تازہ ترین
کیرالا کی کامیابی کو اہمیت کیوں نہیں دی گئی؟
آکر پٹیل
ملک کی کسی ریاست نے کووڈ۔۱۹؍ سے جنگ میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے تو وہ کیرالا ہے مگر افسوس کہ اس کی جدوجہد کو لائق اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس کا تذکرہ نہیں کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا ہوتا تو مزید ۳۷؍ ہزار تا ۷۱؍ ہزار اموات ہوتیں۔ بعض مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن اور اس میں توسیع نہ کی گئی ہوتی تو وطن عزیز میں کورونا کے متاثرین کی تعداد ۱۴؍ لاکھ تا ۲۹؍ لاکھ ہوتی۔حکومت اور پھر نیتی آیوگ کے ایک رُکن نے اپنی انفرادی حیثیت میں اُس سلائیڈ کیلئے معذرت طلب کی ہے جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ۲۴؍ اپریل تک کورونا کے کیسیز صفر کے قریب ہوجائینگے۔
اب نیتی آیوگ کے رُکن نے جمعہ کو کہا کہ ’’کسی نے یہ بات نہیں کہی کہ ایک خاص تاریخ تک کیسیز کی تعداد صفر کے قریب آجائیگی۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔ اس غلط فہمی کیلئے مَیں معذرت خواہ ہوں۔‘‘
حکومت کووڈ۔۱۹؍ سے متعلق جو پریس کانفرنس کرتی ہے اس میں دو باتوں پر خاص توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد (جو بڑھ رہی ہے) اور دوسری بات یہ کہ اگر وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کا سخت فیصلہ نہ کیا ہوتا تو اِس وقت پورا ملک ایک بڑی مصیبت میں گھرا ہوتا۔‘‘ معلوم ہوا کہ حکومت نئے مریضوں کی تعداد پر توجہ مرکوز نہیں کررہی ہے جبکہ کہا یہ جارہا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مریضوں کی تعداد کا اضافہ رُک جائیگا یعنی کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پالیا جائیگا۔
ریکوری ریٹ (صحت یاب ہونے والوں کا تناسب) کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ متاثر ہوئے، پھر اُن کی جانچ ہوئی، وہ پازیٹیو نکلے اور کچھ وقت بعد جب اُن کی دوبارہ جانچ کی گئی تو ان کی رپورٹ نگیٹیو آئی۔ سنیچر کی صبح کو جب یہ سطریں ضبط تحریر میں لائی جارہی ہیں، ۱ء۲۵؍ لاکھ لوگ ایسے تھے جو کورونا پازیٹیو بتائے گئے جبکہ ریکور (صحت یاب) ہونےو الوں کی تعداد ۵۲؍ ہزار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصف سے کچھ کم تعداد ایسے مریضوں کی ہے جو شفا یاب ہوئے۔ عالمی سطح پر ۵۳؍ لاکھ لوگ متاثر ہوئے جن میں سے ۲۱؍ لاکھ صحت یاب ہوئے۔
اس مضمون نگار کی رائے یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد قدرتی طور پر بڑھتی رہے گی تاوقتیکہ ۹۵؍ فیصد نہ ہوجائے۔ ممکن ہے ریکوری ریٹ اس سے بھی زیادہ ہوجائے۔ کیوں؟ اس لئے کہ کووڈ۔۱۹؍ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد فی الحال ۶؍ فیصد ہے۔ ان میں اکثریت اُن لوگوں کی تھی جو ضعیف العمر تھے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ یہ اطلاعات امریکہ اور یورپ کی ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، اب تک ہلاکتوں کی شرح ۳؍ فیصد ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ اگر حکومت کچھ نہ کرے تب بھی ۹۷؍ فیصد لوگ صحت یاب ہوجائینگے۔
یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ کووڈ۔۱۹؍ کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اس وائرس کی زد میں آجائے تو اُسے، اُس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک اس کے جسم میں وائرس کا اثر ختم نہ ہوجائے۔ مگرکوئی شخص ایک بار متاثر ہوکر ٹھیک ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوبارہ متاثر نہیں ہوگا۔ کئی ملکوں میں ’’ری انفیکشن‘‘ کے واقعات بھی بڑے پیمانے پر ہوئے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ریکوری ریٹ یعنی صحت یاب مریضوں کی تعداد بتانے پر اصرار کرتی ہے تو اس کا یہ طریقۂ عمل سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ریکوری، ۱۰۰؍ فیصد ریکوری نہیں ہوتی، بعض مریض دوبارہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔حکومت کا یہ طریقۂ عمل شاید عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش ہے۔
مسئلہ نئے کیسیز کا ہے او ریہ مسئلہ اِس وقت بھی ہے اور آئندہ دنوں اور ہفتوں میں بھی رہے گا۔ مئی میں نو متاثرین کی یومیہ تعداد ۲؍ ہزار تھی جو گزشتہ ہفتے ۴؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اس وقت ۶؍ ہزار ہے۔ کیرالا کے علاوہ کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں نئے کیسیز کی تعداد کم ہوئی ہو۔لاک ڈاؤن کے دوران جانچ کا سلسلہ جاری رہے گا اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں تک کیسیز بڑھنے ہی کی اطلاع ملتی رہے گی (خدانخواستہ)۔
دیگر ملکوں میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا سوائے اُن ملکوں کے جہاں رضاکارانہ طور پر عوام احتیاط کرتے رہے، سماجی فاصلہ کو ملحوظ رکھا، بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی زحمت اُٹھائی، ماسک پہنا وغیرہ۔ جن ملکوں میں متاثرین کی تعدادایک لاکھ سے زیادہ ہے اُن کی تعداد ۱۱؍ ہے۔ ان میں برازیل، ہندوستان اور پیرو میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکہ میں یومیہ ۲۰؍ ہزار تا ۳۵؍ ہزار نئے کیسیز سامنے آرہے تھے۔ پچھلے ۵۰؍ دن یہی ہوا۔اس ملک نے اب تک ۱ء۴؍ کروڑ ( ہر ۱۰؍ لاکھ لوگوں میں ۴۲؍ ہزار ) ٹیسٹ کئے ہیں۔ ہندوستان میں ہر ۱۰؍ لاکھ میں صرف ۲؍ ہزار کی جانچ ہوئی ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ملک میں چونکہ ٹیسٹنگ ہی کم ہورہی ہے اس لئے کوئی نہیں جانتا کہ مزید کتنے لوگ کووڈ۔۱۹؍ سے متاثر ہیں؟
اب چونکہ ہمارے پاس کافی ڈاٹا موجود ہے اس لئے ہم شرح اموات دیکھ کر بھی کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گجرات میں ۱۳؍ ہزار لوگ متاثر ہوئے جبکہ ۸؍ سو کی موت ہوئی۔ یہ شرح اموات ملک کی مجموعی شرح سے دوگنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ریاست میں مزید ۱۳؍ ہزار ایسے ہوسکتے ہیں جو متاثر ہوں اور جنہیں علم نہ ہو کہ وہ متاثر ہیں۔چنانچہ ایک خدشہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ جنہوں نے دفاتر جانا شروع کردیا ہے اور وہ سارے مزدور جو پیدل چل کر اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گئے، ان کی وجہ سے متاثرین کی تعدادبڑھ سکتی ہے۔ اس کی و جہ سے یومیہ اوسط بڑھے گا، نقطۂ عروج تک پہنچے گا اور پھر کم ہونا شروع ہوگا جیسا کہ ہم نے امریکہ، اٹلی اور برطانیہ میں دیکھا۔ دراصل حقیقی پیمانہ یہ دیکھنا ہے کہ کتنے نئے کیسیز آتے ہیں۔ پیمانہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کتنے لوگ اچھے ہوگئے اور یہ بھی نہیں کہ کتنے لوگوں کو بچا لیا گیا۔
رہا یہ سوال کہ یومیہ نئے متاثرین کا اوسط کیسے کم ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب کیرلا سے پوچھنا چاہئے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں مارچ میں (جبکہ کورونا پھیلنا شروع ہوا تھا) سب سے زیادہ کیسیز تھے مگر اب وہاں کے متاثرین کی تعداد صرف ۱۷؍ ہے۔ اس ریاست کی کامیابی کا اعتراف کئی بیرونی ملکوں نے کیا ہے مگر ہمارے وزیر اعظم نے ایک بار بھی اس کامیابی کو لائق اعتناء نہیں سمجھا۔کورونا سے لڑائی میں اس ریاست نے جو کچھ بھی کیا وہ ملک کی تمام ریاستوں کیلئے مشعل راہ ہے۔
ہم میں سے بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ کیرالا نے آخر ایسا کیا کیا ہے جو گجرات، مہاراشٹر اور دہلی جیسی ریاستیں نہیں کرپارہی ہیں۔ اس لاعلمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت نے کیرالا کی جدوجہد کو اہمیت نہیں دی اور اسے رول ماڈل تسلیم نہیں کیا۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
