تازہ ترین
کورونا انفیکشن: یو اے ای اور سعودی عرب 20 محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل
فہرست میں اسرائیل نے 751 پوائنٹ حاصل کر کے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو 700 پوائنٹ حاصل ہوئے ہیں جب کہ سعودی عرب کو 657 پوائنٹ ملے ہیں۔
کورونا وبا نے پوری دنیا کو ایک طرح سے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن کچھ ممالک ایسے ضرور ہیں جو اس مشکل وقت میں بھی اپنے بہترین انتظام و انصرام کی وجہ سے کافی بہتر حالت میں ہیں۔ مختلف ممالک میں موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ‘ڈیپ نالیج گروپ’ نامی ادارہ نے ایک تحقیق پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کورونا انفیکشن کے تناظر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو دنیا کے محفوظ ترین 20 ممالک میں شامل کیا ہے۔ اس فہرست میں اسرائیل سرفہرست ہے جس نے 751 پوائنٹ حاصل کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کو 700 پوائنٹ حاصل ہوئے ہیں جب کہ سعودی عرب کو 657 پوائنٹ ملے ہیں۔
ہانگ کانگ میں قائم ‘ڈیپ نالج گروپ’ نے اپنے کووِڈ-19 کے تحفظ جائزے میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو گیارویں نمبر پر رکھا ہے جب کہ سعودی عرب سترہویں مقام پر ہے۔ دونوں ممالک کیٹگری 1 میں شامل کیے گئے ہیں۔اس زمرے میں علاقائی تحفظ اور اقدامات کی بنا پر دنیا کے 20ممالک شامل ہیں۔ گروپ نے اس سلسلے میں جو رپورٹ تیار کی ہے وہ 250 صفحات پر محیط ہے اور اس میں 130 پیرا میٹرز یا پیمانے دیئے گئے ہیں اور ان کی بنیاد پر دنیا کے ملکوں کے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کی جانچ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے 200 ممالک میں اسرائیل، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور اور جاپان بالترتیب پہلے پانچ محفوظ ممالک قرار پائے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سعودی عرب کو علاقائی استحکام کے اشاریے میں پہلے نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔اس میں کووِڈ-19 کی وَبا کے دوران میں ایک ملک کی آبادی، جغرافیائی، سیاسی استحکام، معاشرتی نظم وضبط اور تحفظ کے دوسرے عوامل کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ سعودی عرب کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاری کے انڈیکس میں ساتویں نمبر پر رہا ہے۔ اس میں چار عوامل ہنگامی فوجی نقل وحرکت کے تجربے، معاشرتی سطح پر ہنگامی استحکام کی سطح اور نفسیاتی، ثقافتی اور مذہبی اعمال اور رویوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیاری وغیرہ شامل ہیں۔
سعودی عرب مانیٹرنگ اور کرونا کا سراغ لگانے کے اشاریے میں انیسویں نمبر پر رہا ہے۔ اس میں ٹیسٹنگ کی موثریت اور ڈیٹا کی شفافیت ایسے عوامل شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایران کو 200 ممالک میں سوویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ اس کے کرونا کے مریضوں کے ڈیٹا کی شفافیت کے بارے میں اندرون اور بیرون ملک شکوک کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
سعودی عرب کی کل آبادی تین کروڑ تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس نے اب تک کووِڈ-19 کے دس لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں اور ان میں کرونا وائرس کے 161005 کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ان میں 1307 مریض وفات پا چکے ہیں جبکہ اب تک تندرست ہونے والے مریضوں کی تعداد 105175 ہے۔ سعودی عرب نے کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مارچ کے اوائل میں اپنی سرحدیں بند کردی تھیں، فضائی سروس معطل کردی تھی اور 27 فروری کو عمرے کی ادائی پر پابندی عاید کردی تھی۔اب وہ بتدریج ان بندشوں کو ختم کررہا ہے اور سرکاری اور نجی دفاتر کھول دیئے گئے ہیں۔
جہاں تک یو اے ای کا سوال ہے، اسے کووِڈ-19 کے کیسوں کی مانیٹرنگ اورسراغ لگانے کے اشاریے میں سنگاپور اور اسرائیل کے بعد تیسرے نمبر پر رہا ہے۔ ہنگامی تیاریوں میں وہ چین کے بعد دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ یو اے ای نے اب تک کرونا وائرس کے تیس لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں اور یہ فی کس اسکریننگ کے لحاظ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔
یو اے ای کے دارالحکومت ابو ظہبی میں حکام نے ’ٹریس کووِڈ‘ کے نام سے ایک موبائل ایپ بھی تیار کیا ہے اور اس کے ذریعے کرونا کی علامات کے حامل افراد کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ امارات کے محکمہ صحت نے کرونا کے مریضوں کے لیے کلائی پر اسمارٹ بینڈ پہننا لازمی قرار دیا تھا اور انھیں دوسرے افراد سے الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ یو اے ای کی کل آبادی قریباً 96 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس نے اب تک کرونا وائرس کے 44925 کیسوں کی تشخیص کی ہے۔ ان میں 32415 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ کرونا کے 302 مریضوں کی وفات ہوئی ہے۔
(قومی آواز)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
