تازہ ترین
اِمام اُردو چل بسے
اُردو پر بہت سے سانحے گزرے ہیں مگر ایسے وقت میں جبکہ اُن کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت تھی، پنڈت آنند زتشی گلزار دہلوی کا داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دینا اُردو زبان کیلئے سانحہ ٔ عظیم ہے۔
اُردو پر بہت سے سانحے گزرے ہیں مگر ایسے وقت میں جبکہ اُن کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت تھی، پنڈت آنند زتشی گلزار دہلوی کا داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دینا اُردو زبان کیلئے سانحہ ٔ عظیم ہے۔ وہ ملک کی مشترکہ تہذیب اور زبانِ اُردو کے سیکولر کردار کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ اُنہیں دیکھ کر دیا شنکر نسیم، پنڈت برج نرائن چکبست، پنڈت بال مکند عرش ملسیانی، پنڈت دتاتریہ کیفی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اور ایسے کئی عظیم اُردو شعراء کی یادیں اچانک ذہن کے اُفق پر روشن ہوجایا کرتی تھیں ۔ ایسی تمام شخصیات اُردو کے سیکولر کردار اور اس کے گنگا جمنی مزاج کی گواہ اور محافظ تھیں ۔ حضرت گلزار دہلوی اس کہکشاں کا آخری نشانِ تابندہ تھے۔ اُن کی وضع داری، انکساری، جاں نثاری، اُردو نوازی، ادب نوازی، درس و تدریس نوازی اور ایسی ہی درجنوں خصوصیات کسی ایک شخصیت میں شاذو نادر ہی ملتی ہیں ۔ اُن کے والد زار دہلوی تو اپنے وقت کے ممتاز شاعر تھے ہی، گھر کا ماحول بھی اُردو کی لطافت سے مہکتا رہتا تھا۔ ’’گلزار صاحب کے آباء و اجداد شاہجہاں کے دور میں شہزادوں کے اتالیق، مشیر تعلیم، مترجم اور ترجمان بن کر کشمیر سے دہلی آئے تھے، اُنہوں نے علمائے عظام کے آگے زانوئے ادب تہہ کیاتھا۔ اُن کی والدہ شریمتی برج رانی زتشی بیزار دہلوی بھی ایک خوش کلام شاعرہ تھیں جنہیں مثنوی مولانا روم زبانی یاد تھی۔ شاہنامہ فردوسی اور کلام خواجہ حافظ شیرازی بھی بیشتر ازبر تھا۔ وہ اسمائے حسنیٰ روزانہ صبح ورد کیا کرتی تھیں ‘‘ ۔ خواجہ احمدعباس نے لکھا تھا: ’’کہا جاتا تھا کہ دلی کی عورتوں کی ٹکسالی زبان سننا ہو تو اس ’پنڈتائن‘ سے سنو۔‘‘ یہ اُن کی والدہ تھیں جبکہ والد (زاد دہلوی) عربی و فارسی کے استاد تھے جو سرکاری ملازمت سے سبکد وش ہونے کے بعد اندر پرستھ کالج اور دلی یونیورسٹی میں عربی و فارسی پڑھاتے رہے، یہ سلسلہ ۹۰؍ سال کی عمر تک جاری رہا۔ (بحوالہ گلزار غزل)۔ ایسی ہی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر۔‘‘ گلزار صاحب نے خاصی عمر پائی اور ۹۳؍ بہاریں دیکھیں ۔ بہت کمزور ہوگئے تھے اس کے باوجود جب بھی اُنہیں دیکھتے یا سنتے، دل سے دُعا نکلتی تھی کہ کاش گلزار صاحب ۱۰۰؍ سال پورے کریں مگر ’’موت کا ایک دن معین ہے‘‘ کے مصداق گلزار صاحب کو ۷؍ سال پہلے جانا تھا، سو اہل اُردو کو سوگوار چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوگئے۔
گلزار دہلوی کو اُردو ہی سے محبت نہیں تھی، اپنے اہل اُردو ہونے کی حقیقت سے بھی محبت تھی۔اس پر فخر اور ناز بھی کیا کرتے تھے۔ اسی لئے نئی نسل کی ذہنی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہنامہ ’’سائنس کی دُنیا‘‘ کی ادارت اُردو کو سائنس سے قریب لانے کی اُن کی خواہش اور جدوجہد کاحصہ تھی۔ اُنہوں نے اپنی ادارت کے ذریعہ یہی پیغام عام کیا ورنہ اُن کی مقبولیت، قدرومنزلت اور اثرورسوخ اتنا تھا کہ جس ماہنامہ کی ادارت چاہتے بہ آسانی مل سکتی تھی۔ ہر مذہب اور فرقے سے محبت اُن کا شیوہ تھا۔ رمضان المبارک میں افطار کی تقریب کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ کئی مشاعروں میں اُنہوں نے خود کو صوفی شاعر کہہ کر متعارف کروایا حالانکہ اُنہیں تعارف کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ رُباعیات اور قطعات کے ذریعہ بھی مسلم تہذیب نیز اُردو تہذیب سے اپنی وابستگی کا تذکرہ کرتے تھے۔ ایک رُباعی جس سے اس کالم کا عنوان مستعار ہے اس طرح ہے:
درس اُردو زبان دیتا ہوں
اہل ایماں پہ جان دیتا ہوں
میں عجب ہوں امام اُردو کا
بتکدے میں اذان دیتا ہوں
گلزار دہلوی کی شخصیت ایسی تھی کہ اگر کوئی اُردو سے نابلد یہ جاننے کی خواہش کرتا کہ اُردو یا اہل اُردو کیسے ہوتے ہیں تو گلزار صاحب سے اُس کی ملاقات کروادینا کافی ہوتا۔ اُن کے ذخیرۂ الفاظِ اُردو پر رشک آتا تھا۔ اُن کی شخصیت میں جو محبوبیت تھی وہ کم ہی لوگوں کو میسر آتی ہے۔بلاشبہ اُن کی رحلت اُردو کا بڑا نقصان ہے۔(انقلاب)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
