تازہ ترین
کیا کورونا حقیقت نہیں فسانہ ہے؟
’محمد بلال غوری
’کورونا محض ڈرامہ ہے اورحکومت اس کی آڑ میں عالمی امداد سمیٹنا چاہ رہی ہے‘‘۔
اگرچہ بڑے شہروں میں بھی کسی حد تک یہ مفروضہ زیر گردش ہے لیکن اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر نکل کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مفروضے اور تاثر کو حقیقت سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
والدہ کے پاس عید کے چار دن گزارنے کیلئے جنوبی پنجاب جانا ہوا تو یوں لگا جیسے کورونا نے بھی ہمارے اربابِ اقتدار و اصحاب اختیار کی طرح اس خطے کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ کہیں کوئی شخص ماسک پہنے دکھائی دے تو لوگ اسے یوں گھور کر دیکھتے ہیں جیسے خلائی مخلوق سے آمنا سامنا ہو رہا ہو۔ سماجی فاصلے کا تصور عنقا ہے اور لوگ روایتی انداز میں ’’جپھی‘‘ ڈال کر گلے ملتے اور مصافحہ کرتے ہیں اور کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جس نے مصافحہ کرنے کے بعد سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کیے ہوں۔
نمازِ عید کی ادائیگی کیلئے جانا ہوا تو ایمان کی حرارت والے نمازی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نظر آئے اور لگ بھگ دو ہزار کے مجمع میں کوئی ایک شخص بھی ایسا دکھائی نہیں دیا جس نے ماسک پہن رکھا ہو۔ میں نے گھر سے نکلتے ہی ماسک پہن رکھا تھا کیونکہ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو آپ کورونا کی زد سے محفوظ رہتے ہیں اور دوسرا لوگ پہچان نہیں پاتے اس لئے مصافحہ کرنے سے انکار کرکے آپ کسی کی دل آزاری کے مرتکب نہیں ہوتے۔
لیکن ماسک کی وجہ سے لوگ مجھے یوں مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے ان سب میں اکیلا میں ہی کورونا کا مشتبہ مریض ہوں۔ بھلے چنگے پڑھے لکھے افراد سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے پورے وثوق کیساتھ کہا کہ الحمدللہ یہاں کورونا کا نام و نشان تک نہیں۔
میں نے پوچھا، حضور! آپ کے ہاں کتنے ٹیسٹ ہوئے ہیں؟ جواب ملا، ایک بھی نہیں یا بعض شہروں میں علامتی طور پر چند ایک۔ میں نے سوچا اگر کورونا سے بچنے کا یہی طریقہ ملکی سطح پر بروئے کار لایا جاتا اور ٹیسٹ ہی نہ کیے جاتے تو ہم چھاتی چوڑی کرکے کہہ سکتے کہ الحمدللہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو کورونا سے پاک ہے۔
تشکیک کا مرض اس حد تک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ بعض سینئر ڈاکٹر بھی رازدارانہ انداز میں پوچھتے رہے کہ آپ تو میڈیا سے ہیں، اندر کی خبر بتائیں، کیا واقعی حکومت جان بوجھ کر کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے؟ میں نے عرض کیا، یہ تو ممکن ہے کہ حکومت دانستہ یا غیر دانستہ طور پر غلط فیصلے کرکے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہی ہو، ایسا بھی ممکن ہے کہ ہمارے ہاں ٹیسٹوں کی ایکوریسی سو فیصد نہ ہونے کی وجہ سے بعض ایسے افراد کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آ جاتا ہو جن کو کورونا نہیں بلکہ عام نزلہ زکام یا بخار کے باعث اینٹی باڈیز ظاہر ہو رہی ہیں مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ریاستی سطح پر اتنی بڑی جعلسازی کی جا رہی ہو؟
سیکڑوں ٹیکنیشن جو یہ کام کر رہے ہیں، اگر ان سے جھوٹی رپورٹیں بنوائی جا رہی ہوتیں تو کوئی ایک آدھ تو ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ راز فاش کرتا۔ بہاول وکٹوریہ ہاسپٹل بہاولپور، جنوبی پنجاب کا دوسرا بڑا ہاسپٹل ہے۔ انتہائی قریبی عزیز کو پیش آئے ٹریفک حادثے کے باعث یہاں چند روز گزارنے کا اتفاق ہوا تو اسپتال کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش لاحق ہوئی۔
سہولتوں کی عدم دستیابی کا یہ عالم کہ شعبہ حادثات میں مریضوں کو منتقل کرنے کیلئے معقول تعداد میں اسٹریچر اور وہیل چیئرز دستیاب نہیں۔ ضرورت کے پیش نظر عام کرسیوں کے نیچے گھومنے والے پہیے لگا کر کام چلایا جا رہا ہے اور اسٹریچر بھی دیسی انداز میں خود تیار کیے گئے ہیں۔ اسپتال کے ایم ایس میاں عزیز بھلے آدمی معلوم ہوئے مگر شاید وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اس صورتحال کا سامنا ہے۔
شعبہ حادثات اور دیگر وارڈز میں ڈاکٹر بغیر حفاظتی کٹس اور N95ماسک کے کام کر رہے ہیں۔ میں نے بیسیوں ڈاکٹروں سے سوال کیا کہ حکومت کے مطابق آپ سب کو ماسک اور حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں تو یہ کیا ماجرا ہے؟ بتایا گیا کہ کٹس تو صرف ان ڈاکٹروں کو دی گئی ہیں جو کورونا وارڈ میں ڈیوٹی کر رہے ہیں مگر باقی ڈاکٹروں کو ایک ایک ماسک دیا گیا تھا اور ایک ماسک کتنے دن چلایا جا سکتا ہے۔ اور باقی رہا نرسنگ اسٹاف اور درجہ چہارم کے ملازمین تو وہ اللہ توکل پہ کام کر رہے ہیں۔
کوئی ڈاکٹر خواہ کسی بھی وارڈ یا شعبے میں کام کر رہا ہو، کورونا سے متاثر ہو سکتا ہے اور اسے بغیر حفاظتی کٹ کے ڈیوٹی کرنے پر مجبور کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی فوجی کو بلٹ پروف جیکٹ اور دیگر ضروری ساز و سامان فراہم کیے بغیر محاذ پر بھیج دیا جائے۔
سوال یہ کہ کورونا سے متعلق اس طرح کے شکوک وشبہات کیوں پیدا ہوئے اور لوگ کیوں یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ کورونا کی وبا ایک حقیقت ہے اور اسے سنجیدگی سے نہ لینے کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں؟ جب بڑے عہدوں پر بیٹھے متلون مزاج لوگ اوٹ پٹانگ فیصلے کریں گے اور غیر سنجیدہ نوعیت کے بیانات دیے جائیں گے تو عوام سے سنجیدگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ خود حکومتی شخصیات نے متضاد باتیں اور عجیب و غریب فیصلے کرکے کورونا سے متعلق ریاستی بیانیے کو مذاق بنا دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کورونا کا ذکر آتے ہی لوگ قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے کورونا؟ ہماری گلی، ہمارے محلے اور ہمارے شہر میں تو اب تک کوئی نہیں مرا کورونا سے۔ لیکن حکومت نے عید سے پہلے لاک ڈائون ختم کرکے جس طرح بازار اور شاپنگ مال ہی نہیں مزارات اور ٹرانسپورٹ سمیت سب کچھ کھول دیا، اس سے یوں لگتا ہے جیسے موت کے راستے میں کھڑی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور اب شاید ان لوگوں کی خواہش پوری ہو جائے جو چاہتے تھے کہ ان کے پڑوس میں، قریبی عزیزوں اور دوستوں میں کورونا کا مرض پھیلے تاکہ انہیں یقین آئے کہ واقعی کورونا افسانہ نہیں حقیقت ہے۔
خدا خیر کرے مگر خاکم بدہن مجھے لگتا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس غیر سنجیدگی کے نہایت خوفناک نتائج سا منے آنا شروع ہو جائیں گے۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
