و اذکار ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا اہتما م کرےں ۔
مجلس علما نے موجودہ پُر آشوب حالات کے تناظر میں ایک دوسرے کی خاص طور پر ضرورتمندوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت پر زور دیتے ہوئے لوگوں کو تلقین کی کہ دینی ،فلاحی اور امدادی اداروں کی بھر پور مالی معاونت کے ساتھ ساتھ صدقہ فطر جو امسال 55 روپے فی کس طے کیا گیا ہے اُسے سماج کے غریبوں اور محتاجوں تک پہنچا کر عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں ۔
علاوہ ازیں معذور حضرات جو روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہےں وہ ایک روزے کے بدلے بطور فدیہ 50 روپے یومیہ کے حساب سے اللہ کے راستے میں خیرات کریں ۔ ماہ رمضان کے پیش نظر خاص کر جمعتہ الوداع کو جو بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی وہ بھی کلی طور پر مفقود ہے ۔ دریں اثناء جموں میں بھی لاک ڈاءون جار ی ہے اور یہاں بھی مسلم علاقوں میں مسلسل تیسرے جمعے کو بھی مساجد میں نما زجمعہ ادا نہیں کی گئی اور لوگوں نے گھروں میں بیٹھ کر ہی نماز جمعہ ادا کرنے کو ترجیح دی ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
