تازہ ترین
ضلع انتظامیہ سرینگر اور تاجروں وٹرانسپورٹروں کے درمیان میٹنگ
جملہ سرگرمیاں بحال کرنے پر تعطل برقرار
میٹنگ خوشگوار ماحول میں ہوئی،کووڈ۔19قواعد وضوابط پر عمل پیرا ہونے کیلئے تیار:تاجر
سرینگر: دارالحکومت سرینگر میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی غرض سے بدھ کو تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے کئی وفود ضلع تر قیاتی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کیساتھ ملاقی ہوا،جس دوران تاجروں نے ضلع انتظامیہ کے سامنے سرینگر میں جملہ سر گرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں۔تاہم ضلع انتظامیہ کی جانب سے ابھی اس حوا لے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ اصولی طور دونوں فریق سرینگر میں تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے حق میں ہیں جبکہ تاجر کوڈ۔19کے قوا عد وضوابط پر عمل پیرا ہونے کیلئے تیار ہیں
۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں تجارتی وکاروباری سرگرمیاں کرنے کے مقصد کے تحت بدھ کو تاجروں و ٹرانسپورٹروں اور ضلع انتظامیہ کے درمیان ایک میٹنگ منعقد ہوئی،جس میں سرینگر میں کاروباری وتجارتی سرگرمیوں کی بحال کے امور زیر بحث آئے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تاجروں نے ضلع انتظامیہ کو کووڈ۔19کے بحران میں دارالحکومت سرینگر میں کاروباری وتجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے اپنا منصوبہ پیش کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تاجروں نے ضلع انتظامیہ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ تجارتی وکاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے کووڈ۔19کے ’ایس او پی‘ یعنی قواعد وضوابط اور رہنما خطوط پر من وعن عمل کریں گے۔ذرائع کے مطابق تاجروں وٹرانسپورٹروں نے ضلع انتظامیہ کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ جملہ سرگرمیاں بحال کرنے کے دوران سماجی دوری کو اختیار کیا جائیگا۔
ذرائع نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے دارالحکومت سرینگر میں جملہ سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے کوئی آرڈر یا حکمنامہ جاری نہیں کیا،تاہم سرینگر میں تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ میو فیکچرس ایسوسی ایشن کے نمائندہ و تاجر محمد صادق بقال نے کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’تاجروں اور ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کیساتھ اُنکی میٹنگ ایک خوشگوار ماحول میں ہوئی۔انہوں نے میٹنگ میں تمام تر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اصولی طور بقول اُنکے تاجر وضلع انتظامیہ سرینگر میں کاروباری و تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کے حق میں ہیں۔
انہوں نے کہا’کن لوازمات یا ضوابط وقواعد کے تحت سرینگر میں سرگرمیاں ہوں گی،میٹنگ میں ان امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا‘۔انہوں نے کہا ’ہم نے ضلع انتظامیہ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ سرینگر میں مرحلہ وار بنیادوں پر کاروباری وتجارتی سرگرمیاں بحالکی جاسکتی ہے،مثال کے طور پر ایک دن جوتے،کپڑے اور ملبوسات کی دکانیں کھولی جائیں گی جبکہ اگلے روز دیگرتین مصنوعات کی دکانیں کھولی جائیں گی جبکہ دکانیں صبح 9بجے سے سہ پہر 3بجے تک دکانیں کھلی رہیں گی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ یہ دونوں دھڑوں یعنی تاجروں اور ضلع انتظامیہ کی رائے تھی،تاہم ابھی تک اس حوالے سے حتمی فیصلہ لینا باقی ہے،کیونکہ ضلع انتظامیہ نے ہمیں سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے کوئی ہدایت نہیں دی۔
اس دوران کے این ایس کو ایک تحریری بیان موصول ہوا کہ آل ٹریڈرس اینڈ ٹرانسپورٹ جوائنٹ کمیٹی اور جے کے ای سی کے چیئرمین ابرار خان اور صدر پیر امتیاز الحسن اور دیگر عہدیدار نے بدھ کو ڈپٹی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال سے ملاقات کی۔بیانمیں کہا گیا کہ میٹنگ میں تجارت وٹرانسپورٹ پر عائد پابندیوں میں نرمی لانے کے امور زیر بحث آئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر دونوں متفق ہوئے کہ مرحلہ واربنیادوں پر سرینگر میں سرگرمیاں بحال ہوں گی۔بیان میں کہا گیا کہ ضلع تر قیاتی کمشنر نے زوردیا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کر نے کیلئے ہر ممکن اور ضروری ولازمی اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح سرینگر میں ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بحال کرنے کے امور پر بھی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا گیا۔بیان کے مطابق میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ آئندہ 2روز میں اس حوالے سے تفصیلات کیساتھ ایک منصوبہ ترتیب دیا جائیگا اور سرینگر میں ممکنہ طور پر سوموار سے تجارتی وکاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بحال ہوں گی۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
