تازہ ترین
قوم کے نام پی ایم مودی کا خطاب : ’چین-پٹرول‘ پر خاموشی، مفت راشن کے علاوہ کچھ نہیں
پی ایم مودی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بہت سنجیدگی سے قوانین و ضوابط پر عمل کیا گیا۔ اب حکومتوں کو مقامی انتظامیہ کو اور ملک کے باشندوں کو پھر سے اسی طرح کے احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
خبراردو:-
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ملک کے نام خطاب کیا جس کو لے کر لوگوں میں کافی جوش دیکھنے کو مل رہا تھا۔ لیکن جب انھوں نے اپنی تقریر مکمل کی تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انھوں نے سوائے مفت راشن تقسیم کرنے کی اسکیم میں توسیع کے علاوہ کچھ بھی خاص نہیں کہا۔ نہ ہی انھوں نے لداخ میں چین کی حرکتوں کے بارے میں کچھ کہا اور نہ ہی پٹرول و ڈیزل کی لگاتار بڑھتی قیمتوں کا کوئی تذکرہ کیا۔ انھوں نے صرف کورونا وبا کے پھیلتے اثرات کے تعلق سے عوام کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔
انھوں نے کہا کہ اَن لاک-1 کے بعد لوگوں نے لاپروائی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا جو کہ کورونا انفیکشن پھیلنے کے لیے بہت خطرناک ہے اور لوگوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کیا کچھ کہا، وہ من و عن ‘قومی آواز’ کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
ساتھیو نمسکار!
کورونا عالمی وبا کے خلاف لڑتے لڑتے اب ہم اَن لاک-2 میں داخل ہو رہے ہیں۔ اور ہم اس موسم میں بھی داخل ہو رہے ہیں جہاں سردی، زکام، کھانسی، بخار، یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ ایسے میں میری آپ سبھی ملک کے باشندوں سے گزارش ہے کہ اپنا دھیان رکھیں۔
ساتھیو، یہ بات درست ہے کہ اگر کورونا سے ہونے والی شرح اموات کو دیکھیں تو دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ہندوستان سنبھلی ہوئی حالت میں ہے۔ وقت پر کیے گئے لاک ڈاؤن اور دیگر فیصلوں نے ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی ہے لیکن ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جب سے ملک میں اَن لاک-1 ہوا ہے، انفرادی اور سماجی رویہ میں لاپروائی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ پہلے ہم ماسک کو لے کر، دو گز کی دوری کو لے کر، 20 سیکنڈ تک دن میں کئی بار ہاتھ دھونے کو لے کر بہت محتاط تھے۔ لیکن آج جب ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تو لاپروائی کرنا بہت ہی فکر انگیز ہے۔
ساتھیو، لاک ڈاؤن کے دوران بہت سنجیدگی سے قوانین و ضوابط پر عمل کیا گیا۔ اب حکومتوں کو مقامی انتظامیہ کو، ملک کے باشندوں کو پھر سے اسی طرح کے احتیاط کو دکھانے کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور سے کنٹنمنٹ زون پر تو ہمیں بہت دھیان دینا ہوگا۔ جو بھی لوگ ضابطوں پر عمل نہیں کر رہے، ہمیں انھیں ٹوکنا ہوگا، روکنا ہوگا اور سمجھانا بھی ہوگا۔ ابھی آپ نے خبروں میں دیکھا ہوگا کہ ایک ملک کے وزیر اعظم پر 13 ہزار روپے کا جرمانہ اس لیے لگ گیا کیونکہ وہ پبلک پلیس پر ماسک کے بغیر چلے گئے تھے۔ ہندوستان میں بھی مقامی انتظامیہ کو اسی چستی سے کام کرنا چاہیے۔ یہ 123 کروڑ ہندوستانیوں کی حفاظت کرنے کی مہم ہے۔ ہندوستان میں گاؤں کا پردھان ہو یا ملک کا پردھان منتری، کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں۔
ساتھیو، لاک ڈاؤن کے دوران ملک کی سب سے بڑی ترجیح رہی کہ ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ کسی غریب کے گھر میں چولہا نہ جلے۔ مرکزی حکومت ہو، ریاستی حکومتیں ہوں، سول سوسائٹی کے لوگ ہوں، سبھی نے پوری کوشش کی ہے کہ اتنے بڑے ملک میں کوئی غریب بھائی بہن بھوکا نہ سوئے۔ ملک ہو یا شخص، وقت پر فیصلہ لینے سے، سنجیدگی سے فیصلہ لینے سے کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرنے کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے لاک ڈاؤن ہوتے ہی حکومت پردھان منتری غریب کلیان یوجنا لے کر آئی۔ اس منصوبہ کے تحت غریبوں کے لیے 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج دیا گیا۔
ساتھیو! گزشتہ تین مہینوں میں 20 کروڑ غریب فیملی کے جن دھن کھاتوں میں سیدھے 31 ہزار کروڑ روپے جمع کروائے گئے۔ اس دوران 9 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گاؤں میں مزدوروں کو روزگار دینے کے لیے پردھان منتری غریب کلیان روزگار ابھیان تیز رفتار کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس پر حکومت 50 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔
لیکن ساتھیو، ایک اور بڑی بات ہے جس نے دنیا کو بھی حیران کر دیا ہے۔ حیرت میں ڈبو دیا ہے۔ وہ یہ کہ کورونا سے لڑتے ہوئے ہندوستان میں 80 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو 3 مہینے کا راشن یعنی فیملی کے ہر رکن کو 5 کلو گیہوں یا چاول مفت دیا گیا۔ اس کے علاوہ فی فیملی کو ہر مہینے ایک کلو دال بھی مفت مہیا کرئی گئی۔ یعنی ایک طرح سے دیکھیں تو امریکہ کی کل آبادی سے ڈھائی گنا زیادہ لوگوں کو، برطانیہ کی آبادی سے بارہ گنا زیادہ لوگوں کو، اور یوروپی یونین کی آبادی سے تقریباً دو گنا سے زیادہ لوگوں کو ہماری حکومت نے مفت اناج دیا ہے۔
ساتھیو، آج میں اسی سے جڑا ایک اہم اعلان کرنے جا رہا ہوں۔ ساتھیو، ہمارے یہاں بارش کے موسم کے دوران اور اس کے بعد خصوصی طور پر زرعی سیکٹر میں، میڈیکل سیکٹر میں بھی زیادہ کام ہوگا۔ دیگر سیکٹرس میں تھوڑی سستی رہتی ہے۔ جولائی سے دھیرے دھیرے تہواروں کا بھی ماحول بننے لگتا ہے۔ اب آپ دیکھیے کہ 5 جولائی کو گرو پورنیما ہے، پھر ساون شروع ہوگا، پھر 15 اگست، گنیش چترتھی، اونم، نوراتری، درگا پوجا، دیوالی… تہواروں کا یہ وقت ضرورتیں بھی بڑھاتا ہے، خرچ بھی بڑھاتا ہے۔ ان سبھی باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کی توسیع اب دیوالی اور چھٹھ پوجا تک یعنی نومبر مہینے کے آخر تک کر دیا جائے گا۔ یعنی 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج دینے والا منصوبہ اب جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر میں بھی نافذ رہے گا۔
حکومت کے ذریعہ ان پانچ مہینوں کے لیے 80 کروڑ سے زیادہ غریب بھائی بہنوں کو ہر مہینے فیملی کے ہر رکن کو 5 کلو گیہوں یا 5 کلو چاول مفت مہیا کرایا جائے گا۔ اور ساتھ ہی ہر فیملی کو ہر مہینے ایک کلو چنا بھی مفت دیا جائے گا۔ ساتھیو، پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کی اس توسیع میں 90 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔ اور اگر اس میں گزشتہ تین مہینے کا خرچ بھی جوڑ لیں تو یہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپیہ ہو جاتا ہے۔ اب پورے ہندوستان کے لیے ہم نے ایک خواب دیکھا ہے۔ کئی ریاستوں نے بہت اچھا کام بھی کیا ہے، باقی ریاستوں سے بھی ہم گزارش کر رہے ہیں کہ وہ کام کو آگے بڑھائیں۔
پورے ہندوستان کے لیے ایک راشن کارڈ کا انتظام بھی ہو رہا ہے۔ یعنی ایک ملک، ایک راشن کارڈ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان غریب ساتھیوں کو ملے گا جو روزگار یا دوسری ضرورتوں کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر کہیں اور جاتے ہیں۔ کسی اور ریاست میں جاتے ہیں۔ ساتھیو، آج غریب کو، ضرورت مند کو، حکومت اگر مفت اناج دے پا رہی ہے تو اس کا سہرا اہم طور پر دو طبقات کو جاتا ہے۔ پہلا ہمارے ملک کے محنتی کسان، اور دوسرا ہمارے ملک کے ایماندار ٹیکس دہندہ۔ آپ کی محنت اور آپ کی خودسپردگی ہی ہے جس کی وجہ سے ملک یہ مدد کر پا رہا ہے۔ آپ نے ملک کے اناج کا ذخیرہ بھرا ہے جس سے آج غریب اور مزدور کا چولہا جل رہا ہے۔ آپ نے ایماندار سے ٹیکس بھرا ہے، اپنی ذمہ داری ادا کی ہے اس لیے آج ملک کا غریب اتنے بڑے بحران سے مقابلہ کر پا رہا ہے۔
میں آج ہر غریب کے ساتھ ہی ملک کے ہر کسان، ہر ٹیکس دہندہ کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، انھیں سلام پیش کرتا ہوں۔ ساتھیو، آنے والے وقت میں ہم اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں گے۔ ہم غریب، استحصال زدہ، محروم، ہر کسی کو مضبوط بنانے کے لیے لگاتار کام کریں گے۔ ہم سبھی احتیاط کا خیال رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ ہم خودکفیل ہندوستان کے لیے دن رات ایک کریں گے۔ ہم سب لوکل کے لیے ووکل ہوں گے۔ اسی عزم کے ساتھ ہم 130 کروڑ ہندوستانی باشندوں کو مل جل کر کے، عزائم کے ساتھ کام بھی کرنا ہے اور آگے بھی بڑھنا ہے۔
پھر سے ایک بار میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں، آپ کے لیے بھی دعا گو ہوں کہ آپ سبھی صحت مند رہیے، دو گز کی دوری پر عمل کرتے رہیے، گمچھا، فیس کور، ماسک ہمیشہ استعمال کیجیے۔ کوئی لاپروائی مت برتیے۔ اسی گزارش، اسی خواہش کے ساتھ میں آپ سبھی کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ شکریہ۔
(قومی آواز)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
